Topics

سراب

 

جن لوگوں نے کفر کیا ان کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا بلکہ اس نے اللہ کو  موجود پایا ، جس نے اس کا پورا حساب چکا دیا۔ (النور  :  ۳۹)

وہ لوگ گم راہی کا شکار ہو جاتے ہیں جو مظاہر فطرت کی عبادت کرتے ہیں۔ (یجروید ، ادھیائے ۴۰ ، منتر ۹)

تم خدا کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اوروں کو تمثیلوں میں سنایا جاتا ہے تاکہ دیکھتے ہوئے نہ دیکھیں اور سنتے ہوئے نہ سمجھیں۔   (انجیل لوقا  :  باب  ۸ ، آیت ۱۰)

یہ جھالر تمہارے لئے ایسی ہو کہ جب تم اسے دیکھو تو خدا وند کے سب حکموں کو یاد کر کے ان پر عمل کرو اور اپنے دل اور آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی  میں نافرمانی نہ کرتے پھرو ، جیسا کرتے آئے ہو۔

(توریت  :  کتاب استثنا  ،  باب  ۱۵ ، آیت ۳۹)

موجودہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے۔ زمینی ، فضائی اور سمندری سفر ، کاشت کاری ، غذا اور حفظان صحت، تعلیم و تربیت ، تحقیق و جستجو ، میڈیا و ذرائع ابلاغ ، ملکی دفاع اور نظم و نسق ، غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبہ میں صنعت و حرفت اور جدید کمپیوٹر کا دور دورہ ہے۔

گلیلیو کے دور سے ماہرین فلکیات کی خواہش رہی ہے کہ کہکشاؤں کی وسعتوں اور گہرائیوں سے واقف ہوں۔ کمپیوٹر کے صنعتی استعمال سے جہاں دوسری صنعتوں کو ترقی ملی ، وہیں علوم فلکیات کے میدان میں دور بینوں کی ایجادات سے صدیوں پر محیط سفر میں تیزی آگئی۔ بصری نظام جو کبھی فقط آدھ انچ مادی آنکھ تک محدود تھا، وہ (شکل نمبر 5 کے مطابق) کر دی آئینہ اور عدسوں سے گزرتا ہوا طاقت ور ہشت پہلو آئینہ کی شکل میں ڈھل گیا اور محققین کے لئے روشنی کی کثیر مقدار اکٹھی (Focus) کر کے کہکشانی نظام کے مفصل نقشے تیار کرنا ممکن ہو گیا۔

شیشہ کی ٹیکنا لوجی میں ترقی ہوئی۔۔ ساتھ ہی ساتھ کمپیوٹر ٹیکنا لوجی کی مدد سے تیار شدہ آئینے اور عدسوں کی سطح کے ہموار پن میں انتہائی حد تک درستی بھی حاصل ہونے لگیں۔

دستی دور بین کے دو انچ بڑے عدسے سے لے کر کئی میٹر بڑے آئینوں کا ارضیاتی رصدگاہوں میں استعمال شروع ہوا۔ کہکشانی وسعتوں میں بلیک ہول اور تاریک مادہ و توانائی کے شواہد سامنے آئے۔



 

ماہرین فلکیات نے محسوس کیا کہ مشاہداتی نظام میں کمی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ہبل دور بین کو 1990ء میں سطح زمین سے دور خلاؤں میں نصب کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دیگر ارضی دور بینوں کے برعکس ہبل دور بین زمین کے اطراف ، تقریباً شمالاً جبوباً محو گردش ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ  کرۂ ارض پر دور بینوں کی تنصیبات کو خطرہ لاحق تھا۔ درحقیقت بڑی تعداد میں ایک کے بعد ایک دور بین نے علوم فلکیات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ہبل کی خلا میں تنصیب کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہ روشنیاں جو زمین پر نصب شدہ دور بین تک زمین کی فضائی آلودگی کے سبب نہیں پہنچ پاتی تھیں ، ہبل سے دکھائی دینے لگیں۔

زمین کی فضا ، سطح زمین سے لے کر کئی سو میل تک کثیف و لطیف  ذرات پر مشتمل ہے۔ ایک طرف ان ذرات پر مبنی مختلف سطحیں زمین کو مضر خلائی شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہیں ، وہیں دور دراز ستاروں اور سیاروں سے آنے والی مبہم روشنیوں کو بھی روک لیتی ہیں۔بالفرض روشنی کی کوئی کرن سطح زمین پر نصب شدہ فلکیاتی آلات تک پہنچ بھی جائے تو شدت میں کمی  یا ابہام کی وجہ سے اطلاعات کا اخذ کرنا محال ہے۔

ناسا کے خلائی مشن میں ہبل ، طویل دورانیہ کا انتہائی کامیاب پرو جیکٹ مانا جاتا ہے۔ہبل سے لاکھوں تصاویر موصول ہو چکی ہیں جن سے خلائی وسعتوں کے چھپے ہوئے کئی حصے ہمارے سامنے روشن ہوئے ہیں۔ اس کی مدد سے کائنات کی پیدائش ، انتہائی درجہ کے ایٹمی ذرات اور خلاؤں میں پھیلی ہوئی تاریک توانائی کے منبع کی وضاحت ہوئی۔

ہبل سے جہاں محققین کے زاویۂ نگاہ میں تبدیلی رونما ہوئی وہیں گزشتہ نظریات کی تو ثیق میں بھی مدد ملی ۔ ہبل سے موصول ہونے والی تصاویر زمینی فضائی آلودگی سے پاک ، واضح ، شفاف اور انتہائی مفصل ہیں۔ مستقبل کے فلکیات دانوں کے لیے ہبل کا بے پناہ ڈیٹا بہت سے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں معاون ہوگا۔

کائنات کا صحیح دور پیدائش اور پیدائشی عناصر میں کارفرما جزویات کی تفصیل ہبل سے موصول شدہ تصاویر سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ جہاں پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ کائنات کی تاریخ پیدائش قریب 10 سے 20 بلین سال ہے۔۔ بے یقینی کا یہ دورانیہ کم ہو کر فقط 13 سے 14 بلین سال رہ گیا ہے۔

بیسویں صدی کے ادوار میں ماہرین فلکیات نے مشاہدہ کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ سب کےذہنوں میں ایک ہی سوال تھا۔

آخری اس کا محرک کیا ہے اور اس میں توازن کس بنیاد پر ہے اور کہاں پھیل رہی ہے۔۔۔۔؟

توانائی کے ذرائع کا یہ انجان منبع زمینی دور بینی سے نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ یہ طبقات در طبقات توانائی کے تاریک اور بڑی جسامت والے بادلوں کی صورت میں دور خلائی  وسعتوں میں چھپا رہا۔ ہبل نے موجودگی کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ بادلوں کے خدو خال اور حدودِاربعہ کا بھی شمار فراہم کیا ہے۔

کہکشاؤں کی تخلیق ، شمسی نظام کے درجہ بر درجہ نمو، طفلی دور سے لے کر جواں دور میں داخل ہوتے ہوئے ستارے ، مرتے ہوئے ستاروں کی عکس بندی ۔۔۔ غرض  ہبل کی مدد سے بہت سے شواہد سامنے آئے ۔ فلکیاتی تحقیق و تلاش کے نظریات مخمصہ کا شکار تھے، اب ان کے تسلی بخش جواب معلوم کیے جا سکتے ہیں۔

ہبل سے فراہم ہونے والی تصاویر پر محققین حیران ہیں کہ کیسے ایک کروی (Curved) سطح کی شکل کے گرد گیس اور خاک (Nebula) کا بادل گھومتا ہے۔ ہبل نے پیدائش کے اس اسٹیج سے اگلے اسٹیج میں فلکی اجرام کو بیضوی انڈے کی شکل میں بالغ ہونے کی تصاویر بھی فراہم کیں۔

خلائی وسعتوں میں جہاں شمسی نظام یا تارے موت کے آخری مراحل میں ہوتے ہیں ، وہاں بڑے دھماکے کے ساتھ بکھر جانے والے سنگلاخ ٹکڑے نظر آتے ہیں ۔۔۔ ہبل دور بین نے گیما شعاعوں کی بے پناہ طاقت کے منبع کی بھی نشان دہی کی ہے۔

یاد رہے کہ گیما شعاعوں کی موجودگی مرتعش امواج یا Shock Waves کی غماز ہے۔ شاک ویوز میں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور کم بھی۔ یہ ہے ہبل دور بین سے حاصل ہونے والی اطلاعات کی ایک ہلکی جھلک !

محققین نے اس خلائی لیبارٹری سے حاصل شدہ ڈیٹا اور تجزیات پر مشتمل دس ہزار سے زائد تحقیقی مضامین شائع کیے ہیں۔ اس دور بین یا خلائی رصد گاہ کی فعالیت سے استفادہ کرنے کے لیے مخصوص پالیسی بنائی گئی ہے۔ ماہرین فلکیات اسے اپنے اپنے ملک میں بیٹھ کر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پالیسی نے ہبل کی فعالیت کو دو چند کر دیا۔

ماہرین فلکیات کی کوئی بھی ٹیم اپنی تجاویز ہبل دور بین کے ادارہ کو بھیج سکتی ہے۔ ماہرین مشاہدہ کے نتائج پر غور کر کے دور بین کے استعمال کا مخصوص وقت متعلقہ ماہرین فلکیات کو مہیا کرتے ہیں۔

تجربہ مکمل ہوتا ہے تو حاصل ہونے والے مشاہدات سے مفید اور نئے نظریات وضع کرنے کے لیے متعلقہ ماہرین فلکیات ایک سال کی مدت میں تحقیقی مضمون شائع کرتے ہیں اور دیٹا بقیہ کمیونٹی کے لیے جاری کر دیا جاتا ہے۔

اس پالیسی سے دوسرے ماہرین حاصل شدہ ڈیٹا کے ایسے  گوشوں کو بھی کھنگالتے ہیں جو اصل تجاویز میں شامل نہیں ہوتے۔ یہاں  سے نتائج اور نظریات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

وہ دیٹا جو ایک کمیونٹی تک محدود تھا دنیا بھر کی فلکیاتی ٹیموں اور ارضی رصد گاہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جس پر  فلکیات دان ، طبیعات دان ،کیمیا دان ، حساب دان ، حیا تیات و جینیات کے محققین وغیرہ اپنے اپنے مطمح نظر سے قوانین مرتب کرتے ہیں اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس طرح پیش کردہ نظریات کی تصدیق کی جاتی ہے۔

 آپ  جاننا چاہتے ہوں گے کہ آخر ارضی اور فلکی دور بین میں اتنا بڑا فرق کیسے واقع ہو رہا ہے۔ مشہود ایک ہے تو مشاہدہ میں تبدیلی کیونکر ممکن ہوئی؟

ابتدائی دور کی دور بین کا سب سے بڑا چیلنج خود بینی فضا تھی ۔۔ زمینی فضا نے بڑے خول کی شکل میں کرۂ ارض کو ڈھانپ رکھا ہے۔ سورج کے نکلنے ، ڈوبنے ، موسموں کے تغیر اور ماحولیاتی آلودگی سے ، فضائی خول کیفیات یا شفافیت کے تغیرات میں سے گزرتا رہتا ہے اور یہ تغیر یکساں نہیں ہے۔ اگر زمینی خول کو عمودی افقی طور پر تقسیم کیا جائے تو مختلف فضائی قطعات الگ الگ کیفیات و خصوصیت کے حامل ہیں۔ وقت (دن ، مہینے اور سالوں ) کے ساتھ ان میں عارضی و مستقل تغیر رونما ہوتا رہتا ہے۔

 مثال  : سخت گرمی میں طویل سڑک پر ڈرائیونگ کرتے ہوئے نگاہ سڑک سے ایک فٹ اوپر تک جاتی ہے تو لگتا ہے کہ پانی بکھرا ہوا ہے جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ درحقیقت گرمی کی شدت سے سڑک سے اوپر کی جانب ہوا کے تقریباً ایک انچ موٹے قطعات بن جاتے ہیں۔ ان میں کثافت حدت کی مناسبت سے ہوتی ہے۔ سورج کی روشنی سڑک پڑنے سے پہلے ان گرم تہوں سے گزرتی ہے جن میں تپش غیر یکساں۔ اس عمل سے آنکھوں پر منعکس ہونے والی لہروں سے پانی کا احساس ہوتا ہے ، اسے سراب یا Mirage  کہتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران جوں جوں سراب کی جانب بڑھتے ہیں تو زاویۂ انعکاس بدلنے سے پانی نظر آنے کا احساس بھی بدل جاتا ہے۔

سراب۔۔۔۔ فریب نظر ہے۔ الہامی کتابوں میں فریب ِ نظر کی وضاحت اس طرح بیان ہوئی ہے۔      

” جن لوگوں نے کفر کیا ان کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا بلکہ اس نے اللہ کو موجود پایا ، جس نے اس کا پورا حساب چکا دیا۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے گہرے سمندر میں اندھیرا کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے اس پر ایک اور موج ، اور اس کے اوپر بادل ۔ تاریکی مسلط ہے ، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی دیکھ نہ پائے۔ جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لئے پھر کوئی نور نہیں۔“

(النور : ۳۹۔۴۰)

اور تم دیکھتے ہو کہ وہ دیکھ رہے ہیں تمہاری طرف ، لیکن وہ نہیں دیکھ رہے۔      (الاعراف  :  ۱۹۸)

تم پہاڑوں کو جامد دیکھتے ہو لیکن یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔     (انمل :  ۸۸)

وہ لوگ گم راہی کا شکار ہو جاتے ہیں جو مظاہر فطرت کی عبادت کرتے ہیں۔ (یجر وید ، ادھیائے ۴۰ ، منتر ۹)

تم کو خدا کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اوروں کو تمثیلوں میں سنایا جاتا ہے تاکہ دیکھتے ہوئے نہ دیکھیں اور سنتے ہوئے نہ سمجھیں۔       (انجیل لوقا : باب ۸ ، آیت ۱۰)

یہ جھالر تمہارے لئے ایسی ہو کہ جب تم اسے دیکھو تو خداوند کے سب حکموں کو یاد کر کے ان پر عمل کرو اور اپنے خول اور آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی میں نافرمانی نہ کرتے پھرو، جیسا کرتے آئے ہو۔

 ( توریت  :  کتاب استثنا، باب ۱۵ ، آیت ۳۹)

اسی طرح ارضی دور بین کا رخ رات کی تاریکی میں آسمان کی جانب کیا جاتا ہے تو درجہ حرارت اور فضائی کثافت کے مختلف قطعات سراب جیسا تاثر دیتے ہیں۔ یہ دور افتاد تاروں ، سیاروں ، کہکشاؤں کے جھرمٹ سے آنے والی روشنی کے باریک نقطوں کو گہنا دیتے ہیں تو کبھی جھلملاہٹ کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

زیادہ تر یہ منتشر دکھائی دے کر کثیر التعداد روشنی کے نقطوں میں بدلنے کا تاثر دیتے ہیں۔ اس طرح اطلاعات کی ماہیت بدل جاتی ہے۔