Topics

معراج النبی ﷺ کی روحانی توجیح اور پانچ وقت کی نمازمیں کیا حکمت ہے؟

 

سوال ۔یہ جو شب برات کا شب جو ہے اسی مناسبت سے سوال پو چھے ہیںقرآن پاک کی اس آیت کا ترجمہ ہمیں پتا ہے کہ بابرکت وہ رات جس میں اپنے بندے کولے گیا مسجد احرام سے مسجد اقصیٰ پر،  بابرکت بنا دیاہم نے جس کو دیکھے ہم دیکھا ئے اپنے بندوں پر قدرت کی نشانیوں پر بیشک یہی ہے اس کو سننے والا دیکھنے والا۔  آپ شب براٗت کے اس موقعے پرمندرجہ با لا آیت معراج النبی  ﷺ کے مطابق اس کی روحانی تشریح فرمائیں اور انہیں یہ بھی بتائیں اللہ نے حضو رعلیہ الصلوٰۃ والسلام کس طرح کی نماز،  کیوں عطا کی اس کی حکمت کیا ہے اوراس کی کیا وجہ ہے کہ حضور کے علاوہ دوسرے تمام انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بالکل الگ طریقے سے اپنا پیغمبر بنا دیا ۔معراج کے موقعے پر شب براٗت یعنی یہ تمام مومن کے لئے معراج ہے اس کی تعدادپچاس سے پانچ کیسے ہو گئی ؟

جواب ۔بسم اللہ… تلاوت سورۃ القران

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں رسول اللہ  ﷺ کوجو نماز عطا فرمائی ہے اس سے پہلے لوگ کہتے ہیں کہ جتنے بھی پیغمبر علیہ والسلام اس دنیا میں تشریف لائے ہیں اس سب میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں بتا یا جا تا ہے یہ تو اللہ کو پتا ہے ۔ان سب نے ایک ہی بات کہی ہے کہ صاحب ہم کوئی نئی بات نہیں کہے رہے بات ایک ہے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ اللہ خالق ہے اور بندے مخلوق ہیں ۔ اللہ ایک ایسی ہستی ہے جو مخلوق کوپیدا کرتی ہے اس کی حفاظت بھی کرتی ہے ۔اور مخلوق کوپیدا کرنے کے بعد اس کی تمام ضروریات زندگی کے لئے وسائل بھی فراہم کرتی ہے ۔اور یہ نہیں کہ پیدا کر کے چھوڑ دیا ۔کیوں کہ اللہ ایک ایسی ہستی ہے ایسی ذات ہے کہ جس نے ہمیں پیدا کیا ہمارے لئے وسائل پیدا کئے ،ہمیں عقل و شعور دیا ،ہماری حفاظت کی ،اس دنیا کے علاوہ دوسری دنیا میں بھی ہمارے لئے اجر رکھا جنت بنائی ۔ جس ہستی نے تمہارے اوپر اتنے احسانات کئے تمہارے اوپر اس کا معاملہ نہیں اور وہ ایک اللہ ہے۔

 ایک ہستی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ تمام پیغمبروں نے  رسول اللہ  ﷺ سے پہلے جو کہا سب نے ایک ہی بات کہی اور وحدنیت کی ۔ سب نے کہا اللہ ایک ہے ۔اللہ ایک ہے اور مخلوق بہت ساری ہیں ۔یہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس با ت کا اعلان کر تے رہے کہ،اللہ سے رشتہ جوڑوں ،وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا،تمام آسمان  کے ساتھ،  جس کی مثالیں دی تو اللہ وہ ہے جس نے انسان کو نو مہینے ماں کے پیٹ میں رکھا ،  اللہ وہ ہے جس نے ماں کے سینے میں دو چشمے ڈال دئے دودھ کے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہر پیغمبر نے یہ بات فرمائی کہ ہمارے بعد بھی ایک پیغمبر آئے گا یعنی اللہ نے اپنی مخلوق کے اوپر جو انعامات و اکرامات کئے ہیں ۔ہم سب اس کاضمیمہ ہیں یا دیباچہ ہیں اور ایک بندہ سب سے آخری میں آئے گا ۔وہ اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات کی تکمیل ہو گی ۔اس بندے کو جو ہمارے بعد آئے گا ۔

 تو اللہ تعالیٰ نے جوانتظام دیا اس بات کا کہ رسول اللہ  ﷺ کا تعارف ہوتا رہے ۔تمام انبیاء آتے رہے او ر حضور پاک  ﷺ کی پیش گوئی فرماتے رہے بس آپ یہ کہے سکتے ہیں کہ حضرت آدم کو ہی تکمیل کیوں نہیں کر دی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کیوں نہیں کردی حضرت عیسیٰ پر کیوں نہیں کر دی ،اس کے بارے میںدیکھئے قرآن پاک میں دیکھنا ہو گااللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی امانت سموات پر، زمین پر ،پہاڑوں پر پیش کر دی ۔ سب نے یہ کہا کہ صاحب ہم اس امانت کو اٹھانے میں متحمل نہیں ہو تے اور اگرآپ نے یہ مال ہمارے کندھوں پر ڈال دیا تو ہمارا وجود ہی ختم ہو جائے گاہم ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ تواس امانت کو انسان نے اٹھا لیااور اس کو بتانا ضروری ہے گیا انسان نے اٹھا لیا بغیر کیلکولیشن کے اٹھا لیا اس کے اندر ذرا تو صلاحیت تھی نہیں ۔اس میں پہاڑ کی صلاحیت نہیں ہے ۔تمام آسمان کی صلاحیت نہیں ہے ۔

آپ غور کریں ۔آسمانوںمیں فرشتے بھی ہیں ،گروہ ملاء اعلیٰ بھی ہیں ،گروہ میکائیل بھی ہیں ،زمین  کے اندر کتنی کتنی چیزیں اللہ نے بنائی۔  ہر مخلوق ہے۔ یہ بڑی بھاری چیز ہے اس کو ہم نہیں ما نتے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی امانت کے حساب سے صلاحیت اور سکت پوری ہو گئی تو اس امانت سے تکمیل ہو گئی ۔شعوری انسانی اتنا طاقت ور ہو جائے کہ یہ امانت پوری کی پوری اس میں منتقل ہو جا ئے تو ۔اس شعور کے ارتقاء کے لئے شعور کے اندر سکت پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک لا کھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور وہ لوگ جو آئے ۔آدم کو سکت دی گئی ۔ آدم یا دوسرے پیغمبر آئے وہ سکت ڈبل ہو گی۔ جب اورپیغمبر آئے تو وہ میزان، تو اس میں جمع ہو کر جمع ہو کر جمع کر تو ایک لا کھ چوبیس ہزار شعوریت جب ایک جگہ جمع ہو گئی تو وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی شعوری صلاحیت رسول اللہ  ﷺ میں منتقل ہو گئی ۔

تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر اکمل لکم دینکم …دیکھئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںمیںنے اپنی نعمت رسول پر پوری کر دی ۔کیوں پو ری کر دی اس لئے پوری کر دی کہ ا ب شعور اتنا طاقت ور ہو گیا ہے کہ میری جو امانت ہے اور میرا جو انعام ہے وہ پو را اس کے اندر منتقل ہو اور اس کے اندر صلاحیت ہے اورسکت پیدا ہوئی  ۔ اب سوال کیا کہ صاحب معراج اور پیغمبر وں کو کیوں نہیں ہے۔تو اس بات سے بات اور واضع بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ کو معراج اس لئے ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کی جو پہلی سکت اور صلاحیت وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں سے زیادہ ہے۔ محبوب ہے اور دوسرے پیغمبروں کو معراج اس لئے حاصل نہیں ہے کہ ان کے سکت حضور ﷺ سے بہت زیادہ کم ہے ۔اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صاحب معراج میں حضور  ﷺ تشریف لے گئے فاصلہ رہے گیا دو کمانو ں کا فاصلہ رہے گیا پھر  اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے سے راز و نیاز کی باتیں کیں ۔

تو راز و نیاز کی باتوں سے بھی اس بات کا مشاہدہ ہوتا ہے آپ لوگ کر لیجئے کہ رسول اللہ  ﷺ کی جو زیادہ ضروری سکت ہے وہ اللہ تعالیٰ نے تمام کی،  جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معراج حاصل ہوئی تو ان کی سکت سے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر سے زیادہ ہے ۔ایک تو یہ بات ہو گئی دوسری بات یہ ہوئی دوسری بات یہ ہے کہ جی معراج کے موقعے پرپچاس نمازیں فرض ہو ئیں اور اس کے بعد پانچ ہوگئیں ۔دیکھئے میں الگ ہو ں میں نے کتا بوں میں پڑھا ہے  ۔ میں نے تفکر کیا اور زندگی میں اس بات کا شکر کیا کہ، پیارے حبیب محمد رسول اللہﷺ کے  امتی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کامقا م تیسرا آسمان تھا ۔حضور پاکﷺ کا مقام اتنا اعلیٰ او ر ارفعہ ہے کہ اس کا کوئی نام ہی نہیں،  معراج میں سنا ہے کہ دو کمانوں کا فاصلہ رہے گیا ۔بالکل فاصلہ نہیں رہا ۔ جس بندے کو اتنا بڑا مقام اللہ تعالیٰ نے عطا کردیا کہ اس سے راز و نیاز کی باتیں کیں اور اس کوتیسرے آسمان سے حضرت موسیٰ علیہ السلام برابر گائیڈ کر یں ۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قصے یہودیوں کی گھڑے ہوئے تھے  اور وہ حضور پاک ﷺ کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فضلیت قائم کی ہے ۔یہ عجیب بات ہے ایک آدمی اللہ سے برابر بات کر رہا ہے وہ واپس آتا ہے ۔حضرت موسیٰ ا س کو پھر بھجتے ہیں پھر وہ جا تا ہے پھر وہ یہ کیابات ہے یہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک نبی جو عرش سے بلند ہو اس کو  تیسرے آسمان والا بندہ گائیڈ کررہا ہے  میرے ذہن میں کوئی نئی بات نہیں کی میں یہ کہا یہ یہودیوں کی سازش ہے ۔ اس میں خدا نخواستہ کوئی یہ ہر گز نہیں ہے کہ میرے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقام کمتر ہو تایہ بھی ایک پیغمبر ہیں سب جانتے ہیں قرآن جانتا ہے۔لیکن یہ پچاس نمازو ں سے پانچ نمازیںجو ہیں میں ان کو کم از کم ایک نئی بات ہے کہ اس میں ایک بڑائی کی بات ہے گنی چنی بات ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قران میں پانچ نمازوں کا تذکرہ کیا کوئی کہتا ہے تین نمازیں ہیں تو یہ جوپچاس نمازوں سے پانچ نمازیں ہیں تو اب مسئلہ یہ ہے کہ پانچ نمازیں کو ن پڑھتا ہے بھئی ؟

 وہ نمازی روحانی نہیںہے ۔کہتے ہیں صاحب آپ تاش کھیلنے بیٹھ گئے اور ذہن میں یہ ڈال رہے ہیں کہ ہم روٹی بھی کھا نا بھول جائیں گے سبزی بھی لا نا بھول جائیں گے ۔تاش سب کچھ ہے یہ بھی ایک مسئلہ ہے بھئی جب اللہ کے سامنے آپ کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے دل نہیں لگتاتاش کھیلنے میں آپ کا دل لگے گا فلم کوئی چل رہی ہے ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہو ئے ہیں سارے بیٹھے ہو ئے ہیں اگر تھوڑی دیر آپ اٹھ جائے لیکن کوئی آدمی چار رکعت کی نیت باندھ لیں اور اس سے کہیں کوئی ایک رکعت پڑھ لے تو کوئی نہیں پڑھے گا۔ تو میرا خیال ہے ایسی کوئی بات نہیں تو مقصد یہ ہے کہ نماز کا جو فرض نمازوں کا مسئلہ ہے یہ بات سمجھ نہیں آتی بہرحال نماز فرض ہے اس کو کوشش کرنی چاہئے کہ نماز کو نماز کی طرح پڑھا جائے ۔وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرما یا نماز الصلات …کہ نماز جو ہے انسان کو فو احشات سے منکر کرتی ہے ۔

لیکن ماشا اللہ ہم اتنے سارے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اب جو لوگ کہتے ہیں نماز اپنی جگہ مکاری اپنی جگہ ،  بے ایمانی اپنی جگہ،   وہ والا کام یہ والا کام اس دھن میں اگرآپ کی نمازادا کی ہے ۔ فواحشات میں رہا تو اس کو کسی بھی صورت میںنماز نہیں ہو گی ۔نما ز کا مطلب ہی یہی ہے کہ انسان فواحشات میں مبتلا نہ ہورسول اللہ  ﷺ نے اپنی معراج میں بھی ذکر فرمایا کہ نماز مومن کی معراج ہے … الصلات معراج المومن…کہ نماز مومن کے لئے معراج ہے،معراج کا مطلب ہے حضور پاک  ﷺ کا ہر عمل ،حضور پاک  ﷺ کا ہر قول اللہ کی طرف سے ہے اور اس میں حکمت ہے ۔ بغیر حکمت کے حضور کا کوئی قول نہیں ہے۔ الصلات معراج المومن کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان اس بات سے واقف ہوتا ہے نماز کو اس کے حقوق العباد کے ساتھ قائم کر لیتا ہے ۔تو اس کے اوپر غیب کی دنیا نشرہو جاتی ہے ۔وہ مومن ہوتا ہے ۔حضور پاک  ﷺ نے فرما یا کہ مومن کو مرتبہ احسان عطاہوتا ہے اورمرتبہ احسان میں د و طرح ہوتا ہے ، ایک مرتبہ یہ ہے کہ مومن یہ دیکھتا ہے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہو ں ۔

تو مومن کی تعریف یہ ہے کہ ہم اس کا صلاۃ کے ذریعے نماز کے ذریعے غیبی دنیاکا انتشار ہو جا تا ہے ۔اتنی ہی بات ہے ۔ اختتام

Topics