Topics

انسان تین پرت کا مجموعہ ہے۔فروری ۲۰۱۴ء

 

احسن الخالقین اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو وجود میں لانے کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے حکم دیتے ہیں کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔ تخلیق ہونے میں وسائل زیرِ بحث نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ جو کچھ کہہ دیتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔

خالقین کا لفظ ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوق بھی اللہ کے دیے ہوئے وسائل سے تخلیق کر سکتی ہے۔ آج کے دور میں بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال بجلی ہے، جب مخلوقات میں سے ایک بندے نے بجلی کے بارے میں سوچا اور تحقیق و تلاش میں انہماک پیدا ہوا تو بجلی کا مظاہرہ ہو گیا جب بجلی وجود میں آ گئی تو بجلی سے لاکھوں چیزیں بن گئیں۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ بجلی وجود میں آنے سے پہلے بساطِ عالم میں موجود تھی۔

اللہ تعالیٰ کا وصف یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کن کہا تو لاکھوں کروڑوں چیزوں کے ساتھ بجلی بھی پیدا ہو گئی اور جب آدم زاد نے اپنا اختیار استعمال کر کے بجلی کے علم کے اندر تفکر کیا تو یہی بجلی عدم سے عالمِ ظاہر میں آ گئی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ توانائی اور کرنٹ خالص اللہ کی تخلیق ہے کرنٹ کے بہاؤ کو تاروں پر سے گزارنا اور اس بہاؤ کو بلب، ٹیوب لائٹ، پنکھوں، ایئر کنڈیشنرز، یا چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی دیو ہیکل مشین میں Flow کرنا انسان کی تخلیق ہے۔

جس دھات سے تار بنے ہیں وہ اللہ کی تخلیق ہے لیکن دھات کو ڈائیوں میں ڈھالنا اور ڈائیاں بنانا انسان کی تخلیق ہے۔

اللہ کی ایک تخلیق سے ہزاروں ذیلی تخلیقات کا مظاہرہ آدم زاد کی صلاحیتوں کا تصرف ہے اور یہ تصرف اس علم کے ذریعے ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم الاسماء کہا ہے۔ علم الاسماء سے مراد یہ ہے کہ ایسا علم جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھایا ہے۔ جب آدم اس علم کی گہرائی میں تفکر کرتا ہے تو تفکر کے نتیجے میں نئی نئی تخلیقات اور ایجادات ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔

قرآن حکیم میں ارشاد ہے :                                    

ہم نے لوہا (دھات) نازل کیا اور اس کے اندر انسان کے لئے بے شمار فائدے ہیں۔“ (۵۷ : ۲۵)

لاکھوں سال پر محیط گزرے ہوئے ادوار میں ایجادات اور ترقی پر غور کیا جائے تو ہر ترقی میں کسی نہ کسی طرح دھات یا اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے وسائل کا عمل دخل ہے۔

اللہ آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے۔“ (۲۴ : ۳۵)۔

یعنی سماوات اور زمین کی تخلیق میں روشنی وسیلہ بن رہی ہے۔ اس آیت پر تفکر کے نتیجے میں انکشاف ہوتا ہے کہ روشنی بھی ایک وجود ہے۔ آدم زاد جب روشنیوں کا علم حاصل کر لیتا ہے تو اس کے لئے نئی نئی ایجادات کرنا آسان عمل بن جاتا ہے۔ لوہے کی طرح گولڈ بھی ایک دھات ہے۔ گولڈ کے ذرات اکٹھے کر کے ہم سونے کی ڈلی بنا لیتے ہیں اور لوہے کے ذرات کو اکٹھا کر کے Casted Metal بنا لیتے ہیں۔ بھٹی میں اسٹیل کو پگھلا کر سریا، گاڈر اور مختلف چیزیں بنا لی جاتی ہیں۔

لیکن یہ سب اس وقت ہوتا ہے جب آدم زاد اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو استعمال کر کے وسائل میں تفکر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تخلیق کرنے میں کسی کے محتاج نہیں ہیں جب کوئی چیز پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ارادہ کر لیتے ہیں۔ تخلیق میں جتنے وسائل کا ہونا ضروری ہے وہ خود بخود موجود ہو جاتے ہیں۔ بندے کی تخلیق یہ ہے کہ وہ پہلے سے موجود وسائل میں غور و فکر کرتا ہے اور ان سب کو اکٹھا کر کے کوئی چیز بناتا ہے جیسے پانی کو Dam میں اکٹھا کیا جاتا ہے اور خاص پروسس کے تحت اس سے بجلی حاصل کی جاتی ہے اور دھاتوں کو اکٹھا کر کے ان دھاتوں سے مختلف چیزیں بنا لی جاتی ہیں۔

اسی طرح زمین سے گندم حاصل کر کے چکی میں پیس کر آٹا بنایا جاتا ہے اور آٹا گوندھ کر روٹی پکائی جاتی ہے۔ یہ ذیلی تخلیق وسائل میں محدود رہ کر وسائل کو جمع کر کے ہوتی ہے۔

تخلیق کا دوسرا طریقہ روشنیوں میں تصرف کرنا ہے۔ روشنیوں میں تصرف کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں روشنیوں کا علم حاصل ہو۔ جب کوئی انسان روشنیوں کا علم حاصل کر لیتا ہے تو وہ ان لہروں کا ادراک کر لیتا ہے جن لہروں پر روشنیاں سفر کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ غیب الغیب کے، عالم الغیب ہیں۔ کائنات کے ذرّہ ذرّہ کی حرکات و سکنات کو جانتے ہیں اُن کے علم میں ہے کہ انسان سے ذیلی تخلیقات وجود میں آتی رہیں گی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو احسن الخالقین کہا ہے۔

خالقِ کائنات اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات اور طرزِ فکر کا علم عطا کیا گیا ہے۔ طرزِ فکر ان روشنیوں کا ذخیرہ ہے جن سے حواس تخلیق ہوتے ہیں اور حواس میں شعور داخل ہوتا ہے۔

جیسے جیسے طرزِ فکر کی روشنیوں کا ذخیرہ ہوتا ہے اسی مناسبت سے حواس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور شعور میں اتنی سکت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ لاشعوری تحریکات کو زیادہ سے زیادہ قبول کر لیتا ہے۔

طالبات اور طلبا کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ روحانی علوم لاشعوری صلاحیت کے تابع ہیں جس طرح دنیاوی علوم سیکھنے کے لیے استاد، شاگرد، اسکول اور وقت کی ضرورت ہے اسی طرح روحانی علوم سیکھنے کے بھی تقاضے ہیں۔ انسان جیسے جیسے اگلی کلاس میں جاتا ہے اسی مناسبت سے اس کی شعوری سکت بڑھتی رہتی ہے۔ تین سال کا بچہ ABCD پڑھنا نہیں جانتا۔ اے، بی، سی، ڈی پڑھنے سے بچہ کے شعور پر وزن پڑتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ یہی بچہ اپنی عمر کی مناسبت سے پڑھتے پڑھتے Ph.D ہو جاتا ہے۔ اگر قاعدہ پڑھنے والے طالب علم سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ پانچویں کلاس کا پرچہ حل کر لے گا تو یہ بات تجربے اور عقل کے خلاف ہے۔

انسانی زندگی تین دائروں میں تقسیم ہے۔ طبیعیات، نفسیات، مابعد النفسیات سے ملتا ہے۔ مابعد النفسیات میں تخلیقِ کائنات کے فارمولوں کا انکشاف ہوتا ہے۔

تصوف کے طلبا کو اس بات کا علم حاصل ہو جاتا ہے کہ کائناتی علوم اس کی دسترس میں کس حد تک ہیں۔ مابعد النفسیات یا پیرا سائیکالوجی اس امر کا انکشاف کرتا ہے کہ دنیا میں کسی عمل کی تکمیل خیال آئے بغیر نہیں ہوتی وہ عمل خوشی سے متعلق ہو یا غم سے متعلق ہو۔ تصوف ہمیں بتاتا ہے کہ انسان تین پرت کا مجموعہ ہے۔

۱) صفات

۲) ذات

۳) ذات اور صفات کو متعارف کرانے والا فرد

اس پرت کو مادی جسم یا آدمی کہا جاتا ہے۔ ہر پرت کے محسوسات الگ الگ ہیں۔ ذات کا پرت وہم اور خیال کو تصور بنا کر شعور میں منتقل کرتا ہے اور شعور تصورات کو خوشی یا غم میں رد و بدل کرتا ہے۔

شعور میں دو قسم کے نقوش ہوتے ہیں۔ ایک نقش میں لطیف انوار کا ذخیرہ ہوتا ہے اور دوسری قسم کے نقش میں خود غرضی، تنگ نظری اور کثیف جذبات کا ذخیرہ رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو معین مقداروں سے تخلیق کیا ہے۔ معین مقداریں احکامِ الٰہی کے تابع ہیں۔ جب انسان اللہ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے تو انسان خوش رہتا ہے اور اگر اللہ کے احکامات کے خلاف عمل کرتا ہے تو اس کی زندگی میں خوف اور غم شامل ہو جاتا ہے۔

قرآن حکیم میں ارشاد ہے :

میں نے آدم کو زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کیا ہے۔“ (۲ : ۳۰)

آدم کی نیابت و خلافت علم الاسماء سے مشروط ہے۔ اگر انسان علم الاسماء کا علم نہیں جانتا تو نیابت اور خلافت زیرِ بحث نہیں آتی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب کہا کہ میں زمین پر اپنا نائب بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے عرض کیا کہ آدم زمین میں فساد کرے گا۔

اللہ تعالیٰ نے علم الاسماء سکھا کر آدم کو حکم دیا کہ بیان کر جو ہم نے تجھے سکھایا ہے آدم نے جب اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ علم بیان کیا تو فرشتوں نے اعتراف کیا کہ ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں سکھایا ہے۔

مفہوم واضح ہے کہ آدم کی فضیلت اس علم کی وجہ سے ہے جو علم فرشتے اور جنات نہیں جانتے۔ یہ علم اللہ تعالیٰ نے آدم کی روح کو منتقل کیا ہے۔ اس علم کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی روح کو جانتا ہو اور روح کو جاننے کے لئے Matter اور روشنی۔ روشنی اور نور کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔

 

Topics