Topics

آنکھوں کے نیچے اندھیرا آنا

 

کھڑے ہونے یا معمولی حرکت کرنے سے مریض کی آنکھوں کے نیچے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ حرکت کے وقت ارد گرد کی چیزیں متحرک نظر آتی ہیں۔ مریض کھڑا نہیں رہ سکتا۔ سہارا لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اسباب

جسمانی کمزوری، دماغی کمزوری، اعصابی کشاکش، چوٹ لگنا، منشیات کا بکثرت استعمال، دائمی قبض، کانوں کے امراض اور دیر ہضم بادی اشیاء کا استعمال اس مرض کے اسباب ہیں۔

علامات

اٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے آس پاس کی چیزیں گھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ شروع شروع میں تھوڑی دیر چکر آ کر ختم ہو جاتے ہیں۔ مرض شدید ہو تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور مریض گر پڑتا ہے۔ قے آنے کے بعد چکر ختم ہو جاتے ہیں۔

علاج

۱۔       بنفشی رنگ پانی صبح و شام

۲۔      زرد رنگ پانی کھانے سے پہلے

۳۔      گہرا نیلا رنگ پانی کھانے کے بعد

لکنت

اسباب و علامات

مریض میں سنی اور لکھی ہوئی باتوں کو سمجھنے کی صلاحیت نارمل ہوتی ہے لیکن آواز پیدا کرنے والے آلے کی خرابی کی وجہ سے مریض صحیح الفاظ ادا نہیں کر سکتا یا بالکل نہیں بول سکتا۔ اس میں تتلا کر بولنا چبا چبا کر بولنا، جھٹکوں سے بولنا، موٹی بھدی آواز میں بولنا، منہ ہی منہ میں کچھ کہنا الفاظ کو ملا ملا کر بولنا وغیرہ سب شامل ہیں۔

علاج

۱۔       بنفشی رنگ پانی صبح و شام

۲۔      نیلا رنگ پانی کھانے سے پہلے

۳۔      بنفشی رنگ کی روشنی سر پر پندرہ منٹ کے لئے ڈالیں

۴۔      بنفشی رنگ میں دودھ تیار کر کے پلائیں

۵۔      نارنجی شعاعوں کا تیل کانوں سے ذرا اوپر سر پر صبح و شام سات سات منٹ مالش کریں

مرگی

اسباب

دماغ کے ہر عصبی خلیے کی دیوار میں برقی رو دوڑتی رہتی ہے۔ برقی رو عصبی خلیے کی دیوار میں کسی نامعلوم تحریک سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک خلیے میں پیدا ہونے والی برقی رو دوسرے خلیے کو بھی متحرک کرتی ہے۔ انسانی دماغ میں ہر عمل برقی رو سے ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنا ہاتھ ہلا رہا ہے تو دراصل اس کے ہاتھ کے عضلات کو دماغی اعصاب کے ذریعہ تحریک مل رہی ہے۔ دماغ میں ہاتھ ہلانے کے لئے مخصوص حصہ کام کر رہا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ہم انسانی جلد کو چھوئیں تو اس جگہ پر ایک برقی رو پیدا ہوتی ہے جو اعصاب کے ذریعہ حرام مغز اور پھر دماغ کے مخصوص حصے میں پہنچ کر تحریک پیدا کرتی ہے اس طرح ہمیں چھونے کا احساس ہوتا ہے۔

مرگی ایسا مرض ہے جس میں کسی نامعلوم یا معلوم وجوہ کی بنا پر دماغ کے کسی بھی حصے میں ایک ابنارمل (Abnormal) طاقتور تحریک پیدا ہوتی ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں مریض کے اندر چھونے، دیکھنے، سونگھنے کی نادیدہ حس بیدار ہو جاتی ہے۔ مریض غیر اختیاری طور پر کپڑوں سے بھی آزاد وہ سکتا ہے۔ ہاتھوں، پیروں میں جھٹکے بھی لگتے ہیں۔

مرگی کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے:

۱۔       جزوی مرگی:

اس میں دماغ کا ایک مخصوص حصہ مرگی کے زیر اثر آ جاتا ہے۔

۲۔      عمومی مرگی:

اس میں پورا دماغ مرگی کے زیر اثر آ جاتا ہے۔

جزوی مرگی کی علامت

چہرے ہاتھ پیر میں سے کسی ایک عضو میں جھٹکے لگنا۔ یہ جھٹکے چند سیکنڈ سے لے کر کئی گھنٹوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی مریض کی آنکھیں کسی ایک طرف مڑ جاتی ہیں۔ بعض مریضوں کو آنکھوں کے سامنے دھبے اور رنگ تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بعض لوگوں کو کسی نئی جگہ جا کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جگہ پہلے سے دیکھی ہوئی ہے جب کہ بعض کو دیکھی ہوئی جگہ اجنبی لگنے لگتی ہے۔ اس قسم کی مرگی میں مریض پریشان دکھائی دیتا ہے۔ اور عجیب عجیب حرکتیں کرتا ہے۔ مثلاً بھاگنا شروع کر دیتا ہے بعد میں اس کو یاد نہیں رہتا کہ دورے کے دوران اس سے کیا حرکات سرزد ہوئی ہے۔ دورہ تقریباً ۲ یا ۳ منٹ کا ہوتا ہے۔

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)