Topics
متقی رسول اللہ ﷺ کی
سیرتِ طیبہ کا نمونہ ہوتا ہے اس کے اندر سیرتِ مطہرہ کی جھلک نظر آتی ہے وہ غصہ
نہیں کرتا عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔ اس کے دل میں ہر چھوٹے برے کا احترام ہوتا
ہے۔ دوسروں کے کام آتا ہے، ایفائے عہد میں پُر عزم اور پختہ ہوتا ہے۔ ہر اخلاقی برائی سے خود کو
محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر اچھی بات پر دلجمعی سے عمل کرتا ہے اور دوسروں کو عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ کسی پر
تہمت نہیں لگاتا اور نہ کسی کو بدعا دیتا ہے۔ غیبت نہیں کرتا اور خوش ہو کر ملتا
ہے۔ اخلاق ، مروت اس کی شناخت بن جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
”خوش اخلاقی اللہ تعالیٰ
کا خُلقِ عظیم ہے“
اخلاق وہی اچھا ہے جس میں
صفات ربانی کا عکس ہو کچھ صفات ایسی ہیں جن میں انسان برابری نہیں کر سکتا مثلاً
اللہ واحد ہے اور مخلوق کثرت ہے، اللہ خالق ہے مخلوق ، مخلوق ہے، کبریائی اور
بڑائی صرف اللہ کے لئے ہے بندے کا کمال یہ ہے کہ اس میں کبریائی کے مقابلے میں
خاکساری اور تواضع ہو۔ خوش اخلاق ہو کیونکہ اسلام نے انسان کی روحانی تکمیل کا
ذریعہ اخلاق کو قرار دیا ہے اللہ کی صفات کے انوار سے بندہ بشر جس حد تک قریب ہوتا
ہے اس کی روحانی ترقی ہوتی رہتی ہے۔
دنیا میں اخلاق کے بڑے
برے معلم پیدا ہوئے ہیں اور سب نے اخلاقیات پر عمل کرنے کی دعوت دی ہے۔ تمام مذاہب
کی بنیاد بھی اخلاق حسنہ پر رکھی گئی ہے۔ دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر
تشریف لائے سب نے اس امر کی تبلیغ فرمائی کہ سچ بولنا اچھا عمل ہے اور جھوٹ بولنا
برائی ہے۔ انصاف بھلائی ہے اور ظلم بدی ہے ، خیرات نیکی ہے اور چوری جرم ہے۔ دوسرے
کے کام آنا ایسی عادت ہے جو اللہ کے لئے پسندیدہ ہے اور حق تلفی کرنا اللہ کے
نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے۔
نبوت کا سلسلہ حضرت آدم ؑ
سے شروع ہوا اور رسالت اور نبوت کا اختتام حضور ﷺ پر ہو گیا۔
آسمانی کتابوں اور صحائف
میں اس بات کو مسلسل دہرایا جاتا رہا ہے کہ ایک خیر البشر آئے گا اور آسمانی علوم
کے مطابق تکمیلِ دین کا اعلان کرے گا۔ حضرت عیسی ؑ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم تشریف لائے۔ محمد ﷺ ، اللہ کے فرستادہ آخری نبی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے اوپر دین
کی تکمیل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر اپنی نعمتیں پوری فرما دیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
”میں حسنِ اخلاق کی تکمیل
کے لئے بھیجا گیا ہوں۔“
آپ ﷺنے یہ بھی فرمایا کہ:
”میں اس لئے بھیجا گیا
ہوں کہ اخلاق حسنہ کی تکمیل ہو جائے۔“
رسول اللہ ﷺ نے بعثِ نبوی
سے پہلے اس فرض کو انجام دینا شروع کر دیا تھا۔
حضرت ابو ذرؓ نے اپنے
بھائی کو رسول اللہﷺ کے حالات اور تعلیمات کی تحقیق کے لئے مکہ بھیجا تھا تو انہوں
نے آ کر بتایا:
”میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ
لوگوں کے اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتے ہیں۔“
نجاشی نے جب مسلمانوں کو
بلا کر اسلام کے بارے میں تحقیق کی تو حضرت جعفر طیار ؓ نے کہا:
”اے بادشاہ! ہم لوگ ایک
جاہل قوم تھے بتوں کو پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے، بد کاریاں کرتے تھے ، پڑوسیوں
کو پریشان کرتے تھے اور بھائی بھائی پر ظلم کرتا تھا زبردستی لوگوں کو غلام بنا
لیتے تھے ان حالات میں ایک شخص ہم میں پیدا ہوا۔۔۔ اس نے ہمیں سکھایا کہ ہم پتھروں
کی پرستش چھوڑ دیں ، سچ بولیں، خونریزیوں سے باز آ جائیں۔ یتیموں کا مال نہ کھائیں۔
ہمساؤں سے اچھا سلوک کریں ، ضعیف عورتوں پر بدنامی کا داغ نہ لگائیں۔“
اسی طرح قیصر روم کے
دربار میں ابو سفیان نے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے رسول اللہ ﷺ کی اصلاحی دعوت
کا جو مختصر خاکہ بیان کیا اس میں یہ تسلیم کیا کہ رسول اللہ ﷺ خدا کی توحید اور
عبادت کے ساتھ لوگوں کو یہ سکھاتے ہیں ہیں کہ پاک دامنی اختیار کریں سچ بولیں اور
قرابت داروں کا حق ادا کریں ۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ
ﷺ کی تعریف میں کہا:
”یہ پیغمبر جاہل اور ان پڑھ لوگوں کو پاک و صاف کرتا
ہے اور ان کو حکمت سکھاتا ہے۔“
اس آیت میں دو لفظ بہت
زیادہ تفکر طلب ہیں۔
۱۔ تزکیہ
۲۔ حکمت
تزکیہ کے لفظی معنی ہیں
۔۔۔۔۔ پاک صاف کرنا ، نکھارنا۔۔۔!!
قرآن پاک کے یہ الفاظ
بتاتے ہیں کہ نفس انسانی کو ہر قسم کی نجاستوں اور آلودگیوں سے پاک کر کے صاف
ستھرا کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”بلاشبہ جس نے اپنے نفس
کو صاف ستھرا بنایا وہ کامیاب ہوا جس نے اسے مٹی میں ملایا وہ ناکام رہا“
(۹۱ :
۹۔۱۰)
”وہ جیتا جس نے اپنے آپ
کو پاک صاف کیا اورنماز قائم کی“ (۸۷
: ۱۴۔۱۵)
” پیغمبر (رسول اللہ ﷺ)
نے ناگواری محسوس کی (تیوری چڑھائی) اور منہ موڑا ، کہ اس کے باس اندھا آئے۔۔۔۔
اور تجھے کیا خبر ہے شاید وہ سنور جاتا تو تیرا سمجھانا اس کے کام آتا۔“ ( ۸۰
: ۱۔۴)
ان آیاتِ میں تزکیہ کا
مفہوم واضح ہے جسے پیغمبر اسلام رسول اللہ
ﷺ کی خصوصیات قرار دیا ہے ۔ یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و
رسالت کا سب سے بڑا منصب یہ تھا کہ وہ انسانی نفوس کو برائیوں ، نجاستوں
اور آلودگیوں سے پاک کریں اور ان کے
اخلاق و اعمال کو درست اور صاف ستھرا بنائیں۔
(۲) حکمت کا لفظ نور کی صورت میں نبیﷺ کو ودیعت
کیا گیا ہے۔ جس کے آثار و مظاہر رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سنت و احکام کی صورت میں
ظاہر ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اور ہم نے لقمان کو حکمت
کی باتیں بتائیں کہ اللہ کا شکر ادا کریں۔“ ( ۳۱
: ۱۲)
شریعت میں اخلاق کے مرتبے
کو حکمت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام میں عبادات اور دوسرے احکام کو جو
حیثیت حاصل ہے ، اخلاق کو بھی اتنی اہمیت حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
” اے ایمان والو! رکوع
کرو ، سجدہ کرو اپنے رب کو پوجو اور نیکی کرو تاکہ تم فلاح پاؤ“ (۲۲
: ۷۷)
حقوق العباد انسانوں میں
باہمی معاملات اور تعلقات کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے اس کی رحمت کا
دروازہ کسی نیک و بد بندے پر بند نہیں ہوتا۔ شرک و کفر کے سوا ہر گناہ قابلِ معافی
ہے۔ مگر حقوق العباد ، اخلاقی فرائض کی کوتاہی اور تقصیر کی معافی اللہ تعالیٰ نے
اُن بندوں کے ہاتھ میں رکھی ہے جن کے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
”جس بھائی نے کسی دوسرے
بھائی پر ظلم کیا تو ظالم بھائی کو چاہیئے کہ وہ اس دنیا میں ظلم کو معاف کرا لے
ورنہ یومِ حساب میں تاوان ادا کرنے کے لئے کسی کے پاس کوئی درہم و دینار نہیں ہوگا
، صرف اعمال ہوں گے ، ظالم کی نیکیاں مظلوم کو مل جائیں گی اور مظلوم کے اعمال میں
لکھ دی جائیں گی۔“
بے سمجھ واعظوں اور ابنُ الوقت مذہبی دانشوروں کی
غلط بیانی سے یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ اسلام کی بنیاد صرف نماز ، روزہ ، حج
اور زکوٰۃ پر قائم ہے۔ جب کہ اخلاق حسنہ بھی پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی طرزِ
فکر کا بہترین نمونہ ہے۔ نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کے فرائض اور عبادات سے اخلاق
حسنہ کی تکمیل ہوتی ہے۔
قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ
نماز کا فائدہ یہ ہے کہ وہ بری باتوں سے روکتی ہے۔ روزہ تقویٰ کی تعلیم دیتا ہے۔
زکوٰۃ سر تاپا انسانی ہمدردی اور غم خواری کا درس ہے۔ اور حج مختلف طریقوں سے
ہماری اخلاقی اصلاح اور ترقی کا ذریعہ ہے اسلام کے ان چاروں ارکان کے نام الگ الگ
ہیں مگر ان کا بنیادی مقصد اخلاقی تعلیم ہے اگر ان عبادات سے روحانی اور اخلاقی
ثمر حاصل نہ ہو تو سمجھ لینا چاہیئے کہ احکام الٰہی کی حقیقی تعمیل نہیں ہوئی۔
یہ عبادات ایسا درخت ہیں
جن میں پھل نہیں آتا، ایسے پھول ہیں جن میں خوشبو نہیں ہے ، یہ اعمال ایسے قالب
ہیں جن میں روح نہیں ہے۔
احیاء العلوم میں امام
غزالی ؒ لکھتے ہیں۔
”اور اللہ فرماتا ہے میرے
لئے نماز قائم کرو۔ بھولنے والوں میں نہ ہو جاؤ۔ نشہ کی حالت میں اس وقت تک نماز
نہ پڑھو جب تک یہ نہ سمجھو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔“
سوال یہ ہے کہ کتنے نمازی
ایسے ہیں کہ جو شراب نہیں پیتے مگر جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو نہیں جانتے کہ وہ کیا
پڑھ رہے ہیں ۔ ان کے سامنے معانی اور مفہوم نہیں ہوتے۔ ان کا دل نماز میں نہیں
ہوتا۔ وسوسوں کا ایک طوفان انہیں گھیرے رہتا ہے۔
آسمانی کتابوں میں اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں:
”کہ میں ہر آدمی کی نماز
قبول نہیں کرتا۔ میں اس کی نماز قبول کرتا ہوں جو میری بڑائی کرتا ہے اور بندوں پر اپنی بڑائی نہیں جتاتا اور جو
بھوکے محتاج کو میرے لئے کھانا کھلاتا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
”جس کی نماز اس کو برائی
اور بدی سے نہ روکے ایسی نماز اس کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔“
آپ ﷺ نے فرمایا:
”روزہ رکھ کر جو شخص جھوٹ
اور فریب کو نہ چھوڑے اللہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔“
ان تعلیمات سے معلوم ہوتا
ہے کہ عبادات کا اہم مقصد اخلاق کا تزکیہ
بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”بلاشبہ وہ ایمان والے
کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع کرتے ہیں اور جو لا یعنی بات پر
دھیان نہیں کرتے اور جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں۔“
(۲۳ : ۱۔۴)
”اور جو امانتوں میں
خیانت نہیں کرتے۔“ (۲۳ : ۸)
جب بندہ ان الفاظ کی
اہمیت پر غور کرتا ہے تو اس کے اندر یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تقرب
الٰہی اور دعا کی قبولیت کے بہترین موقع پر بھی اللہ تعالیٰ سے حسِ اخلاق کے لئے
درخواست کی ہے۔
اللہ کا دوست صوفی یہ بات
جانتا ہے کہ ایمان میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے۔ حدیث شریف میں ہے :
”مسلمانوں میں کامل ایمان
اس کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔“
خانقاہی نظام میں سالک کو
پہلا سبق یہ دیا جاتا ہے:
”با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب“
سالکین کو سیرت طیبہ کا
ہر پہلو پڑھایا جاتا ہے اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ذہن نشین کرایا
جاتا ہے کہ :
۱) اگر تمہیں کسی سے تکلیف پہنچے تو تم اسے
معاف کر دو حالانکہ تم الٰہی قانون کے تحت بدلہ لے سکتے ہو لیکن معاف کرنے سے اللہ
خوش ہوتا ہے۔
۲) اگر تم سے کسی کو تکلیف پہنچ جائے۔ وہ
اعلیٰ ذات ہو یا چھوٹی ذات میں شمار کیا جاتا ہو، کمزور ہو یا طاقتور ہو تم اس سے
معافی مانگ لو۔
۳) دین اور دنیا کے معاملات میں تندہی کے
ساتھ پوری کوشش کرو لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔
۴) نماز قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ
کے ساتھ رابطہ میں رہنا یعنی اللہ کو دیکھ کر یا اللہ کو محسوس کر کے اس کی عبادت
کرنا۔
۵) جہاں بھی رہو علم دین کے ساتھ علمِ دنیا
بھی سیکھو۔ تاکہ شعوری استعداد میں اضافہ ہو اور اس علمی استعداد سے اللہ کی مخلوق
کو فائدہ پہنچاؤ۔
۶) اللہ کی پسندیدہ عادت مخلوق کی خدمت
کرنا ہے۔ سالک کو چاہیئے کہ بغیر غرض کے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرے۔ جب کوئی بندہ
مخلوق کی مخلصانہ خدمت کرتا ہے تو اسے اللہ کی دوستی کا شرف حاصل ہو جاتا ہے اور
اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا۔
۷) قرآن ان لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے جو
متقی ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان یعنی یقین کی
تکمیل جب ہوتی ہے جب بندہ دیکھ لے۔
۸) رسول اللہ ﷺ ، اللہ کے محبوب ہیں۔ اللہ
تعالیٰ اپنے محبوب سے محبت کرتے ہیں۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں اللہ
تعالیٰ ان کے درجے بلند کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ، اللہ کے فرستادہ بندے اور رسول
ہیں۔ اس ذاتِ مبارک ﷺ سے محبت کرنا ہر انسان پر فرض ہے۔
۹) اولیاء اللہ یعنی اللہ کے دوست رسول
اللہ ﷺ کی نسبت سے اللہ کے دوست ہیں۔ جب کوئی بندہ اللہ کے دوست سے دوستی نبھاتا
ہے اور اس کی قدرو منزلت کرتا ہے تو ایسے بندوں پر رحمت کی بارش برستی ہے۔
آدمی جس جسمانی وجود سے اس دنیا میں چلتا ،
پھرتا، کھاتا ، پیتا ہے اور دوسرے مشاغل میں مصروف رہتا ہے، وہ فانی ہے۔ جب کہ
مادی وجود کی اصل ”روح“ ہے۔ روح کی معرفت سے انسان اپنی اصل سے واقف ہو جاتا ہے
اور اپنی اصل سے واقفیت عرفانِ الٰہی کا وسیلہ ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
” نیکی نہیں ہے کہ تم نماز میں اپنا منہ مشرق (بیت المقدس) مغرب (خانۂ کعبہ) کی
طرف کرو بلکہ نیکی یہ ہے کہ اللہ پر ، قیامت پر ، فرشتوں پر ، کتابوں پر اور
پیغمبروں پر ایمان لائے اور ، خواہش کے باوجود اللہ کی محبت میں اپنا مال ، رشتے
داروں ، یتیموں ، غریبوں ، مسافروں ، مانگنے والوں اور غلاموں کو آزاد کرانے میں
خرچ کرے ، نماز قائم کرتا رہے، زکوٰۃ دیتا رہے اور جو وعدہ کرے اس وعدے کو پورا
کرتا رہے اور جو مسیبت ، تکلیف اور پریشانی میں ثابت قدم رہتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں
جو راست باز ہیں اور یہی تقویٰ ہے۔“
(۲ : ۱۷۷)
آیت کی تفہیم یہ ہے کہ
راست بازی اور تقویٰ کا پہلا نتیجہ جس طرح ایمان ہے اسی طرح دوسرا لازمی نتیجہ
بہترین اوصاف ، فیاضی ، ایفائے عہد اور صبر و ثبات ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” اور رحم والے اللہ کے بندے وہ ہیں جو زمین پر دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب نا سمجھ
لوگ ان سے بات کریں تو وہ سلام کہیں اور جو اپنے پرور دگار کی عبادت کی خاطر قیام
اور سجدے میں رات گزارتے ہیں اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے جہنم کا
عذاب دور کر ، کہ اس کا عذاب بڑا تاوان ہے اور جہنم برا ٹھکانہ اور مقام ہے اور جو
خرچ کرتے ہیں وہ فضول خرچ نہ کریں اور نہ تنگی کریں، بلکہ ان دونوں کے درمیان ،
اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے اور جو کسی جان کا بے گناہ خون نہیں کرتے
، جس کو اللہ نے منع کیا ہے ، اور نہ بدکاری کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا وہ گناہ گار
ہوگا۔“ (۲۵ :
۶۳۔۶۸)
”اور جو جھوٹ میں شامل
نہیں ہوتے اور جب کسی لغویات سے گزر رہے ہوں تو سنجیدگی اور وقار سے گزر جاتے ہیں
اور جب اللہ کی نشانیاں ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھے اور بہرے ہو کر ان کو
نہیں سنتے اور یہ دعا مانگتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارے بیوی بچوں سے آنکھ
کی ٹھنڈک بخش اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دے۔“
(۲۵ : ۷۲۔۷۴)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اور وہ اپنے پروردگار پر
بھروسہ رکھتے ہیں ، اور بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں
اور جو غصے کی حالت میں معاف کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کی پکار کا جواب دیتے ہیں
( یعنی اللہ ان سے ہمکلام ہوتا ہے ) نماز قائم کرتے ہیں ( یعنی ان کا اللہ سے
رابطہ ہوتا ہے ) اور ان کے کام باہم مشورے سے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو دیا ہے
اس میں سے اللہ کی راہ میں دیتے ہیں اور جوان پر چڑھائی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں
اور برائی کا بدلہ ویسے ہی برائی ہے ، تو
جو کوئی معاف کر دے اور نیکی کرے تو اس درجہ اللہ کے ذمہ ہے وہ ظلم کرنے
والوں کو پیار نہیں کرتا اگر مظلوم ہو کر بدلہ لے تو اس پر کوئی ملامت نہیں ،
ملامت تو ان پر ہے جو لوگوں پر از خود ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق فساد برپا
کرتے ہیں ان کے لئے بڑا درد ناک عذاب ہے ، بلا شبہ جو مظلوم ہونے پر بھی ظالم کو
معاف کر دے اور سختی سہہ لے تو یہ ہمت کے کام ہیں۔“ (۴۲ :
۳۶۔۴۳)
”جنت ان پرہیزگاروں کے
لئے تیار کی گئی ہے جو خوشی اور تکلیف دونوں حالتوں میں اللہ کے لیے خرچ کرتے ہیں،
اور جو غصے کو دباتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اللہ اچھا کام کرنے والوں
کو پیار کرتا ہے ۔“ (۳ : ۱۳۴)
”یہ وہ ہیں جن کو دوہرا ،
اجر ملے گا ، اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں
اور جو ہم نے دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جب کوئی بیہودہ
بات سنتے ہیں ، اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں، کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے لئے
ہمارا عمل اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے ، تم سلامت رہو ہم نا سمجھوں کو نہیں
چاہتے۔“ (۲۸ : ۵۴۔۵۵)
”اور کھانے کی خود ضرورت
ہوتے ہوئے مسکین ، یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔“ (۷۲
: ۸)
رسول اللہ ﷺ نماز میں جو
دعا مانگتے تھے اس میں یہ جملہ بھی ہوتا تھا :
”اے میرے اللہ ! تو مجھ کو بہتر سے بہتر اخلاق کی رہنمائی کر ، تیرے سوا کوئی بہتر سے بہتر اخلاق کی راہ نہیں دکھا سکتا اور برے اخلاق کو مجھ سے پھرا دے اور ان کو نہیں پھیر سکتا لیکن تو۔“
آپ کی ہدایت کے مطابق، میں
نے اصل متن میں کسی بھی قسم کی لفظی تبدیلی کیے بغیر صرف املا اور رموزِ اوقاف کی
درستی کی ہے اور ان تبدیلیوں کو بولڈ کر دیا ہے۔