Topics
انسانی دماغ کو محققین قوت اور توانائی کا سرچشمہ قرار دیتے
ہیں۔ اس میں معلومات اکٹھی کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ جمع شدہ
معلومات سے اچھوتی اور نئی نئی ایجادات کرتا ہے، لیکن اگر زندگی کی رو نہ آئے تو
آدمی لوہے سے بنے ہوئے ایسے روبوٹ کی طرح ہے جس میں کرنٹ نہ ہو۔
جب آدمی زمین پر نہیں تھا تو ایسے مقام پر تھا جہاں اسے ہر چیز
بغیر مشقت کے مل جاتی تھی۔ اسے محنت و مشقت کی عادت نہیں تھی۔ زمین پر آنے کے بعد
اسے مشقت بھری زندگی ملی۔ انسان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ وہ جنت کی زندگی
گزارے۔ جنت کی زندگی کی خواہش نے اسے بے چین کیا ہوا ہے۔ یہ بے چینی رنگ لائی اور
انسان نے خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ایسی مشینیں ایجاد کر لیں جن سے کام لے کر
وہ مشقت کی زندگی سے بے نیاز ہو جائے۔ یہ سب تو ہوا مگر آدمی نے اس بات پر غور
نہیں کیا کہ خفیہ صلاحیتوں کا مخزن کیا ہے؟ ان صلاحیتوں کو متحرک کرنے کے لیے کرنٹ
کہاں سے آتا ہے؟
پہیہ کی ایجاد کے بعد انسان پر سہولتوں کے حصول کی راہ ہموار
ہو گئی اور وہ قدم قدم آگے بڑھتے ہوئے کمپیوٹر ایج (Computer Age) میں داخل ہو گیا۔ اب انسان اس حقیقت سے واقف ہو گیا ہے کہ کوئی
بھی مشین کرنٹ کے بغیر کام نہیں کرتی۔ انسان جب سے دنیا میں آیا ہے، وہ جنت کو زمین
پر اتار لینے کے لیے کوشاں ہے۔
جیسے جیسے اس نے تفکر کیا، انسان کے اندر نصب شدہ کمپیوٹر اس
کی راہ نمائی کرتا رہا۔ نتیجہ میں روبوٹ ایجاد ہو گئے۔ انسان ایک ہی کام کرتے کرتے
اکتا جاتا ہے جب کہ روبوٹ دن رات ایک ہی کام کو دہرا سکتا ہے۔ روبوٹ انسانوں کے
مقابلہ میں موسمی تغیرات سے کم متاثر ہوتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کی بیشتر فیکٹریوں
میں روبوٹ سے کام لیا جا رہا ہے۔ ویلڈنگ، پینٹنگ، مولڈنگ اور چیزیں اٹھانے اور
رکھنے کا کام کرنے والے صنعتی روبوٹ انسانوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن اگر سوئچ آن
نہ کیا جائے تو یہ حرکت نہیں کرتے۔ ان کی ہر حرکت کو برقی آلات کے ذریعے ایک بورڈ
کنٹرول پینل سے متعین کیا جاتا ہے۔ سوئچ آف کر دیا جائے تو کنٹرول پینل سے
انفارمیشن کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے اور روبوٹ کی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔
یہی صورتِ حال انسان کی بھی ہے۔ انسان کو زندگی اور زندگی کے
تقاضوں کے بارے میں اطلاعات فراہم نہ ہوں تو اس کے اندر کرنٹ کی سپلائی بند ہو
جاتی ہے۔
زراعت، تعمیرات، نیوکلیئر پلانٹ، انتہائی حساس اور خطرناک
شعبوں کے علاوہ خلائی تحقیق میں بھی روبوٹوں سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ اعداد و
شمار کا ریکارڈ مرتب کرنے والے روبوٹ سے شروع ہونے والی ریسرچ اس مقام تک پہنچ چکی
ہے کہ انسانی دماغ میں موجود صلاحیتوں کا حامل روبوٹ بنانے پر کام ہو رہا ہے۔
ارشادِ باری ہے: ”تو میرے حکم سے مٹی کا پتلا پرندہ کی شکل کا
بناتا اور اس میں پھونکتا تھا وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا۔ تو مادر زاد
اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا
تھا۔“ (المائدہ: ۱۱۰)
سینکڑوں ہزاروں سال کی کاوش کے بعد بھی جس مقام پر محققین نہیں
پہنچ سکے، مسلمان قرآن میں تفکر کر کے وہ مقام حاصل کر سکتا ہے۔
حضرت عیسیٰؑ مٹی سے چڑیا بناتے تھے اور پھر اس میں پھونک مار
دیتے تھے اور مٹی سے بنائی ہوئی چڑیا اڑ کر درخت پر جا بیٹھتی تھی۔ مٹی سے بنی
ہوئی چڑیا اور لوہے سے بنے روبوٹ میں کیا فرق ہے؟ یہ فرق ہے کہ روبوٹ میں بجلی
کرنٹ بن رہی ہے اور چڑیا میں حضرت عیسیٰؑ کی پھونک ”جان“ بن رہی ہے۔
”وہ جس کا گزر ایک بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔
اس نے کہا بھلا اللہ اس کو اس کے فنا ہو چکنے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا؟ اللہ نے
اس کو سو سال کی موت دے دی پھر اس کو اٹھایا، پوچھا کتنی مدت اس حال میں رہے؟ بولا
ایک دن یا اس دن کا کچھ حصہ۔ فرمایا تم پورے سو سال اس حال میں رہے، اب تم اپنے
کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو، اس میں سے کوئی چیز سڑی نہیں ہے اور اپنے گدھے
کو دیکھو ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں تاکہ تمہیں اٹھائے جانے پر یقین ہو اور
تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے نشانی بنائیں اور ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ کس طرح ہم ان
کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پس جب یہ حقیقت واضح ہو گئی
تو وہ پکار اٹھا، میں تسلیم کرتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ (البقرہ: ۲۵۹)
عالمِ امر کا مظاہرہ دیکھ کر حضرت عزیرؑ پکار اٹھے: ”تسلیم
کرتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
ایک ساٹھ سال کا آدمی مر گیا۔ دل، گردے، دماغ، آنکھیں سب اعضا
موجود ہیں لیکن کوئی عضو کام نہیں کرتا۔ اس نظام میں سب کی حقیقت ایک جیسی ہے۔
چاہے وہ عالم فاضل ہو یا جاہل ہو، غریب ہو یا امیر ہو۔۔ جب جسم میں پورے اعضا
موجود ہیں تو آدمی حرکت کیوں نہیں کرتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جسم کے اندر سسٹم
فیوز ہو گیا ہے۔ فضا میں بجلی ہے، آکسیجن ہے مگر جسم مردہ ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ
ہے کہ انسان روشنیوں سے چل رہا ہے۔ روشنی، روشنی کو کھا رہی ہے۔ روشنی، روشنی سے
بات کر رہی ہے۔ لوگ ماں باپ اس وقت بنتے ہیں جب ان کے اندر روشنی ہوتی ہے۔ روشنی
ختم ہو جائے تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔
”اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اس نور کی مثال ایسی ہے
جیسے ایک طاق ہے، اس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا
ایک ستارہ ہے موتی کی طرح چمک دار اور روشن ہے، برکت والے پیڑ زیتون سے جس کا نہ
مشرق ہے نہ مغرب ہے، قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے۔ نور
پر نور ہے اور اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ مثالیں بیان
فرماتا ہے لوگوں کے لیے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔“ (النور: ۳۵)
جب انسان قرآن کے بیان کردہ اس فارمولے سے واقف ہو جائے گا تو
اسے بھاری بھرکم لوہے کے بنے ہوئے روبوٹ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اسے سوئچ آن آف
نہیں کرنا پڑے گا، اس کی سوچ روبوٹ کا کام کرے گی، وہ جو چاہے گا اللہ کے حکم سے
ہو جائے گا۔
پروجیکٹر سے لہریں نکلتی ہیں جو محسوس ہوتی ہیں، نظر بھی آتی
ہیں لیکن ان لہروں کو دیکھ کر ہمارے ذہن میں کوئی معنی پیدا نہیں ہوتے۔ سینما میں
بیٹھے ہوئے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پشت کی جانب سے روشنیوں، لہروں یا شعاعوں کی ایک
دھار چلی آ رہی ہے اور یہ لہریں یا شعاعیں پردہ پر جا کر ٹکرا رہی ہیں۔ جب یہ
لہریں یا شعاعیں پردہ پر ٹکراتی ہیں تو وہاں ہمیں مختلف صورتیں، مختلف شکلیں اور
مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔
ہم ان لہروں کو خیال سے تشبیہ دے سکتے ہیں اور لہروں کے ٹکرانے
کے عمل کو علم سے منسوب کر سکتے ہیں۔ پردہ یا اسکرین سے لہروں کے ٹکرانے کے بعد جو
صورتیں اور جو رنگ جلوہ گر ہوتے ہیں انہیں معنی اور مفہوم کہہ سکتے ہیں۔ تجربہ اور
مشاہدہ سے ہمیں یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ خیال جب تک کسی اسکرین پر ٹکرا کر اپنا
مظاہرہ نہ کرے، اس وقت تک کسی علم میں معنی اور مفہوم پیدا نہیں ہوتے۔