آج کی بات
تفکر گہرا ہو تو دیکھنا سطح سے گزر کر صفات میں داخل ہوتا ہے اور صفات کا شعور، ذات کے شعور میں جذب ہو جاتا ہے جہاں ڈائی مینشن نہیں ہے۔
کوئی شے جیسے گلاب کا پھول مجسم ہو تو آدمی کہتا ہے، ”یہ ہے“ لیکن جب مسند گل پر براجمان پیتیاں مرجھاتی ہیں اور جسم بکھرتا ہے تو اب وہ پھول کو موجود نہیں سمجھتا۔ آدمی کا ذہن ڈائی مینشن میں کام کرتا ہے، اس سے مختلف حالت میں کوئی شے سامنے آئے تو اسے دیکھنے سے قاصر رہتا ہے حالاں کہ وہ شے دیکھنے والوں کے لیے موجود ہے۔ یہ موجود وجود، جو محدود نگاہ سے ماورا ہے، ذات ہے۔ اس کو مختلف حالتوں میں دیکھنا صفات ہے اور صفات کو دیکھنے کی دو طرزیں ہیں۔ ایک سطحی، دوسری گہری۔ گہری طرز ذات کی تلاش کی تحریک پیدا کرتی ہے، سطحی طرز سطح تک محدود رہتی ہے۔
آپ نے سیب دیکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ سیب سرخ ہے، پیلا ہے، ہرا ہے۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کریں۔ یہ اندر سے پیلا، سرخ اور ہرا نہیں ہے۔ یا ہے؟ گودے کا رنگ الگ ہے، بیج اور دوسرے اجزا کے رنگ مختلف ہیں۔ محض چھلکے کا رنگ دیکھ کر سیب کو اس رنگ سے موسوم کرنا عام فہم ہے۔
سیب اپنی ذات میں کیا ہے، ڈائی مینشن میں قید اصل سے بے خبر آدمی کو علم نہیں۔ ڈائی مینشن سے فاصلے اور سمتوں کا تعین ہوتا ہے۔ جب ذہن ڈائی مینشن کے شعور سے آزاد ہوتا ہے تو سمتیں غیب ہو جاتی ہیں۔ ذہن میں ابھرنے والی لہریں ڈوب جاتی ہیں۔ اب جو نظر آتا ہے، وہ ہر کس و ناکس پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔
جس کسی نے علم کو درسی کتابوں اور رصد گاہوں تک محدود کیا، وہ زمانے سے واقف نہ ہو سکا۔ علم کی حقیقی رصد گاہ ”اندر میں“ ہے جس میں ازل تا ابد کائنات ریکارڈ ہے۔ آدمی فنون لطیفہ سے وابستہ ہو یا فنون مختلفہ سے، اگر وہ اس خیال سے تحقیق و تفکر کرے کہ جسے میں دیکھ رہا ہوں، باہر نہیں، اندر میں دیکھ رہا ہوں تو یہ خیال شعور کے ان نہاں خانوں کو روشن کرتا ہے جن سے لاشمار عالمین کے تار جڑے ہوئے ہیں۔ ایک خانہ جب روشن ہوتا ہے، ایک دنیا روشن ہوتی ہے، اور وہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں جن کے ذریعے انسان اس دنیا میں اپنے ارادے سے داخل ہو سکتا ہے۔
تفکر طلب ہے کہ جو صلاحیت اندر میں بیدار ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں صادر ہونے والے افعال مثلاً سننا، دیکھنا، چلنا، بیٹھنا، لیٹنا، سونا، جاگنا، چکھنا، پکڑنا، بولنا، خاموش رہنا، محسوس کرنا، تحقیق و تفکر اور ایجاد سب اندر میں رونما ہوتے ہیں۔ ”باہر کے زاویے“ نے آدمی کو باہر کے فریب میں مبتلا کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے اندر سے دور ہو گیا ہے۔ اندر میں کیا ہے؟ جواب ”آج کی بات“ میں ظاہر لیکن چھپا ہوا ہے۔
میں اندر میں دیکھ رہا ہوں۔ اس احساس کے ساتھ جب آسمان، زمین اور ان کے درمیان موجودات پر غور کیا جاتا ہے تو زمانے کے ہزاروں عکس زمین کے ذرات اور وجود کی پرتوں میں منکشف ہوتے ہیں، فہم میں فراست پیدا ہوتی ہے، سوالوں کے جواب ملتے ہیں، جواب سوال بنتے ہیں اور سوال جواب کے لامحدود جہان میں داخل کر دیتے ہیں۔
کائنات مربوط نظام ہے جہاں ہر شے علم اور عمل میں دوسری شے سے جڑی ہوئی ہے مثلاً ذرے کے اندر ترتیب، حرکت اور نظام کائنات کے چھوٹے بڑے تمام نظاموں میں ہے۔ چوں کہ اندر میں دیکھنے والا حساس ہوتا ہے، وہ ذرے کو کائنات سے الگ نہیں دیکھتا اور نہ اسے چھوٹا بڑا سمجھتا ہے۔ اسے احساس ہے کہ ایک ذرے کو مسلنے یا کھولنے سے کائنات کے تانے بانے میں کوئی حرکت ضرور واقع ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ذرے سے لے کر بڑے سے بڑے کرے تک مختلف نظر آنے والی تمام تخلیقات ظاہر اور باطن میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زون میں حرکت سے دوسرا زون متاثر ہوتا ہے۔ یہ سب اندر موجود اس احساس کی تحریکات ہیں جو سب میں مشترک ہے۔
میرے مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیا نے ”لوح و قلم“ میں فرمایا ہے،
”جب ذہن میں کوئی خیال آتا ہے تو اس کا کوئی کائناتی سبب ضرور موجود ہوتا ہے۔ خیال کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ذہن کے پردوں میں حرکت ہوئی۔ یہ حرکت ذہن کی ذاتی حرکت نہیں ہو سکتی۔ اس کا تعلق کائنات کے ان تاروں سے ہے جو کائنات کے نظام کو ایک خاص ترتیب میں حرکت دیتے ہیں۔ مثلاً جب ہوا کا کوئی تیز جھونکا آتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ کرہ ہوائی میں کوئی تغیر واقع ہوا۔ اس ہی طرح جب انسان کے ذہن میں کوئی چیز وارد ہوتی ہے تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ انسان کے لاشعور میں کوئی حرکت واقع ہوئی ہے۔ اس کا سمجھنا خود ذہن انسانی کی تلاش پر منحصر ہے۔“
ہر تقاضا اندر موجود صلاحیت کے نمایاں ہونے کا اظہار ہے۔ آدمی جب فضا میں اڑتے پرندوں کو دیکھتا ہے تو باطن میں پرواز کا شعور بیدار ہونا چاہتا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ یہ شعور لوہے کے پرزوں میں منتقل کرنے کے لیے یقین بن جاتا ہے لیکن اپنے اندر بیدار کرنا ہو تو بے یقینی میں ڈھل جاتا ہے۔
بے یقینی کا عالم دیکھئے کہ پرواز کی خواہش کو عملی روپ دینے کے لیے ایک سے زیادہ ماہرین اپنی اپنی سطح پر کام کرتے ہیں۔ کوئی پرزے ڈیزائن کرتا ہے، کوئی انہیں بناتا ہے اور کوئی پرزوں کو جوڑ کر ان کے اندر پرواز کا نظام متحرک کرتا ہے۔ پھر خود زمین پر رہ کر ان کی اڑان کا مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی انجینئرنگ پر خوش ہوتا ہے۔ عرض یہ کرنا ہے کہ ایروناٹیکل انجینئر جہاز بناتا ہے، پائلٹ عموماً کوئی اور ہوتا ہے۔ حالاں کہ جسے ہوائی جہاز بنانے یا اڑانے کا خیال آیا، اس کے اندر یہ تمام صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ خیال کا کام صرف اتنا ہے کہ فرد کو صلاحیت کی طرف متوجہ کر دے۔
ہوائی جہاز بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی علم رکھتا ہے کہ زمینی عناصر سے بنا ہوا جسم زمین کی گرفت (کشش ثقل) سے کس طرح آزاد ہوتا ہے۔ ہوا، دباؤ، رفتار، توازن اور دوسرے ضروری نظام کون سے اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ آدمی پر باہر دیکھنے کا زاویہ غالب ہے لہذا وہ اڑان کے اصول اپنے اندر فعال کرنے کی بجائے علم، ذہانت اور عمر کو ہوائی جہاز بنانے، ہوا بازی کی ٹیکنالوجی میں جدت پیدا کرنے اور اسے بلندیوں سے ہمکنار کرنے میں صرف کر دیتا ہے۔
قابل احترام دوستو اور محقق خواتین و حضرات! تحقیق کرنے والے نے کیا کیا؟ علم کی ابتدا کو نظر انداز کر دیا۔ جس زینے پر قدم رکھنے سے باطن کا عرفان حاصل ہوتا ہے، اسے چھوڑ کر اس زینے پر قدم رکھا جس کی بنیاد illusion ہے۔ نتیجے میں وہ زمینی شعور سے واقف ہے نہ آسمانی شعور مشاہدے میں ہے۔ اس نے یہ نہیں سوچا کہ ہوائی جہاز کا عکس کہاں ظاہر ہوا؟
اسے بنانے کا خیال کہاں آیا؟
پرزے جوڑنے کی تصویریں کہاں بنیں؟
پرواز کی فلم پہلے کہاں نشر ہوئی؟
اور اگر ذہن ساتھ نہ دے تو کیا پائلٹ ہوائی جہاز اڑا سکتا ہے؟
پائلٹ پرواز میں جتنی مہارت رکھتا ہو، اگر اندر میں سے جہاز اڑانے کی اطلاع ملنا بند ہو جائے، خدا نخواستہ یادداشت متاثر ہو جائے، اس کی فنی حیثیت کیا ہوئی؟ کوئی کہے کہ وہ اب بھی پائلٹ ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا اس حالت میں اسے جہاز اڑانے کی اجازت دی جاتی ہے؟ کیا مسافر ایسے جہاز میں سوار ہوں گے جس کے پائلٹ کی یادداشت متاثر ہو گئی ہو یعنی کنٹرول ٹاور سے اطلاعات مل رہی ہوں مگر وہ انہیں بروئے کار لانے سے قاصر ہو؟
ہر آدمی کو پرواز کا تجربہ ہے جس کا مظاہرہ نیند کی دنیا میں ہوتا ہے لیکن جاگنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اس کی یادداشت کھو جاتی ہے۔ چوں کہ وہ باہر دیکھنے کے فریب میں مبتلا ہے اس لیے نیند کی دنیا میں باطنی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں لیکن یہ آدمی کے اپنے ارادے سے بیدار نہیں ہوتیں۔ نیند کے سفر اور واقعات میں اس کی حیثیت ”معمول“ کی ہوتی ہے۔
دوسری طرف آدم کی نوع کا ایک فرد انسان ظاہری وسائل کے بغیر نیند اور بیداری میں جہاں چاہتا ہے، ارادہ کرتے ہی پہنچ جاتا ہے۔ ایسا شخص جب کائنات کی بات کرتا ہے تو دراصل اپنی ذات کی بات کرتا ہے اور جب ذات کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد کائنات ہوتی ہے کیوں کہ وہ کائنات سے متعلق جو کچھ کہتا ہے، اسے اندر میں دیکھتا ہے۔ اندر میں دیکھنا ذات کا شعور ہے۔ یہ شعور جسے حاصل ہوتا ہے، وہ اس ارادے اور حکم سے واصل ہوتا ہے جس سے کائنات وجود میں آئی۔
اللہ حافظ
خواجہ شمس الدین عظیمی
نوٹ: قارئین خواتین و حضرات سے درخواست ہے کہ ”آج کی بات“ سمجھ کر پڑھئے تاکہ ذہن، ذہن میں سما جائے۔ (اداره - ماہنامہ قلندر شعور)
جون ۲۰۲۶