Topics

روحانی یونیورسٹی۔اپریل۔۲۰۱۵

 

تگودار خان اس غیر متوقع اور انا کی گرفت سے آزاد جواب سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے بزرگ کو اپنا مہمان بنا لیا اور درویش کے حلم و بردباری اور اخلاق سے متاثر ہو کر اس نے درپردہ اسلام قبول کر لیا، لیکن اپنی قوم کی مخالفت کے خوف سے تگودار خان نے درویش کو رخصت کر دیا۔ وفات سے پہلے درویش نے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ تگودار خان کے پاس جائے اور اس کو اپنا وعدہ یاد دلائے۔ صاحبزادہ تگودار خان کے پاس پہنچے اور اپنے آنے کی غایت بیان کی۔ تگودار خان نے کہا: ”تمام سردار اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن فلاں سردار تیار نہیں ہے، اگر وہ بھی مسلمان ہو جائے تو مشکل آسان ہو جائے گی۔“

صاحبزادہ نے جب سردار سے گفتگو کی تو اس نے کہا: ”میری ساری عمر میدانِ جنگ میں گزری ہے، میں علمی دلائل کو نہیں سمجھتا، میرا مطالبہ ہے کہ آپ میرے پہلوان سے مقابلہ کریں، اگر آپ نے اسے پچھاڑ دیا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔“

درویش زادہ لاغر، دبلے اور جسمانی لحاظ سے کمزور تھے۔ تگودار خان نے اس مطالبے کو مسترد کرنا چاہا لیکن درویش کے بیٹے نے سردار کا چیلنج منظور کر لیا۔ مقابلہ کے لیے جگہ اور تاریخ کا اعلان کر دیا گیا۔ مقررہ دن مخلوق کا ازدحام یہ عجیب و غریب دنگل دیکھنے کے لیے میدان میں جمع ہو گیا۔ ایک طرف نحیف و کمزور ہڈیوں کا ڈھانچہ لاغر جسم تھا اور دوسری طرف گراں ڈیل اور فیل تن پہلوان تھا۔

تگودار خان نے کوشش کی کہ یہ مقابلہ نہ ہو، لیکن درویش زادہ مقابلہ کرنے کے لیے مصر رہے اور جب دونوں پہلوان اکھاڑے میں آئے تو درویش زادہ نے اپنے حریف کو زور سے طمانچہ مارا، وہ پہلوان اس تھپڑ کو برداشت نہ کر سکا، اس کی ناک سے خون کا فوارہ ابل پڑا اور وہ غش کھا کر زمین پر گر گیا۔ سردار حسبِ وعدہ میدان میں نکل آیا، اس نے درویش زادہ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ تگودار خان نے بھی اپنے ایمان کا اعلان کر کے اپنا نام احمد رکھا۔ ہلاکو خان کا چچا زاد بھائی بھی شیخ شمس الدین باخوریؒ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا۔

قسطنطنیہ کی تاریخ اسلام کا ایک لافانی باب ہے۔ حضرت شمس الدین ؒ، سلطان محمد کے مرشدِ کریم تھے۔ انہی کی ترغیب اور بشارت سے سلطان محمد نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ ہم تاریخ کے صفحات جتنے زیادہ پلٹتے ہیں اہل تصوف اور روحانی لوگوں کا ایک قافلہ سامنے آتا ہے جو دینِ اسلام کو پھیلانے میں ہمہ تن مصروف نظر آتا ہے۔

سلسلہ عظیمیہ جذب اور سلوک دونوں روحانی شعبوں پر محیط ہے۔ اس سلسلہ میں روایتی پیری مریدی اور مخصوص لباس اور کوئی وضع قطع نہیں ہے۔ صرف خلوص کے ساتھ طلبِ روحانیت کا ذوق اور شوق ہی طالب کو سلسلے کے ساتھ منسلک رکھتا ہے۔ سلسلہ میں مریدین کو ”دوست“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

تعلیم و تربیت کے لیے سخت ریاضتوں، چلّوں اور مجاہدوں کے بجائے آسان ذکر و اذکار ہیں۔ تعلیم کا محور غارِ حرا میں عبادت (مراقبہ) ہے۔ تفکر اور خدمتِ خلق کو اساس قرار دیا گیا ہے۔

سلسلہ عظیمیہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی منظوری سے ۱۹۶۰ء میں قائم ہوا۔ امامِ سلسلہ عظیمیہ حضور قلندر بابا اولیا ؒ ۱۸۹۸ء میں خورجہ، ضلع بلند شہر، بھارت میں پیدا ہوئے۔ والدین نے محمد عظیم نام رکھا۔ والدِ گرامی کا نام بدیع الدین مہدی شیر دل اور والدہ ماجدہ کا نام سعیدہ بی بی تھا۔ شاعری میں ”برخیا“ تخلص ہے۔

تاریخ وفات ۱۹۷۹ء ہے۔ مزارِ شریف شادمان ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، کراچی میں مرجعِ خاص و عام ہے۔

سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بطریق اویسیہ ”حسن اخریٰ“ کے نام سے مخاطب فرمایا۔ عالمِ تکوین اور عوام و خواص میں قلندر بابا اولیا ؒ کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ پورا نام حسن اخریٰ محمد عظیم برخیا المعروف قلندر بابا اولیا ؒ ہے۔

آپ حضرت امام حسن عسکری ؒ کے خاندان کے سعید فرزند ہیں۔ مرتبہ قلندریت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے ملائکہ ارضی و سماوی اور حاملانِ عرش میں قلندر بابا اولیا ؒ کے نام سے مشہور ہیں۔

حضور قلندر بابا اولیا ؒ نظامِ تکوین کے اعلیٰ منصب ”صدر الصدور“ کے عہدہ پر فائز ہیں۔ اس دنیا اور دوسری لاشمار دنیاؤں میں چار تکوینی شعبے کام کر رہے ہیں۔

۱۔ قانون ۲۔ علوم ۳۔ اجرامِ سماوی ۴۔ نظامت

ان شعبوں کے ہیڈ چار ابدال ہوتے ہیں۔ نظامت کے عہدہ پر فائز ابدالِ حق کو صدر الصدور کہتے ہیں۔ صدر الصدور کو Veto Power حاصل ہوتی ہے۔ ابدالِ حق قلندر بابا اولیا ؒ اس وقت صدر الصدور ہیں۔

اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کو قلندر کا مقام عطا کرتا ہے تو اسے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہونے کا اختیار دے دیتا ہے اور تکوینی امور کے تحت سارے ذی حیات اس کے تابعِ فرمان ہوتے ہیں، لیکن اللہ کے یہ نیک بندے غرض، ریا، طمع، حرص اور لالچ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ اس لیے جب مخلوق ان کی خدمت میں کوئی گزارش پیش کرتی ہے تو وہ اس کو سنتے ہیں اور اس کا تدارک بھی کرتے ہیں کیونکہ قدرت نے انہیں اسی کام کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ اور قدسی نفس حضرات ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

”میں اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہوں اور ان کے کان، آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں، پھر وہ میرے ذریعہ بولتے ہیں اور میرے ذریعہ چیزیں پکڑتے ہیں۔“

قلندر بابا اولیا ؒ نے قرآنِ پاک اور ابتدائی تعلیم محلہ کے مکتب میں حاصل کی اور بلند شہر میں ہائی اسکول تک پڑھا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔

بابا تاج الدین ناگپوری ؒ حضور قلندر بابا اولیا ؒ کے نانا ہیں۔ آپ ۹ سال تک رات دن بابا تاج الدین ؒ کی خدمت میں حاضر باش رہے۔ دورانِ تعلیم ایسا دور بھی آیا کہ قلندر بابا اولیا ؒ پر جذب و مستی اور عالمِ استغراق کا غلبہ ہو گیا، اکثر اوقات خاموش رہتے اور گاہے گاہے گفتگو بھی بے ربط ہو جایا کرتی تھی، لیکن جذب و کیفیت کی یہ مدت زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہی۔

سلسلہ معاش قائم رکھنے کے لیے مختلف رسائل و جرائد کی ادارت و صحافت اور شعرا کے دیوانوں کی اصلاح اور ترتیب و تدوین کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی تشریف لے آئے اور ”اردو ڈان“ میں سب ایڈیٹر کے عہدہ پر فائز ہو گئے۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک رسالہ ”نقاد“ میں کام کرتے رہے، کچھ رسالوں کی ادارت کے فرائض انجام دیے، کئی مشہور کہانیوں کے سلسلے بھی قلم بند کیے۔

۱۹۵۲ء میں قطبِ ارشاد حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردی ؒ سے بیعت ہوئے۔ حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردی نے رات کو تین بجے سامنے بٹھا کر قلندر بابا اولیا ؒ کی پیشانی پر تین پھونکیں ماریں۔ پہلی پھونک میں عالمِ ارواح منکشف ہوا، دوسری پھونک میں عالمِ ملکوت و جبروت اور تیسری پھونک میں عرشِ معلیٰ کا مشاہدہ ہوا۔

حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردی نے قطبِ ارشاد کی تعلیمات تین ہفتے میں پوری کر کے خلافت عطا فرما دی۔ اس بعد حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی روحِ پر فتوح نے قلندر بابا اولیا ؒ کی روحانی تعلیم شروع کی اور پھر یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہمت و نسبت کے ساتھ بارگاہِ رب العزت میں پیشی ہوئی اور اسرار و رموز کا علم حاصل ہوا۔

ابتدا ہی سے آپ کی طبیعت میں سادگی اور شخصیت میں وقار تھا۔ پریشانی میں دلجوئی کرنا، دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف اور دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھنا اور دوسرے شخص کی توقع سے زیادہ اس کا دکھ بانٹنا آپ کی صفت تھی۔

حضور قلندر بابا اولیا ؒ سے بہت ساری کرامات صادر ہوئیں جو کتاب ”تذکرہ قلندر بابا اولیا ؒ“ میں شائع ہوئی ہیں۔

قلندر بابا اولیا ؒ نے تین کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔

علم و عرفان کا سمندر: ”رباعیاتِ قلندر بابا اولیا ؒ“

اسرار و رموز کا خزانہ: ”لوح و قلم“

کشف و کرامات اور ماورائی علوم کی توجیہات پر مستند کتاب: ”تذکرہ تاج الدین بابا ؒ“

رباعیات میں فرماتے ہیں:

۱۔ اک لفظ تھا اک لفظ سے افسانہ ہوا

اک شہر تھا شہر سے ویرانہ ہوا

گردوں نے ہزار عکس ڈالے ہیں عظیم

میں خاک ہوا خاک سے پیمانہ ہوا

۲۔ آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بیکار

اس خاک کی تخلیق میں جلوے ہیں ہزار

دستہ جو ہے کوزہ کو اٹھانے کے لیے

یہ ساعدِ سیمیں سے بناتا ہے کمہار

۳۔ باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں

پانی میں جو مچھلیاں ہیں سب مٹی ہیں

آنکھوں کا فریب ہے یہ ساری دنیا

پھولوں میں جو تتلیاں ہیں سب مٹی ہیں

۴۔ آنا ہے ترا عالمِ روحانی سے

حالت تری بہتر نہیں زندانی سے

واقف نہیں میں وہاں کی حالت سے عظیمؔ

حضور قلندر بابا اولیا ؒ اپنی کتاب ”لوح و قلم“ کے پہلے صفحہ پر لکھتے ہیں:

”میں یہ کتاب پیغمبرِ اسلام سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے لکھ رہا ہوں، مجھے یہ حکم سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات سے بطریقِ اویسیہ ملا ہے۔“

کتاب کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”سماعت میں نے دی ہے، بصارت میں نے دی ہے“، اس کا مطلب یہ نکلا کہ اطلاع میں نے دی ہے (یعنی اطلاعات کا سورس اللہ تعالیٰ ہیں)۔ ہم عام حالات میں جس قدر اطلاعات وصول کرتے ہیں ان کی نسبت تمام دی گئی اطلاعات کے مقابلے میں صفر سے ملتی جلتی ہے۔ وصول ہونے والی اطلاعات اتنی محدود ہیں کہ ان کو ناقابلِ ذکر کہیں گے۔ اگر ہم وسیع تر اطلاعات حاصل کرنا چاہیں تو اس کا ذریعہ بجز علومِ روحانی کے کچھ نہیں ہے اور علومِ روحانی کے لیے ہمیں قرآنِ حکیم سے رجوع کرنا پڑے گا۔

یہ قانون بہت فکر سے ذہن نشین کرنا چاہیے کہ جس قدر خیالات ہمارے ذہن میں دور کرتے رہتے ہیں ان میں سے بہت زیادہ ہمارے معاملات سے غیر متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق قریب اور دور کی ایسی مخلوق سے ہوتا ہے جو کائنات میں کہیں نہ کہیں موجود ہے۔ اس مخلوق کے تصورات لہروں کے ذریعہ ہم تک پہنچتے ہیں۔

حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے عالمِ لاہوت، عالمِ جبروت، عالمِ ملکوت اور ارض و سماوات کے نقشے بنا کر دیے ہیں۔

قلندر بابا اولیا ؒ کی سرپرستی میں ”روحانی ڈائجسٹ“ کا پہلا شمارہ دسمبر ۱۹۷۸ء کو منظرِ عام پر آیا۔ روحانی ڈائجسٹ کے بیشتر ٹائٹل، جزوی تبدیلی کے ساتھ انہی نقشوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ مردم شماری کے حساب سے مردوں کے مقابلہ میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ بڑا المیہ ہے کہ خواتین کی اتنی بڑی تعداد کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، جبکہ خواتین و حضرات کی علمی استعداد اور صلاحیتوں میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے۔ سلسلہ عظیمیہ نے رسول اللہ ﷺ کے مشن کے پھیلانے میں خواتین کو بھرپور شریک ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔

سلسلہ عظیمیہ کی کاوشوں سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ماورائی علوم اور روحانی طرزِ فکر عام ہو رہی ہے۔ امامِ سلسلہ عظیمیہ نے عوام و خواص کو بتایا ہے کہ ہر شخص روحانی علوم کو باآسانی سیکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے رابطہ قائم ہو جانے کے بعد خواتین و حضرات کی زندگی پرسکون ہو جاتی ہے۔

سلسلہ عظیمیہ کی شب و روز جدوجہد سے پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، ہالینڈ، فرانس، ڈنمارک، روس، متحدہ عرب امارات میں ”مراقبہ ہال“ کے نام سے خانقاہی نظام قائم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو روحانی علوم سے آشنا کرنے کے لیے سلسلہ عظیمیہ نے لائبریریوں کا نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ الیکٹرانک ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر علمی، سائنسی، قرآنِ کریم اور حدیثِ شریف کے مطابق روحانی علوم کو آڈیو اور ویڈیو میں ریکارڈ کیا ہے تاکہ سائنسی ترقی کے اس دور میں زیادہ سے زیادہ لوگ مستفیض ہوتے رہیں۔

تقریروں اور تحریروں کے ساتھ ساتھ Print Media کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ خانوادہ سلسلہ عظیمیہ نے اپنے مرشدِ کریم قلندر بابا اولیا ؒ کے مشن کو پھیلانے، عوام و خواص میں اس کی جڑیں مستحکم کرنے کے لیے پرنٹ میڈیا کو استعمال کیا ہے۔ رسائل و جرائد اور اخبارات میں مسلسل ۳۲ سال سے روحانی علوم کی اشاعت جاری ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میری سنت میں تبدیلی ہوتی ہے اور نہ تعطل واقع ہوتا ہے۔“

الحاد، بت پرستی، شرک اور زمین پر فساد ختم کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے پیغمبروں کا سلسلہ قائم کیا۔ روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس دنیا میں تشریف لائے۔

قرآنِ کریم کی تصدیق کے مطابق رسالت اور نبوت رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو چکی ہے۔

اللہ کے ارشاد کے مطابق دین کی تکمیل ہو چکی ہے، لیکن دین کی تکمیل کے بعد بھی تبلیغ و ارشاد اس لیے ضروری ہے کہ دنیا آباد ہے اور اس آبادی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ دنیا قیامت تک قائم رہے گی۔ نبوت کے فیضان کو جاری رکھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے وارث، علمائے باطن، اولیاء اللہ نے دینی اور روحانی مشن کو تا قیامت لوگوں تک پہنچانے کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ نوعِ انسانی قرآنی احکامات کو سمجھ کر اللہ کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ کر لے گی اور دنیا امن و امان کا گہوارہ بن جائے گی۔

آج کی دنیا سمٹ کر ایک کمرے کے برابر ہو گئی ہے۔ چھ مہینوں کا سفر ایک دن میں اور دنوں کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔ زمان و مکان کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔

بظاہر سائنس کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک کوئی بات Vision نہ بنے اور دلائل کے ساتھ اسے ثابت نہ کیا جائے تو وہ بات قابلِ قبول نہیں ہے۔

اس سے قطع نظر کہ سائنس کا یہ دعویٰ کتنا غلط اور کتنا صحیح ہے، سلسلہ عظیمیہ نے کوشش کی ہے کہ ذہنی وسعت کے مطابق سائنسی انکشافات کو سامنے رکھ کر خواتین و حضرات کو ایسی تعلیمات دی جائیں، جن تعلیمات سے وہ ظاہری دنیا کے ساتھ ساتھ غیب کی دنیا سے نہ صرف آشنا ہو جائیں بلکہ غیب کی دنیا اور غیب کی دنیا میں آباد مخلوقات کا مشاہدہ بھی کر لیں۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سلسلہ عظیمیہ نے درس و تدریس کا نظام ترتیب دیا ہے۔ جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ تین سال پر محیط ہے اور دوسرا حصہ بھی تین سال پر محیط ہے۔ طالبات و طلبا یہ چھ سالہ کورس پڑھ کر وہ Knowledge حاصل کر لیتے ہیں جس نالج کی بنیاد قرآنِ کریم، احادیث اور غیب ہے۔ چونکہ ایک سازش کے تحت اور فاسد ذہن رکھنے والے لوگوں کے منصوبوں کے مطابق خانقاہی نظام کو متنازع فیہ بنا دیا گیا ہے۔ اس لیے خانقاہی نظام کو سلسلہ عظیمیہ نے ”مراقبہ ہال“ کے نام سے متعارف کروایا ہے۔

۲۰۰۲ء تک دنیا میں ۷۳ مراقبہ ہال قائم ہوئے ہیں۔ ان مراقبہ ہالز میں ایسا ماحول Create کیا جاتا ہے جہاں کی فضا سکون و اطمینان کی لہروں کے ارتعاش پر قائم ہے۔ ذکر و اذکار کی محفلیں ہوتی ہیں۔ مراقبے کیے جاتے ہیں۔ نماز، روزہ اور عبادت و ریاضت میں ذہنی یکسوئی نصیب ہوتی ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کا مقصود اللہ کی مخلوق کی خدمت کر کے اپنی ذات کا عرفان اور عرفان الٰہی حاصل کرنا ہے۔۔


 

Topics