Topics

نوع انسان میں سے اس ملک میں کسی قوم کسی برادری اور کسی کنبے کے ایک فرد فرد نے زمین خریدی اکتوبر 2026

آج کی بات

نوع انسان میں سے اس ملک میں کسی قوم کسی برادری اور کسی کنبے کے ایک فرد فرد نے زمین خریدی۔ زمین پر مکان بنانے کے لیے دماغ میں ایک نقشہ ابھرا۔ نقشے میں شعوری حد بندیوں کے ساتھ ایک پلان بنا۔ پلان میں یہ بات سامنے آئی کہ اس پلاٹ کی تقسیم ایسی کی جائے کہ خاندان کے افراد آسائش و آرام پائیں۔

پلان کے مطابق کمرے بنے۔ کمروں میں اٹیچڈ باتھ روم بنے، کچن بنا، گیلری، کوریڈور اور دروازوں سے مکان کو آراستہ کیا گیا۔ دھرتی پر ایک مکان بنانے کے لیے آدمی کو پلان کے کئی مراحل سے گزرنا پڑا تب خوب صورت مکان کی تعمیر ہوئی۔

بچپن کی بات ہے کہ میرے دادا کی حویلی کے سامنے غیر آباد زمین پر انار کا ایک درخت تھا۔ درخت میں گلنار سرخ رنگ پھول لگے تھے۔ بھری شاخوں اور ہرے بھرے پتوں سے درخت کا جو بن نکھر آیا تھا، میں انار کے اسی درخت پر پھولوں کو دیکھتا تھا، خوش ہوتا تھا۔ انارکلی میری توجہ کا بہت زیادہ مرکز بنتی تھی۔

یاد نہیں، کتنے سال بیت گئے کہ میں وطن سے دور آوارہ خاک و گرد، کہاں کہاں گھومتا رہا۔ کبھی میں کسی ساحل پر ہوتا اور کبھی ریگستان میں، کبھی بیابانوں میں اور کبھی مرغزاروں میں۔ میں نے مسجدوں میں اذانیں دیں، مندر میں آرتی پوجا دیکھی، گرجا گھروں میں مقدس پانی سے بپتسمہ دیتے دیکھا، مزاروں پر جبیں سائی کی، شاہی مقبروں میں چمگادڑوں کا بسیرا دیکھا، پرانے قبرستانوں میں قبروں پر جانے والوں یا قبرستان میں مستقل سکونت کے لیے آنے والوں کے نام کندہ دیکھے۔ وہاں امیر، غریب، فقیر، بادشاہ سب کو مٹی ہوتے دیکھا اور اس مٹی پر لوگوں اور چرندوں کو چلتے پھرتے دیکھا لیکن کہیں بھی مجھے وطن کی مٹی کی خوشبو نہیں آئی۔

وطن کی یاد آئی تو پھر خود کو دادا کی حویلی کے سامنے پایا۔

اب اس زمین پر انار کا درخت نہیں تھا۔

انارکلی تھی اور نہ سرخ رنگ گلنار تھا۔ مجھے جھٹکا لگا۔

انار کے درخت نے اپنے وجود کا احساس دلایا۔

میرے اندر انار کا جو سراپا تھا، وہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔

میں نے سوچا کہ اس زمین پر انار کا درخت تھا، ظاہر ہے، کسی نے لگایا ہوگا، بیج ڈالا ہوگا۔ بیج کسی نے نہ بھی بویا ہو تو ہوا میں اڑ کر زمین کی کوکھ میں سما گیا ہوگا۔ بہرحال یہ مسلمہ ہے کہ انار کا درخت بیج سے اگتا ہے۔ بیج کے بغیر انار کے درخت کا وجود زیر بحث نہیں آتا۔ جب انار کا وجود بیج کے اوپر قائم ہے تو کہا جائے گا کہ بیج میں انار کا پورا درخت ہوتا ہے۔

چھوٹے سے بیچ کے اندر کتنی شاخیں ہوں گی، کتنے پھل لگیں گے، کیا رنگ ہوگا، سرخ، گہرا سرخ یا سفید، کھٹا یا میٹھا ذائقہ، یہ بھی بیج کے اندر کی Planning ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے Architect Engineer چھوٹے کاغذ پر بڑی بڑی عمارتوں کا نقشہ بنا دیتا ہے۔

کل زمین پر انار کا درخت تھا، آس پاس خوش نما گھاس تھی، کیاریوں میں پھول تھے۔ آج یہ زمین خالی، اجاڑ اور کانٹوں بھری سیج کیوں بن گئی ہے؟

جواب ملا کہ کسی نے بیج بویا تھا، تعمیر مکمل کی تھی۔

کسی نے اس بیج کی Planning سے بنی ہوئی بلڈنگ (درخت) کو گرادیا۔

مجھے فوراً اپنی دادی اماں یاد آگئیں۔ سرخ و سفید، بٹوا سا پوپلا منہ، غلاف جھکی آنکھیں، گلاب پکھڑی لب، دماغ کی screen پر ایسے نظر آئے کہ میں فلم دیکھ رہا ہوں۔ اس فلم میں، میں نے دیکھا کہ دادی اماں سفید براق کپڑے پہنے، سفید دھلے لٹھے کی چادر پر لیٹی ہوئی ہیں، منہ سے جھاگ اڑ رہے ہیں۔

میری ماں، ہائے!

میری وہ ماں جس نے میرے اندر اپنا خون انڈیل کر مجھے پالا پوسا، دادی اماں کے سرہانے بیٹھی کلمہ کا ورد کر رہی ہے۔

میں نے پوچھا، ماں! ماں! دادی اماں بولتی کیوں نہیں؟ تم رو کیوں رہی ہو؟

ماں نے ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھا، میرے سر پر ہاتھ رکھا اور دادی اماں کے جھریوں سے مزین خوب صورت چہرے کو سفید ململ کے دوپٹے سے ڈھانک دیا۔

مجھے انار کا درخت پھر یاد آگیا۔

کسی نے اسے بھی اس طرح ڈھانپ دیا ہوگا اس لیے تو وہ زمین کے اوپر نہیں ہے۔

انار کے دانے کے بغیر درخت نہیں اگتا، اور آدمی کے بغیر آدمی نہیں اگتا۔

انار بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور آدمی بھی۔

میرے اندر کے آدمی نے کہا، جس نے درخت لگایا تھا، وہ خوش ذوق، حسن سلیقہ سے آراستہ، تعمیر پسند تھا۔ اور جس نے درخت کی حفاظت نہیں کی، درخت کو اس کے مادی وجود سے محروم کر دیا، وہ تخریب پسند تھا۔ یہ بات ہرگز قابلِ تسلیم نہیں کہ درخت خودبخود لگ گیا اور خودبخود غائب ہو گیا۔

بیج کے اندر یہ صلاحیت کہ وہ خود درخت بن جائے، ذاتی وصف نہیں ہے۔ کوئی غیر مرئی قوت ہے جس نے ایک بہترین معمار کی طرح انار کے اندر شاخوں، پتوں اور پھلوں کی ترتیب قائم کی۔ خود انار کے اندر اتنی قدرت نہیں کہ وہ خوشبو بن جائے اور اپنے وجود کو مختلف ذائقوں، مختلف رنگوں میں تقسیم کر دے۔ یہ پلان کائنات کے خالق احسن الخالقین اللہ تعالیٰ نے تیار کیا جو جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔

کائناتی تخلیق میں ایک تخلیق انسان کو اپنے کائناتی پلان کی تعمیر کے لیے معمار مقرر کیا ہے۔ یہ وہی معمار ہے جس کو قرآن نے فی الارض خلیفہ کہا ہے۔

 

اللہ حافظ

 

خواجہ شمس الدین عظیمی

 

اکتوبر ۲۰۲۶

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔