Topics
یہ وادی جبرائیل ہے۔ جنت بھی اسی وادی میں ہے اور جنت کے سات حصّے
یا درجے ہیں۔ پہلے درجے میں سبزہ ہے، ٹھنڈک ہے، میووں کے
درخت ہیں۔ یہاں حورو وغلمان ہیں جو خدمت پر مامور ہیں۔ یہ جنت کا سب سے کمتر درجہ
ہے مگر پھر بھی اس کی تعریف ناقابلِ بیان
ہے۔ یہاں
دوزخی ، دوزخ کے سب سے کمتر درجے سے نکل کر جب ان کی سزا پوری ہو جائے گی ، آتے
ہیں۔ جنت کے دوسرے درجے میں سونے کے محل ہیں، دودھ
کی نہریں ہیں، سبزہ ہے، باغات ہیں۔ میں سب
کچھ بہت مختصر لکھ رہی ہوں۔ تیسرے
درجے میں سچے موتیوں کے محل ہیں، شہد کی نہریں ہیں، پرندے راگنیاں سنا رہے ہیں۔ ان سب چیزوں کا حسن ناقابلِ بیان ہے۔ چوتھے درجے میں ہیروں کے محل ہیں اور باغات او
ر نہریں ہیں ، جواہرات کے خزانے ہیں، پانچویں درجے میں زمرد کے محل ہیں، چھٹے درجے
میں نیلم کے محل ہیں، ساتویں درجے کا حال نہ
پوچھو جو جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے، یہاں جنت کے تمام درجوں کی اعلیٰ
ترین چیزیں ہیں، ایک بھی چیز تو نہیں چھوٹی، بلکہ کئی اور بھی نئی چیزیں ہیں جو میری
عقل سمجھنے سے معذور ہے اور زبان کو بیان کی طاقت نہیں۔ ان سب کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ دنیا خا ک کے
ذرے سے بھی کم تر اور حقیر ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
قرآن پاک کے ارشادات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور ظاہری و باطنی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر یہ بات سورج کی طرح ظاہر ہے کہ جس طرح مرد کے اوپر روحانی واردات مرتب ہوتیں ہیں اور وہ غیب کی دنیا میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اسی طرح عورت بھی روحانی دنیا میں ارتقائی منازل طے کر کے مظاہرِقدرت کا مطالعہ اور قدرت کے ظاہری و باطنی اسرارورموز سے اپنی بصیرت اور تدبر کی بنا پر استفادہ کرتی ہے۔
کتاب جنت کی سیر میں مرد اور عورت کی ایک جیسی روحانی واردات و کیفییات بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ عورت اور مرد کی روحانی صلاحیتیں مساوی ہیں۔ روحانی علوم کے سلسلے میں عورت اور مرد کا امتیاز برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ مرد اور عورت کے اندر ایک روح کام کر رہی ہے عورت کے اندر بھی وہ تما م صلاحیتیں اور صفات موجود ہیں جو قدرت نے مرد کو ودیعت کی ہیں۔ جب ایک عورت رابعہ بصری بن سکتی ہے تو دنیا کی تمام عورتیں اپنے اندر اللہ کی دی ہوئی روحانی صلاحیتوں کو بیدار کر کے ولی اللہ بن سکتی ہے۔
خواتین و حضرات ، آیئے آگے بڑھیں اور صراط مستقیم پر چل کر اپنی روحانی طاقت سے نوع انسانی کے اوپر شیطانی غلبہ کو ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ وسلم کی آغوش رحمت آپ کی منتظر ہے۔