Topics

روحانی یونیورسٹی۔مارچ۔۲۰۱۵

    

 

حضرت زکریا ملتانی ؒ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تربیت کا الگ الگ اہتمام فرماتے تھے۔ یہ روحانی تحریک سائنٹفک اور جدید خطوط پر استوار تھی۔ قدرت نے حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی ؒ کو فلاحی ذہن عطا کیا تھا۔ آپ نے جنگلوں کو آباد کروایا، کنویں کھدوائے، نہریں تعمیر کروائیں اور زراعت پر بھرپور توجہ دی۔ انہیں ہر وقت عوام کی خوشحالی کی فکر دامن گیر رہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت ان کے لیے سرمایہ آخرت تھی۔

آپ عوام الناس کے خادم تھے اور عوام آپ سے محبت کرتی تھی۔ یہی حسنِ اخلاق اور محبت تھی کہ لوگ جوق در جوق مراقبوں میں شریک ہوتے تھے۔ لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے عرفان کے لیے ایمانداری اور خلوصِ نیت کو زندگی کا معیار بنا لیا تھا۔ روح کی تقویت کے لیے درود شریف اور اذکار کی محفلیں سجتی تھیں، لوگ خود غرضی اور خود پرستی کے ہولناک عذاب سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر کرتے تھے۔

شیخ زکریا ملتانی ؒ ڈولی میں جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک آواز سنی:

”اے اہلِ ملتان! میرا سوال پورا کرو ورنہ میں ملتان شہر الٹ دوں گا۔“ حضرت نے ڈولی رکوا کر کچھ دیر توقف کیا اور کہاروں سے کہا: ”چلو۔“ دوسری آواز پر کہاروں سے کہا: ”ڈولی زمین پر رکھ دو۔“ تھوڑی دیر بعد فرمایا: ”چلو کچھ نہیں۔“ تیسری آواز پر کہاروں سے فرمایا: ”ڈولی کندھوں سے اتار دو۔۔“ اور ڈولی سے باہر آ کر کہا: ”اس فقیر کا سوال جس قدر جلد ممکن ہو پورا کر دو۔“

لوگوں نے پوچھا۔۔ ”حضرت! آپ نے دو مرتبہ ڈولی رکوائی اور کچھ نہیں فرمایا، تیسری دفعہ فرمایا کہ جتنی جلد ممکن ہو فقیر کا سوال پورا کر دو۔۔ اس کے پسِ منظر میں کیا حکمت ہے؟“

فرمایا: ”پہلی دفعہ فقیر نے سوال کیا تو میں نے اس کی استعداد دیکھی، مجھے کچھ نظر نہیں آیا۔ دوسری مرتبہ میں نے اس کے مرشدِ کریم کی استعداد پر نظر ڈالی، وہاں بھی کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔ تیسری دفعہ آواز کا میرے دل پر اثر ہوا، میں نے توجہ کی تو دیکھا کہ اس فقیر کے سلسلہ کے دادا پیر سیدنا حضور ﷺ کے دربارِ اقدس میں با ادب کھڑے ہیں۔“

حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی ؒ ایک روز اپنے حجرہ میں عبادت میں مشغول تھے کہ ایک نورانی چہرہ بزرگ آئے اور ایک سر بمہر خط حضرت صدر الدین ؒ کو دے کر چلے گئے۔ انہوں نے خط والدِ بزرگوار کی خدمت میں پیش کر دیا۔

والدِ بزرگوار نے فرمایا: ”بزرگ سے میرا سلام کہو اور عرض کرو کہ آدھے گھنٹے کے بعد آئیں۔“ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی ؒ نے امانتیں واپس کیں، بیٹوں سے کہا کہ درود شریف پڑھیں۔ آواز سنائی دی:

”دوست بدستِ دوست رسید“ یہ آواز سن کر حضرت شیخ صدر الدین ؒ دوڑے ہوئے حجرے میں گئے، دیکھا کہ والد صاحب کا انتقال ہو چکا تھا۔ تدفین کے بعد صاحبزادے کو خیال آیا کہ وہ کون بزرگ تھے جن سے ابا نے کہا تھا آدھے گھنٹے بعد آنا۔ صاحبزادے کو خط کی تلاش ہوئی۔ تکیہ کے نیچے رکھے ہوئے خط میں تحریر تھا:

”اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضوری میں طلب فرمایا ہے، میرے لیے کیا حکم ہے۔“ (فرشتہ عزرائیل)

سلسلہ نقشبندیہ میں مرشد مرید کو سامنے بٹھا کر توجہ کرتا ہے اور مرید کا قلب جاری ہو جاتا ہے۔ یہ حضرات ذکرِ خفی زیادہ کرتے ہیں اور مراقبہ میں سر جھکا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں۔

ان کے ہاں مرشد اپنے مریدوں سے الگ نہیں بیٹھتا بلکہ حلقہ میں ان کا شریک ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے شروع ہوا اور حضرت بہاؤالدین نقشبند ؒ کے نام سے منسوب ہے۔ حضرت بہاؤالدینؒ ۱۴ محرم ۷۱۸ھ کو بلخ میں پیدا ہوئے اور ۳ ربیع الاول ۷۹۱ھ دوشنبہ بوقتِ شب وفات پائی۔

خواجہ بہاؤ الدین نقشبند ؒ کی ولادت سے پہلے جب خواجہ محمد سماسی بابا ؒ ان کے گھر کے پاس سے گزرتے تھے تو کہتے تھے کہ مجھے یہاں سے کسی مردِ حق آگاہ کی خوشبو آتی ہے۔ ایک دن اینٹ اور گارے سے بنے ہوئے اس گھر سے علم و عرفان کی روشنیاں طلوع ہوں گی۔ حضرت بہاؤالدین نقشبند ؒ کے دادا نے آپ کو خواجہ محمد سماسی بابا ؒ کی گود میں ڈال دیا۔ آپ نے نوزائیدہ بچہ کو گود میں لے کر فرمایا:

”یہ میرا فرزند ہے، یہ بچہ بڑا ہو کر زمانے کا پیشوا ہو گا۔“

حضرت بہاؤالدین نقشبند ؒ فرماتے ہیں کہ جب مجھے شعور کا ادراک ہوا تو دادا نے مجھے سماسی بابا ؒ کی خدمت میں بھیج دیا۔ بابا سماسی ؒ نے میرے اوپر شفقت فرمائی۔ میں نے شکرانے کے طور پر دو رکعت نماز ادا کی۔ نماز میں میرے اوپر سرشاری طاری ہو گئی اور بے اختیار یہ دعا نکلی:

”یا الٰہی! مجھ کو اپنی امانت اٹھانے کی قوت عطا فرما۔“

صبح کو بابا سماسی ؒ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”اے فرزند! دعا اس طرح مانگنی چاہیے: یا الٰہی! جو کچھ تیری رضا ہے اس ضعیف بندے کو اس پر اپنے فضل و کرم سے قائم رکھ۔“ پھر فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے کو اپنا دوست بنا لیتا ہے تو اس کو بوجھ اٹھانے کی سکت بھی عطا فرماتا ہے۔

ایک روز کھانا تناول کرنے کے بعد آپ نے مجھے کچھ روٹیاں عنایت کیں۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں نے تو خوب سیر ہو کر کھانا کھایا ہے، میں اتنی روٹیوں کا کیا کروں؟ کچھ دیر بعد آپ نے مجھے ایک دوست کے گھر چلنے کے لیے کہا، راستے میں میرے دل میں پھر وہی خیال آیا کہ روٹیوں کا کیا کرنا ہے۔ حضرت میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ دل کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ اس میں کوئی وسوسہ داخل نہ ہو۔ جب ہم اس دوست کے گھر پہنچے وہ حضرت کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور حضرت کے سامنے دودھ پیش کیا۔ حضرت سماسی بابا ؒ نے ان سے کھانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے سچ کہہ دیا کہ آج روٹی نہیں کھائی۔ حضرت نے فرمایا: ”روٹیاں پیش کر دو۔“ اس واقعہ کے بعد حضرت کی عزت و توقیر اور عقیدت میرے اندر بہت زیادہ ہو گئی۔

ایک دن فرمایا: ”جب استاد شاگرد کی تربیت کرتا ہے تو یہ بھی چاہتا ہے کہ شاگرد بھی استاد کی تعلیمات کو قبول کرے۔“

خواجہ محمد بابا سماسی ؒ نے خواجہ بہاؤالدین نقشبند ؒ کو اپنی فرزندی میں قبول کیا۔ اگرچہ ظاہری اسباب میں طریقت کے آداب سید امیر کلال سے سیکھے، مگر حقیقتاً آپ اویسی ہیں اور آپ نے خواجہ عبدالخالق غجدوانی ؒ کی روح سے فیض پایا۔

آپ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نجا (غجدوان) کے مزارات میں سے تین متبرک مزاروں پر حاضر ہوا۔ میں نے ہر قبر پر ایک چراغ جلتا ہوا دیکھا۔ چراغ میں پورا تیل اور بتی ہونے کے باوجود، چراغ کی لو کو اونچا کرنے کے لیے بتی کو حرکت دی جا رہی تھی۔ لیکن بابا سماسی ؒ کے مزار کے چراغ کی لو مسلسل روشن دیکھ کر میں نے چراغ کی لو پر نظر جما دی۔

میں نے دیکھا کہ قبلہ کی طرف کی دیوار پھٹ گئی اور ایک بہت بڑا تخت نمودار ہوا۔ دیکھا کہ سبز پردہ لٹکا ہوا ہے اس کے قریب ایک جماعت موجود ہے۔ میں نے ان لوگوں میں بابا سماسی ؒ کو پہچان لیا۔ میں جان گیا کہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اس جہان سے گزر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ تخت پر خواجہ عبدالخالق غجدوانی ؒ جلوہ افروز ہیں اور یہ ان کے خلفا کی جماعت ہے اور ہر خلیفہ کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام بتائے۔۔۔ جب وہ شخص خواجہ محمد سماسی ؒ پر پہنچا تو کہا: ”یہ تیرے شیخ ہیں اور انہوں نے تیرے سر پر کلاہ رکھا ہے اور تجھے کرامت بخشی ہے۔“ اس وقت اس نے کہا: ”کان لگا اور اچھی طرح سُن کہ حضرت خواجہ بزرگ ایسی باتیں فرمائیں گے کہ حق تعالیٰ کے راستے میں تیرے لیے مشعلِ راہ بنیں گی۔“

میں نے درخواست کی کہ میں حضرت خواجہ کو سلام اور ان کے جمالِ مبارک کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔ یکایک میرے سامنے سے پردہ اٹھ گیا۔ میں نے نور علیٰ نور بزرگ کو دیکھا۔ انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور وہ باتیں جو ابتدائی طور پر سلوک اور اس کے درمیان اور اس کی انتہا سے تعلق رکھتی ہیں مجھے سکھائیں۔

انہوں نے فرمایا: ”جو چراغ تجھے دکھائے گئے ہیں ان میں تیرے لیے ہدایت اور اشارہ ہے کہ تیرے اندر روحانی علوم سیکھنے کی استعداد موجود ہے اور تیرے لیے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے اسرار و رموز سکھائیں گے لیکن استعداد کی بتی کو حرکت دینا ضروری ہے تاکہ چراغ کی روشنی تیز ہو جائے۔“

دوسری مرتبہ بتایا کہ ہر حال میں امر و نہی کا راستہ اختیار کرنا، احکامِ شریعت کی پابندی کرنا، ممنوعاتِ شرعیہ سے اجتناب کرنا، سنت والے طریقوں پر پوری طرح عمل کرنا، بدعات سے دور رہنا۔ حضرت محمد ﷺ کی احادیث کو ہمیشہ اپنا رہنما بنائے رکھنا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ کے اخبار و آثار یعنی ان کے اقوال و افعال کی تلاش اور جستجو میں رہنا۔ تیرے اس حال یعنی مشاہدے کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ کل علی الصبح تو فلاں جگہ جائے گا اور فلاں کام کرے گا۔

ان لوگوں نے فرمایا: ”اب تو جانے کا قصد کر اور جناب سید امیر کلال ؒ کی خدمت میں حاضر ہو۔“ ان حضرات کے فرمانے کے بموجب میں حضرت امیر کلال ؒ کی خدمت میں پہنچا۔ تو حضرت امیر ؒ نے خاص مہربانیاں فرمائیں، مجھے ذکر کی تلقین کی اور خفیہ طریقہ پر نفی اثبات کے ذکر میں مشغول فرما دیا۔

شیخ قطب الدین نامی ایک بزرگ نے بتایا کہ میں چھوٹی عمر میں تھا کہ حضرت خواجہ نے فرمایا: ”فلاں کبوتر خانے سے کبوتر خرید کر لے آؤ۔“ ان کبوتروں میں سے ایک کبوتر بہت خوبصورت تھا۔ میں نے یہ کبوتر باورچی خانے میں نہیں دیا۔ کھانا تیار ہونے کے بعد حضرت خواجہ نقشبند ؒ نے مہمانوں میں کھانا تقسیم کیا تو مجھے کھانا نہیں دیا اور فرمایا: ”انہوں نے اپنا زندہ کبوتر لے لیا ہے۔“

دہلی (بھارت) میں حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ کا مزار ہے۔ امامِ ربانی مجدد الف ثانی ؒ حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ کے خلیفہ ہیں۔

احمد سرہندی مجدد الف ثانی ؒ کی پیدائش سے قبل آپ کے والدِ بزرگوار نے خواب میں دیکھا کہ تمام جہاں اندھیرے میں گھرا ہوا ہے۔ بندر، ریچھ اور سور آدمیوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ آپ کے سینۂ مبارک سے نور کا جھماکہ ہوا اور اس میں سے ایک تخت ظاہر ہوا۔ اس تخت پر ایک بزرگ تشریف فرما ہیں، ان کے سامنے ظالم، بے دین اور ملحد لوگوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے والد نے یہ خواب حضرت شاہ کمال کیتھل ؒ سے بیان کیا۔ شاہ کمال صاحب ؒ نے یہ تعبیر دی کہ آپ کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے اللہ کے دین میں شامل کی ہوئی بدعتیں اور خرافات ختم ہو جائیں گی۔ مجدد صاحب ؒ کا نام احمد، لقب بدر الدین ہے۔ آپ کا نسب نامہ حضرت امیر المومنین سیدنا عمر فاروق ؓ سے ستائیسویں پشت میں ملتا ہے۔

ہندوستان میں آپ نے کفر و شرک کا مردانہ وار مقابلہ کیا، ہزاروں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور اپنے دور کے طاقتور بادشاہ اکبر کی ملحدانہ سرگرمیوں کا نہایت کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا۔

اکبر نے کفر و الحاد کو اتنا زیادہ پھیلا دیا تھا کہ کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بجائے ”اکبر خلیفۃ اللہ“ کا حکم جاری کر دیا تھا۔ حضرت مجدد ؒ نے نہ صرف ان حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا بلکہ ان کی بیخ کنی کے لیے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اکبر و جہانگیر کے قائم کردہ دینِ الٰہی کا خاتمہ ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ نے مجدد الف ثانی ؒ کو کامیاب و کامران کیا۔

چنگیز خانی طوفان نے جب دنیائے اسلام کو تہ و بالا کر دیا۔ شہر ویران ہو گئے، لوگوں کو قتل کر کے ان کے سروں کے مینار بنا دیے گئے، بغداد کی آٹھ لاکھ آبادی میں سے چار لاکھ قتل و غارت گری کی بھینٹ چڑھ گئی، علم و حکمت کی کتابوں کا ذخیرہ آگ کی بھٹیوں میں جھونک دیا گیا، علما اور فضلا اسلام کے مستقبل سے مایوس ہو گئے۔ اس وقت بھی اس سرکش طوفان کا صوفیا نے مقابلہ کیا۔

ان لوگوں نے اسلام دشمن لوگوں کی اس طرح تربیت کی کہ اسلام کے دشمن شمعِ اسلام بن گئے۔

سلسلہ قادریہ کے ایک بزرگ، ہلاکو خان کے بیٹے تگودار خان کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے گئے۔ تگودار خان شکار سے واپس آ رہا تھا کہ اپنے محل کے دروازے پر ایک درویش کو دیکھ کر ازراہِ تمسخر پوچھا:

”اے درویش! تمہاری داڑھی کے بال اچھے ہیں یا میرے کتے کی دم؟“ اس بیہودہ اور ذلت آمیز سوال پر بزرگ برہم نہیں ہوئے، شگفتہ لہجہ کے ساتھ تحمل سے فرمایا:

”میں اپنی جاں نثاری اور وفاداری سے اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کر لوں تو میری داڑھی کے بال اچھے ہیں، ورنہ آپ کے کتے کی دم اچھی ہے جو آپ کی فرمانبرداری کرتا ہے اور آپ کے لیے شکار کی خدمت انجام دیتا ہے۔“

 


 

Topics