Topics
ایک روز بعد مغرب دل
پر دباؤمحسوس ہوا۔ ایک دم جسم معلق ہو گیا۔ بے شمار سیّارے نظر آئے جو نقطوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ یہ نقطے بڑےہوتے چلے گئے۔ اور پھر ان نقطوں کے دائرے بن گئے۔ ہر دائرہ ایک نظام شمسی ہے جس میں انسانوں کی آبادیاں ہیں۔ دیکھا کہ کرہَ ارض اور کائنات کے درمیان روشنیوں
کے تانے بانے سے بنا ہوا ایک پردہ ہے۔ ذہن نے
کوشش کی کہ اس پردہ کو توڑ کر کائنات کے
اندر داخل ہو جائے۔ آخر ذہن نے اس پردہ کو توڑ دیا۔ اب میں
کائنات کے قلب میں چل رہا ہوں۔ اس عالم
میں فرشتوں، جنات اور انسانوں کی تخلیق کے فارمولوں کا انکشاف ہوا۔
ایک روز بحالتِ
مراقبہ میرا گیس کا جسم (پیکر مثالی) میرے اندر سے نکل کر چاند کی طرف چلا اور
وہاں اتر گیا۔ وہاں پہاڑیاں، جھیلیں، تالاب اور ریگستان ہیں۔ تالاب اور جھیلوں کا پانی پارے کی طرح ہے۔ چاند میں روشنی بالکل نہیں ہے، ایسی بو آتی ہے
جیسے ویلڈنگ کے وقت محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک
قسم کی گیس ہے جو چاند میں پائی جاتی ہے۔
میں نے خواب میں حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیٰ ؑکی زیارت کی۔ سیّدنا حضرت امام حسینؓ کی زیارت نصیب ہوئی۔ خواب ہی میں کرشن جی سے ملاقات ہوئی۔ ان کے پاس تین چار سادھو بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی چادر مجھ پر ڈال دی۔ عالم خواب ہی میں عالم برزخ کی سیر کی اور ایسے ایسے عجائبات دیکھے کہ بیان میں نہیں
آسکتے۔ آنکھیں
بند کئے ہوئے بیٹھا تھا۔ دیکھا آسمان نظروں کے سامنے ہے۔ درمیان میں کوئی خلاء نہیں ہے۔ یہ بات منکشف ہوئی کہ نوع انسانی کے افراد جس
چیز کو آسمان کہتے ہیں وہ آسمان نہیں خلاء
ہے۔ آسمان کی چھت سائبان کی طرح نہیں ہے ہم جس چیز
کو آسمان کہتے ہیں وہ دراصل خلاء ہے۔
آسمان فی الواقع ایک
بساط ہے۔ اور اس بساط پر بھی مخلوق ہے۔ ایسی مخلوق جو ہماری طرح کھاتی پیتی، ہنستی
بولتی اور چلتی پھرتی ہے اور ہماری ہی طرح اس مخلوق کے اندر زندگی کی خواہشات،
تمام تقاضے اور حواس موجود ہیں۔ ہم کو
آسمان پر جو رنگ نظر آتا ہے وہ آسمان کا رنگ نہیں بلکہ خلاءکا رنگ ہے۔
خلاء میں بھی آدمی
اسی طرح چلتا پھرتا ہے جیسے زمین پر چلتا پھرتا ہے ۔ اتنی بات ضرور ہے کہ اس خلا ءمیں جسم لطیف محسوس ہوتا ہے
لیکن روشنیوں سے بنا ہوا یہ جسم ہڈیوں کے ڈھانچےاور گوشت پوست کے جسم کی طرح ٹھوس
ہے۔ خلا ءمیں موجود کسی انسان کے ساتھ ہاتھ ملایا
جائے یا معانقہ کیا جائے تو محسوسات بالکل وہ ہی رہتے ہیں جو زمین پر رہنے والے کسی فرد کے ساتھ
معانقہ کرنے یا ہاتھ ملانے کے وقت ہوتے ہیں۔ البتہ
جسم ٹی وی کی تصویر کی طرح ٹرانسپیرنٹ نظر آتا ہے۔ ایک بات بطور خاص یہ دیکھی کہ جس وقت میں خلاء میں تھا۔ خلاء میں چلنے پھرنے کے ساتھ ساتھ نیچے زمین کو
دیکھ رہا تھا اور زمین ایک گول دائرے کی شکل میں نظر آ رہی تھی بلکہ یوں کہنا
چاہئے کہ زمین کے تمام حصّے اپنی سمتوں کے
ساتھ نظر کے سامنے تھے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
قرآن پاک کے ارشادات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور ظاہری و باطنی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر یہ بات سورج کی طرح ظاہر ہے کہ جس طرح مرد کے اوپر روحانی واردات مرتب ہوتیں ہیں اور وہ غیب کی دنیا میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اسی طرح عورت بھی روحانی دنیا میں ارتقائی منازل طے کر کے مظاہرِقدرت کا مطالعہ اور قدرت کے ظاہری و باطنی اسرارورموز سے اپنی بصیرت اور تدبر کی بنا پر استفادہ کرتی ہے۔
کتاب جنت کی سیر میں مرد اور عورت کی ایک جیسی روحانی واردات و کیفییات بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ عورت اور مرد کی روحانی صلاحیتیں مساوی ہیں۔ روحانی علوم کے سلسلے میں عورت اور مرد کا امتیاز برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ مرد اور عورت کے اندر ایک روح کام کر رہی ہے عورت کے اندر بھی وہ تما م صلاحیتیں اور صفات موجود ہیں جو قدرت نے مرد کو ودیعت کی ہیں۔ جب ایک عورت رابعہ بصری بن سکتی ہے تو دنیا کی تمام عورتیں اپنے اندر اللہ کی دی ہوئی روحانی صلاحیتوں کو بیدار کر کے ولی اللہ بن سکتی ہے۔
خواتین و حضرات ، آیئے آگے بڑھیں اور صراط مستقیم پر چل کر اپنی روحانی طاقت سے نوع انسانی کے اوپر شیطانی غلبہ کو ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ وسلم کی آغوش رحمت آپ کی منتظر ہے۔