Topics
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
ا
س میں کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کچھ لوگوں کواعتراض نہیں ہے تو لوگوں مردوں کو یا
خواتین کو مزرات پر جا نا چاہئے یا نہیں قبرستان میں مرد حضرات جا سکتے ہیں، لیکن خواتین کو وہاں نہیں جا نا چا ہئے۔ خواتین
کو وہاں کیوں نہیں جا نا چا ہئے؟ اس کی وجہ یہ بیان کی جا تی ہے جب خواتین قبرستان
میں جا تی ہیں تو وہاں وہ مردوں کو ننگی نظر آتی ہیں۔ بہر حال یہ ایک اختلا ف ہے دو گروں آپس میں د
ست و گریباں بھی ہو تے ہیں اس میں ایک گروہ جو ہے وہ اس کو بات اتنی زیادہ اہم
سمجھتا ہے اگر قبرستان میں نہیں گئے یا مزرات پر انہوں نے حاضری نہیں دی نا
اعوذ بااللہ ان کا اسلام کمزور ہو جا ئے
گا۔ دوسرا گروہوں یہ کہتا ہے کہ مزار پر
گئے وہاں جا کر کچھ دعا ما نگی تو ایمان خراب ہو جا ئے گا، اسلام سے خارج ہو جا ئیں گے۔ اس سلسلے میں مذکرات بھی ہوتے رہے بہت ساری
کتابیں بھی لکھی گئیں اور ایک الگ الگ گروہوں بھی بن گئے اور اس گروہوں کی وجہ سے
لوگ ایک دوسرے کو مسلمان بھی نہیں سمجھنے لگے ۔
آج میں یہ چا ہتا ہوں کہ اس سلسلے کی جوحالت ہے
مذہبی مسئلہ بن گیا ہے اور علماء دین کا جواب دے سکتے ہیں لیکن ہم اس مسئلے کو آج
انشا اللہ روحانی نقطہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں ۔ آپ لوگوں نے اگر ذرا سی
بھی توجہ دی اور مسئلہ کی نو عیت پر غور فکر میں میرا ساتھ دیا انشا اللہ یہ مسئلہ
ا س طرح حل ہو جا ئے گا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں کم از کم ان کے ذہن تو صاف ہو
جائیں گے۔ قبرستان میں جب آدمی چلا جا تا ہے تو اس کا مطلب ہے جو اس کا مادی جسم
ہے یعنی جس طرح وہ مادی جسم میں زندہ تھا ، بولتا تھا ، کھا تا تھا، پیتا تھاوہ ختم ہو گا اور قبر کے اندر سے اس کی
روح واقع ہو جا تی ہے۔ یہ بات صحیح ہے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم جو ہماری زندگی ہے موت سے پہلے کی زندگی ہے جیسے ہم سب
لوگ بیٹھے ہیں یہ ہماری زندگی ہے ۔جب ہم اس کے اوپر غور کر تے ہیں، زندگی کا تجزیہ
کر تے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ کوئی Matterیا مادیت کوئی معنی ہی
نہیں رکھتے اب مثلا ً جیسے ہم یہاں بیٹھے ہو ئے ہیں اگر ہم سے یہ پوچھا جا ئے کہ
بھئی کھا نا کو ن کھاتا ہے؟
تو آپ یہ کہے گے کھانا ہم کھا تے ہیں اس سے یہ
پو چھا جا ئے آپ کھا نا کھا تے ہیں اگر آپ کے اندر سے روح نکل جا ئے تو آپ کھا
نا کھا ئیں گے تو کہے گا ؟نہیں کھا سکتے مر گئے صاحب وہ کھا نا تو نہیں کھا سکتے
مر گئے توآپ کا نام کیا ہے ؟میرا نام شریف ہے ۔اگر آپ کے اندر سے روح نکل جا ئے
آپ بات کر سکتے ہیں؟اسی طرح سے ہم کسی سے پو چھے صاحب آپ کا نام عبداللہ صاحب ہے
۔عبدا للہ صاحب آپ میری بات سنتے ہیں ہاںجی سنتا ہوں۔ اچھا صاحب آپ کے اندر سے روح نکل جا ئے تو آپ
میری بات سنیں گے ؟ انہوں نے کہا نہیں صاحب نہیں سنے گے تو اس کا مطلب ہے مادی جسم
کی حیثیت کچھ ہے ہی نہیں تو مادی وجود میں روح ہے تو ہماری حیثیت ہے اور اگر ہمارے
اس مادی وجود سے روح اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے تو مادی وجود کی کوئی حیثیت نہیں اب اس
کو یہ کہے گے صاحب کھا نا کون کھا تا ہے ؟تو ہم بر ملا کہے گے کھا نا ہماری روح
کھا تی ہے ۔
اورجب
روح نہیں ہوتی کھا نا نہیں کھا تے اب زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہے کھا نا ہمیں روح
کھلا تی ہے یا ہمارے ذریعے روح کھا تی ہے ہمارے مادی جسم کے ذریعے روح ہمیں اس بات
پر آمادہ کرتی ہے ہم کھا نا کھائیں کیوں بھئی کیا کہے گے اس لئے اگر روح جسم کے
اندر ہے تو آدمی نہیں مرتا۔ سنتا کون ہے ؟بھئی کہا صاحب جی میں سنتا ہو ں کہا
تمہاری روح اگر نکال لی تو انہوںنے کہا تو اس کا مطلب یہ ہوا ہم دنیا میں جو بھی
کچھ کر رہے ہیں کھا نا کھا رہے ہیںسو رہے ہیں جا گ رہے ہیںرشتے دوارو ں کی پہچان
ہے مثلا ً ایک آدمی مر گیاا ب اس کے سامنے اس کی ماں کھڑی تھی کیا مردہ جسم اپنی
بیٹی کو پہچان رہا ہے ۔انتہاء یہ کہ میاں بیوی کا رشتہ جس سے قریبی کوئی رشتہ نہیں
ہے ایسا قریبی رشتہ جس میں بیوی میاں کے اوپر اور میاں بیوی کے اوپر محرم ہو جاتے
ہیں ۔ کوئی رشتہ ماں باپ بیٹی کابھی ایسا
رشتہ نہیں ہوتا جتنے رشتے آپس میں میاں بیوی کے ہیں قرآن نے فرمایا ’لبا س میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ میاں بیوی
کا لباس ہوتی ہے اور شو ہر بیوی کا لباس ہو تے ہیں‘ ۔
یعنی
پردہ ہی نہیں ہے، محرم ہے ایک دوسرے کے اب
شوہر مر گیا بیوی کے لئے نامحرم ہے۔ بیوی مر گئی شوہر کے لئے نا محرم ہو گئی اس
لئے کہ جو روح کا ر شتہ تھا جسم کا اس نے اس سے رشتہ توڑ لیا اور اب جو محرم کا
تھا وہ نا محرم کا رشتہ ہو گیاجتنی بھی آپ اس پر غور کریں گے ایک ہی بات آپ کی
سمجھ میں آئے گی کہ مادی وجود کی حیثیت اسی وقت تک ہے جب تک مادی وجود میں روح
موجود ہو ۔انسان مادی وجود میںروح سے رشتہ منقطع کر لیا اور مادی وجود کی حیثیت ہے
وہ سنتا ہے، نہ وہ کھا تا ہے ،نہ وہ سو تا ہے ، نہ وہ جاگتا ہے ، اس کا مطلب یہ
ہوا روح بو لتی ہے، روح ہی سنتی ہے ، روح کی محسوس کرتی ہے او ر روح کے اندر تقاضے پیدا ہو تے ہیں اور روح کے
ان تقاضوں کو ہم جسمانی طور پر اس وقت پورا کرتے ہیں جب روح جسم سے وابسطہ ہوتی
ہے۔ اب ایک آدمی مر گیا اب قبر میں کیا چیز رہی ؟، یہ قبر میں کیا چیز ہے ؟
جسم تو گل گیا سڑ گیا تو قبر میں، بات اتنی ہے
کہ یہاں مادی وجود کے ساتھ روح سن رہی ہے قبر میں مادی وجود کے بغیرہی سن رہی ہے
تو ایک سننا یہ ہے کہ کان میں آپ آلہ لگا لیں ایک سننا یہ ہے کہ آپ Normalسنیں
تو Normal سنا اچھا کام ہے یا آلہ لگا کر سننا تو جب آپ قبرمیں گئے وہاں جا کر
کہا السلام و علیکم یا اھل القبور…تو بھی کس نے سنا ؟روح نے سنا تو اب بھی یہاں
بھی روح واسطہ بن رہی ہے قبر میں بھی واسطہ بن رہی تو مطلب کیا ہے بھئی …کہنا کیا چا ہتے ہو تو پھر
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ السلام وعلیکم یا اھل القبور …اے قبر میں رہنے والے
بھائیوں اور بہنوں السلام و علیکم …رسول اللہ
ﷺ کا ارشاد ہے وہ سنتے ہیں تو تمہیں جواب بھی دیتے ہیں لیکن تم نہیں سنتے
کیوں نہیں سنتے ؟اس لئے نہیں سنتے آپ مادی وجود کو اہمیت دے رہے ہیں ۔
روح
کو اہمیت نہیں دے رہے لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ علم سیکھا دیتا ہے وہ لوگ
یہ جا نتے ہیں مادی وجود تو ایک آلہ کارہے اصل تو روح ہے وہ قبرستان جاکر ان سے
باتیں بھی کر تے ہیں ان سے سنتے بھی ہیں ہزاروں ہزاروں مثالیں ایسی ہیں کہ لوگ
مدینہ منورہ گئے اور رسول اللہ ﷺ کے دربار
میں سلام عرض کیا اور حضور پاکﷺ نے نہ صرف یہ کہ سلام کا جواب دیا بلکہ مصافحہ بھی
کیا ایسی بزرگوں کی مثالیںوہاں لوگ تشریف لے گئے ، انہوں نے سلام کیا اور رسول
اللہ ﷺکا قبر مبارک سے ہاتھ باہر نکلا اور
مصافحہ کیا ، تو مقصد کیا ہوا کہ قبرستان میں جا نا گناہ ہو گیا تو کیوں گناہ ہو
گیا؟ بھئی اس کی بنیاد کیا بنی تو اگر قبرستان میں جانا گناہ ہے تو یہاں مادی وجود
کو بغیر روح کے بات کر کے دیکھا ئے ؟مادی وجود سے بغیر روح سے کچھ سناکر دیکھا ئے
؟
تو
یہ جو ایک خواہ نخواہ کا اختلافی مسئلہ ہے اس کے پیچھے کچھ بھی نہیں ہے دو گروہوں
آپس میں لڑ رہے ہیں اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے بات یہ ہے کہ جہاں بھی جو بھی
کچھ ہے وہ روح کے تابع ہے روح اگر ہے اب مثلا ً پانی ہے پا نی کے اندر سے روح نکال
لیں اس کا وجود ہی ختم ہوجا ئے گا ،گیہوں ہیںبہر حال اس کے اندر بھی ایک روح ہے وہ
روح جس کو آپ انرجی کہتے ہیں وٹامن کہتے ہیںوہ نکال لیں بے کار ہے سب پہلے تو آپ یہ طے کر یں روح سنتی ہے یا مادی
وجود سنتا ہے اگر مادی وجود سنتا ہے تو روح کے بغیر بھی سننا چاہے اب جب آدمی مر
گیا مادی وجودختم ہو گیا یا مادی وجود قبر میںچلے گیاکچھ نہیںیہاں، تو جب آپ روح
کو پکاریں گے تو وہ جواب دے گیء ۔یہی بات رسول اللہﷺ نے ارشاد فرما ئی ہے من عرف
نفسہ…کہ جس بندے نے اس بات کو جان لیا اس بات کو سمجھ لیا کہ مادیت جو عارضی اور
فکشن ہے ۔
یعنی
جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا میرا جو مادی وجود ہے یہ کچھ نہیں ہے ایک واسطہ ہے
روح نے بنا یا ہوا ہے ،روح نے ایک پردہ ڈالا ہواہے اپنے اوپر۔ من عرف نفسہ…کا مطلب
یہ ہے کہ جس نے روح کے اوپر سے اس پر دے کو ہٹا دیا اس نے اپنی ذات کو پہچان لیا،
روح کو پہچان لیااور جس نے اپنی روح کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ،تو
اس کے بعد روح کے پہچانے کے بعد آدمی رب کو پہچان لیتا ہے تو بیچ کی چیزیں تو
خواہ مخواہ ہی اس کی پہچان میں آجاتی ہیں تو یہ ایک اختلاقی مسئلہ ہے اس میں کچھ
بھی نہیں ہے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیںجا ئز ہے کچھ لوگ کہتے ہیں ناجا ئز ہے ۔
جیسے
کہ کوئی آدمی کروڑو ں سال کی تاریخ، لاکھوں سال کی تاریخ میںکوئی آدمی ایسا پیدا
نہیں ہو ا جو مرا نہ ہو ،کوئی آدمی ایسا پیدا نہیں ہوا جو بوڑھا نہ ہوا ہو ، کوئی
آدمی ایسا پیدا نہیں ہوا جس پر انحطاط نہ آیا ہو ،کوئی آدمی تاریخ انسانی میں
کروڑوں سال کی تاریخ میںکوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو بچہ ہی رہا ہو، کوئی آدمی
ایسا پیدا نہیں ہواجو لا کھوںسال جوان رہا
ہو،اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جسم جو ہے ایک طرف گھٹتا ہے ایک طرف بڑھتا ہے اب اس
گھٹنے بڑھنے کے عمل کو ہم یوں کہے کہ آج
جب ہم پیدا ہوئے جب ہم داخل ہو ئے آج جو ہے آج کا وقت جب تک فنا نہیں ہو گاتو کل
میں بچہ داخل نہیں ہو گا اور جب کل فنا نہیں ہو گئی تو پرسوں میں بچہ داخل نہیں ہو
گا ۔ایک سال کے اوپر اگر فنا واردنہیں ہوگی تو وہ دوسرے سال میں داخل نہیں ہو گا
تو مقصد یہ ہے یہ جو مادی وجود ہے ۔
پیدا ہو ے ہی فوراً بعد اس کے اوپر گھٹنے اور
بڑھنے کا عمل شروع ہو جا تا ہے۔گھٹنے سے مرا د فنا ہو نا بڑھنے سے مراد پیدا ہو نا
، ہوتے ہو تے ایک بچہ ایک دن کا، دو دن کا،دس سال کا، پندرہ سال کا ،اٹھارہ سال
کا،بیس سال کا بیس سال کا جب بچہ ہوا س کا مطلب ہے اس کے بیس سال فنا ہو گئے اگر
بیس سال فنا نہیں ہو ئے گزر گئے اور اگر بیس سال کی فنا ئیت نہیں ہوئی تو بچپن میں
کیوں نہیں رہا اب دیکھے نا بچپن میں اور بیس سال میں یہ دیکھیں اب ہر آدمی کو
اپنا بچپن بھی یاد ہوتا ہے نہیں یاد ہو تو اپنا بچوں کا بچپن تو سامنے ہے اب اٹھارہ
سال تک آپ اپنا بچوں کا بچپن دیکھیں تو اس کی پیدائش سے اٹھارہ سال کی عمر میں جب
بچہ داخل ہو ا تو اٹھا رہ سال اس کے فنا ہو گئے ۔اٹھارہ سال فنا ہوئے تو انیسویں
سال میں بچہ پیدا ہوا ،اب جوانی کے اوپر فنا آگئی تو بوڑھا پا پیدا ہو گیا ،اب
بوڑھا پے پر بھی فنا آجا تا ہے تو مقصد یہ ہے کہ مادی وجود کی تعریف یہ ہے کہ
مادی وجود اسے کہتے ہیںپیدا ئش کے پہلے مرحلے سے دو سرے مر حلے میں اس وقت داخل
ہوتا ہے جب پہلے مرحلے والی چیز فنا ہوتی ہے یعنی مادی وجود پر موت وارد ہو رہی ہے
ہر وقت اور جب پوری طرح مادی وجود پر موت وارد ہو جاتی ہے ۔
اب
اس کی صورت نہ وہ سن سکتا ہے ،نہ وہ دیکھ سکتا ہے اب ایک آدمی مر گیا اس کو آپ
قبر میں دبا دیں۔ انسانی احترام کا رشتہ
ہے بڑا اچھا کیا آپ نے۔ وہ نہیں کہتا آپ نے کیوں دفنایا مجھے قبر میں، اسی مر دہ لاش کو آپ جلا دیں جیسے ہندو جلا
دیتے ہیںوہ کبھی نہیں کہتا مجھے کیوں جلا رہے ہو ،مقصد یہ ہواکہ مادی وجود کا کچھ
کہنا، مادی وجود کا کچھ بولنا ، مادی وجود کا کچھ محسوس کر نا اسی وقت تک ہے جب تک
مادی وجود کو روح نے سہارا دیا ہوا ہے یا روح مادی وجود کے اندر منتقل ہوتی ہے تو
پہلی بات یہ ہوئی ہم جو بیٹھے ہو ئے ہیں ہمارا مادی وجود بات نہیں کرتا ،ہمار ا
مادی وجود کھانا نہیں کھا تا ،اگر ہمارا مادی وجود کھانا کھا ئے تو مر نے کے بعد
بھی وہ کھا نا کھا نا چا ہئے اس پر غور کریں ذرا اس کا مطلب ہوا روح ہی بو لتی ہے
روح ہی کھا تی ہے روح ہی احساس کرتی ہے اب وہی روح پہلے مادی وجود کا پردہ بنا یا
اپنے لئے اب اسی لئے قبر کو اپنا پر دہ بنا لیا ما دی وجود کے ساتھ بھی روح سامنے
نہیں تھی اور قبر کے اندر بھی روح سامنے نہیں تھی۔
مادی وجود کی حرکت بھی روح کے تا بع تھی اور جب
قبر میں روح تھی اس میں بھی روح کی اپنی حر کت ظاہر تھی ۔تو روح ہی سب کچھ ہے ۔قبر
میں جا کر روح کومخاطب کر تے اور اس سے یہ کہتے ہیں اب ظاہری طور پر بھی کہتے ہیں
ہمیں دس روپے دو تو دس روپے کس نے دئے بھئی …دس روپے کس نے دئے بتا ئو دس روپے کس
نے دئیے اگر ابا مر جائیں روح نکل جا ئے تو دس روپے اور یہی بات ہم روح سے کہہ گے
ابا ہمیں دس روپے دو دس روپے دے دیںکہ صاحب قبرستان جانا شرک ہے یہ کر نا شرک ہے
دوسری بات یہ ہے کہ آپ کے ابا ہیں آپ اپنے ابا دس روپے مانگ رہے ہیں کس میں ما
نگ رہے ہیں زندگی میں مانگ رہے ہیں نا اور ابا سے دس روپے اس لئے مانگ رہے ہیں نا
اعوذ با اللہ آپ ان کو خدا کو درجہ دیتے ہیں ۔ یہ سرا سر کفر ہے سراسر شرک ہے اب
آپ قبرستان میں جاتے ہیں اس روح کے بارے میں خدانخواستہ اس روح کے بارے میں اللہ
تعالیٰ محفوظ رکھے آپ کا یہ تصور ہے روح خدا ہے تو وہاں بھی شرک ہے تو یہاں صورت
یہ ہے کہ ابا جب مادی وجود میں ہے جب تو آپ کہتے ہیں ابا دس روپے دو اور جب مادی
وجود سے روح برا ہ راست سے آخری تعلق ہے روح کا جب آپ اس سے کہتے ہیں دس روپے دو
تو یہ شرک ہے ۔
بات
وہی ہے ہمارا جو ذہن ہے ہمارا جو شعور ہے وہ مادیت ہے تعفن ہے اور حضور پاک ﷺنے کیوں فرمایا کہ قبرستان جائو وہاں وہاں جا
کر سلام کر و وہ لوگ تمہار ے سلام کا جواب دیتے ہیں ۔کون سلام کا جواب دیتا ہے
مادی وجود سلام کا جواب دیتا ہے قبر کھودیں گے تو کچھ بھی نہیں نکلے کااگر آپ کچھ
عرصے کے بعد قبر کھو دیں تو مادی وجود کا کوئی حصہ آپ کو ملے گا ؟ ہڈیاں ملتی ہیں
کچھ عرصے بعد ہڈیاں بھی راکھ بن جا تی ہیں تو جب کار فرما ئی پوری طرح ہوتی ہے اب
اس میں یہ کہنا کہ صاحب مادی وجودروح کے
ساتھ ہے تو روح سنتی ہے روح بولتی ہے اگر روح مادی وجود چھوڑ کر قبرستان میں چلی
جا ئے تو روح نہ سنتی ہے نہ بولتی ہے ۔یہ حقیقت کے خلاف ہے، بات ہی غلط ہے ۔
اولیا
ء اللہ کے بے شمار واقعات ایسے ہیں اچھا پھر روحانیت میں آپ نے سنا ہوگا صلاحیت
اس کو کہتے ہیں کشف القبور…آپ نے سناہوگا کشف القبور …کا مطلب یہ ہے کچھ عمل ایسے
ہو تے ہیں، کچھ صلاحیت ایسی پیدا ہو جا تی ہے آدمی کے اندرجب کسی صاحب قبر کے پاس
جا کر وہ بیٹھتا ہے سلام کرتا ہے وہ کہتے ہیں وعلیکم السلام…سلا م کا جواب وہ سنتا
ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر اور طاقت دے دی اس کو شعور کو تو وہ صاحب قبرسے
با تیں بھی کرتا ہے میں آپ سے بہت پرانا قصہ بیان کر وں پاپوش نگر کا، تو ایک
دفعہ، صاحب میں قبرستان میں بہت جا یاکر
تے تھا، دل بہت چا ہتا تھا زیادہ تر میں
جا تا تھا مغرب کے بعد عصر مغرب سے پہلے یا مغرب کے بعد ایک جگہ قبرستان میں میں
گیا تو وہاں ایک چھوٹی سے خوبصورت جگہ بنا رکھی تھی اور اس میں پھول لگے ہوئے تھے
موتیاکے ،چنبلی کے گلاب کے بہت ہی خوبصورت پھول اور بڑی خوشبو تو مجھے وہ جگہ بہت
اچھی لگی میں بیٹھ گیا درودشریف پڑھتا رہا اس کے بعد وہ جگہ مجھے اتنی اچھی لگی کہ
روز کا جا نا میرا معمول بن گیا۔ وہاں میں مراقبہ بھی کرتا تھا ۔
اس
زمانے میں ایسی صورت تھی آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ایک دن مراقبہ کیا تو میںان
کو صاحب قبر کو دیکھا بڑے اچھی طرح سے ان سے بات چیت ہوئی بڑے خوش ہو ئے بڑے، تو انہوںنے میری بڑی خاطر کی او ر بڑی اچھی
طریقے سے ملے تو اندر سے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ تو بہت ہی اچھا آدمی ہے
اس کے لئے دعا کرو اللہ نے ڈالی میں نے دعا کی،
دعا کرنے کے بعد وہ او ر بھی خوش ہو ئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر بڑا
فضل و انعام دیا میں بڑا حیران پریشان یہ کیا ہوا میرے ارادے میں یہ نہ بات تھی ،
میں نے کبھی سو چا نہیں تھا۔ میں تو وہ
پھول اور خوشبو اس کی وجہ سے گیا تھا، آدمی کو شوق اٹھتا ہے کسی کی لا لچ سے ،
کسی کو پھولوں کا شوق ہوتا ہے کسی کو کسی کا اسی شوق کی بنیاد پر میں وہاں بیٹھتا
ہوں ۔تو میں نے آکر قلند ربابااولیاء سے کہ حضور آج میں بڑا حیران ہوں کہ کیا اس
سے بات بھی ہو جا تی ہے اور یہ بھی ہو جا تا ہے وہ بھی ہو جا تا ہے میں حیران
پریشان ہوں کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں ۔
بھئی اس میں کیا بات ہے کیا دیکھا کیوں دیکھا
کیا مطلب ہوا اس کا ۔ انہوں نے فرما یا بھئی بات یہ ہے وہ ایک اچھا ایک آدمی ہے
او ر ان کے ذوق میں یہ بات شامل تھی مادی وجود میں کے فقراء سے بڑی محبت ہے ایک
تووہ بزرگوں کی عزت کرتے ہیں، ایک تو کھا نا کھلا کر بڑا خوش ہو تے تھے۔ یہ ان کی
ہا بی تھی اِدھر سے پکڑ لئے لوگ اُدھر سے پکڑ لئے لو گ کھا نا کھلا دیا بڑے خوش ہو
تے تھے اللہ کی مخلوق کا کھا نا کھلا تے اور فقیروں سے دوستی رکھی، اللہ تعالیٰ نے اس انعام میں کہ وہ اللہ کی
مخلوق کا کھا نا کھلا تے تھے اور اس کے انعام میں اللہ کے دوستوں سے محبت کر تے
تھے ایک وسیلہ اور بہانا بنا دیاآپ کا وسیلہ، کا م تو اللہ کو کر نا تھا وسیلہ
آپ بن گئے ان کا کام ختم ہو گیا اور صاحب بڑی عجیب با ت ہے اسی دن کے بعد دل میرا
نہیںچا ہا جا نے کو، میں نہیں گیا ایسا
معلوم ہوتا ہے مجھے اسی کام سے بھیجا گیا تھا کہ میں وہاں بیٹھو میرا بھی کام ہو
گیا اور مجھے بھی تصدیق ہو گئی اور اللہ میاں نے بھی مجھ سے دعا بھی کر وا دی میں
کہا ںکسی کا میری دعا سے کام ہوگیا ہیں۔
اس قسم سے ہزار واقعات ہیں کہ لو گ قبرستان جا
تے ہیں وہاں بیٹھتے ہیں اپنے بزرگوں سے آبا و اجداد سے اپنے باپ سے اپنے دادا سے
اپنی والدہ سے اپنی اولاد سے ملتے ہیں با تیں کر تے ہیں اگر بات کر نا نہیں کر نا
آتا تو اس لئے پھر آپ ادھرہی آجائیں کہ میں بات کر نا سیکھا دیتا ہوں ۔ میں نے
آپکو ایک واقعہ سنا یا میری روح نکل جائے میں کیا واقعہ سنا سکتا ہوں تو اس کا
مطلب ہے یہ واقعہ جو سنا رہا ہوں اب میں جو تقریر کر رہا ہوں یہ میری روح کر رہی
ہے تقریر سنے والے جو لو گ ہیں و ہ بھی ان کی روح سن رہی ہے اگر ہم سب یہاں بیٹھے
ہو ئے ہیں اگر ہمارے اوپر موت وارد ہو جائے تو کیا میں تقریر کر سکتا ہوں؟ کیا آپ
تقریر سن سکتے ہیں ؟
بات
یہ ہے کہ مادی وجود کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی مادی وجود کو آپ ایک میڈسٹل کہے
لیںیا کان میں لگانے والا ایک آلہ سمجھ لیں تو اب جب ہم قبرستان جا تے ہیں تو اب
بھی یہی صورت ہوتی ہے اگر قبرستان ہم جاتے ہیں کسی مزار کے اوپر اگر ہم قبرستان جا
تے ہیں کسی عام قبر کے اوپر توصاحب قبر صاحب مزار اتنا بڑا ہے کہ نا اعوذ بااللہ
اللہ میاں بن جا ئے، ہم جو کہے گے ،وہ ہو
جا ئے یا وہ جو یہ صاحب مزار کہے گے وہ ہو جائے گا، ظاہر ہے اس میں شرک ہیں، کفرہیں ،کیا کلا م اسی
صورت سے کوئی یہاں آپ کا بزرگ بیٹھا ہوا ہے کوئی چیز ہے کچھ بھی ہے آپ اس کے
بارے میں یہ تصور کر تے ہیں کہ ظاہر ہے بس اباجی نے جو کہے دیا وہ ہو گیا اب اس کی
ایک صورت یہ بھی ہے جو ابا جی نے کہے دیا ابا جی نے اللہ سے دعا کی اور اللہ نے پو
ری کر دی ۔یہ کوئی شرک کی بات ہے لیکن اگریہ کہے گے کہ ابا جی نے کہے دیا کیوںکہ
اللہ کا کہنا ہو کیوں ہو گیا کس لئے ہو گیا اب کوئی بھی آدمی اس کو عقیدہ تو نہیں
کہے گا ۔
ہمارے
ایک بزرگ تھے چوہدری حمید صاحب، داتا صاحب
کے یہاںتشریف لے گئے لا ہو ر میں کوئی کاروبار انہوںنے کر نا تھا انہوںنے کہا صاحب
میں کاروبار کر نا چا ہتا ہوں ،کر لو ں؟ داتا صاحب نے کہہ دیا ہا ں کرو اللہ بر کت دے دعا ہے میری، انہوں نے جتنا بھی ان کا سر ما یہ تھا سب کا رو
بار میں لگا دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بہت مقروض ہو گئے، روٹیوں کے محتاج ہو گئے سب ہی کچھ اس میں لگا
دیا اس میںکہ داتا صاحب نے کہا تھا وہ اس
بعد داتا صاحب سے نا راض ہو گئے انہوںنے کہا جی داتاصاحب آپ نے سب ہماراپیسہ ضائع
کر وا دیا بھئی کیا ضرورت تھی آپ نہ کہتے ہم کاروبار نہیں کر تے، بھئی چوہدری
صاحب نے بالکل ہی آنا چھوڑ دیا بھئی وہ ناراض ہو گئے توداتاصاحب نے ہمارے دادا
پیرصاحب نے فر ما یا کہ اقبال ناراض ہوگیا ہے ، اس نے بالکل آنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ
نے کہا کہ کاروبار ہو جائے گا اس نے سارا پیسہ لگا دیا وہ تو با لکل ہی ختم ہو گیا
سڑک پر آگیا ۔
تو
انہوں نے کہا دیکھو بھئی بات سنو ہم نے کہا لیکن ہم نے اس بنیاد پر کہا ہمارا یہ
تجربہ ہے ہم نے جب بھی کوئی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے
قبول کیا تو اس بنیاد پر ہم نے کہا کہ بھئی تم کاروبار کر لو ہم اللہ سے د عا کریں
گے بھئی میں نے تو اللہ سے دعا کی میں داتا ہوں مجھے کچھ بھی کہے میں خدا تو نہیں
ہو ں مجھ سے کوئی آکر کہتا ہے صاحب میرا یہ کام کر دو میں کہتا ہوں ہاں ہو جا ئے
گا لیکن اس بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ اللہ سے دعا کرتا ہوں اللہ میری دعا سن لیتا
ہے ۔اللہ میری دعا قبول کر لیتا ہے لیکن میں اللہ کو پابند تو نہیں کرتا یہ اللہ
کی مرضی ہے ۔جب چاہے اللہ سن لیتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے انہوں نے فرما یا ایسا بھی
ہوتا ہے ایک آدمی میرے پاس آتا ہے میں اس کو تسلی کر کے بھیج دیتا ہوں کہ اللہ
بہتر کرے گا او ر میں بھول جا تا ہوں اللہ اس کا کام کر دیتا ہے اسی بنیاد پر اس
یقین پر کہ اللہ ٹھیک کر دے گا اب یہ اللہ کی مر ضی ہے جب چاہے اللہ سن لیتا ہے
ایسا بھی ہوتا ہے انہوں نے فرمایا ایسا بھی ہوتا ہے اوربہت سی دفعہ ایسا ہوتا ہے
میں بہت چا ہتا ہوں بہت گڑگڑا تا ہو ں بہت رو تا ہوں لیکن ا س کا کام نہیں ہوتا اللہ
نہیں قبول کرتے ۔
کوئی پیغمبر ہو ،کوئی ولی ہو، کوئی بھی ہو اس
کی ساری ڈوریاں اللہ کے ہاتھ میں ہے اب وہ تجر بے کی بنیاد پر یہ بات کہتا ہے کہ
صاحب آپ کا کام ہو گیا اب جیسے اس کی سفارش وہ کہتا ہے وہ میرا دوست ہے اب کہا
ٹھیک ہے کام آپ کا ہو گیا اب میں اس سے آپ کی سفارش کر دیتا ہوں وہ کہتے ہیں
صاحب اس میں تو یہ قانون پیچیدگی ہے ۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، اگر یہ کام ہو گیا تو اس کی یہ چیزیں غلط پڑ
جائیں گی ۔آپ نے کہا جی مجھ سے وعدہ بھی کر لیا میرا کام بھی نہیں کیا تو بات یہ
نہیں ہے بات یہ ہے کہ آپ کسی سے کیا کہے رہے ہیں اور کوئی آدمی اپ کے لئے کیا
کہے رہا ہے یہ دیکھئے یہی حال زندگی میں بھی ہے اور یہی حال مر نے کے بعد قبر میں
بھی ہے۔جتنے اولیا ء اللہ ہیں ، بزرگان ِدین ہیں، اپنی قبروں پر آرام فرما رہے
ہیں۔ اب ایک وہاں سے خط آیا ایک بڑی عجیب
بات ہے، بہت پرانی بات ہے تیس سال پرانی ایک خط آیا کہ صاحب سو روپے ہے اور وہاں
جا ئیں آپ عبدا للہ شاہ غازی کے پاس اور وہاں جا کر میری سفارش کر دیں او ر سو کا
نوٹ ادھر لنگر خانے میں دے د و، میں اس
بندے کو نہیں جانتا کون تھا ، کیا تھا؟
اور یہ آپ کو میرا کام کر نا ہے آپ مجھے نہیں
جا نتے میں آپ کو جا نتا ہوں بہرحال یہ کہ میں چلا گیا عبد اللہ شاہ غازی کے پاس
اب جا کر میں بیٹھ گیا مرا قبہ کیا،
مراقبے کے بعد وہ خط بھی ساتھ لے گیا انہو ں نے جو لکھا تھا میں نے کہا
صاحب فلا ں صاحب ہیں انہوںنے کہا میں نہیں جا نتا۔ یہ خط بھیجا ہے سو رو پے بھیجے
ہیں ۔انہو ں نے فرمایا کہ اس طرح کریںیہ جو خط ہے اس پر اپنے ہاتھ سے سفا رش لکھ
دے ۔ جی میں نے کہا میری سفارش کا کیا مطلب یہ پرا نی بات ہے ابھی میں نے روحانیت
میںقدم بھی نہیں رکھا تھا اس وقت یہ کیفیت آگئی میں ڈر گیا میں سنبھالا کیا مطلب
ہوا، آپ کا کیا ہو گا آپ لکھ دیں یہ ٹھیک ہے میں نے اٹھا کر لکھ دیا تمہا ری
سفارش ہو گئی پریہ کیفیت میری ختم ہو گئی، سو روپیہ تھا وہ ہلا گلا کھا لیا ، مجھے پتا بھی نہیں اس کا کام ہو ا یا نہیں ہو ا
صاحب تین مہینے چار مہینے کے بعد ان کاپھر خط آیا کہ آپ کا بہت شکریہ آپ نے
میرا خط پہنچا دیا میرا کام ہو گیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر آپ اس بات کو دوہرائیں
میں یہ چا ہتا ہوں کہ آپ کے ذہن میں یہ بات پکی ہو جا ئے ۔ اب ہم سب ہیں ہمارے
اندرسے روح نکل جائے ہم کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ہم سب بیٹھیں ہیں ہمارے اندر سے
روح نکل جا ئے عبداللہ شاہ غازی ؒ کی بات سن سکتے ہیں سمجھ سکتے ہیں، قبول کر سکتے ہیں ۔تو یہ جتنے بھی کھیل تماشے
اس دنیا میں ہوں اس دنیا میں آنے سے پہلے ہوں اس دنیا میں جا نے کے بعد ہو سب
روحانی کھیل تماشہ ہے یہ رو ح کا سارا حساب کتاب ہے روح کبھی گوشت پوست کا جسم بنا
لیتی ہے یہاں آنے سے پہلے وہ جسم اتار کر یہاں آجاتی ہے یہاں مٹی کے ذرات سے جسم
بن جاتا ہے مٹی سے بن جا تا ہے جب یہاں سے جا تی ہے جسم اتار کر پھینک دیتی ہے
وہاں جا کر مرنے کے بعد عالم اعراف میں پیدا ہو کر نیا لباس بنا لیتی ہے روشنی کا،
اچھا وہاں بھی وہ اسی طرح رہتی ہے وہاں بھی اسی طرح گھر ہے اسی طرح کھا نا پینا ہے
وہاں بھی اسی طرح کپڑے پہنتے ہیں وہاں بھی اسی طرح تقریریں ہوتی ہے وہاں بھی اسی
طرح بیٹھتے ہیں اٹھتے ہیں لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں ۔
محبت کر تے ہیں۔ بچے جو ہے مر جاتے ہیں جوان
ہوتے ہیں ان کی شادیاں ہوتی ہیں اگر یہ روح صرف ان کی مادی وجود کے ساتھ ہی سب کچھ
ہو رہا ہے تویہ مرنے کے بعد بچے جوان کیوں ہو رہے ہیں چھوٹے بچے جو پیدا ہو کر مر
جاتے ہیں وہ جوان ہو تے ان کہ شادی ہوتی ہے ۔
اچھا روح نے عالم اعراف میں ایک لباس پہنا اور کچھ عرصے کے بعداتا را اور
پھر حشر اور نشر میںپہن لیا مادیت کا لباس ،
وہ ہے نا روزے جزا کے دن آدمی کہے گا میں نے یہ کیا ،زبان کہے گی میں نے
یہ کیا، آنکھ کہے گی میں نے یہ کیا ،اب اس کے بعد حشر اور نشر کے بعد فیصلہ ہو گیاا
ب جنتی لوگ جنت میں چلے گئے ،اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اورجو
دوزخی ہونگے وہ دوزخ میں چلے گئے ۔اب روح نے جنت میں گئی تو جنت کا لباس اپنے اوپر
ڈال لیا ،دو زخ میں دوزخ کا لباس پہن لیا ۔تو جب وہ عالم بالا میں گئی جنت سے بھی
بڑا مقام تو روح نے وہاں جنت کا لباس بھی اتار کر پھینک دیا۔
اس کا لباس پہن لیا تو اس کا مطلب یہ ہو ا روح
جہاں بھی ہے جس حال میں بھی ہے براہ راست سامنے نہیں ہوتی لباس بنا کر اپنے اوپر
ڈال لیتی ہے اور اس لباس کے پیچھے رہے کر بات کرتی ہے ، اور اس لباس کے پیچھے رہے
کر سنتی ہے ، اور اس لباس کے پیچھے رہے کر بولتی ہے کھا تی ہے پیتی ہے سوتی ہے
،جاگتی ہے ،چلتی ہے، پھرتی ہے ،پھرآپ اس بات کو پھر غور کریں کہ ہم سب یہاں بیٹھے
ہو ئے ہیں۔ قبر میں ہم نہ کھا نا کھا سکتے ہیں نہ پی سکتے ہیں لیکن پھر ہمارے اندر
روح آجائے تو ہم کھا نا بھی کھا رہے ہیں پی بھی رہے ہیں ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ
شام ہو رہی ہے سورج ڈوب رہا ہے تو آپ لوگ کیا سمجھیں اصل چیز ہمارا میٹر ہے یا
روح ہے ۔میٹر کیا چیز ہے میٹر جو ہے مادیت ہے،
روح ظاہر نہیں ہوتی برا ہ راست سامنے نہیں آتی روح کا ایک قانون ہے کہ وہ
پردے کے پیچھے اپنا روپ بدل کر رہتی ہے۔
کسی
روپ میں آئے گی اب طو طا ہے تو آپ یہ سمجھتے ہیں طوطے میں روح نہیں ہے، اب روح نے جب طوطے کا لباس پہنا تو اس کا نام
طوطا ہو گیا ،اسی روح نے جب کبوتر کا لباس پہنا اس کا نام کبوتر ہو گیا اوراسی روح
نے جب انسان کا لباس پہنا اس کا نام انسان ہو گیا ،اور جب طوطے کے جسم کو یعنی
لباس کو روح نے اتارپھینکا تو طوطے کی جگہ ایک مردہ طوطا ہو، مردہ انسان ہو ، بکر ی مر دہ ہو، بھینس بھی مر
دہ ۔ تو یہ ایک نظام ہے اللہ تعالیٰ کا ،
اس نظام میں ایک روح ہے اور روح کے لباس ہزاروں ہزاروں لباس کچھ لو گ کہتے ہیں کہ
ستر ہزار لباس روح کو ظاہر کرتے ہیں ۔ان لباس کی حیثیت اصل نہیں ہے اصل حیثیت روح
کی ہے ۔جب دنیا میں حیثیت روح کی ہے تو مر نے کے بعد میں ا صل حیثیت روح کی ہے ۔اب
قبرستا ن میں وہ کہتے ہیں صاحب خواتین اگر قبرستان میں جا تی ہیں تو وہ ننگی نظر
آتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر مردے آدمی کو زندہ آدمی ننگا نظر آتا ہے
یہ کہنے کی بات ہے اگر آدمی اعتراف کرے تو جواب نہیں ہے اس کاکہ صاحب قبرستان میں
تو عورتیں بھی ہیں مر د بھی ہیں ۔
جب مر د جسموں کوبلکہ جسم تو ہے ہی نہیں جسم تو
فنا ہو گیا ۔ مرد جسم کو اگر عورتیں ننگی نظر آتی ہیں تو وہاں جو عورتیں قبرستان
میں سو رہی ہیں ان کو مرد ننگے نظر آتے ہو نگے پھر تو قبرستان الگ بنا ئو پردہ کر
و بھئی، تو روح کا پردے سے کیاتعلق؟ روح کا تو کوئی لباس نہیں ہوتا۔ روح تو روح ہوتی ہے ۔ اللہ کا ایک حصہ ہے ونفخت
فیہ…اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تمہارا یہ لباس خلا ء سے بنا یا خلاء کچھ بھی
نہیں ہے نہ اس میں بولنے کی سکت ہے، نہ اس میںسوچنے کی سکت ہے، نہ اس میں چلنے کی
سکت ہے ۔قرآن حکیم میں ہے کہ ہم نے اس کوسڑھے ہوئے گاڑے سے بنا یا اور بجنی مٹی
سے بنا یا بجنی مٹی کا مطلب خلا ئ، اب جب
ہم نے سارے پتلے کو خلا ء سے بنا دیا تو ہم نے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی ونفخت
فیہ…کہ ہم نے اپنی جا ن میں سے ایک حصہ نکال کر اس کے اندر ڈال دیا تو اس کا مطلب
یہ ہوا کہ جب کوئی آدمی بو لتا ہے تو کون بولتا ہے؟
…
بھئی… روح کو ن ہے ؟ اللہ بھجتا ہے اللہ
بولتا ہے ۔جب آدمی سنتا ہے اسی طرح روح سنتی ہے کون سنتا ہے ؟ اللہ سنتا ہے ۔اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن
پاک میں فر مایا تم میری بصارت سے بو لتے ہو ،
تم میری بصیرت سے سنتے ہو اور میرے فواد سے سوچتے ہو ، تم کچھ نہیں ہو الا انا بکل شئی محیط…مادیت
کوئی چیز نہیں ہے ہر چیز کو اللہ نے احاطہ کیا ہوا ہے الا انا ھو بکل شئی محیط…ایک
دائرہ ہے جس کا نام اللہ ہے اس دائرے کے اندر آپ موجود ہیںجب تک دائرہ ہے ، آپ
موجود ہے۔ دائرہ نہیں تو آپ نہیں، تو روح کی اہمیت کوآپ کسی بھی طرح نظر انداز
نہیں کر سکتے۔
اب روح کی تعریف، روح کی صلاحیت کیا ہے اب آپ
سو جا تے ہیں ہر آدمی سو تا ہے ہر آدمی خواب بھی دیکھتا ہے جب آپ خواب دیکھتے
ہیں آپ کا مادی وجود سنتا ہے ،جب آپ خواب میں کہیں سنتے ہیں تو آپ کا مادی وجود
بولتا ہے ،جب آپ خواب میں کھا نا کھا تے ہیں تو آپ کا مادی وجود کھا نا کھا تا
ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتا رہے ہیں کہ صلاحیت اس دنیا میں بھی
موجود ہے جس طرح مر نے کے بعدکھا تی ہے ،پیتی ہے ، سیر کرتی ہے ،پرواز کرتی ہے اسی طرح اس زندگی
میں بھی اسی طرح انسان اس صلاحیت کو تلاش کر لے جس صلاحیت سے وہ خواب میں اٹھتا ہے
،خواب میں کھا تا ہے،خواب میں پیتاہے،خواب میں لڑتاہے،خواب میں جھگڑتا ہے،خواب میں
خوش ہو تاہے، تو وہ سو ئے بغیر بھی روحانی پرواز دیکھ سکتا ہے ،روحانی بات سن سکتا
ہے ،روحانی کام کاج کر سکتا ہے ، اب آپ
پھر غور کر یں کہ میں سو رہا ہوں آپ سو رہے ہیں آپ کے اندر سے ایک آدمی
نکلا لا ہور پہنچ گیا داتا دربار کے مزار پر قوالی ہو رہی ہے وہ بھی سنی اس نے
وہاں تبرک جو تقسیم ہوا وہ بھی لیا، کھایا بھی ، اس کا مزہ بھی محسوس کیا خدا
نخواستہ کہیں کسی کا بچہ بیمارہے وہاں پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا دیکھ بھی آیا
اوردم بھی کر آگیا ۔بھئی خواب تونظر آتے ہیں نا آپ کو؟
اس خواب میں آپ کا مادی وجود حرکت کرتا ہے تو
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مادی وجودپر موت وارد نہ ہو تو یہ آپ کی اصلی روحانی
صلاحیتوں کو مادی وجود کے بغیر سن بھی سکتے ہیں، کھا بھی سکتے ہیں پی بھی سکتے ہیں
۔تو جب آپ یہاں روح سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں تو مرنے کے بعد قبر میں جو روح ہے
اس سے کیوں نہیں رابطہ کر لیتے تو بات یہی ہے جب ہم مادیت کی عینک لگا کر بات کر
یں گے تو ہماری طرز فکر محدودہوتی ہے ا ور جب ہم مادیت کی عینک اتار کر حقیقت کی
عینک سے دیکھیں گے توہمارے لئے بات صاف ہے تو قبرستان میں ہوں بیداری میں ہوں جہاں
بھی ہو ں آپ کا مادی وجود جو ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اصل حیثیت جو ہے روح کی
ہے۔ جب تک روح اس مادی وجود کو سنبھا لے
ہو ئے ہے آپ کے اندر جذبات اور احساسات ہیں اور جب مادی وجود کو روح چھوڑ دیتی ہے
آپ کے اندر سے ہر قسم کے احساسات ختم ہو جا تے ہیں ۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم مادی حواس سے باہر ہو کر بھی سوچیں مادی حواس سے
آزاد ہو کر اللہ تعالیٰ کی نشا نیوں پر غور کریں ۔اس بات کو بار باردوہرائیں تو
جب ہم مر جا تے ہیں توکیوں نہیں سوچتے مادی وجود تو موجود ہے کھا تے کیوں نہیں ما
دی وجود تو موجود ہے جب اس پر غوروفکر کریں گے ۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے
فضل و کرم سے حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی رحمت و نسبت سے انشا اللہ پھر ہمارے
ذہن میں بات سمجھ میں آئے گی ۔او ر یہ خواہ نخواہ کے اختلافی مسائل سے ہمارا ذہن
خراب ہو جا ئے گا ۔اختتام