Topics
حق تعالی کے حضور بر تروہ ہے جس کے اعمال اچھے ہیں جس کے
قول وفعل میں تضاد نہیں ہے۔
عاشق
سچےعاشق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب کے ہر حکم کی
تعمیل کرے۔
روحیں
اسکی روحیں جو جسم کے فنا ہونے سے قبل ہی حق تعالی سے ناطہ
جوڑ لیتی ہیں تمام قیود سے آزاد ہوتی ہیں۔
در گزر
در گزر کر نا
بہادروں کی شان ہے اللہ معاف نے والوں کو پسند کرتا ہے۔
مٹی
جس شے کی تمھارے دل میں خواہش ہو مٹی سے زیادہ نہ سمجھو ۔تمھارے
دل و دماغ میں صرف اور صرف ابدی دنیاکا
تصور ہونا چاہئے۔
مخلوق کا سچ
اللہ تعالی کی مخلوق کا سچ اور مخلصانہ جذبہ انسان کے اندر
محبت، اخوت مساوات اور ممتا کو جنم دیتا ہے۔ اور انسان کے سکون کا سب سے بڑا دشمن
فخر و مباہات، غرور و تکبر ہے جو عاجزی اور انکساری کو کھا جاتا ہے۔
زندگی میں مومن کو
تو اعلی کارنامے انجام د ینا ہیں اور فی الارض خلیفہ کی جس عظیم ذمہ داری سے عہدہبر
آہو نا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جسم میں جان ہو، ارادوں میں مضبوطی ہو ، حوصلوں
میں بلندی ہو، زندگی ولولوں، امنگوں اور اعلی جذبات سے بھر پور ہو۔
مقصد حیات
مقصد حیات جب دنیابن جاتا ہے تو آدمی غم و غصہ ، رنج و فکر
، حسد جلن بد خوابی، تنگ نظری، مردہ دلی، اور دماغی الجھنوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
مذہب
ہم نے مذہب کو اپنی ذاتی انا، دولت پرستی، دنیاوی حرص و ہوس
کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور مذاہب کے اصل پروگرام پر اپنی ذاتی مصلحتوں
کی گردڈال دی ہے نتیجتا ً ہم اس راہ سے بالکل بے خبر ہو گئے جس کے انکشاف کے لئے مذہب
عالم ِوجود میں آیا۔
غیب
غیب سے روشناسی اور کائنات کے تسخیری فار مولوں کے انکشاف
کا قرآن حکیم سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔
توبہ
توبہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں فی
الواقع آدمی اپنی نفی کر دیتا ہے اور اپنے پروردگار کے سامنے وہ سب کہہ دیتا ہے جو
کسی کے سامنے نہیں کہہ سکتا۔ بے شک اللہ ہمار امحافظ ودم ساز ہے اس کی رحمتیں
ہمارے اوپر بارشیں بن کر برستی رہتی ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔