Topics

پتھروں میں چنگاری۔مئی۔۲۰۱۳

 

آدم و حوا جب زمین پر آئے تو ان میں شعور بہت کم تھا، وہ نہیں جانتے تھے کہ وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے۔ قانون قدرت کے تحت آدم کی نسل دو سے چار، چار سے آٹھ اور اسی طرح جب ہزاروں سے تجاوز کر گئی تو شعور بھی لاکھوں گنا ہو گیا۔ آدم و حوا کے بچوں نے جڑیں، ناپختہ پھل اور کچا گوشت کھانے میں کراہیت محسوس کی ان کے شعور نے رہنمائی کی کہ کچا گوشت نہ کھایا جائے۔ گیہوں کے دانے چبانے کے بجائے گندم پیس کر آٹے کی روٹی پکانی چاہئے۔

شعور ایک ہو یا ہزار ہوں جب کسی نقطے پر مرکوز ہو جاتے ہیں تو اس کا مظاہرہ ہو جاتا ہے۔ لاکھوں آدمیوں میں سے کسی ایک آدمی نے غیر اختیاری طور پر دو پتھر اٹھائے ان کو آپس میں ٹکرایا، ٹکرانے سے حرارت پیدا ہوئی تو پتھروں میں سے چنگاری نکلی۔ چنگاری کی چمک نے ابن آدم کو اس طرف متوجہ کیا کہ چنگاری سوکھی گھاس کو جلا ڈالے گی اور دیکھتے دیکھتے آگ بھڑک اٹھی۔

زمین پر انسان کا یہ پہلا دن تھا جب انسان حیوانات سے ممتاز ہوا اور اس نے اس ایجاد سے اپنے لئے کھانا پکانا شروع کر دیا۔ حیوانات سے ممتاز ہونے کے بعد انسان کے ذہن میں نئے نئے خیالات آتے رہے اور پھر ایجاد کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

آدم اور حوا کے آنے سے پہلے زمین موجود تھی اور زمین پر جنات آباد تھے۔ زمین کے وارث جنات اور آدم ہیں۔

جنات نے جب زمین پر خون خرابہ کیا اور زمین کی کوکھ اجاڑنے کی ہر تدبیر پر عمل کیا تو قدرت نے جنات سے سرداری چھین کر آدم کو دے دی۔ لیکن ابن آدم نے بھی وہی کیا جو جنات کرتے تھے۔ بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا۔

حضرت آدم علیہ السلام نے انسانی معاشرہ کے لئے جو قوانین وضع کئے ان کی اولاد نے ان پر پوری طرح عمل نہیں کیا۔ طویل عرصے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت نوح علیہ السلام ۹۵۰ برس تک تبلیغ کرتے رہے۔ نو سو پچاس برسوں تک تبلیغ کرنے پر اسّی (۸۰) مرد اور عورتیں ایمان لائے ۔ اس پاداش میں قوم پر عذاب نازل ہوا۔ آسمان سے اتنا پانی برسا کہ زمین سمندر بن گئی۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی ہلاک ہو گیا۔ اسّی (۸۰) مرد اور عورتیں جو ایمان لائے تھے عذاب الٰہی سے بچ گئے۔ زمین چھ مہینے تک پانی میں ڈوبی رہی۔

نوح علیہ السلام کے تین بیٹے ’’حام، سام، یافث‘‘ جو کشتی میں سوار تھے ان سے آدم کی نسل کا دوبارہ آغاز ہوا۔ حام چھوٹے بیٹے تھے، سام منجھلے اور یافث بڑے بیٹے تھے۔ آج کی دنیا میں جہاں بھی جس رنگ کی بھی نسل آباد ہے وہ ان ہی تین بھائیوں کی اولاد ہے۔

ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی حیات طیبہ پر غور کیا جائے تو تمام پیغمبروں نے آدم زاد کو اپنی روح سے واقف ہونے کی ہدایت دی ہے۔ یعنی مادی وجود کو سہارا دینے اور مادی وجود کو قائم رکھنے والی روح کو پہچانو۔ پیغمبروں نے بتایا ہے کہ روح اللہ کا امر ہے۔ انسان کو اللہ کے امر کا علم دیا گیا ہے مگر تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ تھوڑا علم لامحدود علم کا قلیل علم ہے۔

سمندر کے قطرہ کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں پورے سمندر کی صفات نظر آئیں گی۔

 انسان دو رخ ہیں۔۔۔۔ایک جسمانی اور دوسرا کا ماورائی جسم ہے۔ مادی جسم کی تعریف یہ ہے کہ اس میں ہر لمحہ ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے۔ یہ جسم فنا ہو کر مٹی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

دنیا ہزاروں سال سے موجود ہے۔ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایک بھی مثال نہیں ہے کہ کسی مردہ جسم نے کوئی ایجاد کی ہو۔ یا مردہ اجسام سے کوئی اور انسانی عمل سرزد ہوا ہو۔

 

اللہ کے فرستادہ ہر نبی مکرم علیہ السلام نے اس امر کی تبلیغ کی ہے کہ انسان کا صحیح ورثہ وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کو خود پڑھایا اور سکھایا ہے۔

ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کا سبب بھی یہی علم ہے۔ جو جنات کو اور فرشتوں کو عطا نہیں کیا گیا۔

پیغمبروں کی تعلیمات کے مطابق واحد ذات اللہ ہے جس کی پرستش کی جاسکتی ہے۔

پیغمبروں کی زندگی پر تفکر کیا جائے تو ان میں صراط مستقیم پر قائم رہنے اور صراط مستقیم پر دعوت دینے کا بھرپور عزم ہوتا ہے۔ پیغمبر عفو و درگذر سے کام لیتے ہیں، حق تلفی نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ہر پیغمبر کی تعلیمات کا مقصد توحید پرستی ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ اللہ قادر مطلق ہے وہ جسے چاہے عزت اور شرف سے نواز دے اور جسے چاہے ذلیل و خوار کر دے۔ اللہ عجز و انکساری کو پسند فرماتا ہے۔

تکبر اور غرور اللہ کے لئے ناپسندیدہ اعمال ہیں۔ ناپسندیدہ اعمال جب حد سے تجاوز کر جاتے ہیں تو قدرت نافرمانوں کو نیست و نابود کر دیتی ہے۔ ہر انسان اپنے عمل کا خود جوابدہ ہے اس لئے باپ کی بزرگی بیٹے کی نافرمانی کا مداوا نہیں بن سکتی اور نہ بیٹے کی سعادت باپ کی سرکشی کا بدل ہو سکتی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بت پرست قوم سے بیزار ہوئے انہیں خدا کو جاننے پہچاننے اور عرفان حاصل کرنے کی آرزو ہوئی۔ ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اماں سے پوچھا "اے ماں! تیرا خدا کون ہے؟ بیٹا میرا خدا تیرا باپ ہے جو میری ضروریات کا کفیل ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا۔ ’’اماں جی! میرے باپ کا خدا کون ہے؟‘‘ ماں نے بتایا کہ آسمان پر چمکنے والے ستارے تیرے باپ کے خدا ہیں‘‘۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان کے ا ندر کے نور نے خدا کی تلاش کے لئے انہیں بیقرار کر دیا۔

رات اندھیری ہو گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا اور کہا یہ میرا رب ہے، سو جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے کہا میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا! یہ میرا رب ہے۔ تو جب وہ غروب ہو گیا تو فرمایا! اگر مجھ کو میرا رب ہدایت نہ کرتا رہے تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاتا اور پھر آفتاب کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے! یہ سب سے بڑا ہے تو جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا۔ اے قوم! بے شک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا- اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’پھر ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں عجائبات دکھائے تا کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔‘‘

(سورۂ انعام: آیت نمبر۷۵)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا! پروردگار اس بندے تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ مچھلی اپنے توشہ دان میں رکھ لو۔ جس مقام پر مچھلی گم ہو جائے اسی جگہ وہ شخص ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اس مقام پر پہنچ گئے جہاں وہ شخص تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا اور بتایا کہ میرا نام موسیٰ ہے۔ اس شخص نے پوچھا موسیٰ بنی اسرائیل؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا، ہاں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ میں آپ سے وہ علم حاصل کرنے آیا ہوں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ اس شخص نے کہا۔ اے موسیٰ! تم میرے ساتھ رہ کر ان معاملات میں صبر نہیں کر سکو گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا! انشاء اللہ مجھ کو آپ صابر پائیں گے۔ اس شخص نے کہا تو پھر شرط ہے کہ جب تک آپ میرے ساتھ رہیں کسی معاملے میں مجھ سے سوال نہ کریں۔ دونوں کشتی میں بیٹھ گئے۔

اس شخص نے (جسے اہل باطن صوفیاء خضر علیہ السلام کہتے ہیں) کشتی میں سوراخ کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ یہ آپ نے کیسی عجیب بات کی ہے کہ کشتی والوں نے ہم سے کرایہ بھی نہیں لیا اور آپ نے کشتی میں سوراخ کر دیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ صبر نہیں کر سکیں گے۔

کشتی کنارے لگی تو دونوں اتر کر ایک میدان میں پہنچے۔ میدان میں بچے کھیل رہے تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا یہ تو بہت برا ہوا کہ آپ نے ناحق ایک معصوم کو قتل کر دیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا میں نے آپ سے شروع میں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر و ضبط سے کام نہیں لیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اس مرتبہ اور نظر انداز کر دیجئے اس کے بعد کوئی عذر نہیں رہے گا۔ اور آپ مجھ سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

چلتے چلتے ایک بستی میں پہنچ گئے۔ ایک مکان کی دیوار گرنے لگی تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے درست کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ بستی والوں نے نہ ہماری مہمان داری کی نہ ہمیں ٹھہرنے کی جگہ دی۔ آپ نے بغیر اجرت کے دیوار بنا دی۔

حضرت مریم علیہ السلام انہی جلیل القدر بندوں میں ممتاز ہیں۔ جب فرشتوں نے کہا ’’اے مریم علیہ السلام! بلاشبہ اللہ نے تجھ کو بزرگی دی اور پاک کیا اور دنیا کی عورتوں پر تجھ کو برگزیدہ کیا۔ اے مریم علیہ السلام اپنے پروردگار کے سامنے جھک جا اور سجدہ ریز ہو جا اور نماز قائم کرنے والوں کے ساتھ نماز ادا کر۔‘‘

قرآن حکیم میں ہے جب فرشتوں نے مریم علیہ السلام سے کہا:

’’اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنے حکم کی بشارت دیتا ہے اور اس کا نام مسیح ابن مریم علیہ السلام ہو گا۔ وہ دنیا و آخرت میں صاحب وجاہت اور ہمارے مقربین میں ہو گا۔‘‘

(سورۂ آل عمران: آیت نمبر۴۵)

’’وہ ماں کی گود میں لوگوں سے کلام کرے گا اور وہ نیکو کاروں میں سے ہو گا‘‘۔

(سورۂ آل عمران: آیت نمبر۴۶)

مریم علیہ السلام نے کہا کہ:

’’میرے لڑکا کیسے ہو سکتا ہے؟ جب کہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔‘‘

فرشتے نے کہا:

’’اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اسی طرح پیدا کر دیتا ہے۔ جب وہ کسی شئے کے لئے حکم کرتا ہے تو بس کہہ دیتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے‘‘۔

(سورۂ آل عمران: آیت نمبر۴۷)

حضرت مریم علیہ السلام بچے کو گود میں لے کر جب شہر میں پہنچیں تو لوگوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔

مریم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے لڑکے کی طرف اشارہ کیا جو کچھ پوچھنا ہے اس سے پوچھ لو میں تو آج میرا روزہ ہے۔

حضرت مریم علیہ السلام کے اس واقعے سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ خواتین کو بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں کی طرح روحانی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔

آسمان سات ہیں۔۔۔۔۔ہر آسمان ایک شعور ہے یعنی شعوروں کی یکجائی کا نام سات آسمان ہے۔

 زمین کے کناروں سے باہر دیکھنے کی صلاحیت کے حامل سالک کے اندر پہلے آسمان کا شعور پیدا ہوجاتا ہے۔ علیٰ ہزا القیاس  اس طرح سات آسمانوں کو وہ دیکھ لیتا ہے اور سات آسمانوں میں وہ داخل ہوجاتا ہے۔

اللہ کریم نے فرمایا!

’’ہم نے آسمان اور زمین کو تہہ در تہہ بنایا ہے‘‘۔

’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم بھی انہی کی مانند ہے‘‘۔

تہہ در تہہ سے مراد دراصل وہ شعوری صلاحیتیں ہیں جو اللہ نے انسان کو ودیعت کی ہیں۔ سات تہوں والے آسمانوں یا زمین سے مراد یہ ہے کہ ہر تہہ ایک مکمل نظام ہے اور ہر نظام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ایسا ضابطہ حیات جس کا ایک دوسرے سے تصادم نہیں ہوتا۔ ان سب کا رشتہ خالق کائنات کے ساتھ قائم ہے۔

تمام چیزیں اور مخلوقات اس بات کا علم رکھتی ہیں کہ ہمارا خالق اللہ ہے اور اس علم پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔

اربوں کھربوں سے زیادہ ان چیزوں یا مخلوقات میں سے کوئی ایک مخلوق بھی اللہ کی خالقیت سے انحراف کرے تو نظام زندگی میں خلل واقع ہو جاتا ہے۔

یہی بات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ تمام چیزیں جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اللہ کی حمد بیان کرتی ہیں یعنی اللہ کی خالقیت سے انحراف نہیں کرتیں۔


 

Topics