Topics

ابدال حق خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا سال 2003ء میں پہلے ”آدم ڈے اگست 2026


ابدال حق خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا سال 2003ء میں پہلے ”آدم ڈے“ کے موقع پر برطانیہ میں بین المذاہب خواتین و حضرات سے خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم حاضرین محفل، عزیز و پیارے دوستو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ!

ابھی آپ نے بہت سارے مسلم اور غیر مسلم خواتین و حضرات کو سنا ہے۔ ہر آدمی نے اس بات کو بار بار فرمایا ہے کہ مذہب امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے۔ ہر مذہب میں سلام کرنے کا رواج ہے۔ میں یہاں سب لوگوں کو سلام کرتا ہوں، السلام علیکم!

(حاضرین نے ایک آواز میں کہا: وعلیکم السلام!)

”السلام علیکم“ ایک دعا ہے جس کے معنی ہیں کہ جب ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اس کو دعا دیتے ہیں کہ تم امن اور سلامتی کے ساتھ زندہ رہو۔ اسلام میں ہر مرد اور عورت کے لیے یہ ضروری قرار دیا جاتا ہے کہ جب وہ کسی سے ملے تو اسے دعا دے۔ جس کو سلام کیا جاتا ہے، اس پر بھی یہ فرض ہے کہ وہ بھی دعا کے جواب میں اسے دعا دے یعنی سلام کرے۔

وعلیکم السلام کا مطلب ہے کہ تم بھی امن اور سلامتی کے ساتھ خوش رہو۔ جس طرح یہودی ایک مذہب ہے، ہندو ایک مذہب ہے، عیسائی ایک مذہب ہے، اسلام بھی ایک مذہب ہے۔ اسلام کے معنی ہیں امن اور سلامتی کے راستے پر چل کر زندگی گزارو۔

مذاہب کے حوالے سے نوع انسانی یا نوع آدم کے پاس چار کتابیں ہیں۔ یہ چاروں مذاہب کی کتابیں آدم اور آدم کی اولاد کے لیے نازل ہوئی ہیں۔ اس بات سے کوئی آدمی انکار نہیں کر سکتا کہ جب تک آدم یا آدم کا بیٹا پیدا نہیں ہوتا، اس وقت تک ہم اس کا نام آدم ہی رکھتے ہیں۔ جب ہم آدمی کا ذکر کرتے ہیں تو ہم یہ بات ماننے پر مجبور ہیں کہ آدمی کا ایک باپ ہوتا ہے، ایک ماں ہوتی ہے۔ اگر ہم یہ تلاش کریں کہ ہمارے باپ کا باپ کون تھا، ہمارے دادا کا باپ کون تھا، دادا کے باپ کا باپ کون تھا تو یہ سلسلہ بابا آدم پر جا کے رک جاتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدم کو پھر کس نے پیدا کیا؟ چاروں کتابیں بتاتی ہیں کہ آدم کو اللہ نے بنایا اور آدم کو اللہ نے بنا کر اسے وہ علم سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

جب ہم علم سیکھنے کا تذکرہ کرتے ہیں یا علم سیکھنے کی بات کرتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی استاد کے بغیر علم نہیں سیکھ سکتا۔ اس ٹیچر کا نام گرو ہو یا کوئی اور ہو، بہرحال ٹیچر کے بغیر کوئی آدمی علم نہیں سیکھ سکتا۔ جب ہم انبیا کرام علیہم السلام پر نازل کتب اور آخری آسمانی کتاب قرآن کریم پڑھتے ہیں تو ہمیں اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ آدم کا پہلا استاد ”اللہ“ ہے۔ اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ آدم کے علاوہ فرشتے اور جنات بھی ایک مخلوق ہیں اور جنات کے بعد انسان بھی ایک مخلوق ہے۔

جب ہم کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس میں ہمیں بہت ساری چیزیں نظر آتی ہیں مثلاً ہم جب آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ستارے نظر آتے ہیں، چاند نظر آتا ہے، سورج نظر آتا ہے اور جب ہم زمین کی طرف دیکھتے ہیں تو زمین کے اوپر پہاڑ نظر آتے ہیں، درخت نظر آتے ہیں، پرندے نظر آتے ہیں، پانی نظر آتا ہے اور سمندر میں سمندر کی مخلوق مچھلیاں نظر آتی ہیں۔ یہ ساری چیزیں دیکھنے کے بعد ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ چاند بھی پیدا ہوا، سورج بھی پیدا ہوا، پرندے بھی پیدا ہوئے، درخت بھی پیدا ہوئے اور سمندر میں مچھلیاں بھی پیدا ہوئیں۔

جس طرح انسان کے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے، اسی طرح گائے بھی بچے کی ماں بنتی ہے۔ جس طرح ایک انسان کی ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے، اسی طرح گائے اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے۔ جب ہم گائے اور بکری کی پیدائش پر غور کرتے ہیں، ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سب سے پہلے گائے اور بیل پیدا ہوئے اور ان کی نسل چلی، جس طرح آدمی کی نسل حضرت آدم سے چلی۔

بابا آدم کا جب تذکرہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمیوں کا سب سے بڑا باپ اور جب اماں حوا کا ذکر آتا ہے تو اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ سب سے بڑی ماں۔ کوئی آدمی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ وہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ پیدا ہوا ہے تو اس کا نام ہے۔ اگر کوئی آدمی پیدا نہیں ہو گا تو اس کا نام بھی نہیں ہو گا۔ اور آدم کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اللہ سب سے بڑا خالق ہے۔

جس طرح ماں باپ اولاد کی پرورش کے لیے ان کو خوراک مہیا کرتے ہیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، اسی طرح اللہ نے اپنی مخلوق کے کھانے پینے کا انتظام کیا ہے۔ اللہ نے زمین بنائی، اس کے اوپر بارش برسائی، بارش کے بعد زمین میں پھول نکلا، اس کو انہوں نے کھایا۔ ساتھ ساتھ اللہ نے ہوا بنائی، اللہ نے آکسیجن بنائی اور اللہ نے پانی بنایا۔ ہر انسان میں تین حصے پانی کے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ جو چیزیں بنائی ہیں، آکسیجن، پانی، دھوپ، ہوا، یہ اس لیے بنائی ہیں کہ اللہ کی مخلوق خوش ہو کر کھائے، زندہ رہے۔ اللہ پانی کے پیسے نہیں مانگتا، ہوا کے کوئی پیسے نہیں مانگتا، آکسیجن کے پیسے نہیں مانگتا، اللہ ماں کے پیٹ میں نو مہینے تک بچے کو خوراک فراہم کرتا ہے، اس کے پیسے نہیں مانگتا۔ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کی صحت کے پیسے نہیں مانگتی، مزدوری نہیں مانگتی، اسی طرح اللہ اپنی مخلوق سے پیسے نہیں مانگتا اور کسی چیز کو فروخت نہیں کرتا۔ بارش جب برستی ہے، پہاڑ پر بھی برستی ہے، کھیت میں بھی برستی ہے، خراب زمین پر بھی برستی ہے اور کیچڑ پر بھی برستی ہے۔ ان لوگوں کے اوپر بھی برستی ہے جو اللہ کو مانتے ہیں اور بارش ان لوگوں پر بھی برستی ہے جو اللہ کو نہیں مانتے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ ایک ہے۔ وہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ اپنی مخلوق کی غلطیوں کو معاف کرتا ہے اور سب کچھ اپنی مخلوق کو دیتا ہے، اس کے پیسے نہیں مانگتا، ہر چیز مفت دیتا ہے۔

یہ چار کتابیں جو مذاہب کی ہیں، ان چاروں کی تعلیمات کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان کی تعلیمات وہی ہیں۔ جس طرح اللہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے، ہر بندے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بھائی سے، اپنی بہن سے محبت کرے۔ مذہب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی خدمت کرے، وہ دوسرے آدمی سے خوش اسلوبی سے بات کرے اور دوسرے آدمی کی جو پریشانی ہے، اس میں کام آئے۔ اگر یہ عادت انسانوں میں نہیں ہو گی تو حیوان میں اور انسان میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔

حیرت کی بات ہے اور سب لوگوں سے سوال ہے کہ ہر مذہب کا آدمی یہ کہتا ہے کہ جھوٹ نہ بولو۔ کوئی مذہب یہ نہیں کہتا کہ جھوٹ بولو۔ ہر مذہب یہ کہتا ہے کہ بے ایمانی نہ کرو، چوری نہ کرو۔ کوئی مذہب یہ نہیں کہتا کہ چوری کرنا بہت اچھی بات ہے۔ ہر مذہب یہ کہتا ہے کہ زمین پر فساد نہ کرو، امن و امان کے ساتھ رہو۔ ہر مذہب میں لڑائی سے منع کیا گیا ہے پھر لوگ کیوں آپس میں لڑتے ہیں؟

حضرت عیسیٰ کی تعلیمات یہ ہیں کہ اگر کوئی تمہارے ایک چپت رسید کرے تو تم اس کو مارنے کی بجائے اپنا دوسرا گال اس کے سامنے کر دو۔ کرشن جی اور حضرت موسیٰ کی بھی یہی تعلیمات ہیں کہ لوگوں کو معاف کرو، زمین پر فساد نہ کرو، آپس میں لڑو نہیں۔

خاتم النبیین حضرت محمد کی بھی یہی تعلیمات ہیں کہ جو کچھ اپنے لیے چاہو، وہی اپنے بھائی کے لیے چاہو، کسی سے تکلیف پہنچ جائے تو اسے معاف کر دو۔

ساری دنیا آدم کی اولاد ہے اور دنیا جب آدم کی اولاد ہے تو سب آپس میں بھائی بہن ہیں۔ ایک باپ کے دو بچے ہوتے ہیں، ایک باپ کے دس بچے ہوتے ہیں، ایک باپ کے لاکھوں بچے ہوتے ہیں۔ بہن بھائی ہونے کے باوجود باپ کی نظر میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ بچوں میں اگر ایک بچہ طاقتور ہے، دوسرا کمزور ہے، کوئی بچہ رونے لگتا ہے، کوئی بچہ جھگڑا کرتا ہے، کوئی بچہ شرارت کرتا ہے۔ جب بات کی جائے تو ان چاروں بچوں کا باپ ایک ہے۔ اسی طرح حضرت آدم کے ملین بلین بچے ہیں۔ سب آپس میں بہن بھائی ہیں۔

سب کو چاہئے کہ ہم سب مذہب کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں، ایک جگہ بیٹھیں، اپنی پرابلم حل کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ اور آپس میں پیار محبت سے رہیں۔ ایک گھر میں چار آدمی لڑتے ہیں تو گھر کا سکون برباد ہو جاتا ہے اور ایک زمین پر اگر چھ ارب آدمی لڑیں گے تو زمین کا سکون برباد ہو جائے گا۔ اس وقت زمین کا یہی حال ہے کہ ہر طرف لڑائی ہے، آگ ہے۔ ایک ملک دوسرے ملک پر چڑھائی کر رہا ہے، قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ہم سب لوگ گھروں کی طرح رہیں، اپنے ملک میں امن اور سلامتی کے ساتھ رہیں تو ہمارا معاشرہ امن اور سلامتی کا معاشرہ بن جائے گا۔ جب امن نہیں ہو تو آدمی بیمار ہوتا ہے اور جب امن ہوتا ہے تو آدمی خوش رہتا ہے، صحت بھی اچھی رہتی ہے۔

عظیمیہ فاؤنڈیشن نے ”آدم ڈے“ اس لیے منایا ہے کہ یہاں سارے مذاہب کے لوگ جمع ہوں اور وہ اس بات پر یقین کر لیں کہ وہ گورا ہے یا کالا ہے، افریقین ہے، آسٹریلین ہے، انڈین ہے، چینی ہے، جو بھی ہے، وہ بابا آدم اور اماں حوا کی اولاد ہیں۔

ہر آدم زاد کے اندر روح کام کرتی ہے۔ روح نہیں ہو گی تو آدم نہیں رہتا، وہ ڈیڈ باڈی ہو گی۔ آپ نے دیکھا ہے، کوئی مردہ آدمی کسی کو مارتا نہیں ہے، کوئی مردہ آدمی کسی کو پیار نہیں کرتا، کوئی مردہ آدمی کھانا نہیں کھاتا، کوئی مردہ آدمی چلتا پھرتا نہیں ہے حالانکہ جسمانی اعضا موجود رہتے ہیں۔ ہاتھ، پیر، ہر چیز موجود ہے۔

ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا یہ طریقہ ہے کہ ہر آدمی اس بات کو یاد کرے کہ میں اس دنیا میں مسافر کی طرح آیا ہوں اور مجھے یہاں سے چلے جانا ہے اور بیلیو کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کا تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ مثلاً ہمارا باپ مر جاتا ہے، ہماری ماں مر جاتی ہے، ہمارا دادا مر جاتا ہے، جس طرح ہمارے بزرگ مر جاتے ہیں، اسی طرح ایک دن ہم بھی مر جائیں گے۔ مرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس فزیکل باڈی سے روح نے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے۔

سارے مذاہب کے لوگوں کو ایک جگہ بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے، ایک اسٹیشن ہے، ایک اچھا ہوٹل ہے۔ یہاں کوئی آدمی مستقل نہیں ہے۔ ہمارا سب سے بڑا باپ آدم، وہ بھی اس دنیا میں نہیں رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہاں تھوڑے دن کے لیے آئے ہیں۔ جب ہماری عمر ختم ہو جائے گی، یہاں سے چلے جائیں گے۔ یہ تھوڑے دنوں کے لیے کیوں لڑتے ہو؟ کیوں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہو؟ کیوں ایک دوسرے پر غصہ کرتے ہو؟ تھوڑے دن ہیں، پیار سے، محبت سے رہو اور ایک دوسرے سے پیار کرو۔

عظیمیہ فاؤنڈیشن ایک روحانی ادارہ ہے۔ جب کوئی آدمی اپنی روح سے واقف ہو جاتا ہے تو وہ زندہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن سے یہ بات نکل جاتی ہے کہ میں گندمی ہوں اور اس کا رنگ صاف ہے یا میں گورا ہوں اور اس کا رنگ کالا ہے، میں موٹا ہوں، اس کا جسم کمزور ہے۔ اس کے ذہن میں ایک بات ہوتی ہے کہ فزیکل باڈی عارضی چیز ہے جس کی عمر 80 سال ہے یا زیادہ سے زیادہ 100 سال ہے۔

عظیمیہ فاؤنڈیشن ایک سکول آف تھاٹ ہے۔ وہ یہ سکھاتا ہے کہ انسان اس وقت خوش رہتا ہے جب دوسروں کو خوش رکھتا ہے۔ جو آدمی دوسروں کو خوش نہیں رکھتا، وہ خود کبھی خوش نہیں رہتا۔ جو آدمی دوسروں کے کام نہیں آئے گا، کوئی اس کے کام نہیں آئے گا۔ جو آدمی غصہ کرے گا، لوگ اس سے دور ہو جائیں گے۔ جو آدمی معاف کرے گا، لوگ اس کے دوست بن جائیں گے۔

عظیمیہ فاؤنڈیشن کی تعلیمات یہ ہیں کہ سب بابا آدم اور اماں حوا کی اولاد ہیں۔ ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا احترام کرنا چاہئے۔ اس کے لیے ہم نے ”قلندر شعور اکیڈمی“ قائم کی ہے جس میں ہم اس کورس کو پڑھاتے ہیں، تھیوریٹیکل بھی اور پریکٹیکل بھی۔ جس طرح کسی اسکول میں ہر مذہب کا آدمی داخل ہو سکتا ہے، اسی طرح ”قلندر شعور اکیڈمی“ میں جو داخلہ لیتا ہے، وہ روحانی علوم سیکھ سکتا ہے۔

آپ حضرات تشریف لائے۔ ہر مذہب اور ملت کے لوگ یہاں موجود ہیں۔ اس کے لیے عظیمیہ فاؤنڈیشن اور میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ عظیمیہ فاؤنڈیشن کا آپ سب کے لیے پیغام ہے کہ خوش رہو، دوسرے تم سے خوش رہیں گے۔ عظیمیہ فاؤنڈیشن بتاتی ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کی خدمت کرتا ہے، بارش برسانا خدمت ہے، ہوا چلانا خدمت ہے، درختوں سے آکسیجن پیدا کرنا خدمت ہے، زمین سے خوراک پیدا کرنا خدمت ہے، ماں کے دل میں بچے کی محبت ڈالنا خدمت ہے، باپ کے دل میں محبت ڈالنا خدمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ اپنی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور مخلوق کی خدمت کرنا اللہ کا پسندیدہ کام ہے۔ جب کوئی بندہ مخلوق کی، اپنے بھائی کی، اپنی بہن کی خدمت کرتا ہے تو اس نے وہ کام شروع کر دیا ہے جو اللہ کو پسند ہے۔

آپ سب حضرات کا بہت شکریہ۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔