Topics

ہر مخلوق دوسری مخلوق کی رشتہ دار ہے۔اکتوبر۔۲۰۱۳

 

سورۃ فاتحہ (قرآن کی پہلی سورت) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف بیان کی ہے۔ الحمد للہ رب العالمینسب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عالمین کا رب ہے، بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے، بلند سے بلند تر، اوّل سے آخر، آخر سے اوّل، ظاہر و باطن، ماضی و حال، حال و مستقبل، رات اور دن، سماوات اور زمین میں جو کچھ ہے ان سب سے زیادہ اللہ کی تعریف ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا۔ پیدا کرنے سے پہلے زندگی کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے اور کائناتی نظام کو اس طرح ترتیب دیا کہ کائنات کا ہر فرد اور ہر ذرہ ایک دوسرے کے کام آ رہا ہے۔

سب تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں جس نے سورج بنایا، سورج کو اتنا مُطیع، فرمانبردار اور ایثار کرنے والا بنایا کہ وہ نہیں دیکھتا کہ میری دھوپ سے کون فائدہ اُٹھاتا ہے۔ دھوپ تپتے میدان پر پڑتی ہے۔ دھوپ بلند و بالا برف پوش پہاڑیوں کو حرارت بخشتی ہے۔ دھوپ محلات کے کمروں اور پھونس کی جھونپڑیوں کو بھی روشن کرتی ہے۔ دھوپ کھیتوں پر بھی پھیلتی ہے اور دھوپ کیچڑ میں رہنے والے کیڑے مکوڑوں کو بھی زندگی عطا کرتی ہے۔

اللہ نے چاند بنایا۔ چاند کی روپہلی کرنیں مرغزاروں کو حسن عطا کرتی ہیں۔ پھلوں کو مٹھاس منتقل کرتی ہیں۔ پانی میں ہلچل پیدا کرتی ہیں۔ چاند کی منور کرنیں جب سمندر کے سینے کو چیر کر اس کے دل میں اتر جاتی ہیں تو سمندر میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ پرسکون پانی میں اضطرابی کیفیت بھونچال کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور سکون آمیز لہریں بیس تیس فٹ اوپر اچھلتی ہیں۔

آسمان کو اللہ نے ستاروں سے سجایا۔ گھپ اندھیرے میں ستارے مسافروں کو راستہ دکھاتے ہیں اور پیدل چلنے والے قافلوں، اونٹوں یا کشتیوں میں بیٹھے ہوئے مسافر ستاروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

زمین جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا سخت نہیں بنایا کہ لوگ ٹھوکریں کھا کر گرنے لگیں اور اتنا نرم نہیں بنایا کہ زمین کے باسی دلدل میں دھنس جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا۔

زمین میں موجود تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار مخلوقات کی زندگی کا دارومدار پانی پر ہے۔ پانی اللہ تعالیٰ کے حکم سے خدمت گزاری میں مصروف ہے۔ وہ نہیں سوچتا، نہیں دیکھتا کہ کون سرکش ہے، کون ظالم ہے، کون گنہگار ہے یا کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اس کی تعریف بیان کرتا ہے۔ سب کی زندگی بن رہا ہے۔

الحمد للہ رب العالمینسب تعریفیں اِس وحدہ لاشریک اللہ کے لیے مخصوص ہیں جو عالمین کو پیدا کر کے وسائل عطا کرتا ہے۔ جو رحمٰن اور رحیم ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ بے حد رحمٰن اور نہایت رحم والا ہے۔

اللہ کے صفاتی نام تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار ہیں اور ہر نام اللہ کی ایک صفت ہے۔ سب ناموں پر اللہ تعالیٰ کا اسم رحیممحیط ہے۔ نوعوں کی تعداد بھی گیارہ ہزار پانچ سو بتائی جاتی ہے۔

ہر مخلوق کا ہر فرد جس طرح زمین کو دیکھتا ہے اس طرح آسمان کو بھی دیکھتا ہے۔ زمین پر دیکھتا ہے تو اسے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ زمین کے اندر دیکھتا ہے تو معدنیات کا سراغ ملتا ہے۔ ذہن پانی میں اتر جاتا ہے تو پانی کی مخلوق کا ادراک ہوتا ہے۔ کوئی صاحبِ فہم انسان پانی کی مخلوق کے بارے میں تفکر کرتا ہے تو اس کے اوپر عجائبات کی دنیا کھل جاتی ہے۔ چھوٹی مچھلی (ایک انچ سے بھی کم) اور بڑی وہیل مچھلی، گھونگھے، مرجان، سیپ کے پیٹ میں موتی، سی فوڈ (Sea Food) وغیرہ سمندر کی مخلوق ہیں۔

جب انسان کی نظر زمین کے گرد و نواح سے نکل کر آسمان کو دیکھتی ہے۔ آسمان میں دس ہزار ستاروں پر پڑتی ہے تو انسان چمکتے، دمکتے، روشن اور مزید روشن ستاروں کو دیکھتا ہے۔ ستارے نہیں روکتے کہ مجھے نہ دیکھ، چاند بھی منع نہیں کرتا کہ مجھے نہ دیکھو۔ روحانی علوم (تصوف کی دنیا) میں اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ کائنات میں ہر مخلوق دوسری مخلوق سے مخفی رشتہ میں بندھی ہوئی ہے۔ اگر مخلوقات کے درمیان چاہے وہ مخلوق زمینی ہو، چاہے وہ مخلوق پانی کی ہو، چاہے وہ مخلوق ہوا ہو۔ چاہے وہ مخلوق آسمانوں کی دنیا کی مخلوق ہو۔ اگر مخفی رشتہ میں جڑی ہوئی نہ ہوتی تو ہر آسمانی نظارہ دیکھنے میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ ضرور پیدا کرتی۔

یہی مخفی رشتہ کائنات کے چھوٹے سے چھوٹے ذرہ اور بڑے سے بڑے کرہ کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کیے ہوئے ہے۔

اس علم سے صوفی کے اوپر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ تمام کائنات ایک ہی ہستی کی ملکیت ہے۔ اگر کائنات کے مختلف اجسام، زمین، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، جنات، مختلف ہستیوں کی ملکیت ہوتے تو یقیناً ایک دوسرے کی روشناسی میں تصادم ہو سکتا تھا۔ ایک ہستی کی ملکیت دوسری ہستی کی ملکیت سے متعارف ہونا پسند نہ کرتی۔

آسمانی کتابوں اور قرآنِ کریم نے ایسی مالک ہستی کا تعارف اللہ کے نام سے کروایا ہے۔

الحمد للہ رب العالمینسب تعریفیں کائنات کی مالک ایک ہستی کے لیے مخصوص ہیں، اس ہستی کا نام اللہ ہے۔ اللہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ مخلوق کو پیدا کرتا ہے اور بحیثیتِ رب کے مخلوقات کی ضروریات پوری کرتا ہے۔

اللہ اسمِ ذات ہے۔ اسمِ ذات مالکانہ حقوق رکھنے والی ہستی ہے۔ یعنی اللہ مالک ہے اور قادرِ مطلق بھی ہے۔ اللہ اپنی ملکیت میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے۔ جس طرح چاہے تخلیقی نظام میں تبدیلی کر سکتا ہے اور جس طرح چاہے کائناتی نظام کو چلانے میں فرشتوں اور انسان کی (جو ”فی الارض خلیفہ“ ہے) ڈیوٹی لگا سکتا ہے۔ مخلوق کا کوئی فرد از خود اس کے نظام میں دخل نہیں دے سکتا۔

الحمد للہ رب العالمین، الرحمٰن الرحیمان دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ کی دونوں صفات ملکیت اور رحمت و قدرت کا تذکرہ ہے۔ اسمِ ذات ”اللہ“ مالکانہ حقوق کا حامل ہے اور ”رحمٰن و رحیم“ قادرانہ حقوق کا مالک ہے۔ قادرانہ صفت کو تصوف کی زبان میں رحمت کہتے ہیں۔ اللہ کے ساڑھے گیارہ ہزار اسماء میں سے رحیمانہ اور قادرانہ اوصاف ہر اسم میں موجود ہیں۔ یہی اوصاف مخلوقات کے درمیان مخفی رشتہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سورج کی روشنی اہلِ زمین کی خدمت گزاری سے اس لیے انکار نہیں کر سکتی کہ اہلِ زمین اور سورج ایک ہی ہستی کی ملکیت ہیں۔ وہ ہستی مالکانہ حقوق میں حاکمانہ قدروں کی مالک ہے اور اس کی رحمت و قدرت کسی وقت بھی اس بات کو گوارہ نہیں کرتی کہ اس کی ملکیتیں ایک دوسرے کے وقوف اور خدمت گزاری سے منکر ہو جائیں۔

روحانی استاد اپنے شاگرد، سالک کو یہ راز منتقل کرتا ہے کہ موجودات کی زندگی اور زندگی کے تمام اجزاء کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان اجزاء کو حرکت میں لانا چاہا تو ”کُن“ فرما دیا۔ اس علم سے یہ منکشف ہوا کہ کائنات میں ہر فرد بشمول انسان، ایک حرکت ہے اور یہ حرکت اللہ تعالیٰ کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ اس حرکت کے ہزاروں اجزاء ہیں اور ان اجزاء میں سے ہر چیز ایک حرکت ہے، گویا انسان کی ذات لاشمار حرکتوں کا مجموعہ ہے۔ بالکل اسی طرح ہر مخلوق ایک حرکت ہے اور ہر حرکت کے ہزاروں اجزاء ہیں اور ان اجزاء میں سے ہر چیز ایک حرکت ہے۔ ہر حرکت دوسری حرکت کے ساتھ ملحق ہے۔

ہر حرکت اللہ سے شروع ہوتی ہے اور اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ چونکہ ہر مخلوق حرکت کی بیلٹ پر متحرک ہے، اس لیے ہر مخلوق کا دوسری مخلوق سے رشتہ قائم ہے۔

قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ہم نے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب کا سب تمہارے تابع کر دیا ہے یعنی انہیں تمہاری خدمت گزاری میں مصروف کر دیا ہے۔“ (۴۵:۱۳)

سورج بھی خدمت میں مصروف ہے، چاند بھی خدمت میں مصروف ہے، زمین بھی خدمت میں مصروف ہے، نباتات اور جمادات بھی خدمت میں مصروف ہیں اور انسان بھی مخلوقات کی خدمت میں مصروف ہے۔ یہ ایسی خدمت ہے، خدمت گزار کو جس کا علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فضیلت بخشی ہے کہ انسان یہ علم سیکھ لیتا ہے۔

ایک مرید نے مرشد سے پوچھا: اللہ سے دوستی کس طرح کی جائے؟ مرشد نے مرید سے پوچھا: تم کسی سے دوستی کرنا چاہو تو کیا کرو گے؟ مرید نے عرض کیا: اس کے ساتھ حسنِ اخلاق کا برتاؤ کریں گے، اس کی خاطر مدارات کریں گے، اس کا خیال رکھیں گے۔ مرشد نے کہا: اگر یہ باتیں نہیں کرو گے یا تمہیں اس کے مواقع نہیں ملیں گے، پھر کیا ہوگا؟ مرید نے عرض کیا: ہو سکتا ہے کہ دوستی ختم ہو جائے۔ مرشد نے فرمایا: دوستی اس وقت پختہ ہوتی ہے جب آدمی دوست کی صفات کو قبول کر لے۔ اگر تم نمازی کے پکے دوست بننا چاہتے ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دو۔ جوا کھیلنے والے کا دوست جواری ہوتا ہے اور نشہ کرنے والے کا دوست اگر اس کے ساتھ نشہ نہیں کرتا تو آپس میں دوستی نہیں ہوتی۔

مرشد نے مرید سے سوال کیا کہ: اللہ تعالیٰ کیا کرتے ہیں؟ مرید نے اپنی ذہنی استطاعت کے مطابق اِدھر اُدھر کی بہت ساری باتیں کیں۔ مرشد نے قطعِ کلام کر کے فرمایا کہ: مختصر بات یہ ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔ اللہ سے اگر دوستی کرنی ہے تو مخلوق کی خدمت کرو۔

مرشد نے مزید تشریح فرمائی: کیا تم نے بکری دیکھی ہے؟ مرید نے عرض کیا: جی ہاں! دیکھی ہے۔ پوچھا: بکری کیا کرتی ہے؟ مرید نے عرض کیا: بکری دودھ دیتی ہے۔ لوگ اس کا گوشت کھاتے ہیں۔ اس کی کھال انسانوں کے کام آتی ہے۔ مرشد نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہوا کہ بکری انسان کی خدمت میں مصروف ہے۔

مرشد نے پھر پوچھا: زمین کی کیا ڈیوٹی ہے؟ مرید نے عرض کیا: زمین پر کھیتیاں لہلہاتی ہیں۔ زمین درخت اگاتی ہے۔ درختوں پر پھل لگتے ہیں۔ زمین انسان کو خوش کرنے کے لیے پھولوں میں رنگ آمیزی کرتی ہے۔ مرشد نے سوال کیا: بکری اور زمین کا کیا رشتہ ہے؟ مرید نے عرض کیا: بکری زمین پر گھاس چرتی ہے، درختوں کے پتے کھاتی ہے۔ مرشد نے پوچھا: آپ ماں کو جانتے ہیں؟ مرید نے عرض کیا: جی ہاں! مرشد نے ارشاد فرمایا: ماں کیا کرتی ہے؟ مرید نے اپنی عقل و شعور کے مطابق عرض کیا: ماں نہلاتی، ہاتھ منہ دھلاتی ہے، دودھ پلاتی ہے، کھانا کھلاتی ہے، بچے کے دکھ درد میں اپنے دکھ درد بھول جاتی ہے۔ مرشد نے پھر سوال کیا: بچہ کیا ہے؟ مرید نے عرض کیا ہے: بچہ ماں کا بیٹا یا بیٹی ہے۔ فرمایا: ماں اور بچہ الگ الگ نہیں ہیں۔ ماں ۹ مہینے تک بچہ کے اندر اپنا خون انڈیلتی ہے اور دنیا میں ظاہر ہونے کے بعد اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دودھ کی شکل میں بچہ کو پلاتی ہے۔ خود گیلے میں سوتی ہے۔ بچہ کو خشک جگہ سلاتی ہے، اپنے بچہ کو صاف ستھرا رکھتی ہے اور اس کا پورا پورا انتظام کرتی ہے۔ بچہ سوتا ہے ماں جاگتی ہے، بچہ روتا ہے ماں سینے سے لگا کر جس طرح بھی بن پڑے اس کا رونا نیند میں یا ہنسی میں تبدیل کر دیتی ہے، ماں بچے کو حیوان سے انسان بناتی ہے، ماں کی تربیت آدمی کو انسانیت کا وہ روپ عطا کر دیتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین صناعی اور تخلیق فرمایا ہے۔ ماں اللہ کے برگزیدہ بندے اور پیغمبروں کی ماں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔

مرشد نے ارشاد فرمایا کہ: کائناتی سسٹم یہ ہے کہ ہر شے دوسرے کی خدمت کرنے میں مصروف ہے، جب غیر اشرف مخلوق اللہ کی مخلوق کی خدمت کر رہی ہے تو انسان کا بھی فرض ہے کہ مخلوقات کی خدمت کرے۔ جب سالک اس رمز کو سمجھ لیتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے تو اسے اپنے باپ آدمؑ کا ورثہ منتقل ہو جاتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام پہلے صوفی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے باطنی علوم سکھائے ہیں۔ باطنی علوم کا دوسرا نام تصوف ہے اور یہی علم حضرت آدم علیہ السلام کا ورثہ ہے، آدمؑ سب کے باپ ہیں۔ باپ اولاد کی خدمت کرتا ہے، اولاد کو پالتا پوستا ہے۔ آدمؑ کا ہر بیٹا بھی آدمؑ کی اولاد کا باپ ہے۔ باپ کا یہ فرض ہے کہ اولاد کی خدمت کرے۔ آدم زاد کو بلاتخصیص مخلوق کی خدمت اس لیے کرنی چاہیے کہ دوسری مخلوقات بھی آدم کی خدمت میں مصروف ہیں۔

Topics