Topics
شاہی
تخت اونچائی پر تھا، تخت کے نیچے دائیں بائیں کرسیاں بچھی ہوئی تھیں جن پر انسان
اور جنات میں سے اکابرینِ مملکت اور ان کے معاونین بیٹھتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ تاجِ
شاہی سر پر رکھ کر جلوہ افروز ہوتے تھے تو درختوں کی شاخوں پر بیٹھے پرندے اپنے پر
کھول دیتے تھے اور ان پروں میں سے مشک و عنبر کی مہک آتی تھی۔ زرد جواہر سے مرصع رنگوں
سے آراستہ مور رقص کرتے تھے اور یہ سب سائنس کا کرشمہ تھا۔
حضرت
سلیمان ؑ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ملکہ سبا حاضرِ خدمت ہو رہی ہے، انہوں نے درباریوں
کو مخاطب کر کے کہا:
”میں
چاہتا ہوں کہ ملکہ سبا کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت شاہی دربار میں موجود ہو۔“
ایک
دیو پیکر جن نے کہا۔
”دربار
برخاست کرنے سے پہلے میں تخت لا سکتا ہوں۔“
جن
کا دعویٰ سن کر ایک انسان نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا یہ کہا:
”اس
سے پہلے آپ کی پلک جھپکے، یہ تخت دربار میں آجائے گا۔“
حضرت
سلیمان ؑ نے رخ پھیرا تو ملکہ سبا کا تخت دربار میں موجود تھا۔
حضرت
سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس تخت کی ہیئت میں کچھ تبدیلی کر دی جائے، میں دیکھنا
چاہتا ہوں کہ ملکہ سبا یہ دیکھ کر حقیقت کی راہ پاتی ہے یا نہیں؟
ملکہ
سبا جب حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں حاضر ہوئی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تیرا تخت
ایسا ہی ہے؟
عقل
مند ملکہ نے جواب دیا، ”ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہی ہے۔“ ملکہ سبا نے اس کے ساتھ
ہی یہ کہا
”مجھے
آپ کی بے نظیر اور عدیم المثال قوت کا پہلے سے علم ہو چکا ہے اس لئے میں مطیع اور
فرماں بردار بن کر حاضر ہوئی ہوں اور اب یہ تخت کا محیر العقول معاملہ تو آپ کی
لاثانی طاقت کا بے مثال مظاہرہ ہے اس لئے ہم پھر آپ سے فرماں برداری کا اظہار کرتے
ہیں۔“
حضرت
سلیمان ؑ نے جنات اور انسان انجینئروں سے ایک عالی شان محل تعمیر کروایا تھا جو
آبگینوں کی چمک، قصر کی رفعت اور عجیب و غریب دست کاری کی وجہ سے بے مثال تھا۔ اس
میں داخل ہونے کے لئے سامنے جو صحن پڑتا تھا۔ شفاف آبگینوں اور بلور کے ٹکڑوں سے
ایسا نفیس فرش بنایا گیا تھا کہ دیکھنے والے کی نگاہ دھوکہ کھا کر یقین کر لیتی
تھی کہ صحن میں شفاف پانی بہہ رہا ہے۔
بابا
تاج الدین ناگپوری ؒ کی خدمت میں کھانے کے لئے ایک امرود پیش کیا گیا، قاش جب
ہونٹوں سے لگی تو انہوں نے فرمایا:
”یہ
کسی مردے کا گوشت ہے۔“
یہ
کہہ کر انہوں نے امرود کی قاش پھینک دی۔
حاضرین
مجلس میں سے کچھ لوگوں کو تجسس ہوا کہ امرود کی قاش سے مردہ گوشت کا کیا تعلق ہے،
دو معزز حضرات مجلس میں سے اٹھے اور فروٹ کی اس دکان پر پہنچے جہاں سے امرود خریدے
گئے تھے، دکان دار نے سبزی منڈی میں آڑھتی کا پتا بتایا، آڑھتی نے اس زمین دار کا
پتا بتایا جہاں سے امرود اس کے پاس آئے تھے، زمین دار نے بتایا کہ جس باغ کے یہ
امرود ہیں یہاں ایک قبرستان تھا، قبرستان میں ہل چلا کر امرود کا باغ لگایا گیا
ہے۔
برصغیر
پاک و ہند کے معروف صاحبِ کمال صوفی بزرگ حضرت غوث علی شاہ پانی پتیؒ نے مندرجہ
ذیل واقعہ بیان کیا ہے جو ٹائم اور اسپیس کے بارے میں نہایت حیرت انگیز معلومات
فراہم کرتا ہے۔
ایک
شخص شاہ عبدالعزیز ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا لباس کے اعتبار سے وہ شاہی عہدے دار
معلوم ہوتا تھا۔ اس نے شاہ صاحب ؒ سے کہا ! حضرت میری سرگزشت اتنی عجیب و غریب ہے
کہ کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ خود میری عقل بھی کام نہیں کرتی۔ حیران ہوں کہ کیا
کہوں، کس سے کہوں، کیا کروں اور کہاں جاؤں؟ اب تھک ہار کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا
ہوں۔
اس
شخص نے اپنی سرگزشت بیان کرتے ہوئے کہا:
میں
لکھنؤ میں رہتا تھا، برسرِ روزگار تھا۔ حالات اچھے گزر رہے تھے۔ قسمت نے پلٹا
کھایا۔ معاشی حالات خراب ہوتے چلے گئے، زیادہ وقت بے کاری میں گزرنے لگا۔ میں نے
سوچا کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے بہتر ہے کہ کسی دوسرے شہر میں حصولِ معاش کی
کوشش کی جائے۔ تھوڑا سا زادِ راہ ساتھ لیا اور اودے پور کی طرف روانہ ہو گیا۔
راستہ
میں ریواڑی کے مقام پر قیام کیا اس زمانہ میں وہ جگہ ویران تھی، صرف ایک سرائے
آباد تھی۔ سرائے میں کچھ کسبیاں رہتی تھیں۔ میں سرائے میں متفکر بیٹھا تھا۔ پیسے
بھی ختم ہو گئے تھے۔ ایک کسبی آئی، کہنے لگی میاں کس فکر میں بیٹھے ہو؟ کھانا کیوں
نہیں کھاتے؟ میں نے کہا، ابھی سفر کی تکان ہے، ذرا سستا لوں، تھکن دور ہونے پر
کھانا کھاؤں گا۔ یہ سن کر وہ چلی گئی۔ پھر کچھ دیر بعد آئی اور وہی سوال کیا۔ میں
نے پھر وہی جواب دیا اور وہ چلی گئی۔ تیسری دفعہ آ کر پوچھا تو میں نے سب کچھ بتا
دیا کہ میرے پاس جو کچھ تھا خرچ ہو چکا ہے، اب ہتھیار اور گھوڑا بیچنے کی سوچ رہا
ہوں۔ وہ اٹھ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں گئی اور دس روپے لا کر مجھے دے دیے۔
میں
نے جب روپے لینے میں پس و پیش کیا تو اس نے کہا میں نے یہ روپے چرخہ کاٹ کر اپنے
کفن دفن کے لئے جمع کیے ہیں، تکلف کی ضرورت نہیں، یہ روپے میں آپ کو قرضِ حسنہ دے
رہی ہوں جب حالات درست ہو جائیں تو واپس کر دینا۔
میں
نے روپے لے لیے اور خرچ کرتا ہوا اودے پور پہنچا، مجھے اچھی ملازمت مل گئی۔ وہاں
اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ حالات اچھے ہو گئے۔
گھر
سے خط آیا کہ لڑکا جوان ہو گیا ہے، سسرال والے شادی پر اصرار کر رہے ہیں، جلد از
جلد آ کر اس فرض سے سبک دوش ہو جائیے۔
رخصت
منظور ہونے پر میں اپنے گھر روانہ ہو گیا۔ ریواڑی پہنچا تو پرانے واقعات کی یاد
تازہ ہو گئی۔ سرائے میں جا کر کسبی کے متعلق معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہ سخت بیمار
ہے اور کچھ لمحوں کی مہمان ہے۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ آخری سانسیں لے رہی
تھی، دیکھتے ہی دیکھتے اس کی روح پرواز کر گئی۔ میں نے کفن دفن کا سامان کیا، اسے
خود قبر میں اتارا اور سرائے میں واپس آ کر سو گیا۔ آدھی رات کے وقت پیسوں کا خیال
آیا۔ دیکھا تو جیب میں رکھی پانچ ہزار کی ہندی غائب تھی۔ تلاش کیا مگر نہیں ملی۔
خیال آیا کہ ہو نہ ہو دفن کرتے وقت قبر میں گر گئی ہے۔ افتاں و خیزاں قبرستان
پہنچا اور ہمت کر کے قبر کو کھول دیا۔
قبر
کے اندر اترا تو ایک عجیب صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ وہاں میت تھی نہ ہنڈی۔
ایک طرف دروازہ نظر آ رہا تھا، ہمت کر کے دروازہ کے اندر داخل ہوا تو ایک نئی دنیا
سامنے تھی۔ چاروں طرف باغات کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا اور ہرے بھرے پھل دار درخت سر
اٹھائے کھڑے تھے۔ باغ میں ایک طرف عالی شان عمارت بنی ہوئی تھی۔ عمارت کے اندر قدم
رکھا تو ایک حسین و جمیل عورت پر نظر پڑی۔ وہ شاہانہ لباس پہنے بناؤ سنگھار کیے
بیٹھی تھی۔ ارد گرد خدمت گار ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
عورت
نے مجھے مخاطب کر کے کہا، تم نے مجھے نہیں پہچانا۔ میں وہی ہوں جس نے تمہیں دس
روپے دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو میرا یہ عمل پسند آیا اور اس عمل کو قبول فرما کر
مجھے بخش دیا اور بھرپور نعمتوں سے نواز دیا۔ یہ تمہاری ہنڈی ہے جو قبر کے اندر گر
گئی تھی۔ ہنڈی لو اور یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔ میں نے کہا، میں یہاں کچھ دیر ٹھہر
کر سیر کرنا چاہتا ہوں۔
حسین
و جمیل عورت نے جواب دیا، تم قیامت تک بھی گھومتے پھرتے رہو تو یہاں کی سیر نہیں
کر سکو گے۔ فوراً واپس چلے جاؤ۔ تمہیں نہیں معلوم کہ دنیا اس عرصہ میں کہاں کی
کہاں پہنچ چکی ہوگی۔
میں
نے اس کی ہدایات پر عمل کیا اور قبر سے نکل آیا۔
باہر
آ کر دیکھا کہ وہاں سرائے تھی اور نہ ہی پرانی آبادی تھی۔ چاروں طرف شہر پھیلا ہوا
تھا۔ کچھ لوگوں سے سرائے کے بارے میں پوچھا تو سب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بعض
لوگوں نے مجھے مخبوط الحواس قرار دیا۔
آخر
کار ایک آدمی نے کہا، میں تمہیں ایک بزرگ کے پاس لے چلتا ہوں۔ وہ بہت عمر رسیدہ
ہیں، شاید وہ کچھ بتا سکیں۔ اس بزرگ نے سارا حال سنا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد
کہا، مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے دادا بتایا کرتے تھے کہ کسی زمانہ میں یہاں ایک
سرائے تھی۔ سرائے میں ایک امیر آ کر ٹھہرا تھا اور ایک رات وہ پراسرار طور پر غائب
ہو گیا۔ پھر اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا کہ زمین نگل گئی یا آسمان نے اٹھا
لیا۔ میں نے کہا، میں ہی وہ امیر ہوں جو سرائے سے غائب ہوا تھا۔ یہ سن کر وہ بزرگ
اور حاضرینِ محفل حیران و ششدر رہ گئے اور ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔“
امیر
یہ واقعہ سنا کر خاموش ہو گیا اور پھر شاہ عبدالعزیزؒ سے عرض کیا : آپ ہی فرمائیں
میں کیا کروں کہاں جاؤں میرا گھر ہے نہ کوئی ٹھکانا دوسرے یہ کہ اس واقعہ نے مجھے
مفلوج کر دیا ہے۔ شاہ صاحب ؒ نے فرمایا ! تم نے جو کچھ دیکھا ہے صحیح ہے، اس عالم
اور اس عالم کے وقت کے پیمانے الگ الگ ہیں۔
شاہ
صاحب ؒ نے فرمایا
”اب
تم بیت اللہ شریف چلے جاؤ اور باقی زندگی یادِ الٰہی میں گزار دو۔“