Topics
جواب : یہ
اللہ تعالیٰ نے سات نہیں چھ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ سبع سماوات فی ستۃ ایام … سات
آسمان بنائے چھ دنوں میں۔ تو چھ بھی بھائی طاق نہیںہے ۔ یہ تو ایک بات ہوگئی۔
دوسری بات یہ کہ علم الاعداد ایک بہت بڑا علم ہے ۔ اتنی مختصر سی مجلس میں علم
الاعداد کے اوپر گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ البتہ روحانی ڈائجسٹ میں ایک مرتبہ پورا اس
پر تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے ۔ میں پھر آپ لوگوں سے عرض کردوں روحانی ڈائجسٹ پڑھا
کریں۔ آپ اخبار بھی پڑھتے ہیں۔ اس میں اس طرح کے مضمون آٹومیٹک آتے رہتے ہیں۔اب
پچھلے دنوں تین چار قسطوں میں علم الاعداد کے اوپر مضمون چھپا ہے۔ چار قسطوں میں
چھپا ہے۔ تو چار قسطوں کا مطلب یہ کہ کبھی چھ صفحے چھپے ہیں، کبھی آٹھ ، چار صفحے
چھپے ہیں ۔ تو چار بھی اگر آپ لگالیں تو سولہ صفحے روحانی ڈائجسٹ کے اس میں صرف
ہوئے علم الاعداد کے سلسلے میں اور سولہ صفحے کا مضمون دو لفظوں میں آپ کو کیسے
بیان کروں۔
تو بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اگر آپ کو واقعی
علم کی پیاس ہے ، روحانی علوم آپ سیکھنا چاہتے تو روحانی ڈائجسٹ پڑھا کریں۔آپ کے
پاس پیسے نہ ہوں، مانگ کے پڑھ لیا کریںبھئی مسلمان مذہبی لٹریچر مانگ کے ہی پڑھتا
ہے ۔ پیسے نہیں خرچ کرتا۔ ناول خرید لے گا، رسالہ خرید لے گا۔ اخبار خریدے گا جس
میں سوائے جھوٹ کے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سوائے ڈر و خوف کے کچھ نہیں ہوتا۔ صبح کو
اٹھتے ہی ہر آدمی اخبار ایسے پڑھتا ہے جیسے تلاوت کررہا ہو اور اس میں کچھ بھی
نہیں ہوتا یا تو قتل ہوگیا، وہاں ڈاکہ ہوگیا۔ یا اس نے کچھ بول دیا اس نے کچھ بول
دیا۔ سارے دن وہ جناب اٹھتے ہی وہ رات کو سونے کے بعد انسان کا دماغ صاف ستھرا
ہوتا ہے ، دھل جاتا ہے سفید کپڑے کی طرح اور بجائے اس کے کہ قرآن پڑھے، اللہ کا
نام لے، رسول کا نام لے وہ اخبار پڑھنا شروع کردیتا ہے اور وہ سارے دن سوائے دہشت
کے ، عدم تحفظ کے ، خوف کے، جھوٹ کے وہ سارے دن اسی کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔
رات
کو سوتا ہے تو ذرا دماغ دھلتا ہے صبح کو پھر وہ پریشان ہوجاتا ہے یعنی پیسے دے کر
جھوٹ اپنے اندر منتقل کررہا ہے۔ بھئی چلو ٹھیک ہے وہ اچھی کتابیں بھی پڑھا کرو
بھئی۔ اللہ کی … اولیاء اللہ کی کتابیں پڑھا کرو۔قصص الانبیاء پڑھا کرو۔ قرآن کا
ترجمہ پڑھا کرو۔ قرآن شریف پڑھا کرو اور جو اچھی معلوماتی کتابیں ہیں وہ پڑھا
کرو۔روحانی ڈائجسٹ کے بارے میں آپ یہ نہیں سمجھیں کہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں
کیونکہ میں نکالتا ہوں اس لئے آپ پڑھا کریں۔ نہیں میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس میں
واقعتا روحانی علوم ہوتے ہیں۔ اس سے آپ کی استعداد بڑھے گی۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ
روحانیت ہے کیا چیز؟ اب بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں صاحب اس کے اندر مضامین ایسے
ہوتے ہیں وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتے۔ بھئی وہ تو جب آپ پڑھوگے سمجھ میں آجائے
گا۔ اب ایک آدمی نے انگریزی کبھی پڑھی نہیں اس کے سامنے آپ انگریزی بولتے رہئے
بولتے رہئے اس کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔
لیکن جب اس کی دلچسپی بڑھے گی وہ اس کو سیکھنا
چاہے گا پھر وہ انگریزوں کی طرح بھی انگریزی بولنا شروع کردے گا۔ اختتام