Topics

روحانی سائنس۔اکتوبر۔۲۰۱۶

 

تفکر، انا اور شخص ایک ہی چیز ہے۔ الفاظ کی وجہ سے ان میں معانی کا فرق نہیں کر سکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ انا، تفکر اور شخص ہیں کیا؟ یہ وہ ہستیاں ہیں جو لاشمار کیفیات کی شکلوں اور سراپا سے بنی ہیں مثلاً بصارت، سماعت، تکلم، محبت، رحم، ایثار، رفتار، پرواز وغیرہ۔ ان میں ہر ایک کیفیت شکل اور سراپا رکھتی ہے۔ قدرت نے ایسے بے حساب سراپا لے کر ایک جگہ اس طرح جمع کر دیئے ہیں کہ الگ الگ پرت ہونے کے باوجود ایک جان ہو گئے ہیں۔ ایک انسان کے ہزاروں جسم ہوتے ہیں۔ علیٰ ہذالقیاس جنات اور فرشتوں کی بھی یہی ساخت ہے۔ یہ تینوں ساخت اس لئے مخصوص ہیں کہ ان میں کیفیات کے پرت دوسرے انواع سے زیادہ ہیں۔ کائنات کی ساخت میں ایک پرت بھی ہے اور کثیر تعداد پرت بھی ہیں۔ تا ہم ہر نوع کے افراد میں مساوی پرت ہیں۔

انسان لاشمار سیاروں میں آباد ہیں اور ان کی قسمیں کتنی ہیں اس کا اندازہ قیاس سے باہر ہے۔ یہی بات فرشتوں اور جنات کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔ انسان ہوں، جنات ہوں یا فرشتے، ان کے سراپا کا ہر فرد ایک پائندہ کیفیت ہے۔ کسی پرت کی زندگی جَلی ہوتی ہے یا خفی۔ جب پرت کی حرکت جلی ہوتی ہے تو شعور میں آ جاتی ہے۔ خفی ہوتی ہے تو لاشعور میں رہتی ہے۔ جلی حرکت کے نتائج کو انسان اختراع و ایجاد کہتا ہے لیکن خفی حرکت کے نتائج شعور میں نہیں آتے حالانکہ وہ زیادہ عظیم الشان اور مسلسل ہوتے ہیں۔

یہاں یہ راز غور طلب ہے کہ ساری کائنات خفی حرکت کے نتیجے میں رونما ہونے والے مظاہر سے بھری پڑی ہے البتہ یہ مظاہر مخفی انسانی لاشعور کی پیداوار نہیں ہیں۔ انسان کا خفی کائنات کے دور دراز گوشوں سے مسلسل ربط قائم نہیں رکھ سکتا۔ اس کمزوری کی وجہ نوع انسان کے اپنے خصائل ہیں۔ انسان نے اپنے تفکر کو کس لئے پابہ گِل کیا ہے۔ یہ بات اب تک نوع انسانی کے شعور سے ماوراء ہے۔ کائنات میں جو تفکر کام کر رہا ہے اس کا تقاضہ کوئی ایسی مخلوق پورا نہیں کر سکی جو زمانی، مکانی فاصلوں کی گرفت میں بے دست و پا ہو۔ اس شکل میں ایسی تخلیق کی ضرورت تھی جو اس کے خالی گوشوں کو مکمل کرنے کی طاقت رکھتی ہو چنانچہ کائناتی تفکر سے جنات اور فرشتوں کی تخلیق عمل میں آئی تاکہ  خلاء پُر ہو جائے۔

فی الواقع انسانی تفکر سے وہ تمام مظاہر رونما نہیں ہو سکے جس سے کائنات کی تکمیل ہو جاتی۔ کائنات زمانی مکانی فاصلوں کا نام ہے۔ یہ فاصلے انا کی چھوٹی بڑی مخلوط لہروں سے بنتے ہیں۔ ان لہروں کا چھوٹا بڑا ہونا ہی تغیر کہلاتا ہے۔ دراصل زمان اور مکان دونوں اسی تغیر کی صورتیں ہیں۔ دخان جس کے بارے میں دنیا کم جانتی ہے۔ اس مخلوط کا نتیجہ اور مظاہر کی اصل ہے۔ یہاں دخان سے مراد دھواں نہیں ہے۔ دھواں نظر آتا ہے اور دخان ایسا دھواں ہے جو نظر نہیں آتا۔ انسان مثبت دخان کی اور جنات منفی دخان کی پیداوار ہیں۔ رہا فرشتہ ان دونوں کے ملخص سے بنا ہے۔ عالمین کے تین اجزائے ترکیبی غیب و شہود کے بانی ہیں۔ ان کے بغیر کائنات کے گوشے امکانی تموج سے خالی رہتے ہیں۔ نتیجہ میں ہمارا شعور اور لاشعور حیات سے دور نابود میں گم ہو جاتا ہے۔

ان تین نوعوں کے درمیان عجیب و غریب کرشمہ برسرعمل ہے۔ مثبت دخان کی ایک کیفیت کا نام مٹھاس ہے۔ اس کیفیت کی کثیر مقدار انسانی خون میں گردش کرتی رہتی ہے۔ دخان کی منفی کیفیت نمکین ہے۔ اس کیفیت کی کثیر مقدار جنات میں پائی جاتی ہے۔ ان ہی دونوں کیفیتوں سے فرشتے بنے ہیں۔ اگر انسان میں مثبت کیفیت کم ہو جائے اور منفی کیفیت بڑھ جائے تو انسان میں جنات کی تمام صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں اور وہ جنات کی طرح عمل کرنے لگتا ہے۔ اگر کسی جن میں مثبت کیفیت بڑھ جائے اور منفی کیفیت کم ہو جائے تو اس میں کشش ثقل پیدا ہو جاتا ہے۔

فرشتہ پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔ اگر فرشتہ میں مثبت اور منفی کیفیات معین سطح سے اوپر آ جائیں تو مثبت کے زور پر وہ انسانی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے اور منفی کے زور پر جنات کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح اگر انسان میں مثبت اور منفی کیفیات معین سطح سے کم ہو جائیں تو اس سے فرشتہ کے اعمال صادر ہونے لگیں گے۔

طریق کار بہت آسان ہے۔ ہم مٹھاس اور نمک کی معین مقداریں کم کر کے فرشتوں کی طرح زمانی مکانی فاصلوں سے وقتی طور پر آزاد ہو سکتے ہیں۔ محض مٹھاس کی مقدار کم کر کے جنات کی طرح زمانی مکانی فاصلے کم کر سکتے ہیں لیکن ان تدبیروں پر عمل پیرا ہونے کے لئے کسی روحانی انسان کی رہنمائی اشد ضروری ہے۔

یہ قانون بہت فکر سے ذہن نشین کرنا چاہئے کہ جس قدر خیالات ہمارے ذہن میں دور کرتے ہیں ان میں بہت زیادہ ہمارے معاملات سے غیر متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق قرب اور دور کی ایسی مخلوق سے ہوتا ہے جو کائنات میں کہیں نہ کہیں موجود ہو۔ اس مخلوق کے تصورات لہروں کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔ جب ہم ان تصورات کا جوڑ اپنی زندگی سے ملانا چاہتے ہیں تو ہزاروں کوشش کے باوجود ناکام رہ جاتے ہیں۔ انا کی جن لہروں کا ابھی تذکرہ ہو چکا ہے ان کے بارے میں چند باتیں فکر طلب ہیں۔

سائنس دان روشنی کو زیادہ سے زیادہ تیز رفتار قرار دیتے ہیں لیکن وہ اتنی تیز رفتار نہیں ہوتی کہ زمانی مکانی فاصلوں کو منقطع کر دے۔ البتہ انا کی لہریں لاتناہیت میں بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں۔ زمانی مکانی فاصلے ان کی گرفت میں رہتے ہیں۔ باالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان لہروں کے لئے زمانی مکانی فاصلے موجود ہی نہیں ہیں روشنی کی لہریں جن فاصلوں کو کم کرتی ہیں، انا کی لہریں ان ہی فاصلوں کو بجائے خود موجود نہیں جانتیں۔

انسانوں کے درمیان ابتدائے آفرینش سے بات کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ آواز کی لہریں جن کے معنی معین کر لئے جاتے ہیں۔ سننے والوں کو مطلع کرتی ہیں۔ یہ طریقہ اس ہی طریقہ کی نقل ہے جو انا کی لہروں کے درمیان ہوتا ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ گونگا آدمی اپنے ہونٹوں کی خفیف جنبش سے سب کچھ کہہ دیتا ہے اور سمجھنے کے اہل سب کچھ سمجھ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی پہلے طریقہ کا عکس ہے۔ جانور آواز کے بغیر ایک دوسرے کو حال سے مطلع کر دیتے ہیں۔ یہاں بھی انا کی لہریں کام کرتی ہیں۔ درخت آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ گفتگو صرف آمنے سامنے کے درختوں میں ہی نہیں ہوتی بلکہ دور دراز ایسے درختوں میں بھی ہوتی ہے جو ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی قانون جمادات میں بھی رائج ہے۔ کنکروں، پتھروں، مٹی کے ذروں میں من و عن اسی طرح تبادلہ خیال ہوتا ہے۔

انبیاء اور روحانی طاقت رکھنے والے انسانوں کے کتنے ہی واقعات اس کے شاہد ہیں۔ ساری کائنات میں ایک ہی لاشعور کارفرما ہے۔ اس کے ذریعے غیب و شہود کی ہر لہر دوسری لہر کے معنی سمجھتی ہے، چاہے یہ دونوں لہریں کائنات کے دو کناروں پر واقع ہوں۔ غیب و شہود کی فراست و معنویت کائنات کی رگ جان ہے۔ ہم اس رگِ جاں  میں جو خود ہماری اپنی رگ ِ جاں  بھی ہے ، تفکر اور توجہ کر کے اپنے سیارے اور دوسرے سیاروں کے آثار و احوال کا انکشاف کر سکتے ہیں۔ انسانوں اور حیوانوں کے تصورات جنات اور فرشتوں کی حرکات و سکنات، نباتات، جمادات کی اندرونی تحریکات معلوم کر سکتے ہیں۔


 

Topics