Topics
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
کہ :
”میری سنت میں تبدیلی ہوتی ہے اور نہ تعطل واقع ہوتا
ہے۔“ (۳۵ : ۴۳)
اپنی مشیّت کے تحت اللہ تعالیٰ نے اچھائی، برائی کا
تصور قائم کرنے اور نیکی اور بدی میں امتیاز کرنے کے لیے پیغمبروں کے ذریعے
احکامات صادر فرمائے۔ سب پیغمبروں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کر کے نوعِ
انسانی کو بتایا ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہی نجات کا راستہ ہے۔ چوں کہ رسول
اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور دین کی تکمیل ہو چکی ہے۔ اس لیے اللہ کی سنت جاری رکھنے
کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ورثا اولیاء اللہ کی جماعت نے اس بات کا اہتمام کیا کہ اللہ
اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات اور احکامات کا تسلسل قائم رہے۔ ہر زمانے میں اولیاء
اللہ خواتین و حضرات نے اس فرض کو پورا کیا اور قیامت تک یہ سلسلہ قائم رہے گا۔
برصغیر پاک و ہند، برما، ملائیشیا، انڈونیشیا، افریقہ،
ایران، عراق، عرب، چین اور ہر ملک میں اولیاء اللہ نے تبلیغ کی، اللہ کی مخلوق کی
خدمت کی، زمانے کے تقاضوں کے مطابق توحید کی دعوت دی۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں، اگر یہ برگزیدہ ہستیاں شیخ
محی الدین عبدالقادر جیلانی ؒ، خواجہ حسن بصری ؒ، حضرت داتا گنج بخش ؒ، شیخ معین
الدین چشتی اجمیری ؒ، حضرت بہاؤالدین زکریاؒ، بہاؤ الحق نقشبند ؒ، لعل شہباز قلندر
ؒ، شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ، قلندر بابا اولیا ؒ اور دوسرے مقتدر اہلِ باطن صوفیا،
اسلام کی آبیاری نہ کرتے تو آج دنیا میں مسلمان اتنی بڑی تعداد میں نہ ہوتے۔
صوفیائے کرام نے رسول اللہ ﷺ کی نیابت و وراثت کا حق پورا کرنے کے لیے اپنا تن،
من، دھن سب قربان کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا
اور انہیں کامران و کامیاب کیا۔
صوفیائے کرام یقینی طور پر یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے
سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ بندہ اگر کچھ کرتا ہے تو اللہ کے دیے ہوئے اختیارات و
احکامات کے تحت کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ :
”میرا بندہ قربِ نوافل کے ذریعے مجھ سے قریب ہو جاتا
ہے، وہ مجھے دیکھتا ہے، مجھ سے سنتا ہے اور مجھ سے بولتا ہے۔“ (بخاری شریف)
یعنی ایسے بندے کے افعال و اعمال اللہ کے تابع ہو جاتے
ہیں۔
دنیا میں تقریباً دو سو سلاسل ہیں، جو شریعت و طریقت کے
دائرہ کار میں رہتے ہوئے عرفانِ ذات، تسخیرِ کائنات کے فارمولوں اور پیغمبرانہ
طرزِ فکر کی تعلیم دیتے ہیں۔
روحانی سلسلوں کی قائم کردہ درسگاہوں میں سالک کی تربیت
اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اوپر اللہ کو محیط دیکھ لے۔ سالک اللہ سے محبت کرتا
ہے، اللہ کے پسندیدہ کام ڈر کر اور خوفزدہ ہو کر نہیں بلکہ اللہ کی محبت میں اس
لیے کرتا ہے کہ اللہ مجھ سے خوش ہو جائے۔ اللہ کے ناپسندیدہ اعمال سے اس لیے
اجتناب کرتا ہے کہ اللہ میرا کفیل ہے، میرا محافظ ہے اور میرا خالق ہے۔
قیامِ صلوٰۃ، عبادات اور مراقبوں کے ذریعہ اللہ کو اپنے
اندر ڈھونڈتا ہے۔ سالک کی زندگی کا مقصد اللہ کا دیدار اور اللہ سے ہم کلامی ہے۔
سلسلہ کے اسباق پر عمل کر کے اور مرشدِ کریم کی نسبت و محبت سے یہ عمل اس کا یقین
بن جاتا ہے کہ میں اللہ کے پاس سے آیا ہوں، اور مجھے اللہ کے پاس جانا ہے۔ خدمتِ
خلق اور عفو و درگزر اس کی زندگی کا نصب العین بن جاتے ہیں۔
برصغیر میں جو سلاسل مشہور ہیں ان کے علاوہ اور بھی کئی
سلسلے ہیں جو ساری دنیا میں رشد و ہدایت اور ماورائی علوم کی تعلیم دیتے ہیں
مثلاً:
٭سلسلہ قادریہ
٭سلسلہ جنیدیہ
٭سلسلہ کبرویہ
٭سلسلہ فردوسیہ
٭سلسلہ چشتیہ
٭سلسلہ شطاریہ
٭سلسلہ سہروردیہ
٭سلسلہ نقشبندیہ
٭سلسلہ عظیمیہ
سلاسل کی معلوم تعداد تقریباً دو سو بتائی جاتی ہے۔
سلسلہ قادریہ:
امامِ سلسلہ قادریہ پیرانِ پیر سید عبدالقادر جیلانی ؒ
کو حضرت علی مرتضیٰؓ اور سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے براہِ راست فیض ملا۔ ۴۷۰ ہجری کو قصبہ گیلان میں
پیدا ہوئے۔ اسمِ گرامی عبدالقادر اور محی الدین لقب ہے۔
سلسلہ قادریہ آپ کے نام عبدالقادر سے منسوب ہے۔ آپ کا
شجرہ نسب سیدنا امام حسین ؑ بن امیر المومنین علیؓ ابن ابی طالب سے ملتا ہے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا روحانی شجرہ شیخ حماد
الیاس ؒ اور ابو سعید المبارک ؒ سے حضرت حسن بصری ؒ، حضرت علی ؓ اور رحمتِ
العالمین سید حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے۔
ریاضت و عبادت اور مشکل و کٹھن مراحل سے گزرنے کے ساتھ
یہ بھی ہوا کہ شیخ ابو سعید مبارک ؒ صبح کے وقت ایک کوٹھے میں بند کر دیتے تھے اور
اگلے روز عصر کے وقت کمرے سے باہر نکالتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد حضرت عبدالقادر
جیلانیؒ کمرے سے آنے کے بعد احتجاج کرتے، غصہ کرتے اور کہتے مجھے کیوں قید کیا ہوا
ہے۔ لیکن جب مرشد فرماتے عبدالقادر کمرے میں چلو باہر رہنے کا وقت پورا ہو گیا ہے
تو خاموشی کے ساتھ کوٹھے میں چلے جاتے تھے۔ مزاحمت نہیں کرتے تھے۔ یہ ریاضت مسلسل
تین سال تک جاری رہی۔
اسی طرح کے واقعات حضرت ابوبکر شبلی ؒ اور امام غزالی ؒ
کی ریاضت و عبادات کے ہیں۔
صوفیا کے سرخیل حضرت جنید بغدادی ؒ سے جب بغداد کے
گورنر ابوبکر شبلیؒ نے اہلِ تصوف کے گروہ میں داخل ہونے کی درخواست کی تو حضرت
جنید ؒ نے فرمایا کیا آپ تصوف کے تقاضوں کو پورا کر سکیں گے؟ ابوبکر شبلیؒ نے کہا:
میں اس کے لیے تیار ہوں۔ حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا چوں کہ تم بغداد کے گورنر رہ
چکے ہو اور اس گورنری کا تکبر تمہارے اندر موجود ہے، جب تک یہ تکبر نہیں نکل جاتا
تو تصوف کے علوم نہیں سیکھ سکتے اور اس تکبر کو ختم کرنے کا پہلا سبق یہ ہے کہ
تمہیں بغداد کی گلیوں میں بھیک مانگنا پڑے گی اور پھر اہلِ بغداد نے دیکھا کہ شبلی
نے بغداد کی گلیوں میں بھیک مانگی۔
امام غزالی اپنے زمانے کے یکتائے روزگار تھے۔ بڑے بڑے
جید علما اُن کے علوم سے استفادہ کرتے تھے۔ بیٹھے بیٹھے ان کو خیال آیا کہ خانقاہی
نظام دیکھنا چاہیے کہ یہ لوگ کیا پڑھاتے ہیں۔ پھر وہ اس تلاش و جستجو میں سات سال
تک مصروف رہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے دور دراز کا سفر بھی کیا، بآخر مایوس ہو کر
بیٹھ گئے۔ کسی نے پوچھا ”آپ ابوبکر شبلی ؒ سے بھی ملے ہیں؟“
امام غزالی ؒ نے فرمایا کہ: میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں
کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جو فقرا نے اپنے بارے میں مشہور کر رکھی ہیں۔ لیکن پھر
وہ حضرت ابوبکر شبلیؒ سے ملاقات کے لیے عازمِ سفر ہو گئے۔ جس وقت وہ سفر کے لیے
روانہ ہوئے۔ اس وقت ان کا لباس اور سواری میں گھوڑے اور زرین کی قیمت کئی ہزار
اشرفیاں تھیں۔ شاہانہ زندگی بسر کرنے والے امام غزالیؒ منزلیں طے کر کے ابوبکر
شبلیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ایک مسجد میں بیٹھے ہوئے گدڑی سی رہے تھے۔ امام
غزالی ؒ حضرت ابوبکر شبلی ؒ کی پشت کی جانب کھڑے ہو گئے۔ حضرت ابوبکر شبلیؒ نے پیچھے
مڑ کر دیکھے بغیر فرمایا:
”غزالی تو آ گیا۔۔ تو نے بہت وقت ضائع کر دیا۔ میری بات
غور سے سن! شریعت میں علم پہلے اور عمل بعد میں ہے۔ طریقت میں عمل پہلے اور علم
بعد میں ہے۔ اگر تو قائم رہ سکتا ہے تو میرے پاس قیام کر ورنہ واپس چلا جا۔“
امام غزالیؒ نے ایک منٹ توقف کیا اور کہا میں آپ کے پاس
قیام کروں گا۔ حضرت ابوبکر شبلیؒ نے فرمایا کہ سامنے کونے میں جا کر کھڑے ہو جاؤ۔
امام غزالی ؒ مسجد کے کونے میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ کچھ دیر بعد ابوبکر شبلی ؒ نے
بلایا اور دعا سلام کے بعد اپنے گھر لے گئے۔
تین سال کی سخت ریاضت کے بعد امام غزالی ؒ جب بغداد
واپس پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے پورا شہر امڈ آیا۔ لوگوں نے جب ان کو صاف
ستھرے عام لباس میں دیکھا تو پریشان ہو گئے۔ انہوں نے کہا: ”امام! شان و شوکت چھوڑ
کر تم کو کیا ملا ہے؟“
امام غزالی ؒ نے فرمایا کہ:
”اللہ کی قسم! اگر میرے اوپر یہ وقت نہ آتا اور میرے
اندر سے بہت بڑا عالم ہونے کا زعم نہ ہوتا تو میری زندگی برباد ہو جاتی۔“
سلسلہ قادریہ میں درود شریف زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی
تلقین کی جاتی ہے، ذکرِ خفی اور ذکرِ جلی دونوں اشغال کثرت سے کیے جاتے ہیں۔ حضرت
شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ نے آفاقی قوانین کے راز ہائے سربستہ کا انکشاف
فرمایا۔ قدرت کے قوانین کے استعمال کا ایسا طریقہ پیش کیا ہے اور ان قوانین کو
سمجھنے کی ایسی راہ متعین فرمائی جہاں سائنس ابھی تک نہیں پہنچ سکی۔
شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے بتایا کہ زمین و آسمان کا
وجود اُس روشنی پر قائم ہے جس کو اللہ تعالیٰ کا نور پیدا کرتا ہے۔ اگر نوعِ
انسانی کا ذہن مادے سے ہٹ کر اس روشنی پر مرکوز ہو جائے تو انسان یہ سمجھنے کے
قابل ہو جائے گا کہ اس کے اندر عظیم الشان ماورائی صلاحیتیں ذخیرہ کر دی گئی ہیں۔
جن کو استعمال کر کے نہ صرف یہ کہ وہ زمین پر پھیلی ہوئی اشیا کو اپنا مطیع و
فرمانبردار بنا سکتا ہے بلکہ ان کے اندر کام کرنے والی قوتوں اور لہروں کو حسبِ
منشا استعمال کر سکتا ہے۔ پوری کائنات اُس کے سامنے ایک نقطہ بن کر آ جاتی ہے۔ اس
مقام پر انسان مادی وسائل کا محتاج نہیں رہتا۔ وسائل اس کے سامنے سر بسجود ہو جاتے
ہیں۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نظامِ تکوین میں وزیرِ حضوری کے درجے پر فائز
ہیں اور نظامت کے امور میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وزیرِ حضوری ہیں۔
رجال الغیب اور تکوینی امور میں خواتین و حضرات کا بڑے پیر صاحب ؒ سے ہر وقت واسطہ
رہتا ہے۔
حضور پاک ﷺ کے دربارِ اقدس میں بڑے پیر صاحبؒ کا یہ
مقام ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آج تک اُن کی کوئی درخواست نامنظور نہیں
فرمائی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑے پیر صاحب ؒ حضور پاک ﷺ کے اتنے مزاج شناس ہیں
کہ وہ ایسی کوئی بات کرتے ہی نہیں جو حضور ﷺ کی طبیعت اور مزاجِ مبارک کے خلاف ہو۔
سیدنا شیخ عبدالقادر پیرانِ پیر دستگیر ؒ کی تمام کرامات کو مختصر سے وقت میں سمیٹ
لینا ممکن نہیں ہے۔
تین کرامات سائنسی توجیہہ کے ساتھ ہدیہ قارئین ہیں۔
ایک شخص نے آپ ؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ”یا
شیخ! میں فرزندِ ارجمند کا خواستگار ہوں۔“
شیخ نے فرمایا: ”میں نے دعا کی ہے اللہ تمہیں فرزند عطا
کرے گا۔“ اس کے ہاں لڑکے کے بجائے لڑکی پیدا ہوئی تو وہ لڑکی کو لے کر حضرت کی
خدمت میں حاضر ہوا۔
شیخ نے فرمایا: ”اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر گھر لے جا اور
دیکھ پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔“
گھر جا کر دیکھا تو لڑکی لڑکا بن گیا تھا۔ اس کرامت کی
علمی توجیہہ یہ ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
”اور ہم نے تخلیق کیا ہر چیز کو جوڑے دوہرے۔“ (۵۱ : ۴۹)
Equation یہ ہے کہ ہر فرد دو پرت مرکب ہے۔ ایک پرت ظاہر اور غالب رہتا ہے
اور دوسرا پرت مغلوب اور چھپا ہوا رہتا ہے۔ عورت بھی دو رخ سے مرکب ہے اور مرد بھی
دو رخ سے مرکب ہے۔ عورت میں ظاہر رخ وہ ہے جو صنفِ لطیف کے خدوخال میں نظر آتا ہے
اور باطن رخ وہ ہے جو ظاہر آنکھوں سے مخفی ہے۔ اسی طرح مرد کا ظاہر رُخ وہ ہے جو
مرد کے خدوخال میں نظر آتا ہے اور باطن رخ وہ ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا۔ اس کی
تشریح یہ ہوئی کہ مرد بحیثیت مرد کے جو نظر آتا ہے وہ اس کا ظاہر رخ ہے اور عورت
بحیثیت عورت کے جو نظر آتی ہے وہ اس کا ظاہر رخ ہے۔ Equation یہ بنی کہ مرد کے ظاہر رخ کا متضاد باطن رخ
عورت، مرد کے ساتھ لپٹا ہوا ہے اور عورت کے ظاہر رُخ کے ساتھ اُس کا متضاد باطن
رُخ مرد چپکا ہوا ہے۔
جنسی تبدیلی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، اس کی وجہ بھی
یہی ہے کہ باطن رخ میں اس طرح تبدیلی واقع ہو جاتی ہے کہ مرد کے اندر اُس کا باطن
رُخ عورت غالب ہو جاتا ہے اور ظاہر رخ مغلوب ہو جاتا ہے۔ نتیجہ میں کوئی مرد عورت
بن جاتی ہے اور کوئی عورت مرد بن جاتا ہے۔
صاحبِ بصیرت اور صاحبِ تصرف بزرگ چوں کہ اس قانون کو
جانتے ہیں اس لیے تخلیقی فارمولے میں رد و بدل کر سکتے ہیں۔ وزیرِ حضوری پیرانِ
پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کو کائنات میں جاری و ساری تخلیقی قوانین کا
علم حاصل ہے، انہوں نے تصرف کر کے لڑکی کے اندر باطن رخ مرد کو غالب کر دیا اور وہ
لڑکی سے لڑکا بن گیا۔