Topics
حضرت صدیقِ اکبر ؓ نے جناب عائشہ ؓ کو بیس وسق تقریباً پانچ من
کھجوریں ہبہ کی تھیں اور اپنی وفات سے پہلے فرمایا:
”اے میری بیٹی عائشہ ؓ! مال و دولت کے باب میں مجھے تم سے
زیادہ کوئی پیارا نہیں۔ لاریب بیس وسق کھجوریں میں نے تمہیں ہبہ کی تھیں۔ اگر تم
نے انہیں توڑ کر اکٹھا کر لیا ہوتا تو وہ تمہاری مملوکہ ہو جاتیں لیکن اب وہ تمام
وارثوں کا مال ہے جس میں تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں شریک ہیں۔ اس کو قرآنِ کریم
کے احکام کے مطابق تقسیم کرنا۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا ابا جان! اگر بہت زیادہ بھی
ہوتیں تب بھی اس ہبہ سے دست بردار ہو جاتی لیکن یہ تو فرمائیے کہ میری بہن تو صرف
اسماء ؓ ہے یہ دوسری بہن کون ہے؟ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے جواب دیا کہ بنتِ خارجہ ؓ
کے پیٹ میں مجھے لڑکی دکھائی دے رہی ہے“ بالآخر اُمِ کلثوم ؓ پیدا ہوئیں۔
حضرت عمر ؓ ایک دن خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اچانک فرمایا! اے ساریہ
ؓ پہاڑ کی طرف سے ہٹ جا۔ آپ ؓ نے تین دفعہ اسی طرح فرمایا کیونکہ پہاڑ کی طرف سے
ہٹ جانے سے مسلمانوں کے غالب ہو جانے کی امید تھی۔ تھوڑے دنوں کے بعد شعبِ نہاوند
سے فوج کا قاصد آیا تو اس سے لڑائی کا حال پوچھا۔ قاصد نے عرض کیا!
اے امیر المومنین! ایک دن شکست ہونے کو تھی کہ ہمیں ایک آواز
سنائی دی جیسے کوئی پکار کر کہہ رہا ہو کہ اے ساریہ ؓ پہاڑ کی طرف ہٹ جا۔ اس آواز
کو ہم نے تین مرتبہ سنا اور ہم نے پہاڑ کی طرف سے ہٹ کر سہارا لیا اور اللہ تعالیٰ
نے ہمیں مشرکین پر فتح دی۔
حضرت عثمان ذو النورین ؓ کے آزاد کردہ غلام محجن کہتے ہیں کہ
ایک دن آپ ؓ کے ساتھ آپ ؓ کی ایک زمین پر گیا جہاں ایک عورت تھی جو کسی تکلیف میں
مبتلا تھی۔ آپ ؓ کے پاس آ کر عرض کیا، اے امیر المومنین! مجھ سے زنا کا ارتکاب ہو
گیا ہے۔ اس پر آپ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ اس عورت کو باہر نکال دو۔ چنانچہ میں نے اس
کو بھگا دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس عورت نے آ کر پھر اسی غلطی کا اعتراف کیا۔ انہوں نے
فرمایا اسے باہر نکال دو۔ تیسری مرتبہ اس عورت نے پھر آ کر کہا اے خلیفہ وقت! میں
نے بلا شک و شبہ گناہِ کبیرہ کیا ہے، میرے اوپر حدِ زنا جاری فرما دیں۔
حضرت عثمان ؓ نے ارشاد فرمایا: اے محجن! اس عورت پر مصیبت آ
پڑی ہے اور مصیبت اور تکلیف ہمیشہ فساد کا سبب ہوتی ہے۔ اس کو پیٹ بھر کر روٹی اور
تن بھر کپڑا دے۔ اس دیوانی کو میں اپنے ساتھ لے گیا۔ میں نے اسے آرام سے رکھا،
تھوڑے دنوں بعد اس کے ہوش و حواس درست ہوئے تو وہ مطمئن ہو گئی۔ حضرت عثمان ؓ نے
فرمایا کہ اچھا! اب اسے کھجور، آٹا اور کشمش دے دے۔ میں نے سامان گدھے پر لاد کر
اسے دے دیا۔ میں نے اس سے پوچھا اب بھی تو وہی کہتی ہے جو امیر المومنین کے سامنے
کہہ رہی تھی؟ اس نے کہا نہیں، میں نے جو کچھ کہا تھا تکلیفوں اور مصیبتوں کے پہاڑ
ٹوٹ پڑنے کی وجہ سے کہا تھا تاکہ حد لگا دی جائے اور مجھے مصیبتوں سے نجات مل
جائے۔
حضرت ابو رافع ؓ کہتے ہیں سرکارِ دو عالم ﷺ نے جب حضرت علی ؓ
کو جھنڈا دے کر خیبر کی طرف روانہ کیا اور وہ خیبر کے قلعے کے پاس پہنچے تو خیبر
والے آپ ؓ پر ٹوٹ پڑے۔ بڑی خون ریزی ہوئی۔ ایک یہودی نے وار کر کے آپ ؓ کے ہاتھ سے
ڈھال گرا دی۔ حضرت علی ؓ آگے بڑھے اور قلعے کا ایک دروازہ اٹھا کر اپنی ڈھال بنا
لیا۔ بالآخر دشمنوں پر فتح حاصل ہو جانے کے بعد اس دروازے کو پھینک دیا۔ اس سفر
میں میرے ساتھ سات آدمی اور بھی تھے اور ہم آٹھ آدمی مل کر اس دروازے کو الٹ دینے
کی کوشش کرتے رہے، لیکن وہ دروازہ جس کو تنِ تنہا حضرت علی ؓ نے اپنے ایک ہاتھ میں
اٹھا لیا تھا، ہم آٹھ آدمی اس کو نہیں پلٹ سکے۔
ایک بار سیدنا حضور ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل ؑ نے مجھ سے آ کر
کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے پاس بی بی خدیجہ ؓ آ رہی ہیں اور ان کے ہاتھ میں جو
برتن ہے اس میں کھانا اور پانی ہے۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آ جائیں تو ان سے میرا سلام
کہہ دیجیے کہ آپ ؓ خوش ہو جائیے، آپ کے لیے جنت میں ایسا مکان ہے جو موتیوں کا بنا
ہوا ہے جہاں شور و غل اور تکلیف نہیں ہے۔
ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سخت قحط پڑا، ان قحط زدہ لوگوں نے
حضرت عائشہ ؓ سے جا کر کہا کہ اس قحط سے ہم لوگ پریشان ہو گئے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ
نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے مزارِ مبارک کی طرف اور گنبدِ خضرا میں آسمان کی طرف کو
ایک آر پار سوراخ کر دو۔ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا تو خوب بارش ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ
کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا اے عائشہ ؓ! جبرائیل ؑ تم کو سلام کہہ
رہے ہیں۔ میں نے جواباً کہا ان پر اللہ کی سلامتی، رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
حضرت اُمِ سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ ؓ بیمار تھیں اور
میں تیماردار تھی۔ ایک دن صبح سویرے انہیں افاقہ محسوس ہوا۔ حضرت علی ؓ کسی کام سے
باہر گئے ہوئے تھے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا اے اماں! میں نہانا چاہتی ہوں۔ میں نے
پانی تیار کر دیا اور جس طرح وہ تندرستی میں نہاتی تھیں ویسے ہی خوب نہائیں۔ پھر
انہوں نے نئے کپڑے مانگے۔ میں نے کپڑے بھی دے دیے۔ انہوں نے خود پہن کر کہا امی!
اب ذرا آپ میرے لیے گھر کے بیچ و بیچ بچھونا بچھا دیجیے۔ میں نے یہ بھی کر دیا۔ بس
وہ بستر پر جا لیٹیں اور قبلے کی طرف منہ کر کے اپنا ایک ہاتھ اپنے گال کے نیچے
رکھ کر کہا، اماں! اب میں اللہ تعالیٰ سے ملنے جا رہی ہوں اور بالکل پاک ہوں۔ اب
کوئی بلا ضرورت مجھے کھولے نہیں۔ اس کے بعد ان کی روح پرواز کر گئی۔
حضرت انس بن مالک ؓ کے بھتیجے حضرت انس بن نضیر ؓ فرماتے ہیں
کہ ان کی پھوپھی نے کسی لڑکی کا اگلا دانت توڑ دیا تھا۔ ہمارے خاندان کے لوگوں نے
لڑکی کے رشتہ داروں سے معافی مانگی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر ان سے کہا گیا کہ
تم لوگ دیت یعنی دانت کے بدلے دانت لینے کے بجائے کچھ رقم لے لو، اس پر بھی ان
لوگوں نے انکار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر
معافی دینے اور دیت قبول کرنے پر انکار کرتے ہوئے قصاص طلب کیا۔
چنانچہ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قصاص کا حکم
صادر فرما دیا۔ اس پر حضرت انس بن نضیر ؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم! کیا میری پھوپھی کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا: اے انس ؓ! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے۔ یہ سن کر لوگ خوش ہو
گئے اور دانت کا بدلہ معاف کر دیا۔
امام بخاری ؒ ایک طویل قصے میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن
ابی وقاص ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں اس شخص کے لیے بد دعا کرتا ہوں جس نے میری
تین جھوٹی شکایتیں کی تھیں۔ اے اللہ! یہ تیرا جھوٹا بندہ جو مکاری سے شکایتیں
سنانے کے لیے کھڑا ہوا ہے اس کی عمر دراز کر دے۔ حضرت سعد ؓ کی اس دعا کے بعد لوگ
جب اس کی خیریت دریافت کرتے تھے تو وہ کہتا تھا میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں، میری
عقل ماری گئی ہے اور سعد ؓ کی بد دعا لگ گئی ہے۔ عبدالمالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے
اس بوڑھے کو اس حال میں دیکھا کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کو اس کی دونوں
بھنوؤں نے بالکل چھپا لیا تھا اور وہ راستہ چلتی لوندیوں کو روکتا تھا اور بے
حیائی کی باتیں کرتا تھا۔ افلاس و غربت کی وجہ سے انتہائی تنگ دست تھا۔
حضرت حنظلہ ؓ بن عامر نے جمیلہ دختر عبداللہ بن ابی بن سلول ؓ
سے شادی کی اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر جنگِ احد
کی رات اپنی بیوی کے ساتھ رہے۔ غسل کی حاجت تھی۔ اسی حالت میں صبح سویرے ہتھیار
لگا کر مسلمانوں کی فوج میں پہنچ گئے۔ حضرت حنظلہ ؓ نے بہادری کے جوہر دکھائے، وہ
ابو سفیان کو، جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، مارنا ہی چاہتے تھے کہ پیچھے سے
اسود بن شعیب نے حملہ کر کے حنظلہ ؓ کو شہید کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے
فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حنظلہ ؓ بن ابی عامر کو چاندی کے ٹب میں بارش کے پانی سے
غسل دے رہے ہیں۔ ابو اسید ساعدی ؓ نے کہا کہ ہم نے حنظلہ کو دیکھا کہ ان کے بالوں
سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں اور یہ دیکھ کر میں فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پورا واقعہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ان کی بیوی کے پاس ایک قاصد بھیجا تاکہ حضرت حنظلہ کے بارے میں
معلومات حاصل کرے۔ چنانچہ ان کی بیوی جمیلہ نے قاصد سے کہا کہ وہ جب گھر سے گئے
تھے تو ان پر غسل واجب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے حنظلہ ؓ کو غسل دلایا۔
حضرت ابنِ مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا ہم کئی
صحابی کھانا کھا رہے تھے، ہم نے سنا کہ وہ غذا اللہ کی تسبیح بیان کر رہی ہے، وہ
کھانا سبحان اللہ، سبحان اللہ پڑھ رہا تھا۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی خدمت میں اسید بن حضیر ؓ نے چند معروضات پیش کیں۔ رات بہت تاریک تھی
چنانچہ وہ اسی اندھیرے میں اپنے گھروں کو لوٹے، ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔ ان
میں سے ایک لاٹھی روشن ہو گئی اور شمع کا کام دینے لگی۔ جب ایک راستہ ختم ہو گیا
اور دوسرے کو آگے جانا تھا تو دوسرے شخص کی لاٹھی روشن ہو گئی اور دوسرا بھی اپنے
گھر پہنچ گیا۔
حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے وقت ایک رات مجھے
میرے والد نے طلب کر کے فرمایا کل اصحابِ رسول اللہ ﷺ کی شہادت میں سب سے پہلے میں
شہید ہوں گا۔ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ تم مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو۔ مجھ پر ایک آدمی
کا قرضہ ہے وہ ادا کر دینا اور میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اپنی بہنوں کے ساتھ
بھلائی کرنا۔ میں نے دیکھا کہ میدانِ جنگ میں سب سے پہلے میرے والد نے جامِ شہادت
نوش فرمایا۔
ابنِ منکدر سے روایت ہے کہ حضرت سفینہ ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے
غلام تھے، ایک مرتبہ سرزمینِ روم میں راستہ بھول گئے۔ وہ راستہ تلاش کر رہے تھے کہ
دشمنانِ اسلام نے انہیں گرفتار کر لیا۔
وہ قید سے فرار ہو گئے۔ راستہ میں انہیں ایک شیر نظر آیا۔
انہوں نے اس شیر کو کنیت سے پکار کر کہا اے ابو الحارث! میں رسول اللہ ﷺ کا غلام
ہوں اور میں راستہ بھول گیا ہوں۔ شیر نے یہ سن کر ان کے سامنے دم ہلائی اور ان کے
برابر چلنے لگا۔ اسے جب کوئی آواز سنائی دیتی تو فوراً اُدھر کا رخ کر لیتا اور
کان کھڑے کر کے اِدھر اِدھر دیکھتا، جب خطرے کا احساس ختم ہو جاتا تو پھر آپ ؓ کے
ساتھ چلنے لگتا۔ جب حضرت سفینہ ؓ اسلامی لشکر میں پہنچ گئے تو شیر واپس لوٹ گیا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے مجھ سے پوچھا تمہارے قیدی کا کیا حال ہے؟
میں نے عرض کیا حضور! اس کا ارادہ ہے کہ مجھے ایسی باتیں
سکھائے جن سے مجھے فائدہ ہو۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یاد رکھو جو کچھ اس نے کہا وہ ٹھیک ہے
لیکن تین راتوں سے تم جس سے باتیں کر رہے ہو جانتے ہو وہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا
حضور ﷺ میں نہیں جانتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہ شیطان ہے۔
حضرت ربیع بن حراش ؓ کہتے ہیں کہ ہم چار بھائی تھے۔ ہمارے بڑے
بھائی حضرت ربیع ؓ پکے نمازی اور روزے دار تھے۔ سردیوں گرمیوں میں بھی وہ نفلیں
پڑھتے اور روزے رکھتے تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ہم سب ان کے پاس جمع تھے اور ہم
ایک آدمی کو ان کے کفن کا کپڑا لینے بھیج چکے تھے کہ یکایک انہوں نے اپنے منہ سے
کپڑا ہٹا کر کہا اے برادران! السلام علیکم! لوگوں نے جواب دیا وعلیکم السلام اور
پوچھا کہ تم موت کے بعد بھی بات کرتے ہو؟
حضرت ربیع ؓ نے جواب دیا! ہاں، تم سے جدا ہو کر جب پروردگارِ
عالم سے ملا تو میں نے اسے غضب ناک نہیں دیکھا۔ اس نے مجھ پر رحمتوں کے بادل برسا
کر جنت کی خوشبوئیں، جنت کی روزی، جنت کے لباس مرحمت فرمائے۔
سنو! حضرت ابو القاسم ؓ رسول اللہ ﷺ میری نماز پڑھنے کے منتظر
ہیں، بس اب دیر مت لگاؤ اور جلدی کرو۔ یہ قصہ جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو سنایا گیا
تو آپ ؓ نے فرمایا مجھے یاد ہے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت
میں ایسے آدمی ہیں جو مرنے کے بعد بھی گفتگو کرتے ہیں۔
سہم بن مجانب بیان کرتے ہیں کہ ہم علاء بن حضرمی ؓ کے ساتھ
جہاد کے لیے روانہ ہو کر مقامِ دارین پہنچے۔ ہندوستانی مشک اور کستوری کی بحرین
میں بہت بڑی منڈی ہے اور سمندر کے ساحل پر واقع ہے۔ چنانچہ حضرت علاء بن حضرمی ؓ
نے سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ! تو جاننے والا ہے، تو قوت والا ہے، تو
بہت بڑا ہے۔ ہم تیرے معمولی بندے ہیں، یہاں کھڑے ہیں اور اسلام کا دشمن سمندر کے
اس سرے پر ہے۔ اللہ! ان کو شکست دینے کے لیے، ان کو راہِ راست پر لانے کے لیے اور
ان کو اسلام کا کلمہ پڑھانے کے لیے ہم کو ان تک پہنچا دے۔
اس دعا کے بعد انہوں نے ہم سب کو سمندر میں اتار دیا۔ سمندر کا
پانی ہمارے گھوڑوں کے سینے تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ ہم سمندر پار ہو گئے۔
حضرت اسامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ
حضرت جبرائیل ؑ کو دیکھا۔
حضرت سلمان ؓ اور حضرت ابو درداء ؓ بیٹھے ہوئے تھے اور دونوں
کے سامنے ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جو سبحان اللہ پڑھ رہا تھا۔
مندرجہ بالا واقعات و کرامات بہت ہی اختصار کے ساتھ لکھے گئے
ہیں ورنہ ہر صحابی کی زندگی میں بے شمار خرقِ عادات موجود ہیں۔
سیدنا حضور ﷺ کے صحابی ؓ اور صحابیات ؓ کی کرامات اور خرقِ
عادات اسلامی تاریخ میں ریکارڈ ہیں۔
یہ اعتراض بھی کہ صحابہ کرام ؓ اور صحابیات ؓ نے مراقبے نہیں
کیے، محض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مراقبہ کا مطلب ہے سوچ، بچار، تفکر، تلاش، ذہنی یکسوئی
کے ساتھ بات پر غور کرنا (Concentration)۔
جب ہم کسی بھی بات کی فضیلت اور کنہ کو تلاش کرتے ہیں تو اس کا مطلب بھی مراقبہ
ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور صحابیات ؓ کی پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کے اقوال اور قرآنی
آیات پر غور و فکر کرنے میں گزری ہے۔ غور و فکر میں جتنا وقت گزرتا تھا وہ سب
مراقبہ کی تعریف میں آتا ہے۔
مراقبہ دراصل ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنی روحانی صلاحیتوں اور
غیب بین نظر کو بیدار اور متحرک کرنے کے لیے ایک طریقہ ہے۔ مراقبہ سے مراد مرتبہ
احسان ہے۔
نورِ نبوت کے ذریعے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کو مرتبہ احسان حاصل
تھا اور مرتبہ احسان کا حاصل ہونا بلاشبہ روحانیت یا تصوّف ہے۔
صحابہ کرام ؓ اور صحابیات ؓ کے روحانی اجسام نورِ نبوت سے روشن
اور منور تھے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال اور سیرتِ طیبہ پر غور کرتے تھے تو ان
کے اندر انوار کا ذخیرہ ان کی رہنمائی کرتا تھا۔ قرآنی آیات پر تفکر کر کے وہ خود
کو اللہ سے قریب محسوس کرتے تھے۔