Topics
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ
انا …
اس
با برکت اور با سعادت محفل میں جناب محترم عظیمی صاحب شرئکائے محفل اور خاص کر علم
کے متلاشی ، تصّوف کے متلا شی ،غورو فکر کے متلا شی، خواتین و حضرات السلا م
وعلیکم میرے لئے یہ بات انتہائی فکر اور خوشی کی بات ہے کہ جناب عظیمی صاحب نے
اپنی عظمت کا مظاہرہ فر ماتے ہو ئے مجھے اس عظیم محفل میں شرکت کا موقع دیا ۔جس کے
لئے میں دل سے ان کا شکر گزار ہوں ۔اس وقت مجھے تصّوف پر تقریر تو نہیں کرنی اگر
چہ دل چا ہتا ہے۔ لٹریچرتو ہمارے پاس بہت ہیں۔ آپ کو بہترین مقرر ملیں گے بہتر
لٹریچرملے گا جس چیز کی کمی ہے اس پر عمل ہے یعنی اس کو ہم عملی اپنا رہیں یا
نہیں، یقین کیجئے تصّوف پر بہت لٹریچر ہے
،اخلاق پر بہت لٹریچر ہے ،سیرت پر بہت لٹریچر ہے ،لیکن کیا ہم اپنی چیزوں کو اپنی
صورت کو اس کے مطا بق بنا سکیں،کیا ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ہم اپنے آپ کو
ڈھالنے کی کوشش کر سکیں ، کیااولیاء اکرام اور صوفیاء اکرام کی حیات اور اصلاح کے
لئے ہم اپنے آپ کو تیار کر سکیں ،اگر ہم یہ کام کر لیں تو بہت بہتر ہے ۔
یہ
جو مراقبے کا سسٹم ہے اور یہاں جو نظام ہے یقین جانئے یہ دیکھ کر مجھے بہت خو شی
ہوئی اور اس بات کی خوشی ہم نے اپنے تمام معاملات میں بڑے سے بڑے جلسوں میں اولیاء
اکرام نے اس ملک کی زیادہ ایک اہم آبادی کو نظر انداز کر دیا۔ یعنی خواتین کو ، مجھے خوشی یہ ہوئی کے یہاں پر مرد اور خواتین
دونوں اس کام میں آگے ہیں۔ اوراس کی وجہ یہ ہے اس کا ایک منطقی عمل ہے ۔ اگر ہم
کسی مرد کی تربیت کرتے ہیں تو ہم ایک ذات کی تربیت کرتے ہیں ۔لیکن اگرہم کسی خاتون
کی تربیت کرتے ہیں تو ہم ایک فیملی کی تربیت کرتے ہیںاور ہم آئندہ نسلوں کی تربیت
کرتے ہیں۔ اس لئے کے بچوں کی پر ورش انہوں نے کر نی ہے۔ جس اندازسے یہ ریسرچ ہو
رہی ہے، تحقیق ہو رہی ہے ۔یقین جانئے جو
اللہ تعالیٰ جو فر مان ہے …افلا تکلون افلا تفکرون…اس کے لئے ہم جو توجہ نہیں کر
رہے ہیں ہماری ناکامی کا ایک سبب یہ بھی ہے ۔
اور سلسلہ عظیمیہ میں یہ جو کام شروع کیا گیا
دراصل خیال ہے کہ یہ یونیک ہے اور اس طرح جس کو آگے بڑھنا چاہئے۔ اگر ہم اسکو اس
طرح نظام تعلیم کو دیکھ لیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہم بغیر پلا نیگ کے چل رہے ہیں
۔ہم اسلامیات کی تعلیم ڈگری دے رہے ہیں۔ کیا ہم اب طلبہ میں اسلام کی روح پیدا کر
رہے ہیں۔ یقین جانئے جب تک وہ روح پیدا نہیں ہو سکتی جب تک آپ انہیں پریکٹکلی
نہیں بتائیں گے ۔ جب تک آپ اولیاء اللہ
کے واقعات کے ساتھ ساتھ اولیاء اللہ کی ان کو صفات کو آشنا نہیں کریں گے ۔قرآن
کریم میں لوگ عام طور پر یہی کرتے ہیں …الا انا ھو الا خوف …یکفرون …اس کے بعد
اسٹاپ کر دیتے ہیں ۔اگلا حصہ نہیں پڑھتے ۔حالا نکہ اگلا حصہ اس کی تشریح ہے یہ
اولیاء اللہ کون ہیں… الذین امنو وکانو …اے اللہ پر ایمان لانے والوں اور احتیاط
کرنے والوں معاف کیجئے گا ۔میں یہ تافون کا ملا کیا نہیں کرتا اور جیسا کہ ابھی
قبلہ عظیمی صاحب نے فرمایاکہ اہل ایمان کو کس قسم کا ڈر نہیں ہوتا۔
اللہ نے تو خود کہیں دیا کہ پہلے حصے میں کہ نہ
انہیں خوف ہے نہ انہیں ڈر ہے تو پھر وہ کیسے ۔اصل یہ ہے کہ صرف آپ اللہ کی ذات کے
بارے میںسوچنا شروع کردیں اور جیسا کہ اس رسالے میں حضرت نانا تاج الدین ناگپوری ؒکے رسالے میں ایک لفظ جو ’اناء
‘ کا ذکر انہوں نے کیا ہے آپ اس پر غور کر کیجئے ۔یقین جانئے تمام مسائل
حل ہو نگے یعنی اہل حق کہنے والا تو سمجھ رہا ہے میں کیا کہے رہا ہوں لیکن سنے
والے علم نہیں رکھتے تھے ،سوچ نہیں رکھتے تھے ،علم نہیں رکھتے تھے ، انہوں نے اس
پر غور نہیں کیا کہ انہوں نے اہل حق کیوں کہا وہ یہ سمجھے انہوں نے اپنے آپ کو
اہل حق کہے دیا حالانکہ حقیقت یہ ہے اگر ہم اہل حق کی تجزیہ کر لیں اور عناصر کا
تجزیہ کر لیں تو بات پوری ہو جاتی ہے ۔کہ سرجل حق جب ہم نماز پڑھ کر آرہے ہیں تو
حضرت نے فر مایا کہ پو چھا گیا خدا کہاں ہے اس کا بڑا آسان جواب فر مایا کہ خدا
کہاں نہیں ہے ایسی جگہ بتا دیجئے جہاں اللہ تعالیٰ نہیں ہے۔
تو بات واضح بھی ہو جائے گی تو یہ جو تصّوف کا
ٹریننگ کا سلسلہ جو شروع ہوا گیا ہے یقین جانئے اس سے بہتر اصلاح کا کوئی طریقہ
نہیں۔آج ہمارے برصغیر ہندو پاک نے اسلام کی جو روشنی ہے وہ صوفیاء اکرام کے طفیل
ہے ،وہ اولیاء اکرام کے طفیل ہے اور اس کی وجہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کوئی
امتیاز نہیں ہے ۔ان کی محفل میں مسلم غیر مسلم دونوں آگے ہیں ۔مسلمان اپنے ایمان
کوتازہ کرتا ہے اور غیر مسلم ایمان لینے آتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کیا تھی ان
کا کیریکٹر تھا،ان کا کردار تھا،ان کے قول وفعل کی یکسانیت تھی ،ان کے قول و فعل
میں تضاد نہیں تھا ، آج اسلام کو کس چیز کی ضرورت ہے؟،جس تبلیغ کی ضرورت ہے کہ ہم
نو جوان تیار کرے ان کو یہ بتائے کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔ان کو تحقیق کی دعوت
دیں۔اسلئے دنیا جو ترقی کر رہی ہے ہم بیسویں اکیس ویںصدی کی بات کر رہے ہیں اس میں
قرآن کریم نے تو واضح کر دیا اس نے کہا کہ لئسات انسان للہ…آپ کا مسلمان ہو نا
کافی نہیں ہے اصل چیز یہ ہے کہ آپ ظاہر کیا کر رہے ہیں آپ کوشش کیا کر رہے ہیں ۔
اگر
کوئی بھی انسان خواہ وہ مسلم ہو ،غیر ہو،یہودی ہو ،عیسائی ہو، اگر وہ کوشش کرے گا
۔اللہ اسے کامیاب دے گا ۔یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔تو ہماری بدقسمتی یہ ہو گی کہ اس
فیلڈمیںباقی لوگ جو کوشش کریں وہ ہم نہ کریں ۔آپ تھوڑی دیر کے لئے پوری کائنات کا
ذرا جائزہ لے لیں اور اس میں دیکھیں کے اس میں جو بھی سائنسی ترقی ہو رہی ہے ،جو
بھی ٹیکنا لوجی کی ترقی ہو رہی ہے ،کیا وہ قرآن میں نہیں ہے ؟فرق یہ ہے کہ ہم نے
قرآن کو اس پرت پر مطالعہ کرنا چھوڑ دیا ہے ہم صرف اس لئے قرآن کریم کا مطالعہ
کر رہے ہیں کہ ہمیں تیس نیکیاں مل جائیں گی، دس نیکیاں مل جائیں گی با لا شبہ
نیکیاں آپ کو مل جائیں گی ۔لیکن اس کا اثر بھی آپ کا ہو گا ؟اس کی سیدھی سی مثال
ہے آپ کوڈاکٹر نسخہ لکھ کر دے دیں۔ آپ اپنے سامنے اور اس وقت خرید کے رکھ لیجئے
اور صبح سے شام تک پڑ ھئے گا اس میں وٹامن Aسے لیکرz موجود ہے جس میں یہ انرجی
موجود ہے ۔
جس
میں یہ انرجی موجود ہے لیکن جب تک اس کیا قطرہ آپ کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔
اس کا اثر آپ کو نہیں ملے گا۔آپ جتنی چاہے تعریف کریں تو قرآن کریم کی تلاوت سے
ہمیں ثواب میں انکار نہیں کرتا ثواب مل جاتا ہے لیکن کیا آپ کی زندگی بدلتی
ہے۔زندگی تو اس وقت بدلے گی جب آپ اس میں غورو فکر کریں اور غوروفکر کا بہترین
طریقہ یہ ہے کہ آپ مراقبہ کریں۔آپ تنہائی میں بیٹھیں اور سوچیں تمام انبیاء کو
دیکھ لیجئے کوئی ایسا پیغمبر آپ نہیں بتا سکتے کہ جس کی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے
پہلے تربیت نہیں کی ہو۔قرآن کریم نے کہا…اللہ ھو الا …کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ
کس کو پیغمبری دینی ہے لیکن ہر پیغمبر کی زندگی دیکھئے کہ پیغمبری ملنے سے پہلے
نبوت ملنے سے پہلے اس نے مراقبہ کیا ،اس نے غورو فکر کیا ، اس نے توجہ کی ،اس نے
سوچا ،اس نے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ذمہ داری عطا فر مائی۔
خواہ
وہ موسیٰ علیہ السلام کاتوریت پر ہو ،کوئی خطبے پر ہو ، حضور علیہ السلام کا غار
حرا میں ہو ، یہ سب چیزیں ہمیں یہ بتا تی ہیں کہ اصل تربیت ہے اوریہ ادراہ سلسلہ
عظیمیہ واقعی قابل ادارہ ہے اس نے وہ مشن شروع کیا ہے۔ جو ہمیں بہت پہلے شروع کر
دینا چاہئے۔آج ہماری نوجوان نسل کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی کے ہم اپنی اصلاح
کس طرح کر سکتے ہیں ۔ہم کہے دینگے کہ ہم بچوں کے ہاتھ سے کلاشن کوف لیکران کے ہاتھ
میں قلم دے دینگے ۔تو قلم دینے سے تو بہت سارے مسائل حل نہیں ہو نگے ۔اس قلم سے تو
ناول بھی لکھا جاسکتا ہے ۔ اس قلم سے کہا
نی بھی لکھی جاسکتی ہے اور اس قلم سے اخلاق کی باتیں بھی لکھی جا سکتی ہیں ۔اخلاق
کی باتیں اس وقت لکھی جائیں گی جب آپ با اخلاق بن جائیں اور جب وہ با اخلا ق بن
جائے گا پھر وہ اپنے قلم کو اس کے لئے استعمال کر ے گا تو حقیقت یہ ہے کہ ہمارے
اسلامی نظام میں ہماری نماز میں ،ہمارے روزے میں،ہماری زکوٰۃ میں ،ہمارے جہاد میں
، جو سب سے اہم چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس میں خوشی اور حدود کس حد تک ہے ۔
تو
ہم اس کے حق تو ادا کر رہیں ہیں یا نہیں اور وہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ ہمارا غوروفکر صحیح ہو ،ہماری سوچ صحیح ہو ، ایک مثال
میں آپ کو دیتا ہوں کہ ایک مرید نے اپنے پیر صاحب سے فر مایا کہ حضرت میں نے ایک
مکان بنایا ہے۔ آپ آئیے اس کی ابتدا کر دیں۔بڑی با برکت بات ہو گئی ۔ وہ گئے
مکان دیکھا اور کہاکہ یہ آپ نے وسٹ او پن کھڑکی کیوں رکھی ،وسٹ اوپن رکھا ہے تو
کھڑکی کیوں رکھی تو اس نے کہا صاحب ویسٹ اوپن میں ہوا آنی چاہئے تو انہوں نے فر
مایا کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ میری تربیت کا تم پر کوئی اثر نہیں ہوا ارے بھائی
تم یہ غور کر لیتے یہ فکر کر لیتے کہ یہ کھڑکی میں نے اس لئے رکھی ہے کہ آذان کی
آواز آئے گی اور میں وقت پر ادا کروں گا تو ہوا کو آنے سے کون روک سکتا تھاتو
خود ویسٹ اوپن ہے ہی تو آدمی اس چیزکی ضرور فکرکریں کہ ہم غورو فکر کریںکہ اللہ
تعالیٰ نے ہمیں کیا ذمہ داری دی۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہترین امت کنڈیشنری ہی
بنا یا ہے ان کنڈیشنر نہیں بنا یا ہے…ہم کریں گے تو ہم پہلی امت ہیں قرآن اٹھا
کردیکھ لیجئے اگرنیکی کو پھیلا نے اور برائی کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ تو ہم
بہترین امت ہو نے کا دعوہ نہیں کر سکتے اور نیکی کو پھیلا نا اور برائی کو روکنا
کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہم نیکی لیں اور نیکی کو سمجھنے کے لئے پہلے ہم غورو فکر
کریںاور جب غوروفکر کریں گے تو قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ آپ کے سامنے چیزیں
آتیں جائیں آپ کے سامنے چیزیں آتیں جائیں ۔آپ کا ذہن وسیع ہو تاجا ئے، اور آپ
اس کائنات کو سمجھتے جائیں ، اور اپنے آپ کو سمجھتے جائیں اور بہترین طریقہ یہ ہے
آپ نے اپنے آپ کو سمجھیں گے تو سمجھیں کائنات کو سمجھ لیا جس نے اپنے آپ کو
سمجھ لیااس نے اللہ تعالیٰ کو سمجھ لیا اس نے کائنات کو سمجھ لیا تو مختصر میں یہ
عرض کرنا چاہتا ہوں۔
جو
آج میرے تاثرات یقین جانئے وہ الفاظ میں بیان میں خود ہی یہ سوچ رہا ہوں کہ میں
نے اب جو بھی صفحوں پر لکھا ہے ۔کیا میرے پاس پریکٹیکل کوئی ہے۔ جب پیچھے مڑ کے
دیکھتا ہوں تو مجھے کچھ اپنے پاس نظر نہیں آتا کہ کیا اس کتاب کا اثر پڑھنے والے
پر ہوا یا نہیں جب تک وہ میری زندگی میں انقلاب نہیں آئے گا عظیمی صاحب نے یہ
انقلاب پیدا کرنے کے لئے یہ سسٹم شروع کیا ہے اور یہ جو مثلا ً ہم بیان کر تے
ہیںکہ جنگل میں منگل کر دیا ہے تو آج جو واقعی احساس ہوا۔ ان نوجوان بچوں کو دیکھ
کر بچیوں کو دیکھ کر یہ کس طرح موجود ہے ہمارے معاشرے میں غورو فکر کی سمجھنے کی
تڑپ پیدا ہو نی چاہئے تڑپ پیدا کرنے والا ہو نا چا ہئے اور مجھے خوشی ہے اور اس
بات کا اطمینان ہے اللہ کا شکر ہے کہ عظیمی صاحب نے نوجوانوں میں یہ تڑپ پیدا کر
دی ہے اور ہماری اس تڑپ میں برکت دے اورانشا اللہ ہم اپنی جامعہ میں بھی عظیمی
صاحب کو تکلیف دیں گے۔
ان کو بلوائیں گے تاکہ وہ ہمارے بچوں کو یہ بتا
ئیں کہ جوکچھ تاریخ ہمیں دے رہی ہیں اس کو پریکٹیکلی اپنانے کے لئے انہیں کیا کچھ
کرنا چاہئے۔ اورانشا اللہ ان کی کتابوں کامطالعہ کریں گے اور اپنے طلبہ کوبھی کہے
گے کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں اور ہمیں سب کچھ مل کر کرنا ہے اور یقین جا نئے اس
معاشرے میں اصلاح نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہم اولیاء اکرام کی زندگیوں کو سمجھنے کی
کوشش نہیں کریں گے ۔جو انہوں نے کیا ہم اس کو سمجھ لیں ان کے نقش قدم پر چل
لیں۔یقین جانئے ہمارے معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی ۔ اس لئے کہ ان کے قول و فعل میں
اختلاف نہیں تھا ۔ہمارا جو معاشرہ تباہ ہو رہا ہے وہ اس ہی لئے کہ ہمارے جو طفیل
ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قول وفعل میںیکسانیت پیدا کر دے اور اپنے معاشرے کی
اصلاح کرنے کی کوشش عطا فرمائے۔اور آخر میں، میں عظیمی صاحب کا اوران کے صاحب
زادے کا اور تمام آپ حضرات و خواتین کاگزار ہوں کہ آپ نے اس با برکت محفل میں
مجھے موقع دیا کہ میں حاضر ہوں اور آپ کی باتیں سنوںاور یقین جانئے میں یہاں سے
بہت کچھ سیکھ کر جا رہا ہوں ۔
بس
آپ سے گزارش ہے کہ دعا کریں کہ جو کچھ میں لیکر جارہا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق
دے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔اختتام