Topics

وحدانیت

 

حق تعالیٰ نے یہ کائنات اس لئے بنائی ہے کہ انسان وحدانیت کو پہچان لے قدرت کو مان لے اور اس مقصد کی خاطر مذاہب عالم وجود میں آتے ہیں۔مذہب کے بغیر انسان کائناتی سسٹم سے واقف نہیں ہوتا۔ جب وہ کائنات کو نہیں جان سکتا تو خالق کائنات کو کس طرح جانے اور پہچانے گا۔

 

مذہب

وہ لوگ جو مذہب سے ہٹ کر اس کائنات کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں، فریب کی بھول بھلیوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

 

روح کے بغیر

عقل کیا ہے انسانی سوچ ہے اور انسانی سوچ حواس کے تابع ہے۔ حواس کے متبادل انسان جو کچھ کرتاہے وہ  بھی اس کی سوچ ہے۔ روح بھی نظر سے اوجھل عنصر ہے لیکن اس کا وجود قوی ہے کیونکہ روح کے بغیر زندگی ممکن نہیں روح کے بغیر وحدانیت نہیں روح کے بغیر حقانیت نہیں۔

 

احکام خداوندی

احکام خداوندی انسانوں کی بھلائی کے لئے ہے اس کے حکم کے کسی بھی حرف میں کسی بھی لفظ میں کوئی تغیر نہیں ہوتا حق تعالیٰ اپنے قوانین کو بدلتا نہیں ہے۔

 

عقل

عقل انسان کو ترقی کی منزل پر پہنچا کر وحدانیت سے غافل کر دیتی ہے عقل انسان کو سیدھِ راہ بھی دیکھاتی ہے اور الٹی بھی جب سے انسان نے اس حسین کائنات میں قدم رکھاہے عقل اس کی دوست بھی ہے اور دشمن بھی اگر انسان نے عقل سے خدا کو پہچانا ہے تو اسی کے بل بُوتے پر خدا کے وجود سے انکار بھی کیا ہے۔

 

اصلیت

علم کسی چیز کی حقیقت جاننے کو کہتے ہیں کسی چیز کا باطن اس کی حقیقت اور اصلیت ہے جو ظاہر پر فوقیت رکھتی ہے۔

 

عمل

 انسان اپنے عمل سے خیر یا شر کماتا ہے اور عمل اس کی عقل کے تابع ہے  عقل ہی اس کا نفس ہے جو بے قابو ہو جاتا ہے تو ابلیس اس پر قبضہ جما لیتا ہے عقل میزان عدل ہے جب اس کا پلڑا برائی کی طرف جھکتا ہے توانسان

گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اور جب اچھائیوں کی طرف جھکتاہے توانسان عرفان وآگہی کی منزل کوپالیتا ہے۔

 

ذکر الٰہی 

انسان کا نفس بڑا ہی ظالم ہے اس بے لگام گھوڑے کو ذکر الٰہی  سے قابو  کیا جا سکتا ہے۔

 

دین

دین کا ظاہری علم کتابوں میں ہوتا ہے جسے پڑھنے کے لئے آنکھیں اور زبان چاہے جب کہ باطنی علم کے لئے دل کی بصیرت اور روح کا ادراک ضروری ہے۔

 

نفس

نفس بڑا ہی ظالم ہے حق تعالی تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جب تک انسان اسے قابو نہیں کرتا اس کا شکار رہتا ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔