Topics

باطنی آنکھ سے کیا مراد ہے اور اس کو بیدار کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے ؟

 

سوال ۔یہ باطنی آنکھ، تیسری آنکھ ،قلب کی آنکھ اور روح کی آنکھ سے کیا مراد ہے کیا یہ سب ایک ہی آنکھ کے مختلف نام ہیں اور دوسری بات ان کے کام کیا ہے ان کو بیدار کرنے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے ؟

جواب۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرما یا ہے …عربی آیت …یہ کہ کوئی آنکھ نہیں جو دیکھے اللہ کو مگر اللہ خود اس کی آنکھ بن جا تا ہے کہ کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ جب خود کو اللہ دیکھا نا چاہتا ہے۔ تو اللہ خود آنکھ بن جا تا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو باطنی آنکھ نہیںدیکھ سکتی ۔ اللہ کو اللہ کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں کہ جو بندے پر اپنی تجلیات کا انکشاف کر ے دوسرے الفاظ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ بندے کوخود کو دیکھائیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ وہ خود آنکھ بن جاتے ہیں تو اس میںجومطلب ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ذات لا محدود، محدود مٹی کے اندر نہیں رہے سکتا ۔مثلا ً آپ مٹکے میں پانی نکال لیں ۔تو مٹکے میں نکلا ہوا ایک قطرہ پانی اورا س کی حیثیت پانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے  ۔لیکن ایک مٹکہ جو ہے وہ گلاس میں سے نہیں نکلتا بلکہ گلاس اس میں سما جا تا ہے ۔

کوئی بھی محدودچیز لا محدود میں شئے میں سرائیت کر کے اپنا وجود قائم کر لیتی ہے ۔ جب تک کہ کوئی چیز محدود ہے وہ لامحدود شئے میںمنتشر ہو کر اپنا وجومنتقل کرتی ہے ۔لیکن وہ خودلا محدود نہیں ہوتی۔ اب یہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا …عربی آیت …جب کوئی آنکھ اللہ کا ادراک نہیں کر سکتی لیکن اللہ خود آنکھ بن جا تا ہے ۔اب اس آیت کریمہ میں جب آپ غور کریں گے تو اس سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ کوئی بندہ اللہ کو دیکھ سکتا ہے ۔لیکن ان کی طرز یہ ہے کہ کوئی بندہ اللہ کو اللہ کی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے ۔کوئی بندہ اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔اللہ کی آنکھ اس سے اور زیادہ وضاحت کریں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فر مایا ہے کہ ہم نے ایک پتلا بنا یا مٹی سے ، مٹی کی کئی قسمیں، ہم نے کھنکنی مٹی سے ،بجنی مٹی سے اور خلا میںروح کو ڈال دیا اور نوع انسان بن گئے یعنی خلاء ہے اور اس خلاء کے اندر ہم نے روح ڈال دی تو اس کا مطلب یہ ہواہم نے انسان کے اندر اپنی روح ڈالی دی۔

 تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک پتلا ہے جب تک انسان پتلا ہے وہ ناقابل تذکرہ ہیں اور جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح ڈال دی تو وہ خلا ء جو ہے وہ بھر گئی اور اس خلاء کے بھرنے کے بعدانسان کے اندحواس پیدا ہو گئے ہے دیکھنے کے حواس، سننے کے حواس، کسی چیز کو محسوس کرنے کے حواس، کسی چیز کو سمجھنے کے حواس،تو ا ب اصولً یہ ہوا کہ انسان کے پتلے کے اندر خلاء کے اندر اللہ کی روح نہ ہو تو اس کے اندر حواس نہیں پیدا ہو تے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پتلے کے اندر یا خلاء کے اندراپنی روح ڈال دی تو اس میںحواس پیدا ہو گئے۔اب حواس جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ڈالیں ہیں وہ دو طرح کے حواس ہیں۔ ایک طرح کے حواس یہ ہے کہ وہ حواس مادی چشمے لگا کر کسی چیز کو محدود دائرے میں دیکھنا۔اس کو ہم کہتے ہیں مادیت کا دیکھنا ۔ گوشت پوست کا عارضی اور ایک حواس وہ ہیں جو مادی آنکھ کی کار گزاری کے خلاف کسی چیز کو لا محدود دیکھنا۔

 اب انسان کے اندر ایک آنکھ محدود ہے اب انسان کے اندر ایک سکت موجود ہے مادی آنکھ بھی ایک آدمی کی نظر کمزور ہے۔ اس کو آپ چشمہ لگا دیجئے تو وہ دور تک دیکھے گا اب اسی کے آپ دور بین لگا دیجئے تو وہ اور زیادہ دور دیکھے گا۔تو وہی آنکھ بعد میں ٹیلی اسکوپ پر آپ رکھ دیں تو آسمانوںمیں جو ستارے ہیں ان کی واضح تصویریں دیکھے گا۔ اب یہ ہے کہ اگر کسی صورت سے آنکھ کا نظام تبدیل کر دیا جائے ۔چاہے تومادی اعتبار سے کیوں نہ ہوتو مادیت کی وسعت جو ہے وہ بڑھ جاتی ہے۔یہ رات دن کا ہمارا تجربہ ہے کہ لیکن ماشااللہ اتنے لوگ چشمے لگا تے ہیں اگر وہ چشمہ اتار دیں گے تو انہیں قریب کی چیزیں نظر آئیں گی دور کی چیزیںنظر نہیں آئیں گی ۔اگر وہ چشمہ لگا لیں گے تو ان کو دور کی چیزیں نظر آئیں گی ۔سوال یہ ہے کہ مادی آنکھ کی جووسعت ہے دیکھنے کی،  ہر فرد کے اندر جب چشمہ لگا یا تو نظر کی حثیت بدل گئی ۔

چشمہ کیا بدلاکہ نظر جو ہے نظر کو دیکھنے کا طریقہ ہے اس طریقے میں نظر کا ڈھونڈنا اور محوری گردش کا نظام ہے ۔چشمے کا کام جو ہے۔ اگرہم چشمہ لگا تے ہیں تو نظر گھوم جاتی ہے اور گھوم کرفوکس بن کر دور تک جاتی ہے ۔اس کی مثال یہ سمجھیں آپ کہ آپ ایک بلب جلا ئیں چھوٹا جلائیں بڑا جلا ئیں یعنی ساٹھ واٹ کا بلب جلائیں تو وہی بلب ایک بیٹری میں لگا دیںچارج جیسے کہتے ہیں اور وہی بلب اس کے سامنے ایک شیشہ لگا ئیں تو روشنی گھوم گھوم کرفوکس اتنا بڑا ہو گا کہ وہ میلوں دور پہنچے گا۔ کسی بھی بلب کا جب وہ میلوں تک پہنچ جائے گا لیکن ساٹھ یا ایک ہزار واٹ بجلی کا جو بلب ہے وہ اس واٹ ہے تو اس میں نظر کے واقع میں دو باتیں زیربحث آگئیں کہ نظر جو ہے اس کی جووسعت ہے،وسعت کا تعلق محوری گرد ش سے ہے ۔گھومنے سے ہے دائرے سے ہے اور دوبین کا دوربین کے اندر جتنے زیادہ عدسے ہو تے ہیں اور زیادہ شفاف ہو گا دوربین زیادہ صاف نظر آئے گا اب آپ بندوق پر آجائیے آپ غلیل سے چھرے پھنکے کیا کہتے ہیں غلیل سے بڑی دور جائیں گے ۔

لیکن اچھی بندوق کی نالی کو طرح کھول کر دیکھئے گے اس کی بناوٹ بھی الگ ہو گی ۔مطلب یہ ہے کہ آپ اس کا گھوڑادبا دیں گے بندوق کے اندر تو گولی کی کتنی رفتار ہو گی،  مقصد یہ ہے کہ رفتار کا تعن ہے تو محوری گردش سے ہے  اور رفتار کی کمی کا تعاون جو ہے وہ طولانی گردش ہے تو یہ ساری زمین جو ہے یہ دو گردشوں پر چل رہی ہے ایک محوری گردش ہے ایک طولانی گردش ہے ۔تو جب ہم کسی لا محدود دائرے میں قدم رکھتے ہیں تو ہوتا یہ ہے کہ ہمارے اندر محوری گردش جو ہے ، تیز جاتی ہے اس سے بھئی زیادہ تیز ہو جاتی ہے ۔کہ ہم مادیت کو چھوڑ دیتے ہیں ۔اب بھائی نے سوال یہ ہے کہ باطنی آنکھ یا تیسری آنکھ سے کیا مراد ہے اور باطنی اور تیسری آنکھ سے جب انسان دیکھتے ہیں تو اس انسان کے اندر اس پتلے کے اندر انسان روح ہوتی ہے تو اس روح کا دیکھنا بدل بدل کرایک میڈیم کے ذریعے دیکھ رہی ہے ۔تو میڈیم کے ذریعے کوئی روح دیکھ رہی ہے تو وہ مادی آنکھ سے دیکھ رہی ہے ۔

ٹائم اسپیس سے پابند ہو کر دیکھ رہی ہے۔ محدود دیکھ رہی ہے ۔لیکن اگر یہی نظر روح کے لینز سے دیکھ رہی تواتنی تیز ہوجاتی ہے کہ عرش کو دیکھ لیتی ہے ۔اختتام 

Topics