Topics

مسلمان سائنسدان۔اکتوبر۔۲۰۱۵

 

۱۴۲۴ سال پہلے زمین پر جہالت کی سیاہ چادر پھیلی ہوئی تھی، ہر طرف فساد برپا تھا۔ جہالت اور بربریت کی اس سے زیادہ بری مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ والدین اولاد کو قتل کر دیا کرتے تھے۔ بے حیائی اور فحاشی عام تھی۔ زمین جب فساد اور خون خرابے سے بھر گئی اور اشرف المخلوقات نے انسانی حدود کو پھلانگ کر حیوانیت کو اپنا لیا اور اللہ کے عطا کردہ انعام ”فی الارض خلیفہ“ کے منصب کو یکسر بھول گیا تو اللہ نے زمین کو دوبارہ پرسکون بنانے کے لئے اپنے محبوب بندے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اس برگزیدہ مقدس اور مطہر بندے نے عجیب و غریب، حیرت انگیز، محدود و لا محدود رنگ رنگ اللہ کی نشانیوں کو اس طرح کھول کھول کر بیان کیا کہ ابتدائی دور میں زمین و آسمان کی حقیقت عربوں پر عیاں ہوگئی۔

قرآن نے بتایا:

بے شک زمین و آسمان کی پیدائش، رات اور دن کے بار بار ظاہر ہونے اور چھپنے میں ان عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں جو لوگ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ! تو نے یہ سب فضول اور بے مقصد نہیں بنایا اور ہمیں دوزخ کی آگ سے محفوظ کر دے۔
(۳ : ۱۹۰۔۱۹۱)

کیا ان لوگوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو آراستہ کیا اور اس میں کسی قسم کا سقم نہیں ہے اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں سے ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو دانا اور بینا ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔
(۵۰ : ۶۔۷)

جب مسلمان علم کی تلاش میں صف بستہ ہو گئے تو انہوں نے علم کا کوئی شعبہ نہیں چھوڑا جو ان کی تحقیقات سے تشنہ رہا ہو۔ ان کی تحقیقات پوری امت مسلمہ کے لئے سبق آموز ہیں اور عبرت انگیز بھی۔ مغربی ممالک کی لائبریریاں آج بھی مسلمان اسلاف کی کتابوں سے بھری پری ہیں۔ یہ وہ دانشور مسلمان ہیں جنہوں نے تحقیقات کر کے علوم کی شمعیں روشن کیں۔ مسلمانوں نے دنیا میں اس وقت روشنی پھیلائی جب چہار سو تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ ان مفکرین، محققین میں علومِ باطن کے ماہرین متصوفین بھی تھے اور سائنسدان بھی تھے۔ آج مسلمان تہی دست ہے، اس لئے کہ من حیث القوم ہمارے اندر سے تفکر، ریسرچ اور اللہ کی نشانیوں میں سوچ بچار کا ذوق ختم ہو گیا ہے۔

عبدالمالک اصمعی نے علمِ ریاضی، علمِ حیوانات، علمِ نباتات اور انسان کی پیدائش اور ارتقا پر تحقیق کی۔ عبدالمالک اصمعی سائنس کا پہلا بانی ہے۔ اس سے پہلے سائنس کے علم کا وجود تاریخ کے صفحات پر موجود نہیں ہے۔

جابر بن حیان کی کتابوں کے تراجم پندرھویں صدی عیسوی تک یورپ کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ اس سائنس دان نے کپڑے کو واٹر پروف، لوہے کو زنگ لگنے سے محفوظ رکھنے اور شیشے کو رنگین کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔

محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے صفر کا اضافہ کر کے ہندسوں کی قدر کو بڑھایا۔ اس نے کرۂ ارض کے نقشے بنائے اور جغرافیہ میں تحقیقات کیں۔

علی ابن سہل ربان الطبری نے فردوس الحکمت کے نام سے میڈیسن پر ایک مکمل کتاب لکھی۔

یعقوب بن اسحاق الکندی علمِ فلکیات، کیمسٹری، موسیقی اور طبیعیات میں ماہر تھا۔

ابوالقاسم عباس بن فرناس ہوا میں اڑنے کے تجربے کرتا رہا۔ اس کی کوششیں ہوائی جہاز بننے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ دھوپ گھڑی بھی اس کی ایجاد ہے۔

ثابت ابن قرہ نے لیور اور گیئر ایجاد کئے۔ لیور اور گیئر نہ ہوتے تو آج ہم بڑی بڑی مشینوں کے ذریعہ نئی نئی ایجادات نہیں کر سکتے تھے۔

ابو بکر محمد بن زکریا الرازی کو سرجری میں مہارت حاصل تھی۔ آپریشن کے بعد جلد کو سینے کا طریقہ بھی اس کی ایجاد ہے۔

ابوالنصر الفارابی نے موسیقی کا ایک آلہ ایجاد کیا تھا جس کی آواز سننے والا کبھی سو جاتا تھا، کبھی روتا تھا اور کبھی ہنستا تھا۔

ابو الحسن المسعودی سب سے پہلا شخص ہے جس نے بتایا کہ زمین کی جگہ سمندر تھا اور سمندر کی جگہ زمین۔ یہ بات اس نے اس وقت بتائی تھی جب پیمائش کے لئے کوئی آلہ موجود نہیں تھا۔

ابنِ سینا میڈیکل سائنس کا ماہر تھا۔ اس نے علم الابدان کا نقشہ بنایا اور اس کے الگ الگ حصے کر کے اس کی تصویریں بنائیں۔

موجودہ میڈیکل سائنس میں ANATOMY اسی کی تحریر کردہ کتاب کا ترجمہ ہے۔ ابن سینا نے جسمانی حرارت ناپنے کا آلہ ایجاد کیا جو تھرما میٹر کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ علیٰ ہذا القیاس بیان کردہ سائنس دانوں کے علاوہ انیس یا بیس سائنس دان اور ہیں جنہوں نے تحقیق و تلاش کے بعد سائنسی علوم کی بنیاد رکھی۔

شاہ عبدالعزیزؒ کے والد بزرگوار شاہ ولی اللہؒ نے پہلی مرتبہ قرآن کا فارسی ترجمہ کیا۔ انہوں نے غیب کے اوپر سے پردہ اٹھایا، کائناتی نظام کی نقاب کشائی کی اور بتایا کہ ہر انسان کے اوپر نور کا بنا ہوا ایک جسم ہے جو انسان کے جسم کے ساتھ چپکا رہتا ہے۔ محروم اور زوال پذیر قوم نے یہ قدر کی کہ ان کے خلاف قتل کی سازش کی۔

سائنس کا غلغلہ بلند ہوا اور سائنس نے Aura کا تعارف کرایا تو قوم نے اسے نعوذ باللہ صحیفہ سمجھ کر قبول کر لیا۔

بابا تاج الدینؒ نے بتایا کہ انسان کی نگاہ میں بہت زیادہ وسعت ہے۔ سورج 9 کروڑ میل کے فاصلے پر ہے۔ جب ہماری نگاہ سورج کو دیکھ سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظر کے قانون سے واقف ہو کر دور دراز اشیا کو کسی Device کے بغیر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کائنات میں ہر مخلوق دوسری مخلوق سے ہم رشتہ ہے۔ ہر ذرہ دوسرے ذرہ کے ساتھ پیوست ہے۔ جان جب جان سے گلے ملتی ہے تو زندگی بن جاتی ہے۔

شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے حالات و واقعات ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ نادیدہ مخلوق جنات کو ہم سیکھ سکتے ہیں، ان سے دوستی کر سکتے ہیں اور ان کی خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

شیخ اکبر ابنِ عربیؒ نے بتایا کہ روح کو دیکھنا، روح سے مکالمہ کرنا اور روح کے ذریعہ عالمِ بالا میں سیر کرنا، انفس و آفاق کے رموز سے آگاہ ہونا، انسانوں کے لئے ممکن ہے۔

عربوں سے پہلے یورپ، امریکہ، مصر اور ایشیائی ممالک چین، ہندوستان اور جاپان وغیرہ میں سائنس کا عمل دخل نہیں تھا۔ البتہ یونان میں کسی قدر علم موجود تھا۔ علمی تحقیقات اور نئی نئی ایجادات کی طرف رغبت پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ قرآن پاک کے نازل ہونے کے بعد سرزمینِ عرب جب علم کی روشنی سے منور ہوئی اس وقت مغربی ممالک میں تہذیب و تمدن کا کوئی نشان نہ تھا۔ روس کے لوگ انسانی کھوپڑیوں میں پانی پیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان صحرا نشینیوں کی زندگی بدل دی۔

قرآن کے علم اور قرآن کے بتائے ہوئے روشن راستے پر چل کر پچاس سال کی مختصر مدت میں مسلمانوں نے آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی۔ قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں مسلمانوں کے قدموں پر جھک گئیں۔ قرآنی آیات کے انوار سے روشن دل مسلمانوں نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا اور دنیا کو ایک نئی تہذیب و تمدن سے آراستہ کر دیا۔

قرآنی نظریہ کے مطابق مسلم اسلاف کی لکھی ہوئی کتابوں کے تراجم ہوئے تو ان تحریروں کو یورپ میں اتنی زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی کہ وہاں کی یونیورسٹیاں قائم ہو گئیں۔ مختلف علومِ سائنس و فلکیات اور ریاضی پر لکھی ہوئی کتابیں چار سو سال تک وہاں کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں داخل رہیں۔ یورپ کے مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان نہ ہوتے تو یورپ علم کی روشنی سے محروم ہو جاتا۔

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے بعد مسلمانوں کا علمی زوال شروع ہوا۔ امتِ مسلمہ قرآنی تحقیق و تفکر (تصوف) سے دور ہوگئی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے قرآن کے انوار و حکمت سے خود ساختہ دوری قبول کر لی۔ مسلمانوں نے تفکر کرنا چھوڑ دیا پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ قرآنی علوم کے ذریعہ معاشی، معاشرتی اور روحانی زندگی کی جو شمع روشن ہوئی تھی قوم نے اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔

تسخیرِ کائنات جو قرآن کا پورا اور مکمل تیسرا علم ہے، اس کی طرف سے توجہ ہٹ گئی اور عالمِ اسلام اس شعور سے محروم ہو گیا جو چودہ سو سال پہلے قرآن نے عطا کیا تھا، اور جب کوئی قوم تفکر، تحقیق و تلاش، بصیرت و حکمت اور نور علیٰ نور، فہم و فراست سے محروم ہو جاتی ہے تو گروہوں اور فرقوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، اجتماعیت ختم ہو جاتی ہے اور قوم کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔


 

Topics