Topics

سوال : نمک اور مٹھاس کی کیا اہمیت ہے؟

 

جواب  :  اسے دیکھئے ہم روحانی ڈائجسٹ کے اندر مسائل کا حل شائع کرتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا ہم جہاں یہ کہتے ہیں بھئی نمک جو ہے کم سے کم کردوتو وہ روحانی تسکین کے لئے نہیں کہتے۔ بلکہ نفسیاتی مریض جو لوگ ہوتے ہیں ان کے لئے کہتے ہیں۔ دماغی مریض، نفسیاتی مریض، پاگل پن کے مریض ان کے لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ بھئی نمک جو ہے کم کردو ، مٹھاس بڑھا دو۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ مٹھاس جو ہے وہ انسان کے زمینی شعور کو طاقت پہنچاتی ہے۔ اگر مٹھاس کم ہوجائے تو انسان کا زمینی شعور جو ہے وہ کمزور ہوجاتا ہے۔ جب وہ کمزور ہوجاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی جناب بیٹھا ہوا ہے وہ کچھ دیکھ رہا ہے۔ اس کی نظر کھل گئی اس نے کچھ دیکھا۔ اس کی کوئی کان میں آواز آگئی۔ آگے پیچھے اس کے کچھ ہے نہیں۔ وہ اس آواز کو اپنے لیے مفید مطلب معنی پہنا رہا ہے حالانکہ اس کا ان معنوں سے کوئی تعلق نہیں۔

 جب وہ چونکہ عملی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ وہ اس میں بضد ہوتا ہے ، یہ ایک قسم کا پاگل پن بن جاتا ہے، مریض ہوجاتا ہے۔ تو روحانی تسکین کے لئے ہم نے کسی کو نہیں کہا کہ نمک بند کردو۔ بلکہ دماغی امراض کے لئے ہم لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ نمک کم کردو، مٹھاس زیادہ کردو۔ جتنا کوئی آدمی مٹھاس زیادہ کھاتا ہے اسی مناسبت سے اس کا شعور، زمینی شعور یا gravity   اس کو آپ کہہ لیجئے ، کشش ثقل کہہ لیجئے ،اس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔اور پھروہ دنیاوی زندگی کو زیادہ اچھی طرح گزارتا ہے بہ نسبت اس کے کہ اگر اس میں نمک کی زیادتی ہوجائے اس کا شعور بند ہوجاتا ہے لاشعور active ہوجاتا ہے۔ تو لاشعور active ہونے سے اس کے دنیاوی کاموں میں خلل پڑتا ہے اس لئے کہ اس کے پیچھے کوئی استاد تو ہوتا نہیں۔ تو اپنے آپ ہی معنی پہناتا رہتا ہے اور اس سے وہ بیمار ہوجاتااور پھر اپنے لئے بھی عذاب ہوجاتا ہے اور گھر والوں کے لئے بھی عذاب ہوجاتا ہے۔

 وہ جن صاحب نے بھی کہا روحانی تسکین کے لئے ایسا نہیں ہے۔ میرا خیال ہے وہ زیادہ غور سے توجہ سے اس کو پڑھا نہیں ہے۔ اختتام


 

Topics