Topics

دو صفحات ____ایک ورق

 

روشنی کی ماہیت بدلنے سے ”علم“ بدل جاتا ہے ہے۔ علمائے باطن شے کی بصیرت کے لئے روشنی کی خاص قسم استعمال کرتے ہیں جس سے مشاہدات میں تغیر نہیں ہوتا۔

مثلاً کتاب ” محمد رسول اللہ جلد دوئمؐ“ میں  لکھا ہے کہ زمانہ قدیم  و جدید کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج میں روشنی ہے ، تپش ہے جبکہ باطنی نگاہ دیکھتی ہے کہ سورج سیاہ طباق ہے، سورج میں روشنی نہیں ہے، اصل میں زمین روشن ہے۔ زمین سے روشنی سورج پر منعکس ہوتی ہے اور زمین پر پھیلتی ہے جس کو ہم دھوپ کہتے ہیں۔ زمین سے سورج پر منعکس ہونے والی روشنیاں کسی بھی مادی وسیلہ سے نظر نہیں آتیں۔

تجربہ ہے کہ جو شے سمجھ میں نہ آئے ، وہ دکھائی دیتی ہے نہ سنائی دیتی ہے۔ علمائے باطن ِ علم شے کو اہمیت دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ الہامی کتابوں میں بہت ست نکات ، اشیا یا انواع کا علم ملتا ہے جیسے سات آسمان ، سات زمینیں ، چاند ، سورج ، فرشتے ، جنات، اعراف ، جنت ، جہنم ، ارواح ، برزخ ، حشر ، عرش الہٰی ، کرسی قغیرہ۔ یہ سب زون ہیں۔

ان مقامات سے واقف ہونے کے لئے اس بات کا علم ضروری ہے کہ علمِ شے اور شے میں تصرف کے لئے کس طرح کے وسائل درکار ہیں۔ جس طرح زمین و آسمان کی حدوں کو عبور کرنے کے لئے الہامی کتابیں ”سلطان“ سے واقفیت کی راہ نمائی کرتی ہیں۔

” اے گروہ جن و انس ! تم آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل کر دکھاؤ تم نہیں نکل سکتے مگر سلطان سے۔“

(الرحمٰن  :  ۳۳)

محمد عارف پاکستان میں زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ تمام تر خلائی ٹیکنالوجی کا انحصار کششِ ثقل پر ہے۔ فی زمانہ محققین اس بات کو جان گئے ہیں کہ کشش ِ ثقل  پر کیسے قابو پایا جائے۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں طبیعات دان اس بات پر متفق تھے کہ مظاہرات کے مشاہدات میں اضافیت شامل ہے۔ یعنی مشاہدہ کا زاویہ بدل دیا جائے تو متحرک شے ساکن نظر آتی ہے یا آ سکتی ہے۔ روشنی کے بارے میں نظریہ تھا کہ روشنی ثقل کے اثرات سے آزاد ہر وقت ہر جگہ موجود ہے۔ بلیک ہول کی موجودگی بتاتی ہے کہ روشنی ثقل کے اثرات سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔۔۔ اس کی رفتار محدود ہے۔ تفکر مطالبہ کرتا ہے کہ خلا کی جو تعریف بتائی جاتی ہے، اس میں کتنی حقیقت اور کتنا مفروضہ ہے۔۔؟

مضمون خلا میں محوِ گردش دورِ حاضر کی ٹیکنالوجی کا شاہکار ہبل دوربین سے متعلق ہے۔ خلا اور ثقل کے بارے میں جن رائج تصورات کا ذکر محمد عارف صاحب نے کیا ہے، ضروری ہے کہ ان کا جائزہ علمائے باطن کے مشاہدات کی روشنی میں لیا جائے۔

”سائنس دان اسپیس ایسی خلا کو کہتے ہیں جہاں زمین کی کشش ثقل (Gravity) موجود نہ ہو۔ زمین کی Gravity کس جگہ موجود نہیں ۔۔۔ یہ ایک الگ بات ہے۔ زمین کی کشش کی وجہ سے آدمی سانس لیتا ہے مگر زمین پر بسنے والے آدمی حیوانات ، جمادات اور نباتات میں ایسی مخلوق بھی موجود ہے جو زمین کی کشش کا اثر نہیں لیتی۔ مثال کے طور پر وہم ، خیال ، افسوس اس کے علاوہ سوچ تفکر وغیرہ بھی زمین کی کشش سے لاتعلق ہیں۔ اس کے بہت سے ثبوت موجود ہیں۔ آدمی سو جاتا ہے۔ کشش سانس پہنچاتی رہتی ہے مگر اس کا ذہن کشش سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ نیند میں دیکھتا ہے ، کھاتا ہے ،  پیتا ہے ، چلتا ہے، میلوں میل سفر طے کر لیتا ہے ، جن کیفیات سے گزرتا ہے ، یادداشت تحریر کر لیتی ہے۔ اس کیفیت میں ذہن جو کچھ دیکھتا ، سنتا اور سمجھتا ہے وہ زمین کی کشش سے آزاد ہے۔ یہ کس طرح تسلیم کیا جائے کہ سائنس کی بیان کردہ تعریف کہ خلا اسپیس ہے ، حقیقت پر مبنی ہے؟ “               ( قدرت کی اسپیس)

ابدالِ حق کے ان انکشافات کی روشنی میں محققین کی بتائی گئی خلا کی تعریف سوالیہ نشان ہے۔ روایتی سائنسی ٹیکنیک کے چار درجات کو مد نظر رکھا جائے تو خلا کی تعریف میں لاعلمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ محققین سائنس کے چار نکاتی درجات میں سے پہلے درجہ کی نفی کر رہے ہیں۔

سائنسی تیکنک کے چار درجات دوسری قسط میں بیان کیے جا چکے ہیں تاہم  آپ  کی آسانی کے لیے ایک بار پھر یہاں ذکر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی درسی کتب میں سائنسی تحقیق و تلاش کے طریقۂ کار کو چار درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

زیرِ غور مشاہدات میں کار فرما عوامل(Variables)  کی نشان دہی کرنا۔

مشاہدہ کے ساتھ ساتھ تجربات کو ریکارڈ کرنا۔

مشاہدہ اور تجربہ کے درمیان تعلق کو متعلقہ ماحول کی روشنی میں اجاگر کرنا۔

مظاہرہ میں کار فرما قانون و اصول کو نظریہ کی شکل میں بیان کرنا۔

لاشعوری علمائے کرام نے روز مرہ واقعات میں تواتر سے رونما ہونے والے تجربات کی نشان دہی کی ہے کہ کرۂ ارض پر ایسی بہت سی سر گرمیاں دکھائی دیتی ہیں جو ثقل سے آزاد ہیں۔ وہم ، خیال ، سوچ ، تفکر وغیرہ اس کی مثال ہیں۔

خلا کے بارے میں نتائج مرتب کرتے ہوئے روز مرہ زندگی کے وہ عوامل (Variables)  نظر انداز ہو گئے ہیں جو زندگی کی بنیاد ہیں۔ نتیجہ میں ثقل کے بارے میں موجودہ سائنس کے تصورات ادھورے ہیں۔

اس کے برعکس قلندر شعور کی حامل ہستیاں انسان کی تعریف کے ضمن میں فرماتی ہیں کہ انسان (آدمی نہیں) ہر جگہ زمین کی کشش سے آزاد ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ”احسن تقویم“ بنایا ہے۔ وہ علم الاسما سے واقف ہے۔ علم الاسما سے واقفیت یہ ہے کہ انسان شے میں تصرف کا اختیار رکھتا ہے ، ٹائم اور اسپیس اس کے لیے مسخر ہیں۔ پیدائش اور موت بھی لامحدودیت کی نشان دہی ہے۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ ضرورت ___ تقاضہ ہے۔ تقاضہ خیال میں وارد ہوتا ہے ۔ حواس تقاضے پورا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سوچ کا کردار حواس کی فعالیت میں اہم ہے۔ محققین بتاتے ہیں کہ مظاہرات کے پس پردہ انتہائی قدروں میں ایٹم (مادہ) کارفرما ہیں۔

باطنی علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نظامِ کائنات میں شے کا ذکر آئے گا تو اس کا دوسرا رخ بھی زیرِ بحث ہوگا۔ آگ کے اوصاف میں گرمی کا ذکر کیا جائے تو آگ کے دوسرے رخ ٹھنڈ کا تذکرہ بھی ہوگا۔

مادی محققین کے برعکس روحانی سائنس دان دونوں رخوں کی (Complementary)  حیثیت کی وضاحت مساوات (ایکویشن) سے وضع کرتے ہیں جس کے مطابق یہ دونوں رخ ایک ہیں جیسے ایک ورق کے دو صفحات جس کا ایک رخ غالب ہے تو دوسرا مغلوب۔

آگ سے گرمی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ گرمی کا دوسرا رخ ”ٹھنڈ“ مغلوب ہے۔آسمانی کتابیں شاہد ہیں کہ ایسے برگزیدہ بندے جنہیں آگ میں ڈالا گیا تو آگ نے اپنے خالق کے حکم کی بجا آوری میں دوسرے رخ کا مظاہرہ کیا۔۔۔ آگ ٹھنڈی ہو کر سلامتی بن گئی۔

”ہم نے کہا  :  اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیم ؑ پر۔“    (الانبیآ  :  ۶۹)

ایک معروف محقق نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں یہ نظریہ بیان کیا تھا کہ جب دو مختلف دھاتی پلیٹوں پر مشتمل شے کو بیٹری کے مخالف یعنی ( مثبت و منفی) سے جوڑا جائے تو پلیٹوں کا ایک حصہ انتہائی گرم اور دوسرا یخ ہو جاتا ہے ۔ اس مظاہرے کو پیلٹیر اثر(Peltier Effect) کہا جاتا ہے۔

 آپ  مزید تفصیل کے لئے سینیئر سیکنڈری یا ہائر سیکنڈری کیمیا و طبیعات کی کتابوں سے رجوع کر سکتے ہیں ۔ اس نظریہ کی عملی مثالیں گاڑیوں میں استعمال ہونے والے چھوٹے سائز کے فرج ، ریفریجریٹر اور ہیٹر ہیں۔

ہر شے دو رخوں پر قائم ہے۔ دونوں رجحان ہمیں جستجو و تلاش میں ملتے ہیں۔ خیال کی لہر آتی ہے تو آدمی اپنے اندر موجود صلاحیتوں میں سے ایک رخ کا انتخاب کرتا ہے مضمون میں ہم اس رجحان کا ذکر کر چکے ہیں یعنی مادیت کے اسیر ذہن کا رجحان نیند کے حواس کے برعکس جاگنے کے حواس زیادہ ہوتا ہے ۔ زندگی دو رخوں پر قائم ہے اور قانون کے مطابق دونوں رخ یکے بعد دیگرے نمودار ہوتے ہیں۔ ایک آزاد رخ جبکہ دوسرا مٹی کا پابند ہے۔

آدمی نے پابند رخ کو نسل در نسل سیکھا اور اس سے کام لینا شروع کر دیا۔ یہ وہ رخ ہے جس میں تمام وسائل مادی شکل میں موجود ہیں۔۔ کہیں ٹھوس ، مائع ، اور گیس اور کہیں تینوں حالتوں کے امیزہ کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔

قوس قزح کے رنگ

کم وبیش ہر شخص انواع و اقسام کے ہجوم میں گھرا ہوا ہے۔ ہر شے کسی نہ کسی طرز میں احساسات مرتب کرتی ہے۔ تربیت جس رنگ میں ہو، دل چسپی کا رخ کچھ بھی ہو۔۔۔ بلا تفریق مزہب و ملت ہر شخص چاند ، ستاروں ، سورج ، ہوا ، پانی ، مٹی اور درختوں سے واقف ہے۔ نظامِ قدرت کے تحت فرد میں یہ جاننے کی خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے کہ چاند پر کیا ہے۔۔۔ سورج اس قدر نزدیک کیوں محسوس ہوتا ہے۔۔۔ ہوا کے اندر کیا ہے۔۔۔؟

سوالات ایک اور حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ موجودات اور ہمارے مابین مخفی رشتہ کس طرح سے ہے اور کیا ہے۔۔ ایسا رشتہ جو ہر لمحہ کسی نہ کسی شے کی جانب توجہ سے بیدار ہوتا۔ تجسس ایسی صفت ہے جو کائنات پر محیط ہے۔ یہ ماحول کو جاننے ، پہچاننے اور تصرف کی طرزوں کو بیدار کرتی ہے۔

تفکر کی لہروں نے نسل در نسل نوعِ آدم کی سوچ پر دباؤ ڈالا اور ماحول کی جانب متوجہ کیا۔۔۔ شے چھوٹ ہو یا بڑی ، اس احساس ، حواس خمسہ کی محدودیت کی طرف واضح اشارہ تھا۔ کوتاہ نظری میں مشاہدہ میں وسعت کا حل مادیت کے رنگ میں تلاش کیا گیا۔ اس طرح چھوٹے اجسام کی ماہیت اور لامتنائی خلاؤں کی وسعتوں کو تلاش کرنے کے لئے کروی آئینوں ، شیشوں اور عدسوں کا استعمال شروع ہوگیا۔

 محققین نے جہاں عدسہ و آئینہ کے ملاپ سے ایٹم کے اندر ذرات تلاش کرنا شروع کیے۔۔۔ وہاں جگ مگ کرتے فلکی اجرام اور ٹمٹماتے تاروں کو مزید وضاحت سے دیکھنے کا سلسلہ ہوا۔

دیکھنے کا اصول یہ بنا کہ روشنی ( جس کا ماخذ سورج، بلب ، ٹیوب لائٹ وغیرہ ہو سکتا ہے ) اجسام سے ٹکرا کر بکھرتی ہے۔ بکھری ہوئی کرنیں آنکھ میں داخل ہوتی ہیں اور رنگ بناتی ہیں۔ اس طرح شے کے خدوخال اور رنگت کا تعین ہوتا ہے۔ بصری عمل کے لئے شکل نمبر 3 دیکھئے۔


روشنی کی نوعیت بدل سی جائے تو مشہود ایک ہونے کے باوجود مشاہدہ بدل جاتا ہے۔ یعنی شے ایک ہونے کے باوجود دیکھنے والے کو استعداد کے مطابق الگ نظر آتی ہے۔ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مشاہداتی خدوخال دراصل روشنی کی خصوصیات ہیں۔ اگر روشنی مادی آنکھ کی مطلوبہ مقدار و معیار کے مطابق نہیں ہے تو روشنی میں موجود اطلاعات آنکھ کے لئے بے معنی ہیں جیسے ننھے ننھے ایٹم اور جراثیموں کا وجود وغیرہ۔

ہبل دور بین کی بابت بصری عمل کی وضاحت کے حوالہ سے بیش تر قارئین کے ذہن میں یہ سوال ہوگا کہ خواب میں درخت دیکھا جائے تو درخت کو منور کرنے والی روشنی کہاں سے آرہی ہے؟

اسلام اباد سے جناب مرسلین احمد نے گزشتہ مضمون کے حوالہ سے لکھا ہے کہ لاعلمی کے سبب علمِ شے سے متعلق فی زمانہ ہماری آگہی ادھوری ہے۔ یعنی مادی حواس کا انحصار جس حساسیت پر قائم ہے ، اس حساسیت کی لاعلمی کا سبب محدودیت ہے۔۔۔ مگر اسے محدودیت نہیں کہا جا سکتا۔ جیسے ہر مشین کی فعالیت کا دائرہ کار یا Specifications ہوتی ہیں اسی طرح بحیثیت مشین عضلاتی نظام کی فعالیت کا بھی دائرہ کار ہے۔ پھر موصول ہونے والے علم میں شک کیوں کیا جائے؟

مرسلین احمد صاحب! عرض یہ ہے کہ باطنی علمائے کرام فرماتے ہیں کہ روحانیت میں حقائق سے واقف ہونا آگہی ہے۔ بالفاظ دیگر ، ہرمظاہرہ کے پیچھے کار فرما حقیقی عناصر ، ان کے مابین تعلق اور تعامل کےمظاہرہ سے واقف ہونا ضروری ہے۔ آگہی کا مطلب ہے کہ شے کے متعلق علم یا حقیقت ِ ثابتہ سے کتنا پردہ اٹھا۔

کم و بیش سائنسی تحقیق و جستجو بھی ان اصولوں پر ہے۔ یعنی پہلے مظاہرہ کی تفصیلی منصوبہ بندی ، عناصر کے تعلق کا تفصیلی مظاہرہ ، محاصل میں قوانین کی نشان دہی اور قوانین کے اطلاق کے دیگر مظاہرات۔

یاد رہے کہ مظاہرات چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں۔۔۔ مرغی کا دانہ چگنا ، پانی کا بخارات بننا ، بیج کے جنین کا زمین کی کوکھ سے نکلنا م سورج سے پودوں کا مستفید ہونا یا قوس قزح کے رنگ وغیرہ۔۔ مشاہدات میں کوئی نہ کوئی ایجنسی فعال ہوتی ہے۔ روحانی علوم میں مشاہدات میں جو ایجنسی کار فرما ہے وہ ”روح“ ہے۔

محققین مشاہدات میں جس ایجنسی کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے  ہیں وہ پانچ بنیادی حواس ( حواسِ خمسہ ) یا ان کی توسیعی ایجنسیاں (Senses Extended) ہیں۔ جیسے تھرمامیٹر ، دور بین ، سمعی آلات یا دیگر بصری آلات۔

غور طلب ہے کہ ہر دو صورت میں ایک شے کی الگ الگ تفصیل ہے۔ ایسے میں حقیقت تک رسائی کیسے ممکن ہے یا مشاہدہ کی اصل کو پرکھنے کی کسوٹی کیا ہے۔۔؟

محققین کہتے ہیں کہ چاہے جیسے بھی حالات یا ادوار ہوں ، مشاہدہ میں کار فرما قوانین میں یکسانیت ہے۔ اس کسوٹی کا زمین کی گردش سے متعلق ماہرین کی رائے پر اطلاق کرتے ہیں۔ یہ سوال کہ زمین ساکن ہے یا گردش میں؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جیسے ان گنت سوالات کے سائنسی جوابات ، مشاہدات اور وضع کردہ قوانین میں مسلسل تبدیلی اتی رہی ہے۔ مختلف ادوار میں محققین کے بیانات مختلف رہے جو آج بھی کتب  میں موجود ہیں اور اسکولوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ مشاہدہ ایک ہے تو اختلاف کہاں ہے؟

سائنس کا چار نکاتی تحقیقی طریقہ استعمال کریں تو دوسرے درجہ میں جواب مل جاتا ہے۔۔۔ مشاہدات کے حصول میں کون سی ایجنسی استعمال ہو رہی ہے؟

۱۔       ایک طریقہ میں استعمال ہونے والی ایجنسی ”روح“ ہے۔ لاشعوری ماہرین کے مطابق اس ایجنسی کی صلاحیتوں کے اظہار میں ابتدائے زمانہ سے نہ تو کوئی تعطل واقع ہوا ہے اور نہ اس کے فارمولوں میں تبدیلی ہوئی۔ یہ ایسی ایجنسی ہے جو ازل سے موجودات میں فعال ہے۔ اگر فعال نہ ہو تو زندگی کے آثار ختم ہو جاتے ہیں۔

۲۔       اس طریقہ میں استعمال ہونے والی ایجنسی ”حواس خمسہ “ ہے۔ یہ وہ ایجنسی ہے جو شے میں معنی پہنانے کے لئے مسلسل ارتقا یا تغیر سے گزر رہی ہے۔

تغیر سے مظاہرات کے مشاہدات میں تغیر ہوتا ہے ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر علم شے میں تغیر ہے تو ایسا علم ناقص ہے۔ جیسا کہ مرسلین صاحب نے ابتدا میں نکتہ اٹھایا کہ مشاہدات میں حواس خمسہ یا ان کی توسیعی ایجنسیاں شامل ہیں ۔ مادیت کا دورانیہ یا عمر محدود ہوتی ہے ، وہ ہر لمحہ شکست وریخت کا شکار رہتی ہے۔ جبکہ مادی نظام کے پس منظر ایجنسی اپنی فعالیت میں لامحدود Specifications یا صلاحیتوں کی حامل ہے۔ بالفاظ دیگر محدود ایجنسی سے حاصل ہونے والا علم محدود ، غیر یقینی اور عارضی ہے۔۔۔ لامحدود ایجنسی سے حاصل ہونے والا علم لامحدود ، یقینی ، یکساں اور مستقل ہے۔


 
فی الواقع آدمی کے حواس اپنے مادی خواص میں ہی فعال ہیں۔ اس رینج یا دائرہ کار سے باہر ہمیں موجودہ 

سائنس کی دانش میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔

شکل نمبر 4 میں ایک آدمی اور کیڑے کی آنکھ کی Specifications کے مابین تقابل دکھایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آدمی کی آنکھ کی انتہا بنفشی شعاعوں تک محدود ہے جب کہ کیڑا بالائے بنفشی اشیا کے خدوخال واضح اور صاف و شفاف  دیکھتا ہے۔

انتہائی چھوٹے اجسام مثلاً جراثیم اور جینیاتی نظام کے مشاہدہ کے لئے آدمی کی آنکھ تک پہنچنے والی روشنی ناکافی تھی۔ اسی طرح دور دراز اجسام کے وجود میں معنی پہنانے سے آنکھ قاصر تھی۔۔۔ مگر علم اور شواہد۔۔ شے کی موجودگی کا اشارہ دے رہے تھے۔ خوردبین سے روشنی کی بکھری ہوئی مقدار (کوانٹیٹی) کو اکٹھا کیا گیا۔ ضرورت کے مطابق مقداروں کے اجتماع نے آنکھ تک پہنچنے والی روشنی کی کوالٹی بڑھا دی اور شے کا مادی وجود ظاہر ہو گیا۔ یہاں دو نکات کی طرف اشارہ قابل ِ ذکر ہے۔

۱۔       قریب نظری کے لئے خوردبین ہو یا بعید نظری کے لئے دور بین ۔۔ آئینہ اور عدسوں پر مرتب آلہ (انسانی آنکھ جیسی ایک ذیلی بصری ساخت ) استعمال کیا گیا۔

۲۔       بصری عمل مکمل طور پر مادیت کے دائرہ میں بند ہے۔ مشہود جرثومہ یا کوئی ٹمٹما تا ستارہ ۔۔۔ دونوں کا حاصل مادی مشاہدہ ہے۔

علاوہ ازیں خوردبین و دور بینی نظام بھی مادی ہیں جبکہ بصری نظام ، ماہیت میں مادی  صلاحیتوں یا

Specifications کے دائرہ میں ہے۔

غور کریں تو مرئی روشنیاں جو آنکھ تک پہنچتی ہیں وہ بھی مادی ہیں ورنہ کمرے میں روشن بلب یا فضا میں سورج کی روشنی دیوار کو پار کر کے دوسری طرف نمودار ہو جاتی۔

مادہ کو دیکھنے کے لئے مادہ (روشنی) کی مقدار (کوانٹیٹی) اس حد  تک کم کی گئی کہ مادہ (روشنی) کی کوالٹی بڑھ گئی ۔ کوالٹی کی لطافت نے آنکھ کی مطلوبہ حساسیت کے مطابق شبیہ فراہم کر دی۔