Topics
اس
ساری کا ئنات پر جب ہم غور کر تے ہیں تو ساری کا ئنات ایک فا رمولے پر بنی ہوئی ہے
یہ وہ بات ہے کائنات میں کوئی بھی فرد ہو انسان ہو، جنات ہو ،حیوانات ہوں ،نباتات
ہوںاگر وہ نباتات ہیں تو زندگی کے معاملا ت کو اور زندگی کو چلا نے کے لئے سائل کا
دستیاب ہونا ضروری ہے۔
اب مثلا ً نباتات، نباتات میں سارے پھل آجا تے
ہیں پھول آجا تے ہیں اب یہ محتاج ہیں ان کوزمین ملے تاکہ ان کی جڑیں زمین کے اندر
مضبوط ہوں پھر نباتات اگر آپ اس کی زمین میں بو دیں تو آپ اس کو پا نی نہیں دیں
گے تو وہ کھیت میںنشوونما نہیں ہوگی، کچھ نہیں اُگ سکتا اور اب حیوانات بھی محتاج
ہیں بکر ی دا نے کی محتاج ہے پا نی کی محتاج ہے اسی طرح آپ نے دیکھا ہے جب شیر کو
بھوک لگتی ہے تو و ہ گوشت کھا نے کا محتاج
ہے تو جتنی بھی یہاں کائنات میں انواع ہیں وہ کسی نہ کسی کی محتاج ہے بلکہ زندگی
کے ہر مرحلے میں وہ محتاج ہے اب کوئی آدمی محتاج ہے کہ وہ ماں باپ ہوں تو وہ پیدا
ہو پھر وہی بچہ محتاج ہے اس بات کا کہ ماں کے دل میں محبت ہو تو ماں اسے دودھ
پلائے ما ں محتاج ہے اس بات کی کہ ماں کو اللہ دودھ فرا ہم کر ے تو یہ کا ئنات میں
جتنی بھی ایشیاء جتنی بھی موجودات ہیں ان میں فرشتے بھی ہیں، جنت بھی ہے ، دو زخ
بھی ہے، سماوات بھی ہے، سب محتاج ہیں ایک ہستی کے۔ اب وہ ہستی کون ہے ظا ہر ہے اللہ ہے ۔
اللہ نے بنا یا اور اللہ بنانے کے بعد مخلوق کو
ایسی احتیاج کرتی کہ مخلوق کبھی انڈئپنڈ نٹ نہیں ہو سکتی وہ اللہ کی ذات سے ۔جب تک
اسے اللہ وسائل فراہم نہ کریں اس وقت تک مخلوق قائم نہیں رہے سکتی۔ اب ایک تو یہ
صورت ہوئی ہم جو ہیں ہم بھی محتاج ہیں ؛لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان اور جنات کو
محتاجی کے ساتھ ساتھ اختیارات بھی منتقل کئے ہیں یہ کہ وہ چا ہیں تو اپنے اختیارات
استعمال کر سکتے ہیں اب وہ اللہ کا محتاج ہے ۔
محتاج یہ ہے کہ کوئی انسان بھوک سے پیاس سے نہیں رہے سکتا اس کو بھوک بھی
لگے گی وہ رو ٹی بھی کھا ئے گا اس کو پیاس بھی لگے گی وہ پانی بھی پئے گا تو وہ
بھوک لگنا کچھ نہ کچھ کھانا یہ تقدیر مبرم ہے، کیا کھا نا،؟ کتنا کھا نا ْ؟ یہ تقدیر معلق ہے ۔ بات تقدیر کے معاملے میں
ہزاروںسالوں سے بحث چلی ّآرہی ہے تو آپ لوگوں نے یہ سوال کیا ہے سوال بہت بڑا ہے
اس کے اوپر بہت غورکریںاسے سمجھیں اور جتنے صاحب یہاں بیٹھے ہو ئے ہیں سمجھ میں
بات نہ آئے تو مجھ سے سوال کر یں با ر با ر کر یں، با ر با ر کر یں یہاں تک کہ آپ کی بات سمجھ
میں آجا ئے ۔
دو
تقدیریں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنا ئی ایک تقدیر یہ ہے کہ جو انسان محتا ج ہے اس
میں کوئی ردوبدل کرہی نہیں سکتا دو سری تقدیر یہ ہے کہ انسان اس میں اپنی مرضی سے
اپنی منشاء سے ردوبدل کر سکتا ۔ اس کو
کہتے ہیں مذہب کی زبان میں اسلام کی زبان میں یسی تقدیر جس میں انسان کچھ بھی نہیں
کر سکتا دو سری تقدیر مبرم، جس میں انسان اپنا ارادہ اور اختیار استعمال کر
کے درو بدل کر سکتا ہے اس تقدیر کو مذہب کی زبان میں یااسلام کی زبان میں تقدیر
معلق کہتے ہیں اور ایسی تقدیر جو معلق ہے اور جس کو آپ چا ہیں استعمال کر سکتے
ہیں ابھی میں نے تقریر بیان کی بھوک کا تقاضہ یہ تقدیر معلق ہے انسان ہی نہیں کوئی
سی بھی نوع بھوک پیاس کے تقاضے پر کنٹرول حا صل نہیں کرسکتی لیکن بھوک پیاس کا
تقاضہ کس طرح پورا کیا جا ئے اس میں ردوبدل کر سکتا ہے اب مثلا ً کوئی آدمی چا ہے
کہ میں اناج نہیں کھا تا میں تو پھل کھا کر گزارہ کروں تو وہ پھل کھا کر زندہ رہے
سکتا ہے کوئی آدمی یہ چا ہے میں تو پھل بھی نہیں کھا ئوں گا سبزیاں کھائوں تو وہ
سبزیاں کھا کر گزرا کر لے گا ۔
ایک آدمی آٹھ رو ٹیاں کھا تا ہے اور کھا کر
لحیم شحیم موٹا تازہ ہو جاتا ہے۔ تو بھئی
جب آدمی اپنے بدن کو صحیح نشوو نما میں لا نا چا ہتا ہے، تو وہ آٹھ رو ٹی چھوڑ کر دو رو ٹی پر گزارہ کر
سکتا ہے اور وہ زندہ رہتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے آٹھ رو ٹی کھانے والا با لکل
رو ٹی کھا نا ہی چھوڑ دے ۔ اب دیکھئے دو سری زندگی کیا ہے کوئی آدمی سو نے پر
مجبور ہے ہر آدمی سو ئے گا ضرور کتنا سوئے گا کوئی آٹھ گھنٹے سو سکتا ہے کوئی چا
ر گھنٹے سو سکتا ہے کوئی دس گھنٹے سو سکتا ہے نیند کوآپ کم زیادہ تو کر سکتے ہیں
لیکن نیند سے با لکل چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے ،
تو سونا کیوں کہ مجبوری ہے سونے کی جو کیفیت ہے وہ تقدیرمبرم ہے کتنا سونا
یہ تقدیر معلق ہے پھر سو نے کے بعد جا گنا بھی ضروری ہے ۔ بیماری تو الگ چیز ہے اب دیکھئے کوئی آدمی
کومہ میں چلا جاتا ہے اس کو آپ کہے گے جی کومے والا تو چھ مہینے تک سوتا رہا ہے
اس کا الگ قانون ہے، تویہ تقدیر مبرم اور
تقدیر معلق کا اصول ہی یہ بنا کہ جہاں آپ مجبور ومحض ہیںجس جگہ آپ اپنا کوئی
اختیار استعمال نہیں کر تے وہ تقدیر مبرم ہے اورجہاں آپ اپنا اختیار استعمال
کرسکتے وہ تقدیر معلق ہے ۔
مثلا اسلام قبول کر نا تقدیر معلق ہے حقوق پورے کر
نا تقدیر معلق ہے خد ا کو ما ننا ، خدا کو ماننا یہ تقدیر مبرم ہے حا لا نکہ دیکھئے یہ کیمونسٹ لوگ اپنے ارادے و
اختیار سے وہ کہتے ہیںخدا کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا اب آپ نے سنا ہو گا خدا کا
وجود نہیں ہے ایک دھماکہ ہوا ایک حا دثہ ہوا اس حادثے کے نتیجے میں یہ کائنات بن
گئی جب کہ قرآن کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس نے نہ کسی وسیلے سے بندے کو پیداکیا
اور بندہ کوئی …عربی آیت …اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہر تخلیق میں کوئی نہ کوئی شئے
کوئی نہ کوئی وسیلہ موجود ہے اور ایک دفعہ کسی تخلیق میں اس وسیلے کو قبول کر لیں
گے تو وسیلہ در وسیلہ با لاخر آپ اس جگہ تک پہنچ جائیں گے جہاں اس کوپیدا کرنے
والا ہے وہ خالق بھی اللہ ہے تو کیمونسٹ یہ کہتا ہے میں خدا کو نہیں مانتا اب سوال
یہ پیدا ہوتا ہے خدا نہیں ہے تو انکار کس چیز کا ہو رہا ہے ۔
کوئی
چیز ہے تو انکا ر ہو رہا ہے نا بھئی جب کوئی چیز ہے ہی نہیں اس کا وجود ہی نہیں ہو
اس کا تو انکار اور اقرار دونوں زیر بحث ہی نہیں آتا ہے اب وہ خدا کو سمجھنا چا
ہتا ہے عقل اس کی اتنی محدود ہے کہ خدا اس کو سمجھ میں نہیں آتی وہ کہتا ہے خدا
نہیں ہے سوال یہ ہے کہ خدا نہیں ہے یہ لفظ کہاں سے آیا خدا نہیں ہے اس کا مطلب ہے
مجبوری ہے خدا کو ماننا انسان کے لئے اور جنات کے لئے مجبوری ہے اب یہ الگ بات ہے اس مجبوری کو آپ توڑ موڑ کر
کوئی نام دے دیں۔ تقدیر مبرم خدا کو ماننا،اس کا مانے میں آپ اپنا اختیار استعمال
کریں اوراختیار استعمال کر یں اور اسے آپ کہے تقدیر معلق ہے کیا کوئی وجود میں
کوئی شئے کسی بھی حالت میں انکار نہیں کرتی یہ الگ بات ہے آپ کوئی نام رکھ لیں فا
رسی کالفظ ہے خدا،عربی کا لفظ ہے اللہ ،کہ صاحب ہم تو اللہ کو ما ننے گے خدا کو
نہیں ما نتے اب ہندو کہتے ہیں ہم تو بھگوان کو ما نے گے رحمان کو نہیں مانے گے فا
رسی کہتے ہیں نہ بھگوان نہ رحمان ہم تو یذداں کہے گے اور یہوری کہے گے ہم تو نہ
بھگوان نہ رحما ن ایلیاء کہے گے۔
اب بہر حال یہ کہنا ہے نہ بھگوان نہ رحمان نہ
خدا بات وہی ہے نا م رکھا آپ نے مجبوری
ہے یہ جو خدا کو ماننا تقدیر مبرم ہے اور خدا کے نافذ کر دہ اختیارات کو آپ
استعمال کر یں یا نہ کر یں یہ تقدیر معلق ہے۔
جتنے بھی پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لا ئے انہوں نے ایک ہی پیغام
دیا کسی نے نئی بات نہیں کہی مثلا ً آدم سے لیکر رسول اللہ ﷺ سب نے ایک ہی بات بتا ئی وہ بات یہ بتا ئی تم
مخلوق ہو، تمہا را پیدا کرنے والا کوئی ہے
اور اس پیداکرنے والے نے تمہار ے لئے ایک ضا بطہ حیات بنا دیا ہے ۔اگرتم اس کے
بتائے ہو ئے معین کئے ہوئے را ستے پر چلوگے تو وہ را ضی ہو گا اگر تم اس کے بتا ئے
ہو ئے راستے پر نہیں چلو گے تو وہ تم سے نا خو ش ہو گا تو اس کامطلب یہ ہو گا کہ
انبیا ء کی تعلیمات نے ہمیں کیا کچھ دیا،
ہمیں انبیا ء کی تعلیمات نے یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو نظا م بنایا ہے
، اس میں زندگی کے دورُخ ہیں ۔
ایک
رخ وہ ہے جس کو اللہ پسند کرتا ہے اور ایک رخ وہ ہے جس کو خدا پسند نہیں
کرتا، جس کو اللہ پسند کرتا ہے وہ انبیا ء
کا راستہ ہے اور جس کو رب نہیں پسند کرتا وہ شیطان کا را ستہ ہے تو اس کا مطلب یہ
ہوا کہ انبیا ء کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اچھا ئی اور برا ئی کا تصوردے دیا اور اب
خدا کو ما ننا تقدیر مبرم ہے اور اچھا ئی اور برا ئی کے تصور کو قبول کر نا، یہ اچھا تصور قبول کر یںگے یا برا تصور قبول کر
یں گے یہ تقدیر معلق ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا
’’لا اکرا فی دین‘‘ کہ دین کے
معاملے میں جبر نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ یہ چا ہتے کہ ہر انسان اللہ تعالیٰ کو
ماننے تو کسی انسان کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سے انکار کر
سکتا اللہ تعالیٰ نے لا اکرا فی دین کہہ کر دین کے معاملے میںپو ری نوع انسانی کو
آگا ہ کر دیا اور یہ بتا دیا انبیا ء کے ذریعے اور انبیا ء کے ورثہ اولیا ء اللہ
کے ذریعے یہ بتا دیا کہ یہ منزل ہے تم لوگ ایک نقطے پر کھڑے ہو اس طرف جا ئو گے تو
را ستہ بہت اچھا ہے اور تم وہاں پہنچ جا ئو گے جو پسندیدہ ہے تمہا رے لئے اور با
ئیں ہا تھ کو تم چلو گے تو وہاں پہنچ جا ئو گے جہاں تمہارے لئے نہ پسندیدہ مقام ہے
اگر االلہ تعالیٰ انسان کو اختیار نہ دیتے یا تقدیر معلق نہ بناتے تو انسان کا
اختیار ختم ہو جا تا ہے نہ جنت رہتی ہے نہ دو زخ رہتی ہے ۔
جنت
دو زخ کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بااختیارکر دیا ہے چاہے وہ جنت
کے را ستے پر کھڑا ہو چا ہے وہ دو زخ کے را ستے پر۔ رسول اللہ
ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر آدمی کی جنت دو زخ اپنے ہا تھ میں لیکر گھومتا ہوں چا
ہے وہ اپنے اندر سے جنت کو نکال لے اور چا ہے وہ اپنے اندر سے دوزخ کو نکال لے ۔اب
آپ دیکھئے اللہ تعالیٰ اچھا کھا نے کو دیتا ہے،
اولاد بھی اللہ نے دی، والدین بھی
حیات ہے بچے بھی ہیں کارو بار بھی ہے اب یہ کھا نا پینا رہن سہن جو ضرورت زندگی ہے
وہ حاصل ہے اگر اس کے با و جود آدمی خوش نہ رہے پا ئے تو یہ سب کیا ہے؟ ۔ ضرورت
زندگی پو ری ہورہی ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرما ے ہر آدمی کی جنت دو زخ اس کے ساتھ
ہے تو جنت اور دو زخ کا را ستہ انتخاب کر نا ہے یہ تقدیر معلق ہے اور کسی نہ کسی
را ستے پر چلنا یہ تقدیر مبرم ہے یعنی آدمی چلے گا کھڑا تو ہونے سے رہا ساری
کائنات چل رہی ہے انسان بھی چلے گا تو یہ تقدیر مبرم اور تقدیرمعلق یہ ہے کہ جہاں
انسان اور ارادہ اختیار استعمال کرتے ہیں ۔
میں تو خود ایک مجبور ہو ں اس کو عربی زبان میں
تقدیر مبرم کہا جا تاہے ،اور جہاں انسان اپنا ارادہ اور اختیار استعمال کر سکے یہ
تقدیر معلق ہے۔