Topics

باب نمبر ۲:روشنی اور رنگ

               

روشنی اور رنگ

تعارف

روشنی ایک برقی مقناطیسی توانائی ہے۔روشنی ہر قسم کی شفاف اشیاء میں سے اور خلاء میں سے گزر سکتی ہے۔ سفر کرنے کے لئے اسے کسی وسیلے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

رنگ کے بارے میں مختلف نظریات ہیں۔ روشنی دراصل مختلف ارتعاشات اور طول موج کا مجموعہ ہے۔ روشنی کی ایک خاص طول موج کا آنکھ کے پردے اور دماغ پر محسوس ہونا رنگ ہے۔

طیف

۱۶۶۶ء میں سر آئزک نیوٹن نے کشش ثقل کا اصول اور رنگ کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریہ کے مطابق سفید روشنی یا سورج کی شعاعیں جب منشور (Prism) سے گزرتی ہیں تو جن لہروں کے مجموعہ سے وہ تشکیل پاتی ہیں وہ اپنے الگ الگ تموج کے لحاظ سے منقسم ہو جاتی ہیں اور ہم اس تقسیم کو سات رنگ کی صورت میں دیکھ لیتے ہیں۔ باقی سب رنگ انہی رنگوں کے شیڈز (Shades) ہیں۔ روشنی کی تقسیم سے پیدا شدہ اس دھنک نما رنگ برنگ پٹی کو طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ طیف کے رنگوں کو ان کے طول موج کے مطابق درجہ دیا جاتا ہے۔ طیف پر نظر آنے والے رنگ سرخ نارنجی زرد سبز آسمانی نیلا اور بنفشی ہیں۔ ہماری آنکھیں زرد اور سبز رنگ کے لئے نہایت حساس ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں بھی زرد اور سبز رنگ کے طول موج پر زیادہ شدت سے پڑتی ہیں۔

طیف پر جو رنگ ہمیں نظر آتے ہیں وہ دراصل طیف کا صرف مرئی حصہ ہے۔ اس کو مرئی طیف (Visible Spectrum) کہتے ہیں۔ وہ لہریں جن کا طول موج بنفشی رنگ کے طول موج سے چھوٹا ہوتا ہے، ہمیں نظر نہیں آتیں۔ مثلاً بالائے بنفشی(Ultra Violet) لہریں ایکسریز گاما لہریں۔

اسی طرح وہ لہریں جن کا طول موج سرخ رنگ کے طول موج (780mu) سے زیادہ ہوتا ہے وہ بھی ہم نہیں دیکھ سکتے۔ مثلاً زیریں سرخ (Infra Red) اور مائیکرو ویو وغیرہ۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر آدمی لازماً مرئی طیف کے سات رنگوں کے علاوہ دوسرے رنگ نہیں دیکھ سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ افراد طیف کی دوسری لہروں کو بھی دیکھ سکتے ہوں۔ 

Topics


Color Theraphy

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت لقمان علیہ السلام کے نام

جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی 

 

وَ لَقَدْ اٰ تَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَن اشْکُرْ لِلّٰہِ

(لقمٰن۔۔۔۔۔۔۱۲)

اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تا کہ وہ اللہ کا شکر کرے۔

اور جو بکھیرا ہے تمہارے واسطے زمین میں کئی رنگ کا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیںo 

اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان زمین کا بنانا اور بھانت بھانت بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت پتے ہیں بوجھنے والوں کوo 

تو نے دیکھا؟ کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح ان کے رنگ اور بھجنگ کالےo

نکلتی ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے کئی رنگ ہیں اس میں آزار چنگے ہوتے ہیں لوگوں کے اس میں پتہ ہے ان لوگوں کو جو دھیان کرتے ہیںo

(القرآن)