Topics

دیکھنے کے لیے نگاہ ستمبر 2026

آج کی بات 

دیکھنے کے لیے نگاہ کا ٹھہرنا ضروری ہے لیکن ہم کیا دیکھتے ہیں، اس کا دارو مدار ذہن پر ہے۔ جس ذہن سے حالات اور تخلیقات کو دیکھا جاتا ہے، تفصیلات اس رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں۔ مثلاً یکسوئی کی صلاحیت سب کو حاصل ہے مگر یکسوئی طرز فکر کی پیروکار ہے۔ طرز فکر شک سے آلودہ ہو تو مطلب یہ ہے کہ توجہ انتشار میں یکسو ہے۔ طرز فکر پر یقین کا رنگ غالب ہے تو پھر یقین کو قرار ہے۔

دیکھئے ارتکاز کی صلاحیت یقین کے حامل اور شک سے متاثر دونوں ذہنوں میں ہے کیوں کہ یہ دونوں دیکھنے کے لیے آنکھوں کے ڈیلوں کو ساکن کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے ہی لیکن آنکھ کے ڈیلوں کا ٹھہرنا ضروری ہے ورنہ جسے دیکھنا مقصود ہے، اس کا عکس ذہن کی اسکرین پر منتقل نہیں ہوتا۔ دیکھنے کے شعور کو سمجھنے کے لیے تصویر کھینچنے کے عمل پر غور کیجئے کیمرے کا لینس پہلے شے کو فوکس کرتا ہے۔ جس لمحے کیمرے کی پہلی ٹھہرتی ہے، کیمرا مین شٹر دبا کر یعنی پلکیں جھپکا کر اس لمحے کو محفوظ کر لیتا ہے۔

تصویر کھینچنے کا دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ جس شے کی تصویر لی جارہی ہے، وہ حرکت میں ہو تو کیمرے کا میکانیکی نظام شٹر اسپیڈ کے مطابق دو حرکات کے مابین اس وقفے کی تلاش میں رہتا ہے جس میں حرکت ایک اسپیس سے دوسری اسپیس میں منتقل ہوتی ہے۔ وقفے کا تعین درست نہ ہو تو تصویر دھندلی ہو جاتی ہے۔

* ۱۔ طرز فکر 

* ۲۔ فریم ریٹ اور ایکسپوژر ٹائم فریم ریٹ سے مراد کیمرا ایک سیکنڈ میں کتنی تصاویر (فریم) ریکارڈ کرتا ہے اور ایکسپوژر ٹائم یہ ہے کہ کیمرا ایک تصویر بناتے وقت کتنی دیر تک روشنی حاصل کرتا ہے۔

مثال آپ نے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ یہ عمل محض ایک حرکت پر مشتمل نہیں، بہت سی حرکات نے مل کر ہاتھ کو گلاس تک پہنچایا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دیکھنے کے باطنی نظام سے ناواقف شخص سمجھتا ہے کہ کسی کام کو انجام دینے کے لیے ہاتھ خط مستقیم میں آگے بڑھتا ہے لیکن جو اس نظام سے واقف ہے، وہ کہتا ہے کہ ہاتھ زمین کے گردشی نظام کے زیر اثر ہے اور اس کی طرح محوری اور طولانی سمتوں میں حرکت میں ہے۔

حرکت کی یہ دونوں طرزیں زمین کے اندر اور اس کے اوپر آباد ہر شے پر محیط ہیں۔

قدموں کو دیکھ لیجئے۔ جب قدم اٹھتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کی حرکت لکیر کی طرح سیدھی ہے مگر فاصلہ طے کرنے کے بعد یہ دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر دوسرا قدم اٹھتا ہے۔ اس طرح ہر قدم طولانی فاصلہ طے کر کے یکے بعد دیگرے ایک دائرے کو ظاہر کرتا ہے۔ دائروں کے اندر یہ طولانی حرکت اور دو دائروں کے درمیان اسپیس دراصل دائرے کو دیکھنے کے لیے وقفہ ہے۔ یوں ایک دائرے سے گزر کر دوسرے دائرے میں داخل ہوتے ہوئے زمین قدموں سے لپتتی ہے اور آدمی چلتا ہے۔

ک

محوری اور طولانی گردش کے قانون کو سمجھنے کے لیے گیند کی مثال پڑھئے۔

کھلاڑی گیند کو ہاتھ سے فضا میں اچھالتا ہے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے پاؤں سے آگے دھکیلتا ہے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ فٹ بال تیزی سے دائرہ در دائرہ آگے بڑھتی ہے۔ گیند چھوٹی ہو یا بڑی۔ اس کی رفتار دائرے میں رہنے اور دائروں کے تسلسل میں آگے بڑھنے کی وجہ سے قائم ہے

* ۳۔ سیدھی لکیر۔ ایک سمت میں چلنے والی۔

قابل قدر دوستو، میرے بچو اور بزرگو!

آپ ان مثالوں سے کیا سمجھے؟ ان میں کسی شے کو دیکھنے اور کسی شے کے نظر آنے کا قانون ظاہر لیکن چھپا ہوا ہے۔ جو لکھا گیا ہے، اس میں ہر مثال دوسری مثال کا آئینہ ہے۔ آئینے میں دیکھنے سے شعور کی گرہیں کھلتی ہیں۔ بات ٹھہر ٹھہر کر سمجھئے پھر آگے پڑھئے۔ سمجھے بغیر پڑھنا۔ پڑھنے کی سند پر سوالیہ نشان ہے۔

دیکھنے کی دو بنیادی طرزیں ہیں۔ باطن سے بے خبر آدمی اور تحقیق و تلاش (سائنس) دیکھنے کی جس طرز سے واقف ہیں، اس میں وقفہ (اسپیس) غالب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک حرکت، شے، منظر، آواز اور احساس وقفوں میں تقسیم نہ ہو، محدود شعور کو ان کا ادراک نہیں ہوتا۔ اس ذہن سے کی جانے والی ایجادات سے سیکڑوں میل کا فاصلہ گھنٹوں اور لمحوں میں طے کیوں نہ ہو، ان میں حرکت کا طولانی رخ موجود رہتا ہے۔ رفتار ایک طرف، ایجادات کی ساخت پر غور کیجئے، یہ مختلف عناصر اور ٹکڑوں کو باہم جوڑ کر بنائی گئی ہیں۔ ہر جوڑا ایک وقفہ (اسپیس) ہے۔ گیند کو دیکھ لیجئے، وہ مکمل طور پر ہموار اور گول نہیں، اس کی سطح پر جوڑ نمایاں ہیں۔

تخلیقات اور ایجادات کی طرح کیمرا بھی مختلف پرزوں کی ترتیب اور کئی نظاموں سے یکجان ہے۔ ان میں ایک نظام شٹر کا ہے۔ کوئی شے شٹر کی رفتار سے تیز حرکت میں ہو تو تصویر دھندلی ہو جاتی ہے کیوں کہ کیمرا حرکت کی بجائے وقفے کے میکانزم پر کام کرتا ہے۔ اسے بنانے والا وقت اور فاصلے کو مختصر سے مختصر کرنے کی کوشش میں ہے لیکن وہ خود جس نظر سے چیزوں کو دیکھتا ہے، اس میں وقفہ غالب ہے۔ وہ دیکھنے کے لیے پلکیں جھپکانے کا محتاج ہے اس لیے اس نے کیمرے میں شٹر کا نظام رکھا ہے۔ اگر شٹر نہ دبے تو تصویر محفوظ نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب تک پلکیں جھک کر پلکوں سے یکجان نہیں ہوتیں اور آنکھ کا ڈیلا

حرکت نہیں کرتا۔ عکس ذہن کی اسکرین پر منتقل نہیں ہوتا۔

کیمرا وقفے کے شعور سے مغلوب نظر کا مظہر ہے۔ جب یہ ویڈیو کی شکل میں کوئی منظر دکھاتا ہے تو نزاکت اور سرعت سے دو تصویروں کے درمیانی وقفے کو ایک معین حد تک سمیٹ لیتا ہے۔ رفتار کی وجہ سے منظر رواں لگتا ہے اور وقفہ محسوس نہیں ہوتا لیکن موجود رہتا ہے۔ یہ وقفہ یعنی اسپیس ایک طرف منظر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور دوسری طرف ہر دو مناظر کے درمیان موجود رہتا ہے۔

حرکت کے طول سے گزر کر دائرے میں داخل ہونے کا مشاہدہ کرنے کے لیے گیند یا گھومتے ہوئے پہیے کی فلم کی رفتار آہستہ کر کے دیکھئے۔ مشاہدہ ہو گا کہ حرکت کا ایک دائرہ جب دوسرے دائرے میں داخل ہوتا ہے تو ان کے درمیان اسپیس تخلیق ہوتی ہے۔ آدمی اس اسپیس کو دیکھتا ہے، دائرے کو نہیں دیکھتا۔ وہ اس اسپیس کی نظر سے کسی شے کو دیکھتا ہے اور یہ طرزِ نظر شک سے متاثر ذہن کا نتیجہ ہے۔

وقفہ (اسپیس) حائل ہونے سے دیکھنے میں تسلسل ٹوٹتا ہے اور توجہ شے کی دائروی حرکت کو نظر انداز کر کے طولانی حرکت پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ مثلاً آپ نے دیکھا، پلکیں جھپکائیں اور جب دوبارہ پلکیں اٹھائیں تو فہم و ادراک میں وقفہ پیدا ہو گیا۔ چوں کہ پلک جھپکنے کا تعلق تقسیم کی طرزِ فکر سے ہے لہذا یہ نظر شے کو نظام سے الگ دکھاتی ہے اور شک پیدا کرتی ہے کہ ہر شے طول میں سفر کر رہی ہے حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر شے دائرے کے اندر ہے اور جہاں سے آئی ہے، ہر لمحہ وہاں لوٹ رہی ہے۔

 

* ۴۔ تیزی، پھرتی

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔