Topics

نیند اور بیداری (اپریل ۲۰۱۶)

 

علمِ حضوری اور علمِ حصولی کی مختصر تعریف کے بعد یہ نتیجہ مرتب ہوتا ہے کہ روح کو سمجھنے، جاننے اور پہچاننے کے لیے اگر کوئی معتبر اور حقیقی ذریعہ ہے تو وہ ”علمِ حضوری“ ہے۔ صرف علمِ حصولی سے روح کا سراغ نہیں ملتا۔ اگر کوئی آدمی علمِ حصولی سے روح کو سمجھنا چاہتا ہے تو وہ عقلی اور منطقی دلیلوں میں الجھ کر راستہ بھٹک جاتا ہے۔ ہر انسان اپنی فکر کے مطابق روح کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتا ہے۔ مثلاً کوئی کہتا ہے کہ انسان پہلے بندر تھا۔ کسی نے کہا انسان سورج کا بیٹا ہے۔ کوئی انسان کی تخلیق کو مچھلی کی تخلیق کے ساتھ وابستہ کرتا ہے، اور زیادہ سوجھ بوجھ کے لوگ، جب انہیں روح کے بارے میں کوئی حقیقی بات معلوم نہیں ہوتی تو روح سے قطع نظر کر کے مادی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ جس بندے نے بھی علمِ حصولی کے ذریعے روح کو سمجھنا چاہا وہ حقیقی اور حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچا، اور جس اللہ کے بندے نے علمِ حضوری کے ذریعے روح تک رسائی حاصل کی اس کے اندر سے شک اور وسوسے ختم ہو گئے اور یہ بات اس کا یقین بن گئی کہ گوشت پوست کا جسم ایک مفروضہ اور فکشن (Fiction) ہے۔ اس مفروضے اور فکشن کو سنبھالنے والی حقیقت ”روح“ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روح سے تعلق ختم ہونے کے بعد جسم کی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔

میں کون ہوں؟ آپ کیا ہیں؟

اس وقت ہمارے سامنے یہ تجسس ہے کہ انسان کیا ہے؟ ہم اس کو کس طرح جانتے اور پہچانتے ہیں؟ اور فی الواقع اس کی حیثیت کیا ہے؟ ہم انسان کو جس طرح جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ہے۔ ہڈیوں کے ڈھانچے پر رگ، پٹھوں اور کھال سے ہم ایک تصویر ہیں۔ لیکن روح کے بغیر اس جسم کے اندر اپنی کوئی حرکت نہیں ہے۔ کوئی اور چیز ہے جو اسے حرکت میں رکھے ہوئے ہے۔ مثلاً ہم مٹی کا ایک شیر بناتے ہیں، اس شیر کو ایسی جگہ رکھ دیتے ہیں جہاں گرد و غبار اڑتا رہتا ہے اور وہ گرد و غبار شیر کے اوپر جم جاتا ہے۔ ایک آدمی جب شیر کو دیکھتا ہے تو وہ گرد و غبار کا تذکرہ نہیں کرتا، وہ کہتا ہے کہ ”یہ شیر ہے“۔ جس طرح ایک شیر کے اوپر گرد و غبار جمع ہو کر یک جان ہو گیا ہے، اسی طرح روح نے بھی روشنیوں کے تانے بانے سے رگ، پٹھوں، گوشت اور کھال سے ایک صورت بنا لی ہے۔ اسی صورت کا نام جسم ہے۔

ہمارا مشاہدہ ہے کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اندر کوئی مدافعت باقی نہیں رہتی۔ مرنے کا مطلب یہ ہے کہ روح نے جسمانی لباس کو اتار کر اس طرح الگ کر دیا ہے کہ اب روح کے لیے اس میں کوئی کشش باقی نہیں۔ لباس کا یہ معاملہ عالمِ ناسوت یا عالمِ تخلیط تک ہی محدود نہیں ہے۔

روح ہر زون (Zone) میں، ہر مقام میں اور ہر تنزل کے وقت اپنا ایک نیا لباس بناتی ہے اور اس لباس کے ذریعے اپنی حرکات و سکنات کا اظہار کرتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اپنی حرکات و سکنات کا لباس کے ذریعے اظہار کرتی ہے، بلکہ اس لباس کی حفاظت بھی کرتی ہے اور اس لباس کو نشوونما بھی دیتی ہے۔ کہیں یہ لباس تعفن اور سرانڈ سے بنتا ہے، کہیں یہ لباس روشنیوں کے تانے بانے سے بنتا ہے اور یہی لباس نور سے بھی وجود میں آتا ہے۔ روح جب لباس کو مادہ (Matter) سے بناتی ہے تو مادہ کی اپنی خصوصیات کے تحت جسم کے اوپر وقت اور جگہ (ٹائم اور اسپیس) کی پابندیاں لاحق رہتی ہیں۔

لباس کی صحیح حیثیت (یعنی گوشت پوست کا جسم) کا ہمیں اس وقت علم ہوتا ہے جب ہم مر جاتے ہیں۔ مرنے کے بعد گوشت پوست کا جسم محض ایک لباس کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

ضروری ہے کہ ہم تلاش کریں کہ کیا زندگی میں ہمارے اوپر کوئی ایسی حالت واقع ہوتی ہے جو موت سے ملتی جلتی ہو یا موت سے قریب ہو؟ زندگی کے شب و روز میں جب ہم موت سے ملتی جلتی حالت تلاش کرتے ہیں تو ہمیں ایک حالت پر مجبوراً رکنا پڑتا ہے؛ اور موت سے ملتی جلتی یہ حالت ”نیند“ ہے۔

بزرگوں کا کہنا ہے کہ ”سویا اور مرا برابر ہے“۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نیند کی حالت میں روح کا مادی جسم (لباس) سے ربط برقرار رہتا ہے اور روح اپنے لباس کی حفاظت کے لیے چوکنا اور مستعد رہتی ہے، جبکہ موت کی حالت میں روح اپنے لباس سے رشتہ مکمل توڑ لیتی ہے۔

نیند ہماری زندگی میں ایک ایسا عمل ہے جس سے روح کی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے۔ ہم دو حالتوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک حالت یہ ہے کہ ہماری آنکھیں کھلی ہوئی ہیں، ہمارا شعور بیدار ہے، ہم ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں، محسوس کر رہے ہیں اور ہم حرکت میں بھی ہیں۔ یہ حالت بیداری کی ہے۔

زندگی کی دوسری حالت (جس کو نیند کہا جاتا ہے) میں ہم دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، خود کو چلتا پھرتا دیکھتے ہیں لیکن جسم حرکت نہیں کرتا۔ اس عمل سے یہ ثابت ہوا کہ روح اس بات کی پابند نہیں ہے کہ گوشت پوست کے ساتھ ہی حرکت کرے۔ روح گوشت پوست کے بغیر بھی حرکت کرتی ہے۔ گوشت پوست کے جسم کے بغیر اس حرکت کا نام ”خواب“ ہے۔

خواب کے بارے میں مختلف نظریات ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خواب محض خیالات ہوتے ہیں، جس قسم کے خیالات میں آدمی دن بھر مصروف رہتا ہے اس قسم کی چیزیں اسے خواب میں نظر آتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خواب نا آسودہ خواہشات کا عکس ہے؛ جب کوئی خواہش نا آسودہ رہ جاتی ہے اور اس کی تکمیل نہیں ہوتی تو وہ خواہش خواب میں پوری ہو جاتی ہے۔

اس طرح کی بے شمار باتیں خواب کے بارے میں مشہور ہیں اور ہر شخص نے اپنی فکر اور علم کے مطابق خواب کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہا ہے، لیکن اس بات سے ایک فردِ واحد بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جس طرح روح گوشت پوست کے جسم کے ساتھ حرکت کرتی ہے، اسی طرح روح گوشت پوست کے جسم کے بغیر بھی حرکت کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ خواب دیکھنا اور خواب میں کیے ہوئے اعمال اور حرکات محض خیالی ہیں، تو اس کی تردید ہو جاتی ہے۔ اس کی تردید اس طرح ہوتی ہے کہ ہر شخص ایک یا دو یا زیادہ خواب دیکھنے کے بعد جب بیدار ہوتا ہے تو خواب میں کیے ہوئے اعمال کا اثر اس کے اوپر باقی رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی واضح مثال خواب میں کیے ہوئے اعمال کے نتیجے میں غسل کا واجب ہو جانا ہے۔ جس طرح کوئی آدمی بیداری میں جنسی لذت حاصل کر کے ناپاک ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر غسل واجب ہو جاتا ہے، اسی طرح خواب میں کیے ہوئے اس عمل کے بعد بھی اس کے اوپر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خواب میں کوئی ڈراؤنا منظر نظروں کے سامنے آ گیا، آدمی جب بیدار ہوا تو اس منظر کی دہشت ناکی اس کے اوپر پوری طرح مسلط ہوتی ہے۔ جس طرح کسی دہشت ناک واقعے سے بیداری میں دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے، اسی طرح خواب میں دہشت ناک چیز دیکھنے سے دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے، یا اچھا خواب دیکھ کر بیدار ہونے کے بعد وہ خوشی ہوتا ہے۔


Topics