Topics
مادہ کے ازلی اور ابدی ہونے کے بارے میں تو فلسفیوں نے بہت کچھ لکھا ہے
لیکن درحقیقت بالکل مادی اشیاء میں بھی نسلی اور جنسی بقا کا جذبہ پایا جاتا ہے اس
بنا پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی نسل کی بقا کا وعدہ کیا
تھا۔
رسول اکرمﷺ سے قرآن مجید نے جو وعدہ فرمایا تھا کہ “تحقیق تیرا دشمن بے نسل
رہے گا۔” تو اس کی وجہ یہی تھی کہ حضورﷺ کی تعلیم اور زندگی کا مقصد خداوند عالم
کے مقاصد کے مطابق تھا۔ وہ لوگ جن کا رشتہ یہ ہو کہ وہ اپنے خالق کے مقاصد کے سامنے ہمیشہ دیوار بن کر
کھڑے ہو جائیں تو ان کی فنا لازمی ہے۔ ان کی نسلیں منقطع ہو جاتی ہیں۔ قرآن پاک
میں جو مختلف قوموں کی بربادی کا ذکر کیا گیا ہے اس کی وجہ بھی ان قوموں کے اپنے
انبیاء اور ناصحین کی مخالفت قرار دیا ہے۔
اس سے ظاہر ہے کہ جنسی کشش ،اس کا علم، اس کا مقصد یعنی بقائے نسل مکمل طور
پر روحانی قانون پر منحصر ہے جو مخلوق کے اندر خالق کی طرف توجہ کرنے اور اپنی
خواہشات کو فنا کر دینے میں پوشیدہ ہے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ
جنسی جذبہ ایک حیوانی جذبہ ہے اور اس کی کشش غیر شعوری جذبے کے متعلق بقائے نسل کے
سوا کچھ نہیں۔ اگر اسے ٹھیک بھی مان لیا جائے تو اس کے معنی اس کے سوا اور کچھ
نہیں کہ نسلی بقا کا جذبہ انسانوں میں صرف حیوان ہونے کی حیثیت سے غیر شعوری طور
پر پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ جذبہ انسانوں میں عام
طور پر بالکل غیر شعوری طریقے سے موجود ہے۔
رسول اکرمﷺ نے جو روحانی حقیقتوں کے بہترین سمجھنے والے تھے عورت کےلئے
پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور اس کے ساتھ ہی صلوٰۃ کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہا تو
اس میں بھی یہی راز مضمر تھا کہ جنسی کشش روحانی جذبہ ہے جو خالق کی دی ہوئی قوت
تخلیق کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔
یگانگت یا وحدت کے لئے ایک مرکز کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس قدر نفس ایک مرکزی
مقصد کے حصول کے لئے وحدت کے ساتھ عمل کرے گا اسی قدر روحانی ترقی زیادہ ہو گی۔
تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جس قدر نفس کا زیادہ اثر خواہشات، جذبات اور
عملیات پر ہو گا اسی طرح شخص اپنے افعال زندگی کو بہت طریقے سے ادا کر سکے گا۔
ازدواجی تعلقات کو بھی اگر ایک جسمانی اور حیوانی فعل تصور کر لیا جائے تو بھی اس
کے ادا کرنے کا بہترین طریقہ نفس کو اس طرح سدھارتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات پر پورا
قابو پا لے اور ان کی ادائیگی میں اس طرح عمل کرے کہ اس قدرتی فعل سے جسم کو نفع
ہی نفع حاصل ہو۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
‘‘انتساب’’
اُس ذات
کے
نام
جو عرفان کے بعد
اللہ کو جانتی‘ پہچانتی
اور
دیکھتی ہے