Topics
جواب : سوال
ادھورا ہے۔ جس بھائی نے بھی سوال کیا ہے اس میں سورہ رحمٰن کی آیت کا حوالہ دیا
ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں … یا معشر الجن و الانس … اے گروہ جنات اور اے انسانوں
کے گروہ! تم اگر تم اگر زمین اور آسمان کے کناروں سے نکل سکتے ہو تو نکل کر
دکھاؤ ۔ من اقطار السموت والارض…اگر تم آسمانوں اور زمین کے باہر جاسکتے ہو تو
جاؤ …لا تنفذوا… نہیں نہیں جاسکتے، نہیں نکل سکتے۔ الا بالسلطن…مگر سلطان کے
ذریعے۔ مطلب یہ کہ اگر آپ سلطان حاصل کرلیں تو آپ زمین اور آسمان کے کناروں سے
باہر جاسکتے ہیں۔ دیکھئے اس میں آیت مبارکہ میں بہت ہی زیادہ غور و فکر کی ضرورت
ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرمارہے ہیں کہ ایک صورت ایسی ہے ، ایک صلاحیت ایسی انسانوں کے
اندر اللہ تعالیٰ نے منتقل کردی ہے کہ اگر اس صلاحیت کو آپ تلاش کرلیں اور وہ
صلاحیت آپ کے اندر بیدا ر ہوجائے تو آپ غیب کی دنیا میں داخل ہوسکتے ہیں۔
من اقطار السموت والارض…آسمانوں اور زمین کے
کناروں سے نکل کر دکھاؤ تم نہیں نکل سکتے مگر سلطان کے ذریعے نکل سکتے ہو۔ تو اب
یہ بہت سارے حضرات یہ کہتے ہیں کہ انسان غیب کی دنیا میں داخل نہیں ہوسکتا انسان
کو غیب حاصل ہی نہیں ہوسکتی ۔یہ غلط ہے۔ اس آیت مبارک سے یہ ثابت ہے کہ انسان کو
اگر انسان کو سلطان حاصل ہوجائے تو وہ غیب کی دنیا میں داخل ہوسکتا ہے۔ من اقطار
السموت والارض…کہ آسمانوں کے کناروں سے تم نکل سکتے ہو، آسمانوں کے کناروں سے
کیا مطلب ہوا؟ زمین کے کناروںسے ، زمین کے کناروں سے جب آپ خلاء میں پہنچ گئے تو
خلاء بھی غیب کے ضمن میں آتا ہے۔ جو چیز آپ کو نظر نہیں آتی یا جس چیز کے بارے
میں آپ کو علم حاصل نہیں ہے وہ آپ کے لئے غیب ہے تو جب آپ زمین کے کناروں سے
نکل کر آسمان میں پہنچ گئے ۔جب آسمان میں پہنچے تو سماوات… سات آسمان کے کناروں
سے نکل گئے تو آسمان کی دنیا کو اس کو ہم غیب کی دنیا کے علاوہ کوئی نام نہیں دے
سکتے۔
تو سات آسمانوں سے نکل جانا ۔ اب سات آسمانوں
کے کناروں سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ سات آسمانوں کے بعد عرش ہے ۔ اس کا مطلب ہے
ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہوئی ہے اس آیت مبارکہ کہ مطابق
کہ اگر سلطان حاصل کرلے تو وہ زمین اور آسمانوں کے کناروں سے نکل کر عرش تک پہنچ
سکتا ہے۔ اور عرش پہ کیا ہے؟ عرش پہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ
اللہ تعالیٰ کو بھی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں صاحب اللہ تعالیٰ کو
زندگی میں کوئی دیکھ ہی نہیںسکتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میںکہیں یہ نہیں کہا
کہ تم زندگی میں نہیں دیکھ سکتے۔ مرنے کے بعد دیکھ سکتے ہو۔ کچھ لوگ یہ سوال کرتے
ہیں صاحب یہ غیب کی دنیا میں داخل ہونا تو الگ بات ہے کیسے ممکن ہے اللہ تعالیٰ کو
تو کوئی دیکھ ہی نہیں سکتا۔موسیٰؑ نہیں دیکھ سکے۔ جب کوہ طور پر اللہ تعالیٰ کی
تجلی کا نزول ہوا تو موسیٰ ؑ دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔
تو جب موسیٰ ؑ نہیں دیکھ سکتے تو ایک عام آدمی
کیسے دیکھ سکتا ہے۔ پہلی بات اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ؑ اگر خدا کو نہیں دیکھ سکے تو
بے ہوش کیسے ہوگئے؟ یہ الگ بات ہے کہ ایک چیز کو موسیٰؑ نے دیکھا ضرور لیکن موسیٰؑ
کا شعور اس کو برداشت نہیں کرسکا اس لئے وہ بے ہوش ہوگئے۔ تو اگر جب وہ دیکھا ہی
کچھ نہیں تھا تو بے ہوش کیوں ہوگئے؟ اس کا مطلب ہے موسیٰؑ کی نظروں کے سامنے کچھ
آیا۔ اللہ تعالیٰ کی تجلی؟ … اب وہ اللہ تعالیٰ ہی آئے۔ اس لئے کہ موسیٰؑ نے کہا
کہ اللہ تعالیٰ میں تو آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا بھئی تو کیسے
مجھے دیکھ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا جی میں
تو دیکھوں گا۔ مجھے تو آپ دکھائیں۔ انہوں نے کہا
… موسیٰ اپنے جوتے اتار دے اور جوتے اتار کے یہاں اندر داخل ہوجاوادی مقدس
میں اب یہ وادی جو ہے مقدس ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا ، اس پہاڑ کی طرف دیکھو!
اگر طور یہ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ گیا مجھے دیکھ
سکے گا۔ جب موسیٰ ؑ نے جب اس پہاڑ کی طرف دیکھا تو وہاں ایک تجلی کا نزول ہوا تو
پہاڑ بھی جل کا خاکستر ہوگیا اور موسیٰؑ بھی بے
ہوش ہوگئے۔ تو نزول اپنی جگہ مسلم اس لئے ہوگیا کہ پہاڑ …۔ اگر اللہ تعالیٰ
کی تجلی کا نزول نہ ہوتا تو پہاڑ خاکستر نہ ہوتا۔ موسیٰؑ کا بے ہوش ہونا بجائے اس
کے اس بات کی علامت ہے کہ مو سی ؑ نے اس تجلی کا دیدار کیا لیکن اسے برداشت نہیں
کرسکے۔ تو اب یہ تو ثابت ہوگیا کہ موسیٰؑ نے دیکھا۔ اور اس کو برداشت نہیں کرسکے۔
تو ایک اصول ہے یہ کہ آپ کسی چیز کو اگر اچانک دیکھیں مثلاً یہ ہے مثال تو ہے
آدمی کی مثال ہمیشہ کمزور ہوتی ہے کہ آپ سو واٹ کا بلب دیکھنے کے عادی ہیں۔ ایک
دم آپ کے سامنے پانچ ہزار واٹ کا بلب روشن ہوجائے۔ اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ ایک دم
آپ چکرا کے گر جائیں گے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جائے گا۔
لیکن پھر وہی بلب اگر آپ کو دکھایا جائے تو آپ
دیکھ لیں گے۔ تواب مو سی ؑ جب بھی اللہ تعالیٰ سے بات کرتے تھے ، گفتگو کرتے تھے
تو کوہ طور پہ تشریف لے جاتے تھے اللہ تعالیٰ کی باتیں سنتے تھے ۔ لوگوں کے پیغام
لے جاتے تھے ان کے جواب لاکر دیتے تھے۔ چالیس دن اور چالیس رات کوہ طور پہ انہوں
نے قیام کیا اور تورات کتاب نازل ہوئی۔ توا س لئے یہ کہنا کہ صاحب خدا کو کوئی
نہیں دیکھ سکتا۔ موسیٰؑ نہیں دیکھ سکے تو کون دیکھ سکتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ خود
فرمارہے ہیں کہ … یا معشر الجن والانس … اے گروہ جنات اور اے گروہ انس … یا معشر
الجن والانس …انستطعتم ان تنفذوا… کیا تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ تم نکل
جاؤ … تم نکل جاؤ …من اقطار السموت والارض … کہ سماوات اور زمین کے کناروں سے۔
دیکھئے اس میں ایک اور بہت اس آیت میں بڑی عجیب بات اللہ تعالیٰ نے زمین پہلے
نہیں کہا … من اقطار السموت والارض … بات زمین پر ہورہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ پہلے
سماوات تذکرہ کررہے ہیں …من اقطار السموت والارض …کیا تم آسمانوں کے کناروں اور
زمین کے کناروں سے نکل سکتے ہو؟
اس کا مطلب ہے آسمان ہے پھر دنیا ہے اس کی
تشریح لمبی ہوجائے گی ۔ تم نہیں نکل سکتے بغیر سلطان کے۔سلطان کیا ہے؟ سلطان انسان
کے اندر اس کی اپنی روح ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ پیدا کرنے کے
بعد خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو انسان سے متعارف کرانے کے لئے انسان کے سامنے
پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے کن کہہ کر اس کائنات کے پرگرام کا جاری کردیا کہ وہ جب
ساری روحیں بن گئیں اب وہ پریشان تھی … پریشان کے بھئی ہم کون ہیں کہاں ہیںکس طرح
ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے کن کہا تو سارے انسان بن گئے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’الست بربکم‘‘ میں تمہارا رب ہوں۔ جب مخلوق کے ذہن میں،
انسانوں کے ذہن میں یہ آواز پڑی کہ میں تمہارا رب ہوںتو سارے انسانوں کا ذہن اس
طرف متوجہ ہوگیا کہ بولنے والی ہستی کون ہے۔ یہ کدھر سے آواز آئی۔ جب مخلوق اور
انسان اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ان سے
مخاطب ہیں۔
اور انہوں نے کہا کہ ’’قالوا بلی‘‘
جی ہاں ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں۔ بغیر دیکھے
اعتراف نہیں کیا۔ بغیر دیکھے خدا کا اعتراف کیسے ہوگیا؟ اس کا مطلب ہے عالم ارواح
میں ہماری روح نے اللہ تعالیٰ کی آواز بھی سنی ۔ اور اللہ تعالیٰ کو دیکھا بھی
اور اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار بھی کیا۔ تو
ہماری روح اللہ تعالیٰ کو پہلے سے دیکھئے ہوئے اور پہلے سے جانے ہوئے۔ اب وہ جو
ہمارے اندر موجود عالم ارواح کی روح اگر ہم اس کو تلاش کرلیں تو ظاہر ہے اس کو
تلاش کرنے کے بعد وہ روح کا جو مقام ہے کہ روح نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا ، اللہ
کی آواز سنی تھی ، اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا تھا ہمارے اندر وہ صلاحیت بنتی چلی
جائے گی۔ اور اس صلاحیت ہی کا نام اللہ تعالیٰ نے سلطان رکھا ہے۔ سلطان سے مراد یہ
ہے کہ اگر تم اپنی روح کو تلاش کرلو اس روح کو جس روح نے عالم ارواح میں ہماری
ربوبیت کا اقرار کیا ہے تو تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل سکتے ہو۔
یہ سورہ رحمٰن کی آیت ہے ۔یا معشر الجن و
الانس۔ (اختتام)