Topics
خاندان
الگ الگ اس طرح بن جا تے ہیں اللہ تعالیٰ نے کن کہا توسا ری کا ئنات بن گئی ایک
جگہ اس میں انسان بھی تھے ، جنات بھی تھے،
فرشتے بھی تھے ۔ کن ابھی بھی جا ری و ساری ہے۔ تو ہرچیز جب کن کہا اللہ تعالیٰ نے ساری کا
ئنات بن گئی تو اس کائنات میں یہ بات موجود تھی وہ کا ئنات تو بن گئی کائنات کو یہ
پتا نہیں تھا میں کیا ہوں ؟میں کون ہو ؟کس طرح ہوں ؟گمشدگی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو آواز دی، گمشدگی کا
مطلب یہ ہے کہ کائنات تو بن گئی لیکن کا ئنات کو ابھی حواس منتقل نہیں ہوئے تھے
۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے کائنات بنا ئی، پھر
کا ئنات بنانے کے بعداللہ تعالیٰ نے حواس عطا کئے اس کائنات کی گمشدگی کو دور کرنے
کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود کوکائنات کے سامنے کیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کا
ئنات کو مخاطب بھی کیا اور یہ کہا (اے مخلوق میں تیرا رب ہو ں )تو جب کائنات کو اس
بات کا علم ہوا کہ کوئی ہمارا رب ہے تو ا س کا مطلب یہ ہو اکہ کائنات کے اندر
سماعت منتقل ہو گئی ۔
یعنی
حو اس کا جو پہلا درجہ یعنی حواس کاپہلا جو درجہ یہ جو انسان کو اس کائنات کو حاصل
ہوئی وہ سماعت ہے ۔اب اس کو کا ئنات کی بجا ئے آدم ہم کہے گے آدم کو یہ سماعت کی
حس حاصل ہو گئی ۔ تو اب اس کے اندر دو حواس پیدا ہو گئے ایک حواس یہ پیدا ہوا اسے
پتا ہے میں ہو ں کیا ہوں؟ کون ہوں؟ کس طرح ہوں ؟کچھ بھی نہیں پتا تھا جب اللہ
تعالیٰ نے کہا الست بر بکم …میں نے آواز دی اللہ تعالیٰ نے (اے مخلوق میری طرف
دیکھ میں تیرا رب ہوں )تو سب سے پہلے ا نسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حواس براہ راست
منتقل ہو ئے وہ شناخت دو حواس کائنات میں مخلوق میں آدم میں آگئے ایک یہ کہ میں
ہوں، اپنا انحصار اپنا تشخص اور دو سرا یہ
ہے کہ آواز سنے کے بعد یہ ہے کہ کوئی آدمی جب کسی کو آواز دیتا ہے تو اس کو
متوجہ کرنا ہی مقصود ہوتا ہے تو جب کائنات اس آواز کی طرف متوجہ ہوئی تو اس کا
ئنات نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ سامنے مو جود ہیںتو سامنے موجود دیکھنے کامطلب یہ ہے
کہ تیسرے حواس انسان کو دیکھنے کے منتقل ہو گئے ۔
تیسری قوت بصارت جو ہے وہ منتقل ہو گئی اور جب
اللہ تعالیٰ نے کن کے بعد کا ئنات کو مخاطب کیا تو پہلے سماعت منتقل ہو گئی ۔اور
پھر جب کائنات نے اس آواز کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا تو سب سے پہلے اس نے اللہ
میاں کو دیکھا تو اس کوسماعت اور بصارت منتقل ہو گئی سماعت اور بصارت منتقل ہو نے
کے بعد اس نے اللہ تعالیٰ کے ہو نے کا ، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیاتو اب
جو ہے اسے قوت گفت یعنی بو لنے کی حس جو ہے منتقل ہو گئی۔ ا ب یہ دیکھئے ایک سننا
،ایک دیکھنا ،ایک بو لنا اور ایک اپنا ادراک کر نا چاہا ۔تویہ چار حواس جو ہیں اس
کو منتقل ہو گئے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ اس کو چاروں حواس تو منتقل ہو گئے لیکن
یہ چار حوا س پوری کائنات کومشترک منتقل ہو گئے ۔انفرادی طور پر ابھی کوئی بات
زیربحث نہیں آئی ۔تو یہ جو حواس منتقل ہو ئے اس کو کہتے ہیں نوعی حواس منتقل ہو
گئے ۔
یعنی
انسان نے اپنے ادراک کرلیا میں انسان ہوں ، بکر ی نے خو د کا ادراک کر لیامیں بکر
ی ہو ں ، کبوتر نے خودکا ادراک کر لیامیں کبوتر ہو ں ،ساری کائنات میں ہر نو ع نے
اپنا ادراک کر لیا اور نوع اعتبار سے کا ئنات کو حواس منتقل ہو گئے ۔پھر یہ سلسلہ
نزول کاشروع ہوا پھر یہ ساری کائنات جو ہے عالم ارواح سے منتقل ہو کر لوح محفوظ پر
منتقل ہو گئی ۔ یعنی کائناتی پروگرام پہلے اس طرح بنا کہ وہاں صرف ادراک تھا۔ پھر
کا ئنات کا دوسرا پروگرام یہ بنا کہ کائنات کے اندر تین حسیں پیدا ہو گئے، سننا
دیکھنا ،بو لنا یعنی کان منتقل ہو گئے، آنکھ منتقل ہو گئی اوربو لنے کے لئے زبان
منتقل ہو گئی اور ساتھ ساتھ چو تھی حس پہچانے کی منتقل ہو گئی ۔کہ جب اس نے اللہ
تعالیٰ کو دیکھا اور دیکھ کر پہچانا تو یہ کہا ا، جی ہاں آپ ہمارا رب ہے ہم اس
بات کا اقرار کر تے ہیں یہی کا ئنات میں یہ ساری چیزیں پیدا ہو ئیں اس کو روحانیت
میں کائنات کا نزول کہا جا تا ہے۔
جب یہ نزول واقع ہوا تو کتنی چیزوں کا ادراک
ہوا، یہ کائنات سے پہلے کچھ نہیں تھا۔
اللہ تھا تو یہ کائنات کا ایک رخ تھا ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جب کن کہا تو اللہ
تعالیٰ کے ذہن میں جس طرح کا پروگرام وہ نشر ہو گیا یہ کائنات کا دوسرا رخ ہوا
۔پھرجب اللہ تعالیٰ نے کا ئنات کو حواس منتقل کر دئیے تو یہ کائنات کا تیسرا رخ ہو
گیا ۔تو اب جہاں اللہ تعالیٰ نے کن سے پہلے مو جود کئے اس کو واجب الوجود کہا
، عالم ارواح کہا، علم القلم بھی کہا ہے اور تیسرے اس میں جو ہے
وہ لو ح محفوظ منتقل ہو گیا ۔تو اس کا مطلب یہ ہوا جیسے ہی اللہ تعالی نے الست
بربکم کہا تو کائنات کا جمود ٹوٹ گیا اور جمود ٹوٹنے کے بعد حرکت پیدا ہو گئی
۔جیسے ہی یہ حرکت پیدا ہوئی نزول پیدا ہو گیا۔ تو لوح محفوظ سے پھر نزول پیدا ہو ا
تو یہ نزول ہوا تو یہ ساری کائنات برزخ میں آگئی ۔ اس عالم کو عالم مثال بھی کہتے
ہیں۔
تو اب برزخ میں آنے کے بعد یہ ہوا کہ انسان نے
او ر یہ ساری کا ئنات نے یہ جان لیا کہ ہماری ایک حیثیت نوع کی ہے او ر یہ ہے کہ
ہم ایک ہی نہیں ہیں بلکہ ہمارے اندر بے شمار اور بھی افراد ہیں ۔ان بے شمار افراد
کے اجتماعیت سے نوع ہے ۔اور نزول ہوا تو وہ لوگ جو ہیں ، یہاں پیدا ہو گئے زمین پر اور جو پیدائش کا جو
سلسلہ ہے ۔پو ری کائنات میں ایک ہی ہے جیسے انسان کے بچے پیدا ہو تے ہیں یا انسان
اپنے ماں کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے اس کی ا ولادعلقمہ سے بنتی ہے۔ ایسی طرح گائے
کے اندر بھی ہوتا ہے ، گھوڑے کے اندر بھی ہوتا ہے ،بھیڑ کے اندر بھی ہوتا ہے ،
بھینس کے اند ر بھی ہوتا ہے ، کبوتر کے اند ر بھی ہوتا ہے۔ تو کائنات کی پیدائش کی جو تخلیق ہے یہ سب جگہ
ایک سی ہوتی ہے لیکن جتنے نوع سب کی جبلت الگ الگ ہے ۔ آدمی اوپر سے نیچے کوپیدا
ہو رہا ہے اور نیچے سے اوپر کو جا رہا ہے ۔
یعنی
نزول کر رہا ہے۔ اگر آپ دیکھیں عالم ارواح سے اس نے نزول کیا تو لوح محفوظ پر
آگیا، لو ح محفوظ سے نزول کیا تو عالم برزخ میں آگیا، عالم برزخ سے نزول کیا تو
عالم ناسوت میں آگیا، عالم نا سوت سے پھرشروع ہو گیا صعود اورناسوت سے شروع ہوا
تو عالم اعراف میں چلا گیا یہ تو یہ ایک پورا سرکل بنتا ہے ۔ تو ایک سرکل اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخلیق ہوئی
اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس وہ تخلیق پلٹ رہی ہے یہ تین دائروں میںبنی ہوئی ہے ۔