Topics
اب میں پھر ستر ہزار
میل لمبے خود کار زینے سے اتر رہی ہوں۔ یہاں پر
لوگوں کی پیٹھ پر کوڑے پڑ رہے ہیں۔ اُف اللہ
کیسی چھِلی جا رہی ہیں ان کی پیٹھیں۔ کیسے
گہرے زخم ہیں۔ یہاں لوگوں کی پیٹھ پر ان کے بڑے بڑے گناہوں کا
بوجھ لادا گیا ہے۔ اُف اتنے بڑے گڑھے، وہ لوگ جھکے ہوئے ہیں،
ان کے سر زمین سے لگے جا رہے ہیں۔ جھکے جھکے ان کے پاؤں ٹیڑھے ہو رہے ہیں۔ یہ انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی سزا ہے اور
یہ دوزخ کا سب سے نچلا حصّہ ہے۔ اس میں
کم ترین سزا ہے مگر اس کا بھی یہ عالم ہے کہ جب یہاں سے نکل کر کوئی شخص اس کی سزا
پوری ہونے کے بعد جنت میں جائے گا اور جب ان سزاؤں کا خیال کرے گا تو خوف اور دہشت
سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ جائے گا اور وہ کانپنے لگے گا۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
قرآن پاک کے ارشادات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور ظاہری و باطنی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر یہ بات سورج کی طرح ظاہر ہے کہ جس طرح مرد کے اوپر روحانی واردات مرتب ہوتیں ہیں اور وہ غیب کی دنیا میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اسی طرح عورت بھی روحانی دنیا میں ارتقائی منازل طے کر کے مظاہرِقدرت کا مطالعہ اور قدرت کے ظاہری و باطنی اسرارورموز سے اپنی بصیرت اور تدبر کی بنا پر استفادہ کرتی ہے۔
کتاب جنت کی سیر میں مرد اور عورت کی ایک جیسی روحانی واردات و کیفییات بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ عورت اور مرد کی روحانی صلاحیتیں مساوی ہیں۔ روحانی علوم کے سلسلے میں عورت اور مرد کا امتیاز برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ مرد اور عورت کے اندر ایک روح کام کر رہی ہے عورت کے اندر بھی وہ تما م صلاحیتیں اور صفات موجود ہیں جو قدرت نے مرد کو ودیعت کی ہیں۔ جب ایک عورت رابعہ بصری بن سکتی ہے تو دنیا کی تمام عورتیں اپنے اندر اللہ کی دی ہوئی روحانی صلاحیتوں کو بیدار کر کے ولی اللہ بن سکتی ہے۔
خواتین و حضرات ، آیئے آگے بڑھیں اور صراط مستقیم پر چل کر اپنی روحانی طاقت سے نوع انسانی کے اوپر شیطانی غلبہ کو ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ وسلم کی آغوش رحمت آپ کی منتظر ہے۔