Topics

جولائی ۲۰۲۶زندگی خیال کے سوا کیا ہے؟

آج کی بات

 

زندگی خیال کے سوا کیا ہے؟ خیال میں ازل تا ابد وسعت ہے، وسعت خیال کی وجہ سے تشریحات کے زاویے ہیں لیکن ہر زاویہ مظاہرے کے لیے خیال کا تابع ہے۔ خیال کیا ہے، کہاں سے آتا ہے، اس کے اوپر الوژن کا پردہ ہے۔ الوژن کیا ہے؟

ایک دنیا وہ ہے جو اللہ نے بنائی ہے مگر اسے نظر انداز کر کے آدمی گمان کی دنیا میں مشغول ہے۔ وہ جس سوچ اور خیال میں رہتا ہے، خیال اس کے مطابق ذہن میں ایک جال بن لیتا ہے۔ یہ جال اس کے کان، آنکھ، ناک اور زبان بن جاتا ہے۔ آدمی اس کے ذریعے سنتا، دیکھتا ہے اور تجزیہ کر کے حالات و واقعات میں معنی پہناتا ہے۔ اس طرح وہ حقیقی دنیا سے صرف نظر کر کے اپنے ذہن کی دنیا میں رہتا ہے اور اختلاف میں پڑا ہوا ہے۔ اختلاف کی تعریف بیان کی جائے تو یہ الوژن کے سوا کچھ نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

”اور متحد ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔“ (آل عمران: ۱۰۳)

ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی اللہ کے بنائے ہوئے نظام میں یقین ہے، محبت ہے، ایک دوسرے کا خیال اور احساس ہے، معافی ہے، درگزر ہے، ایثار ہے، غور و فکر کی نصیحت ہے کہ نظام کائنات کیسے چلتا ہے، وسائل کس کے حکم سے، کہاں سے اور کس ترتیب سے ظاہر ہوتے ہیں، ظاہر ہو کر غائب ہوتے ہیں اور غیب سے مظاہرہ کر کے پھر غیب میں چلے جاتے ہیں؟ جو رزق ہم کھاتے ہیں، اس کے لیے کسان نے کتنے مہینوں پہلے بیج بویا، وہ بیج کہاں سے آیا؟ فصل کی آبیاری کے لیے رحمن و رحیم اللہ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا۔ پانی زمین کی کوکھ میں جذب ہو کر لاشمار وسائل میں ظاہر ہوا۔ وسائل زمین میں کہاں تھے اور بارش نے کس طرح ان کی رونمائی کی؟ رونمائی سے زمین کی بو قلمونی ہوئی اور یہ رنگ رنگ رنگوں میں ظاہر ہو گئی۔ ہر رنگ میں قدر مشترک ”پانی“ ہے۔ پانی اور رنگ کی ایکویشن درج ذیل آیات میں مخفی ہے۔

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے سے تمہاری رزق رسانی کے لیے ثمرات نکالے۔ (ابراہیم: ۳۲)

اور یہ جو بہت سی رنگ رنگ چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کی ہیں، ان میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔ (النحل: ۱۳)

نظام کائنات لاشمار دنیاؤں پر مشتمل ہے۔ مخلوق اس نظام کے ظاہر ہونے کا وسیلہ ہے لیکن نظام کی مرکزیت اول، آخر، ظاہر، باطن، ہر شے پر محیط خالق کائنات اللہ ہے۔ اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحر و بر میں جو کچھ ہے، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتا ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک و تر سب کچھ کتاب مبین میں لکھا ہوا ہے۔ (الانعام: ۵۹)

قابل قدر دوستو اور بزرگو! لکھی ہوئی تحریر غور سے پڑھیے۔ فکشن ذہن سے نہیں، اس ذہن سے جو باطن میں ہے، کائنات کے اسرار سے باخبر ہمہ وقت رہنمائی کرتا ہے۔ جب آدمی جنت سے بے دخل ہونے کے عمل کو زمین پر دہراتا ہے یعنی زمین پر لامحدود وسائل اور ان میں اللہ کی ربوبیت کو نظر انداز کر کے وہ کام کرتا ہے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے تو سماعت و بصارت اور فہم و فکر پر الوژن کا پردہ آجاتا ہے۔ الوژن کا مطلب ہے، وہ دیکھنا جو نہیں ہے اور جو ہے، اسے دیکھنے کی صلاحیت پردے میں چلی جانا۔ الوژن ذہن حقیقت شناسی کی میراث کھو دیتا ہے، اسے کوئی چیز اصل حالت میں نظر نہیں آتی۔ وہ جس حالت کو حتمی سمجھتا ہے، پلک جھپکتے ہی اس میں تغیر واقع ہو جاتا ہے۔

دوستو! ایک زمین وہ ہے جس پر ہم چلتے ہیں اور ایک ذہن کی زمین ہے۔ جب ذہن کی زمین میں قسم قسم کے رنگوں پر ایک رنگ غالب نہ ہو، وہ رنگ جن سے تمام رنگوں کی تخلیق ہوئی اور وہ رنگ جس میں تغیر نہیں تو میں آپ کا دوست ہوں، باپ ہوں، استاد ہوں، آپ میرے بچے، بڑے اور بزرگ ہیں، اللہ کے حضور عجز سے دعا کرتا ہوں کہ آپ، میں اور ہم سب اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ کر الوژن سے محفوظ رہیں۔

زندگی خیال سے آباد ہے۔ خیال آتا ہے تو آدمی سوتا ہے، خیال نہ آئے، آدمی نیند سے بیدار نہیں ہوتا۔ لاکھ کوشش کریں، وہ نہیں اٹھتا اس لیے کہ زندگی کو تحریک باہر سے نہیں، اندر سے ملتی ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ اماں نے نیند سے جگایا تو آپ جاگے ہیں۔ آپ اس لیے جاگے ہیں کہ اماں نے نہیں، اندر میں کسی نے جگایا ہے۔ اگر بیداری کا محرک بیرونی ہوتا تو نیند میں جا کر واپس نہ آنے والے آواز دینے یا جھنجوڑنے پر واپس آجاتے ہیں۔ 

نیند کی طرح بیداری بھی خیال کے تابع ہے۔ خیال آتا ہے تو مٹی کے ذرات سے بنی باڑی جو دراصل ڈیڈ باڈی ہے، کو توانائی ملتی ہے اور وہ حرکت کرتی ہے۔ توانائی میں حرکت کے نقوش اور سمت معین ہوتی ہے کہ کیا کرنا ہے اور کس سمت میں چلنا ہے۔ جو خواتین و حضرات نیند اور بیداری میں خیال کے نظام کی معرفت رکھتے ہیں، وہ اس کے شاہد ہیں۔ ان کا ذہن رد عمل سے خالی اور کائناتی شعور سے متصل ہوتا ہے۔ وہ خیال پر عمل کرتے ہیں۔ دوسری طرف خیال سے واقف لیکن ناواقف آدمی لاشعور کی تعمیل کی بجائے ”ارادے“ میں اپنے معانی پہناتا ہے جس کو رد عمل ظاہر کرنا کہتے ہیں۔ یہ وہ ذہن ہے جو جنت میں نافرمانی سے active ہوا اور اعلیٰ سے ادنیٰ زمین پر آنے کا سبب بنا۔ اس ذہن سے کیے گئے ہر کام کا نتیجہ وہ کیفیت ہے جو جنت میں درخت کے قریب جانے پر وارد ہوئی۔

خیال لاتناہی مقام سے آتا ہے جسے لاشعور کہا جاتا ہے۔ آپ کیا سمجھے، لاتناہیت کیا ہے؟ جہاں کائناتی پروگرام ڈائی مینشن (ابعاد) میں موجود ہے مگر ہر ڈائی مینشن پر نور غالب ہے۔ حضور قلندر بابا نے ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرمایا،

”لوح محفوظ سے ایک نور آتا ہے۔ وہ اس طرح پھیلتا ہے کہ ساری کائنات اس کی گرفت میں ہوتی ہے۔ اس کے پھیلنے کی طرزیں کسی ایک سمت میں نہیں ہوتیں بلکہ ہر سمت میں ہوتی ہیں۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہیں گے کہ اس نور کے پھیلنے کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔“

دوئی سے آزاد یکسوئی کی راہ پر چلنے والے ہم سفر عزیز دوستو! لوح محفوظ سے آنے والے نور میں زندگی کی تمام قدریں اس طرح موجود ہیں کہ سب پر اللہ کا حکم محیط ہے۔ اللہ خالق ہے، رازق ہے، سب کا کفیل ہے اور بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔ اللہ کے حکم سے زمین پر پھیلنے والے نور میں سمتیں نہیں ہیں، یہ محدودیت سے پاک ہے مگر محدود ذہن کا حامل شخص جب لاشعور کی تحریک میں اپنے معانی پہناتا ہے تو نور پردے میں چلا جاتا ہے اور وہ نقوش سامنے آتے ہیں جو آدمی کی طرزِ فکر سے رنگین ہوتے ہیں۔ 

اللہ حافظ

 

خواجہ شمس الدین عظیمی

 

جولائی ۲۰۲۶

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔