Topics

کائنات کا سفر۔مئی ۔۲۰۱۶

 

کائنات تین دائروں میں سفر کر رہی ہے۔

پہلا دائرہ روح ہے۔

دوسرا دائرہ روح کا بنایا ہوا لباس (نسمہ) ہے۔

تیسرا دائرہ نسمہ کا بنایا ہوا لباس مادی وجود ہے۔

تینوں دائرے بیک وقت حرکت کرتے ہیں۔ روح کے بنائے ہوئے لباس کے بھی دو رخ ہوتے ہیں۔ ایک مفرد لہروں سے دوسرا مرکب لہروں سے بنا ہوا ہے۔ مفرد اور مرکب دونوں رخ الگ الگ ہیں اور ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔

بیداری کی زندگی شعور ہے، خواب کی زندگی لاشعور ہے۔ شعوری زندگی میں ذہن اور حافظہ دونوں کام کرتے ہیں اسی طرح لاشعوری زندگی میں بھی ذہن اور حافظہ دونوں کام کرتے ہیں۔ زندگی کے تقاضے شعوری ہوں یا لاشعوری، زندگی کے تابع ہیں۔ شعور ہر ہر قدم پر محدود اور محتاج ہے، لاشعوری زندگی شعوری زندگی کے مقابلہ میں آزاد ہے۔

زبور، توریت، انجیل اور آخری آسمانی کتاب قرآن کریم شعور اور لاشعور کے الٹ پلٹ کو لیل و نہار کہتی ہیں۔

پیدائش کے بعد پہلے روز بچے پر لاشعور کا غلبہ ہوتا ہے شعوری ورق کے صفحہ پر کوئی تحریر نظر نہیں آتی۔ جیسے جیسے بچہ ماحول میں وقت گزارتا ہے اسی مناسبت سے شعور کے کورے صفحہ پر والدین، خاندان اور ماحول کے نقوش مرتب ہوتے ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں وہ صفحہ جسے ہم شعور کہہ رہے ہیں اتنا زیادہ روشن ہو جاتا ہے کہ لاشعوری صفحہ دھندلا پڑ جاتا ہے لیکن نقوش ختم نہیں ہوتے۔ اگر شعور کا صفحہ اتنا زیادہ روشن ہو جائے کہ لاشعوری صفحہ کی تحریر نہ پڑھی جا سکے تو مفروضہ حواس کا غلبہ ہو جاتا ہے اور لاشعوری صفحہ کی تحریر سے اس کی نظر ہٹ جاتی ہے اور بالغ ہونے کے بعد وہ لاشعور سے بے خبر ہو جاتا ہے۔

بے خبر ہونے کا مطلب لاشعوری تحریر کا مٹ جانا نہیں ہے۔ لاشعوری تحریر اگر ختم ہو جائے گی تو زندگی کا تسلسل ٹوٹ جائے گا۔ قدرت نے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے شعوری اور لاشعوری حواس کو نصف نصف تقسیم کر دیا ہے۔ آدمی جب رات میں داخل ہوتا ہے تو دراصل لاشعور میں داخل ہوتا ہے، آدمی جب دن میں داخل ہوتا ہے تو دراصل وہ شعور میں قدم رکھتا ہے۔

پیدائش سے لے کر مرنے تک کی کل عمر میں انسان آدھی زندگی لاشعور اور آدھی زندگی شعور میں گزارتا ہے۔

زندگی میں لاشعور اور شعور دونوں الٹ پلٹ ہوتے رہتے ہیں، شعور کی رفتار نہایت محدود اور کم ہے، لاشعور کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ تخلیقی فارمولوں سے باخبر صوفی حضرات و خواتین کہتے ہیں کہ آدمی ٹائم اسپیس سے کہیں بھی آزاد نہیں ہوتا۔ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ شعور کی رفتار اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ محدودیت ٹوٹنے کا احساس نمایاں ہو جائے۔

لاشعور میں انسانی حواس کی رفتار تقریباً ساٹھ ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے، رفتار زیادہ ہونے کو ٹائم اسپیس سے آزادی کہا جاتا ہے۔ ایک آدمی پیدل چلتا ہے، دوسرا سائیکل پر سوار ہے، تیسرا کار میں ہے، چوتھا آدمی جہاز میں پرواز کر رہا ہے۔۔ ہر اسٹیج پر رفتار تبدیل ہو جاتی ہے۔

دن کے حواس سے نکل کر انسان جب رات کے حواس میں داخل ہوتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ آدمی زمان و مکان سے آزاد ہو گیا ہے حالاں کہ آزاد نہیں ہوتا۔ ہر حرکت میں لاشعور اور شعور دونوں کام کر رہے ہیں۔ شعور کے غلبہ کو پابندی اور لاشعور کے غلبہ کو آزادی کہا جاتا ہے۔

اے گروہ جنات اور گروہ انسان! تم آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل کر دکھاؤ تم نہیں نکل سکتے، مگر سلطان سے۔“ (الرحمٰن : ۳۳)

سلطان کا مطلب لاشعور پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔

کوئی انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو کہیں سے آتا ہے، جہاں سے آتا ہے اسے ماضی کہتے ہیں۔ زمین پر آنے کے بعد بچپن گزرتا ہے تو بچپن ماضی میں چلا جاتا ہے اور آدمی جوان ہو جاتا ہے اور پھر بڑھاپا آتا ہے تو جوانی ماضی میں چلی جاتی ہے۔ آدمی مر جاتا ہے تو ساری زندگی ماضی میں ریکارڈ ہو جاتی ہے۔

فلسفۂ وحدت الوجود کے بارے میں علما اور مشائخ نے کثرت سے ذکر کیا ہے۔ بڑی بڑی تحریریں قلم بند کی ہیں۔ اس نظریہ پر متعدد تبصرے بھی ہوئے ہیں۔ تصوف کے کئی خانوادے وحدت الوجود کے حامی رہے ہیں۔ خصوصاً حضرت محی الدین ابنِ عربی ؒ نے اس نظریہ کی ترجمانی کر کے سارے عالمِ اسلام کو متاثر کیا۔ آپ کے شاگردوں نے اس فلسفہ کی ترجمانی میں کئی گراں قدر کتابیں لکھی ہیں۔ شیخ اکبر ابنِ عربیؒ نے وحدت الوجود (ہمہ اوست) کا نظریہ پیش کیا تھا مگر اکبری دور کے گمراہ خواتین و حضرات نے حلول اور اتحاد کی ہزاروں گمراہیاں اس میں شامل کر دیں۔

حضرت مجدد الف ثانی ؒ نے ان گمراہ کن نظریات کے خلاف جنگ کی۔ آپ نے فرمایا:

یہ لوگ وحدت الوجود اور ہمہ اوست کے نظریہ کی غلط تعبیریں کر رہے ہیں۔ آپ نے ان گمراہوں کو روکنے کے لئے وحدت الشہود کی دیوار کھڑی کر دی۔

وحدت الوجود کیا ہے؟ ہم اس کے بارے میں نظریۂ رنگ و نور کی روشنی میں عرض کرتے ہیں کہ وحدت الوجود کو سمجھنے کے لئے ہمارے سامنے آئینے کی مثال ہے۔

آدمی آئینہ دیکھتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں آئینہ دیکھ رہا ہوں وہ آئینہ نہیں دیکھ رہا بلکہ آئینے کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے۔ جب ہم آئینہ دیکھنے کے عمل پر تفکر کرتے ہیں اور ہمارے شعور میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے تو بات منکشف ہوتی ہے کہ ہم اپنا عکس آئینے کے اندر دیکھ رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ ہم آئینہ دیکھ رہے ہیں عام سطح کی بات ہے۔

یہی صورتِ حال زندگی کے تمام شعبوں کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آنکھوں سے باہر دیکھ رہے ہیں۔ صاحبِ بصیرت بندہ کہتا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں باہر نہیں دیکھ رہے بلکہ ہمارے دماغ پر باہر کا عکس منتقل ہو رہا ہے۔ ہم اس عکس کو دیکھ رہے ہیں۔ اگر کوئی بندہ دیکھنے کی حقیقی طرز سے واقف نہیں ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں باہر دیکھ رہا ہوں۔ لیکن جو بندہ دیکھنے کی صحیح طرز سے واقف ہے تو وہ اس امر سے واقف ہے کہ ہر شخص باہر نہیں دیکھ رہا اندر دیکھ رہا ہے۔

جب نگاہ بالواسطہ دیکھتی ہے تو خود کو مکانیت اور زمانیت کے اندر مقید محسوس کرتی ہے اور جیسے جیسے اسی مناسبت سے کثرت در کثرت درجے تخلیق ہوتے چلے جاتے ہیں۔

مکانیت زمانیت کے اندر شہود اس لئے محدود ہے کہ حرکات و سکنات کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر شے دو رخوں پر تخلیق کی گئی ہے یعنی ہر تنزل کے دو رخ ہیں۔

یومِ ازل میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے اور آواز سننے کے بعد انسان دوسرے تنزل میں داخل ہو گیا اور اس دوسرے تنزل میں اس نے نگاہ، شکل و صورت، گفتار، سماعت، رنگینی، احساس، کشش اور لمس سے وقوف حاصل کیا۔

تنزلِ اول یعنی اللہ کو دیکھنا وحدت کا ایک درجہ ہے اور دوسرا تنزل کثرت کے پانچ درجے ہیں۔ اس طرح چھ تنزلات ہوئے۔ پہلے تنزل کو لطیفۂ وحدت اور دوسرے تنزلات کو صوفیا کی اصطلاح میں لطائفِ کثرت کہا جاتا ہے۔

نظریۂ رنگ و نور کے مطابق جس عالم کو محض وحدت کا نام دیا جاتا ہے انسانی ذہن کی اپنی اختراع ہے۔ انسان اپنی محدود فہم کے مطابق یا محدود فکری صلاحیت کے مطابق جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی اپنی محدود سوچ ہے۔

یہ کہنا کہ عالمِ وحدت، وحدتِ باری تعالیٰ ہے ہرگز صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ اللہ کی وحدت یا اللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو انسانی شعور بیان کرنے سے قاصر ہے۔

جب ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان کرتے ہیں تو دراصل اپنی ہی فکری صلاحیتوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی لفظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی صفات کا مکمل احاطہ ہو سکے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں جس لامحدودیت کا اظہار کرتا ہے دراصل وہ اپنی محدودیت کا تذکرہ کرتا ہے یعنی انسان کی محدود فکر کے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات جس حد تک سما جاتی ہیں اس نے اس کو لامحدودیت کا نام دے دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم اللہ کی وحدت کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہم کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو ہم نے اس حد تک سمجھا ہے۔

انسان جس مقام کے تعین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا سمجھنے کے لئے کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اسی مناسبت سے وہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کر دیتا ہے۔ چوں کہ انسان کی لامحدود نگاہ بھی محدود ہے اس لئے آگے اور آگے اسے کچھ نظر نہیں آتا۔ انسان نے سمجھ میں نہ آنے والے عالم کا نام وحدت الوجود یا وحدت الشہود رکھ دیا ہے۔

آخری نبی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

ماعرفناک حق معرفتک

ترجمہ : ”ہم آپ کو نہیں پہچان سکے جیسا کہ آپ کو پہچاننے کا حق ہے۔

یہ ارشاد ہماری راہنمائی کرتا ہے کہ کوئی شخص پوری طرح اللہ کا عرفان حاصل نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ جس بندہ کو تجلیات و صفات کا جتنا مشاہدہ کرا دیتے ہیں وہی اس کے لئے عرفانِ الٰہی ہے۔

ابدالِ حق قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں:

جب مجھے عالمِ بالا کی سیر کے مواقع نصیب ہوئے تو میں نے سوچا کہ اولیا اللہ کی ارواح سے ملاقات کر کے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ کتنے صوفی یا ولی ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کو ایک حالت میں یا ایک صفت میں دیکھا ہے۔ میں نے ایک لاکھ سال کے اولیا اللہ کا انتخاب کیا اور ان سے اللہ کے دیدار کے بارے میں سوال کیا۔ کسی ایک نے بھی نہیں بتایا کہ انہوں نے اللہ کو ایک روپ میں دیکھا ہے۔ ہر صوفی نے اللہ کو الگ روپ اور الگ تجلی میں مشاہدہ کیا ہے۔


 

Topics