Topics
فرشتے کہتے ہیں:
وہ دیکھیے سامنے بستی سے باہر ایک صاحب زور زور سے آواز لگا
رہے ہیں۔” اے لوگو! آؤ میں تمہیں اللہ کی بات سناتا ہوں۔ اے لوگو! آؤ اور سنو ۔
اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔“ کوئی بھی آواز پر کان نہیں دھرتا البتہ فرشتوں کی ایک
ٹولی ادھر آ نکلتی ہے۔ ” ہاں سناؤ! اللہ تعالیٰ کیا
فرماتے ہیں۔“ ناصح فوراً کہتا ہے ” بہت دیر سے پیاسا ہوں ، مجھے پہلے پانی پلاؤ۔“
فرشتے کھولتے ہوئے پانی کا ایک گلاس منہ کو لگا دیتے ہیں۔ ہونٹ جل کر سیاہ ہو جاتے
ہیں اور جب وہ پانی پینے سے انکار کرتا ہے تو فرشتے یہی ابلتا اور کھولتا ہوا پانی
اس کے منہ پر انڈیل دیتے ہیں۔ فرشتے ہنستے ہیں اور بلند آواز سے کہتے ہیں ” مردود
کہتا تھا آؤ اللہ کی بات سناؤں گا۔ دنیا میں بھی اللہ کے نام کو بطور کاروبار
استعمال کرتا تھا۔ یہاں بھی یہی کر رہا ہے۔“ جھلستے اور جلے ہوئے منہ سے ایسی وحشت
ناک آوازیں اور چیخیں نکلتی ہیں کہ انسان کو سننے کی تاب نہیں۔ اس عظیم الشان شہر
میں ایک تنگ اور تاریک گلی ہے۔ گلی کے اختتام پر کھیت اور جنگل ہیں۔ یہاں ایک مکان
بنا ہوا ہے۔ مکان کیا ہے بس چار دیواری ہے اس مکان پر کسی ربر نما چیز کی جالی دار
چھت پڑی ہوئی ہے۔ دھوپ اور بارش سے بچاؤ کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس مکان میں صرف
عورتیں ہیں ، چھت اتنی نیچی ہے کہ آدمی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ ماحول میں گھٹن اور
اضطراب ہے۔ ایک صاحبہ ٹانگیں پھیلائے بیٹھی ہیں۔ عجیب اور بڑی ہی عجیب بات ہے کہ
ٹانگوں سے اوپر کا حصہ معمول کے مطابق ہے اور ٹانگیں دس فٹ لمبی ہیں۔ اس ہیئت
کذائی میں دیکھ کر ان سے پوچھا ۔” محترمہ ، آپ کیسی ہیں؟ آپ
کی ٹانگیں اتنی لمبی کیوں ہیں! انہوں نے بتایا کہ میں
دنیائے فانی میں جب کسی کے گھر جاتی تھی ، ایک گھر کی بات دوسرے گھر جا کر سناتی
تھی اور خوب لگائی بجھائی کرتی تھی۔ اب حال یہ ہے کہ چلنے پھرنے سے معذور ہوں۔
ٹانگوں میں انگارے بھرے ہوئے ہیں۔ ہائے میں جل رہی ہوں اور کوئی نہیں جو مجھ پر
ترس کھائے۔“ کشف القبور کے مراقبہ میں
، میں نے دیکھا کہ چہرہ پر ڈر اور خوف نمایاں ، چھپتے چھپاتے دبے پاؤں یہ شخص ہاتھ
میں چھری لیے جا رہا ہے۔ اف خدایا ، اس نے سامنے کھڑے ہوئے آدمی کی پشت میں چھری
گھونپ دی اور بہتے ہوئے خون کو کتے کی طرح زبان سے چاٹنے لگا۔ تازہ تازہ اور گاڑھا
خون پیتے ہی خون کی قے ہو گئی۔ نحیف اور نزار زندگی سے بیزار کراہتے ہوئے کہا ۔”
کاش عالم فانی میں یہ بات میری سمجھ میں آ جاتی کہ غیبت کا انجام یہ ہوتا ہے۔“ شکل و صورت میں انسان ، ڈیل ڈول کے اعتبار سے دیو۔ قد تقریباً
20 فٹ ، جسم بے انتہا چوڑا ، قد کی لمبائی اور جسم کی چوڑائی کی وجہ سے کسی کمرے
یا کسی گھر میں رہنا نا ممکن۔ بس ایک کام ہے کہ اضطراری حالت میں مکانوں کی چھت پر
ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر گھوم رہے ہیں۔ بیٹھ نہیں سکتے ، لیٹ بھی نہیں
سکتے، ایک جگہ قیام کرنا بھی بس کی بات نہیں ہے۔ اضطراری کیفیت میں اس چھت سے اُس
چھت پر اور اُس چھت سے اس چھت پر مسلسل چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ کبھی روتے ہیں اور
کبھی بے قرار ہو کر اپنا سر پیٹتے ہیں۔ پوچھا : ”حضرت یہ کس عمل کی پاداش ہے؟ آپ اس قدر غمگین اور پریشان کیوں
ہیں؟“
جواب دیا: ”میں نے دنیا میں یتیموں کا حق
غصب کر کے بلڈنگیں بنائی تھیں۔ یہ وہی بلڈنگیں اور عمارتیں ہیں۔ آج ان کے دروازے
میرے اوپر بند ہیں۔ لذیذ اور مرغن کھانوں نے میرے جسم میں ہوا اور آگ بھر دی ہے۔
ہوا نے میرے جسم کو اتنا بڑا کر دیا ہے کہ گھر میں رہنے کا تصور میرے لیے انہونی
بات بن گئی ہے۔ آہ! آہ! یہ آگ مجھے جلا رہی ہے ۔ میں جل رہا ہوں۔ میں بھاگنا چاہتا
ہوں مگر فرار کی تمام راہیں ختم ہو گئی ہیں۔“ میں نے
مراقبہ موت میں دیکھا کہ کھیت کے کنارے ایک کچا کوٹھا بنا ہوا ہے۔ کوٹھے کے باہر
چار دیواری ہے۔ چار دیواری کے اندر صحن ہے۔ صحن میں ایک گھنا درخت ہے۔ غالباً یہ
درخت نیم کا ہے۔ اس درخت کے نیچے بہت سے لوگ جمع ہیں۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ میں
نے دیکھا ایک عورت کھڑی ہے اور ایک صاحب سے الجھ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ تم میرے
خاوند کو نہیں لے جا سکتے۔ وہ صاحب کہتے ہیں کہ میں اس معاملہ میں تمہاری کوئی مدد
نہیں کر سکتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے معاملات ہیں۔ وہ جس طرح چاہتے ہیں اسی طرح
ہوتا ہے۔ عورت نے ”ہائے“ کہہ کر زور سے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر مارے اور زار و
قطار رونے لگی۔ میں آگے بڑھا اور پوچھا۔”کیا بات ہے؟ آپ اس عورت کو کیوں پریشان کر
رہے ہو؟“ ان صاحب نے کہا ۔”مجھے غور سے دیکھو اور پہچانو میں کون ہوں؟“ میں نے مراقبہ کیا تو مراقبہ میں دیکھا کہ یہ حضرت ملک الموت
ہیں۔ میں نے بہت ادب سے سلام کیا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا دیئے۔ حضرت عزرائیل
ؑ نے مصافحہ کیا۔ جس وقت میں نے ان سے ہاتھ ملائے تو محسوس ہوا کہ پورے جسم میں
بجلی کا کرنٹ دوڑ رہا ہے۔ کئی جھٹکے بھی لگے ان جھٹکوں کی وجہ سے میں کئی کئی فٹ
اوپر اچھل گیا۔ آنکھوں میں چنگاریاں نکلتی نظر آئیں۔ میں نے پوچھا : ”اس عورت کے
خاوند کا کیا معاملہ ہے؟“ حضرت عزرائیل ؑ نے کہا: ” یہ صاحب اللہ
تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ یہ عورت ان کی بیوی ہے اور یہ بھی اللہ کی برگزیدہ
بندی ہے۔ دنیا میں ان کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ لیکن مجھے یہ ہدایت ہے کہ اگر ہمارا
بندہ خود آنا چاہے تو روح قبض کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بندہ راضی برضا ہے اور اس
دنیا سے سفر کرنے کے لیے بے قرار ہے لیکن بیگم صاحبہ کا اصرار ہے کہ میں اپنے شوہر
کو نہیں جانے دوں گی تا وقتیکہ ہم دونوں پر ایک ساتھ موت وارد ہو۔“ اس احاطہ میں مٹی اور پھونس کے بنے ہوئے ایک کمرے کے اندر ملک
الموت میرا ہاتھ پکڑ کر لے گیا۔ وہاں ایک خضر صورت بزرگ بھورے رنگ کے کمبل پر لیٹے
ہوئے ہیں۔ یہ کمبل زمین پر بچھا ہوا ہے۔ سرہانے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا ہوا ہے ۔
کہیں کہیں سے سلائی ادھڑی ہوئی ہے اس میں سے کھجور کے پتے دکھائی دے رہے ہیں۔
داڑھی گول اور چھوٹی ہے۔ لمبا قد اور جسم بھرا ہوا ہے، پیشانی کھلتی ہوئی ، آنکھیں
بڑی بڑی اور روشن ہیں۔ پیشانی سے سورج کی طرح شعاعیں نکل رہی ہیں۔ حضرت ملک الموت
نے کمرے میں داخل ہو کر کہا : ”السلام علیکم یا عبداللہ !“ میں نے بھی ملک الموت کی تقلید کی : ” السلام علیکم یا عبد
اللہ کہا“۔ حضرت عبد اللہ (غالباً ان کا نام عبد اللہ ہی ہوگا ) نے ملک الموت سے
پوچھا
:” ہمارے خالق کا کیا حکم
لائے ہو؟“ ملک الموت نے سر جھکا کر
عرض کیا: ” اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد
فرمایا ہے“۔ ملک الموت دو زانو ہو کر ان بزرگ کے پاؤں کی طرف بیٹھ گیا۔ بزرگ خوشی
خوشی عاجزی کے ساتھ لیٹ گئے۔ جسم نے ایک جھر جھری لی اور اس برگزیدہ ہستی کی روح
پرواز کر گئی۔ فرشتہ آسمان میں اڑ گیا۔ اتنا اونچا ، اتنا اونچا کہ نظروں سے اوجھل
ہوگیا۔ تصوف کے مطابق کائنات کی تخلیق کا بنیادی عنصر ”نور“ ہے جیسا کہ قرآن پاک
میں ارشاد ہے کہ : ”اللہ تعالیٰ آسمانوں اور
زمین کا نور ہے۔“ (۲۴ : ۳۵) نور اس خاص
روشنی کو کہتے ہیں جو خود بھی نظر آتی ہے اور دوسری روشنیوں کو بھی دکھاتی ہے۔
روشنی ، لہریں ، رنگ ، ابعاد یہ سب نور کی گوناگوں صفات ہیں۔ نور کی ایک خصوصیت یہ
بھی ہے کہ وہ بیک وقت ماضی اور مستقبل دونوں میں سفر کرتا ہے اور ماضی و حال کا
آپس میں ربط قائم رکھتا ہے۔ اگر یہ ربط قائم نہ رہے تو کائنات کا رشتہ ماضی سے
منقطع ہو جائے گا۔ اس کی ایک مثال حافظہ ہے۔ جب ہم اپنے بچپن یا گزرے ہوئے کسی
لمحے کو یاد کرتے ہیں تو ہمارا ماضی نور کے ذریعہ حال میں وارد ہو جاتا ہے اور
ہمیں بچپن کے واقعات یاد آجاتے ہیں۔ جنات ، ملائکہ اور دوسری مخلوقات کے حواس بھی
نور پر قائم ہیں۔ روحانیت میں نور سے تعارف حاصل کرنے کے لیے مراقبہ نور کرایا
جاتا ہے۔ مراقبہ نور کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ ۱۔ طالب علم تصور کرتا ہے کہ ساری کائنات اور اس کی مخلوقات نور
کے وسیع و عریض سمندر میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ وہ خود کو بھی نور کے سمندر میں ڈوبا ہوا
محسوس کرتا ہے۔ ۲۔ عرش کے اوپر سے نور کا دھارا ساری دنیا
پر برس رہا ہے۔ صاحب مراقبہ خود پر بھی نور برستا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ”اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا ، اس نور کی مثال طاق کی
مانند ہے جس میں چراغ رکھا ہو اور چراغ شیشے کی قندیل میں ہے ۔“ (۲۴ : ۳۵) روحانی طالب
علم اس آیت میں دی گئی مثال کے مطابق تصور کرتا ہے کہ چراغ کی نورانی شعاعوں سے اس
کا پورا جسم منور ہو رہا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم یا اسمائے الٰہیہ کے انوار و
تجلیات کا مراقبہ کیا جاتا ہے۔ کوئی آیت یا اسم ، اسمائے الٰہیہ کا ورد کر کے اس
کے معنی اور مفہوم کو دل میں اچھی طرح جاگزیں کر کے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس کے
اندر اللہ کی کون سی صفت یا صفات موجود ہیں۔ مراقبہ کرتے کرتے ، سالک کے اندر ایسا
استغراق پیدا ہو جاتا ہے کہ ہر شے میں اسے نور اور روشنی نظر آتی ہے ، وہ دیکھتا
ہے کہ ہر شے نور اور روشنی کے غلاف میں بند ہے۔ صوفی جب قرآن پاک کی آیت کے مطابق
مراقبہ میں یہ تصور کرتا ہے کہ : ”اللہ تمہارے ساتھ ہے تم
کہیں بھی ہو۔“ (۵۷ : ۴) تو یہ تصور اس قدر پختہ
اور گہرا ہو جاتا ہے کہ کھڑے ہوئے ، بیٹھے ہوئے ، تنہائی میں ، لوگوں کے ساتھ
ملاقات میں ، مصروفیت میں ، فراغت میں ، بندہ کا ذہن اللہ کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔
حضرت جنید بغدادی ؒ فرماتے ہیں: ”مراقبہ کے ذریعہ علمِ تصوف
کا حصول یہ ہے کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور یہ دیکھنا مشاہدہ قلب ہے ۔“ مذاہب عالم نے کسی نہ کسی طرح ایک نظر نہ آنے والی روشنی کا
تذکرہ کیا ہے۔ ایسی روشنی جو ساری روشنیوں کی اصل ہے اور تمام موجودات میں موجود
ہے۔ انجیل میں ہے : ” خدا نے کہا روشنی اور
روشنی ہوگئی۔“ حضرت موسیٰؑ نے وادی سینا
میں سب سے پہلے جھاڑی میں روشنی کا مشاہدہ کیا اور اسی روشنی کی معرفت اللہ کے
کلام سے مشرف ہوئے۔ ہندو مت میں اسی روشنی کا نام ”جوت“ ہے۔