Topics
خواجہ معین الدین اجمیری ؒ لاہور سے ملتان تشریف لائے۔
ملتان میں تقریباً پانچ سال قیام فرمایا۔ سنسکرت اور دیگر مقامی زبانیں سیکھیں،
ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا، وہاں کی ثقافت کا جائزہ لیا، مذہب اور عقائد کو
گہری نظر سے دیکھا، ہندوؤں میں موسیقی کی مذہبی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آپ نے راگ
اور سر کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور ساز بجانا سیکھا، پھر اجمیر کی طرف روانہ ہو
گئے۔ اس وقت اجمیر کا فرماں روا پرتھوی راج تھا۔
خواجہ غریب نواز ؒ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ہرے بھرے
علاقے میں ٹھہر گئے لیکن مقامی حکام نے آپ کو اس جگہ ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی۔
انہوں نے کہا یہ جگہ راجہ کے اونٹوں کے لیے مخصوص ہے۔ خواجہ غریب نواز ؒ نے
فرمایا: ”اچھا، اونٹ بیٹھتے ہیں تو بیٹھیں“ اس کے بعد آپ نے انا ساگر کے کنارے ایک
جگہ کو منتخب فرمایا۔
شام کے وقت اونٹ آ کر میدان میں بیٹھ گئے لیکن اگلے دن
صبح اونٹ بیٹھے ہی رہے، انہیں اٹھانے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن وہ نہیں اٹھے۔
داروغہ نے اس واقعہ کی اطلاع اپنے افسران کو پہنچائی، ان لوگوں نے بھی کوشش کی
لیکن اونٹ نہیں اٹھے، بالآخر یہ معاملہ پرتھوی راج تک پہنچ گیا۔ اسے بھی حیرت
ہوئی، جب اسے پتہ چلا کہ کوئی مسلمان سادھو یہاں آئے تھے اور انہوں نے اس جگہ کو
اپنے قیام کے لیے منتخب کیا تھا تو راجہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جا کر اس سادھو
سے معافی مانگو۔ سپاہی حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معافی کے
خواستگار ہوئے۔ خواجہ غریب نواز ؒ مسکرائے اور ازراہِ شفقت گردن کے اشارے سے معاف
کر دیا۔ سپاہی اس جگہ پہنچے تو دیکھا اونٹ کھڑے تھے۔ مندر کے پنڈت یہ کرامت دیکھ
کر خواجہ غریب نواز ؒ کے گرویدہ ہو گئے۔ ان پنڈتوں اور سادھوؤں میں سے جو افراد
تلاشِ حق کا جذبہ رکھتے تھے، ان میں سے شادی دیو اور اجے پال نے اسلام قبول کر
لیا۔
لفظ اجمیر۔۔ ”آجا“ ”میر“ سے بنا ہے۔ آجا سورج کو اور
میر پہاڑ کو کہتے ہیں۔
ایک سادھو خواجہ غریب نواز ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
سادھو گیان دھیان سے اس مقام پر پہنچ گیا تھا جہاں نظر آئینہ ہو جاتی ہے، مقابل
آدمی ایسا نظر آتا ہے جیسے ٹیلی ویژن کی اسکرین پر تصویر نظر آتی ہے۔ سادھو نے
مراقبہ کیا، اس نے دیکھا کہ خواجہ صاحب ؒ کا سارا جسم بقعہ نور ہے لیکن دل میں ایک
سیاہ دھبہ ہے۔ سادھو نے جب خواجہ صاحب ؒ سے مراقبہ کی کیفیت بیان کی تو خواجہ غریب
نواز ؒ نے فرمایا: ”تو سچ کہتا ہے۔“ سادھو یہ سن کر حیرت کے دریا میں ڈوب گیا اور
کہا: ”چاند کی طرح روشن آتما پر یہ دھبہ اچھا نہیں لگتا، کیا میری شکتی سے یہ دھبہ
دور ہو سکتا ہے؟“ خواجہ غریب نواز ؒ نے فرمایا: ”ہاں تو چاہے تو یہ سیاہی دھل سکتی
ہے۔“ سادھو نے بھیگی آنکھوں اور کپکپاتے ہونٹوں سے عرض کیا: ”میری زندگی آپ کی نذر
ہے۔“ خواجہ صاحب ؒ نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئے تو یہ دھبہ
ختم ہو جائے گا۔“ سادھو کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی لیکن چوں کہ وہ اپنے اندر مٹی
کی کثافت دھو چکا تھا اس لیے وہ اللہ کے حبیب محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آیا۔ خواجہ
صاحب ؒ نے فرمایا: ”آتما کی آنکھ سے اندر دیکھ۔“ سادھو نے دیکھا تو روشن دل سیاہ
دھبے سے پاک تھا۔ سادھو نے خواجہ غریب نواز ؒ کے آگے ہاتھ جوڑ کر بنتی کی۔ مہراج!
اس انہونی بات پر سے پردہ اٹھائیے۔ خواجہ اجمیری ؒ نے فرمایا: ”وہ روشن آدمی جس کے
دل پر تو نے سیاہ دھبہ دیکھا تھا، تو خود تھا لیکن اتنی شکتی کے بعد بھی تجھے
روحانی علم حاصل نہیں ہوا۔ وہ علم یہ ہے کہ آدمی کا دل آئینہ ہے اور ہر دوسرے آدمی
کے آئینے میں اسے اپنا عکس نظر آتا ہے۔ تو نے جب اپنی روشن آتما میرے اندر دیکھی
تو تجھے اپنا عکس نظر آیا۔ تیرا ایمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر نہیں تھا
اس لیے تیرے دل پر سیاہ دھبہ تھا اور جب تو نے کلمہ پڑھ لیا تو تجھے میرے آئینے
میں اپنا عکس روشن نظر آیا۔“
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مشائخِ
چشت کی خانقاہیں اسلامی جدوجہد کا مرکز بنی رہیں۔ یہ خانقاہیں تقویٰ، دین، خدمتِ
خلق، توکل اور روحانی علوم حاصل کرنے کی یونیورسٹیاں تھیں۔ ان خانقاہوں میں طالبِ
علم کو ایسی فضا اور ایسا ماحول میسر آ جاتا تھا کہ وہاں تزکیہ باطن اور تہذیبِ
نفس کے لیے خود بخود انسانی ذہن متوجہ ہو جاتا تھا۔
حصولِ علم کا ایک عظیم مرکز حضرت بابا فرید گنجِ شکر ؒ
بھی تھے۔ لیکن اس تعلیم کو حسن و خوبی اور منظم جدوجہد کے تحت حضرت بابا نظام
الدین اولیاؒ نے معراجِ کمال تک پہنچایا۔ پچاس سال تک یہ خانقاہیں ارشاد و تلقین
کا مرکز بنی رہیں، ملک ملک سے لوگ پروانہ وار آتے تھے اور ان کی خدمت میں حاضر باش
رہ کر عشقِ الٰہی اور دینِ اسلام کو لوگوں تک پہنچانے کا جذبہ لے کر رخصت ہوتے
تھے۔ ان خانقاہوں کا دروازہ امیر و غریب، شہری، دیہاتی، بوڑھے، جوان اور بچوں کے
لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔
حضرت نظام الدین اولیا ؒ نے بیعت کو عام کر دیا تھا۔ جب
متلاشیانِ حق ان کے ہاتھ پر توبہ کرتے تھے تو ان کو خرقہ پہناتے اور ان کی تعظیم
کرتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ نے اپنے جلیل القدر خلیفہ برہان الدین کو چار سو
ساتھیوں کے ساتھ تعلیم کے لیے دکن روانہ کیا۔ خلیفہ برہان الدین نے اپنے ساتھیوں
کے ساتھ مل کر دکن کو اسلامی، دینی اور روحانی علوم سے فیضیاب کیا۔
سلسلہ سہروردیہ عبد القاہر سہروردی ؒ سے منسوب ہے۔ اس
سلسلے کے خانوادے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ اور حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی
ؒ ہیں۔ سلسلہ میں تین سال کے مجاہدات کے بعد مرشد دیکھتا ہے کہ قلب کے اندر کتنی
سکت پیدا ہوئی اور تزکیہ نفس میں کیا مقام حاصل ہوا ہے۔ تزکیہ نفس اور قلب مصفیٰ
اور مجلٰی ہونے کے بعد فیض منتقل کیا جاتا ہے۔ سلسلہ سہروردیہ میں سانس روک کے
”اللہ ھو“ کا ورد کرایا جاتا ہے اور ذکرِ جلی اور خفی دونوں کرائے جاتے ہیں۔
حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ؒ قریشی تھے۔ ان کے جدِ امجد
کمال الدین علی شاہ تھے۔ کمال الدین علی شاہ مکہ معظمہ سے خوارزم آئے اور وہاں سے
رخصت ہو کر ملتان میں سکونت اختیار کی۔ کمال الدین علی شاہ کے بیٹے کا نام وجیہہ
الدین محمد تھا۔ وجیہہ الدین محمد کی شادی مولانا حسام الدین ترمذی کی بیٹی سے
ہوئی۔ شیخ بہاؤ الدین زکریا، مولانا وجیہہ الدین کے بیٹے ہیں۔
۱۸ سال کی عمر میں حج کے
لیے تشریف لے گئے۔ مکہ سے مدینہ منورہ چلے گئے۔ شیخ بہاؤالدین زکریاؒ ۲۱ سال کے ہوئے تو والد
صاحب کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد آپ نے قرآن حفظ کیا اور خراسان چلے گئے۔ ۷ سال تک علمائے ظاہر اور علمائے
باطن سے اکتسابِ فیض کیا۔ اس کے بعد شب و روز جوارِ رسول ﷺ میں ریاضت و مجاہدہ اور
مراقبہ میں مشغول رہے۔ مدینہ منورہ کی نورانی فضاؤں سے معمور ہو کر بیت المقدس
پہنچے اور وہاں سے بغداد شریف آ گئے۔ بغداد میں شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین
سہروردی ؒ کی خدمت میں ایک عرصہ حاضر باش رہے، اذکار و اسباق میں استقامت اور دل
جمعی کے ساتھ مشغول رہے۔
مرشدِ کریم نے خرقہِ خلافت عطا فرمایا۔ شجرہ طریقت شیخ
شہاب الدین سہروردی ؒ سے شروع ہو کر خواجہ حبیب عجمیؒ، حضرت امام حسنؓ، حضرت امام
علی ؓ اور سرورِ کائنات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے۔
مرشدِ کریم کے حکم سے حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ
ملتان کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ ان کے ساتھ پیر بھائی شیخ جلال الدین ترمذی ؒ بھی
تھے۔ دونوں بزرگ بغداد پہنچے تو شیخ جلال الدین تبریذی ؒ حضرت شیخ فرید الدین عطار
ؒ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے، فرید الدین عطار ؒ نے پوچھا کہ بغداد میں کون سا
درویش مشغولِ بحق ہے؟ جلال الدین ؒ خاموش رہے۔ جب یہ بات بہاؤالدین ؒ کو معلوم
ہوئی تو انہوں نے شیخ جلال الدین ؒ سے کہا، تم نے اپنے مرشد کا نام کیوں نہیں لیا؟
انہوں نے جواب دیا کہ شیخ فرید الدین ؒ کی عظمت کا مرے دل پر اتنا اثر ہوا کہ میں
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کو بھول گیا۔ یہ سن کر شیخ بہاؤ الدین ؒ کو بہت ملال ہوا۔
سفر میں دونوں حضرات الگ الگ ہو گئے۔ شیخ بہاؤالدین زکریا ؒ ملتان آ گئے اور جلال
الدین تبریزی ؒ خراسان چلے گئے اور کچھ عرصے بعد جلال الدین تبریزی ؒ دہلی چلے
گئے۔
اس وقت سلطان شمس الدین التمش ہندوستان کا حکمران تھا۔
اللہ والوں سے محبت و عقیدت رکھتا تھا۔ حضرت جلال الدین تبریزی ؒ کی آمد کی خبر
سلطان کو ملی تو وہ آپ کے استقبال کے لیے شہر پناہ کے دروازہ پر حاضر ہوا، گھوڑے
سے اتر کر آپ کو تعظیم دی۔ نجم الدین صغریٰ اس وقت شیخ الاسلام کے منصب پر فائز
تھا۔ اس نے سلطان کی عقیدت اور حضرت جلال الدین تبریزی ؒ کی بے انتہا پذیرائی
دیکھی تو اس کے اندر حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔
بغض و عناد کے تحت اس نے ایک گھناؤنی سازش تیار کی اور
حضرت جلال الدین تبریزی ؒ پر تہمت لگا دی۔ گوہر نامی ایک طوائف کو اس گھناؤنی سازش
میں شریک کیا اور سلطان التمش کے دربار میں مقدمہ پیش کر دیا۔ جب مقدمہ پیش ہوا تو
گوہر نے سچ سچ بتا دیا کہ یہ ساری سازش شیخ الاسلام نجم الدین صغریٰ کی بنائی ہوئی
ہے۔
شیخ بہاؤ الدین زکریا ؒ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے صوفیا کے
بارے میں یہ مشہور کر دیا کہ ان کے پاس نذر و نیاز اور فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں
ہے۔ جب روحانی بزرگوں پر تارکِ الدُنیا ہونے کا لیبل لگا دیا جائے گا تو ان کے پاس
روحانی افکار کے حصول اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے کوئی نہیں آئے گا۔ ظاہر
پرستوں کو معلوم نہیں ہے کہ کم کھانا، کم سونا، کم بولنا، غیر ضروری دلچسپیوں میں
وقت ضائع نہ کرنا۔۔ تزکیہ نفس کے لیے ضروری ہے۔ ہم روزہ رکھتے ہیں، کوئی نہیں کہہ
سکتا کہ اسلام فقر و فاقہ کا مذہب ہے۔ روزہ کے فوائد اس بات کے شاہد ہیں کہ کم
کھانا، کم بولنا، کم سونا روح کی بالیدگی کے وظائف ہیں۔
سہروردیہ سلسلہ کے معروف بزرگ حضرت بہاؤالدین زکریا
ملتانیؒ کی تبلیغی کوششوں کا اپنا ایک الگ نہج تھا۔ اس منظم روحانی تحریک کے ذریعے
سندھ، ملتان اور بلوچستان کے علاقوں میں ہزاروں افراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ روحانی
تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور بے شمار خواتین و حضرات حلقہ اسلام میں داخل
ہوئے۔
حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ نے ایک اعلیٰ درسگاہ
قائم کی تھی۔ اس درسگاہ میں بہت اچھے مشاہرہ پر اساتذہ کا تقرر کیا گیا تھا۔ طلبا
کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے بہترین ہوسٹل تھے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ
کے قرب کا احساس پیدا کرنا اس درسگاہ کی پالیسی تھی۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ
شخص جس علاقے میں فرائض انجام دینے کی درخواست کرتا، اس علاقے کی زبان و ثقافت کی
تعلیم کا بندوبست کر دیا جاتا تھا۔ اس غرض کے لیے اسے دو برس مزید ٹریننگ دی جاتی
تھی۔
دو برس بعد معلمین کو مناسب سرمایہ فراہم کر دیا جاتا
تھا تاکہ معلم اس سرمایہ سے کاروبار کرے اور کاروبار کے ساتھ تبلیغ کا فریضہ انجام
دے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی ؒ اساتذہ کو یہ ہدایت فرماتے تھے: ”سامان کم
منافع پر فروخت کرنا، لین دین میں سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر عمل
کرنا، ناقص اشیا فروخت نہ کرنا، خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ جب تک لوگوں
کا اعتماد حاصل نہ ہو جائے اسلام کی تعلیمات پیش نہ کرنا۔“ اس کے بعد آپ اپنی
دعاؤں کے ساتھ رخصت فرماتے تھے۔
تاجروں کے روپ میں اللہ تعالیٰ کے دین کو پھیلانے والے
یہ پاکیزہ بندے چین، فلپائن، جاوا، سماٹرا اور دیگر علاقوں تک پھیل گئے۔ یہ حضرات
بڑے بڑے شہروں میں ایگزیبیشن منعقد کرتے، صنعتی نمائش کا اہتمام کرتے تھے۔
پیشہ ورانہ دیانت، صفائی، ستھرائی، حسنِ سلوک کی وجہ سے
ہر شخص ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ ان کے اعلیٰ کردار سے متاثر ہو کر لوگ ان سے
محبت کرنے لگتے تھے اور یہ خدا رسیدہ لوگ نہایت دلنشین انداز میں قلبی سکون کا راز
ان لوگوں کے گوش گزار کرتے تھے اور اسلام قبول کر کے لوگ اللہ تعالیٰ کے قرب سے
آشنا ہو جاتے تھے۔ مشرقِ بعید کے بے شمار جزائر میں کروڑوں مسلمان ان ہی روحانی
بزرگوں کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کے تربیت یافتہ شاگردوں اور بزرگوں نے ساتویں صدی ہجری میں دین کی ظاہری اور روحانی تبلیغ کے لیے ساری دنیا میں مراکز قائم کیے۔ شیخ بہاؤالدین زکریاؒ نے مختلف علاقوں میں جماعتیں روانہ کیں، آپ کے تربیت یافتہ شاگردوں نے کشمیر سے راس کماری اور گوادر سے بنگال تک کو اسلام کی روشنی سے منور کر دیا۔
یہ رہا آپ کا مطلوبہ متن جس میں املا اور قواعد کی
درستگی کی گئی ہے۔ تصحیح شدہ الفاظ کو بولڈ کر دیا گیا ہے: