Topics

مسلمان سائنسدان۔دسمبر۔۲۰۱۵

 

 

احسن الخالقین اللہ کے تفویض کردہ اختیارات کے حامل لوگ۔۔۔کائنات کی تخلیق میں نور کا تعین کرتے ہیں۔ نور اور روشنی کے Flowکو کائنات کی حرکت قرار دیتے ہیں۔ کائنات میں بڑے سے بڑا کرہ۔۔۔یا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ۔۔۔(ایٹم)۔۔۔نور کے غلاف میں بند ہے۔ اور ہر ذرہ اور عناصر کی پوری دنیا۔۔۔مقداروں پر قائم ہے۔ مقداریں الگ الگ ہیں۔ لیکن ہر مقدار دوسری مقدار کے ساتھ آپس میں گندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف مقداریں ہم رشتہ ہیں اور دوسری طرف الگ الگ بھی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:

’’یہ جو بہت سی رنگ برنگی چیزیں اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں ان میں نشانی ہے ا ن کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں یعنی ریسرچ کرتے ہیں۔‘‘ (سورۂ نحل۔ آیت نمبر۱۳)

’’اللہ روشنی ہے آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ (سورۂ نور۔ آیت نمبر۳۵)

چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی کوئی چیز ایسی نہیں ہے قرآن میں جس کی وضاحت نہ ہو۔‘‘ (سورۂ سبا۔ آیت نمبر۳)

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: ’’اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کہہ دیجئے اس کتاب کو اس نے اتارا ہے جو زمین اور آسمانوں کا جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۂ فرقان۔ آیت نمبر۶)

یعنی کائنات کا ایک ایک ذرہ حتیٰ کہ اس کا ایک ایک ایٹم اور ایک ایک سالمہ (Molecule) اس کے علم میں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’پاک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے مقداروں کے ساتھ تخلیق کیا اور پھر ان تخلیقی فارمولوں سے آگاہ کیا۔‘‘

(سورۂ اعلیٰ۔ آیت نمبر۱ تا ۳)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شئے کو معین مقداروں (ایٹم) سے بنایا ہے اور معین مقداریں دراصل اس شئے کے ظاہر اور باطن میں کام کرنے والی صلاحیتیں ہیں جو ایک قانون اور Disciplineکے تحت ایک واحد ہستی کی نگرانی میں برقرار ہیں۔ بڑے بڑے اجرام سماوی معمولی اور ننھے سے ایٹم، ایٹم کے اندرونی خول یا اجزاء الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران اس ذات واحد کی نظروں کے سامنے ہیں۔ کوئی بھی ذرہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے: ’’وہ ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے۔ اس کے علم سے کوئی رتی برابر چیز باہر نہیں۔ وہ چیز آسمانوں میں ہو یا زمین میں اور ان تمام چھوٹی بڑی چیزوں کا اور ان چیزوں کی تمام اقسام کے فارمولے کھلی کتاب میں موجود ہیں۔‘‘(سورۂ سبا۔ آیت نمبر۱ تا۷)

سورۂ سبا کی اس آیت میں تین قسم کے ذرات کا بیان ہوا ہے:

۱)رتی برابر ذرہ

۲) اس سے چھوٹا

۳) نسبتاً اس سے چھوٹا

تخلیق میں تین قسم کے ذرات پائے جاتے ہیں۔ ایک ایٹم دوسرے ایٹم کے اندرونی اجزاء اور سوئم ایٹم کے مرکبات۔

۱) ’’مثقال ذرہ‘‘ یعنی وہ رتی برابر چیز ہے جس میں وزن پایا جاتا ہو۔ سب جانتے ہیں کہ رتی چھوٹے سے وزن کا تشخص ہے۔ ذرہ برابر چیز کا مطلب یہ ہوا جس میں کوئی وزن ہو اور معین مقدار یا مقداریں ہوں۔ ایٹم چونکہ ایک ایسی اکائی ہے جس کے اندر الیکٹران، پروٹان، نیوٹران موجود ہیں۔ اس لئے اس میں مقدار اور وزن دونوں ہیں۔

۲) اس سے چھوٹا یعنی ایٹم سے نسبتاً چھوٹا الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران وغیرہ اور ایٹموں کے مرکزوں سے خارج ہونے والی الفاء، بیٹا اور گاما شعاعیں۔

۳) اور اس سے بڑا (ایٹم سے بڑا) یعنی قیامت تک دریافت ہونے والے ہر ایٹم کے ذرات اور اجزاء خواہ وہ کتنے ہی چھوٹے ہوں اور کتنے ہی بڑے ہوں۔

قرآن میں تفکر کرنے سے انسان کی نظر میں اتنی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ ایٹم کی اکائی میں روشنی کے جال کو دیکھ لیتی ہے۔ ایک صوفی یہ جان لیتا ہے کہ ایٹم کا، ایٹم کے اندرونی اجزاء اور ارض و سماء کا خالق ایک ہے اور پوری کائنات اس کی ملکیت ہے۔ اس نے اس کائناتی سسٹم کو ایک ضابطہ کے ساتھ تخلیق کیا ہے اور ہر چیز کو معین مقداروں کے ساتھ وجود بخشا ہے۔

مقداروں کا یہ علم وہ لوگ سیکھ لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق:

’’اور وہ جن لوگوں نے میرے لئے یعنی میری تخلیق کو جاننے کے لئے جدوجہد اور کوشش کی میں انہیں اپنے راستے دکھاتا ہوں۔‘‘(سورۂ عنکبوت۔ آیت نمبر۶۹)

قرآن میں لوہے (دھات) کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

’’اور ہم نے نازل کیا لوہا (اس میں دوسری دھاتیں بھی شامل ہیں جیسے یورینیم وغیرہ) اور اس میں ہم نے انسانوں کے لئے بیشمار طاقت اور فائدے رکھ دیئے ہیں۔‘‘(سورۂ حدید۔ آیت نمبر۲۵)

مرشد کی نگرانی میں تصوف کے اسباق کی تکمیل کرنے والا فرد جب ان مقداروں سے واقف ہو جاتا ہے جو اشیاء کی تخلیق میں کام کر رہی ہیں تو وہ مقداروں کو کم و بیش کر کے شئے میں ماہیت قلب کر سکتا ہے۔ مقداروں کا علم اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ دھات سیسہ (Lead) میں ایسی مقداریں موجود ہیں جو ایٹم کی قوت پر غالب آ سکتی ہیں۔

کائنات چار نہروں یا چار توانائیوں سے فیڈ ہو رہی ہے۔

۱۔ نہر تسوید

۲۔ نہر تجرید

۳۔ نہر تشہید

۴۔ نہر تظہیر

یورینیم اور لیڈ دونوں دھاتیں تسویدی لہروں سے فیڈ ہوتی ہیں۔ لیڈ کے اوپر ایسی لہروں کا غلاف بنا ہوا ہے کہ اگر اسے تلاش کر لیا جائے تو دنیا ایٹم کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رہ سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’زمین اور آسمان اور اس کے اندر جو کچھ بھی ہے۔ سب کا سب انسانوں کے لئے مسخر کر دیا گیا ہے۔‘‘ (سورۂ جاشیہ۔ آیت نمبر۱۳)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان زمین و آسمان میں موجود کسی بھی شئے کے اندر جب تفکر کرے گا تو اس شئے کے اندر کام کرنے والی مقداروں کا علم اسے حاصل ہو جائے گا۔ مختصر یہ کہ ایٹم مقداروں کا ایک مرکب ہے اور یہ مقداریں مادیت کی اکائی ہیں۔ مادیت کی ہر اکائی نور کے غلاف میں بند ہے۔ نور کے اوپر روشنی کا غلاف ہے۔ روشنی کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو بیاسی میل بتائی جاتی ہے۔ روشنی کی رفتار سے ہزاروں گنا نورانی لہروں کی رفتار ہے۔ نور اور روشنی مرکب اور مفرد دو لہروں کا ایک جال ہے جس کے اوپر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا ذرہ بنا ہوا ہے۔ صوفی جب روشنی کی سطح سے نکل کر نور میں داخل ہو جاتا ہے تو چھوٹے سے چھوٹے ذرہ میں ناقابل بیان طاقت (Energy) اس کے اوپر منکشف ہو جاتی ہے۔

موجودہ سائنسی ترقی میں جو عوامل کام کر رہے ہیں ان میں انفرادی سوچ اور مادی مفاد کا عمل دخل ہے۔ اس لئے یہ ساری ترقی نوع انسانی کے لئے پریشان اور بے سکونی کا پیش خیمہ بن گئی ہے۔ اگر یہی ترقی اور ایجاد پیغمبرانہ طرز فکر کے مطابق ہو جائے تو سائنس نوع انسانی کے لئے سکون و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی۔ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ ترقی کا فسوں انسانی نسل کو آتش فشاں کے کنارے لے آیا ہے۔ اگر اس کا مثبت تدارک نہ کیا گیا تو یہ دنیا کسی بھی وقت بھک سے اڑ جائے گی۔ جو چیز وجود میں آ جاتی ہے اس کا استعمال ضرور ہوتا ہے۔

موجودہ سائنسدان اور صوفی سائنسدان میں یہ فرق ہے کہ سائنٹسٹ کے پیش نظر پہلے اپنا مفاد ہوتا ہے اور صوفی کا علم مخلوق کے لئے وقف ہوتا ہے۔

کائناتی نظام کو سمجھنے کی صلاحیت کو تصوف میں مغیبات اکوان کہتے ہیں۔ مغیبات اکوان کے حامل صوفی خواتین و حضرات کے اندر اتنی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ہزاروں سال پہلے کے گزرے ہوئے حالات و واقعات اور ہزاروں سال بعد آنے والے حالات و واقعات کو دیکھ لیتے ہیں اور اس کی تفصیلات سے باخبر ہو جاتے ہیں۔


 

Topics