Topics

سوال : فقیر اور درویش میں کیا فرق ہے ؟

 

سوال  :  رمضان میں حواس کی رفتا ر 60,000گنا کیسے کی جا سکتی ہے ؟

رمضان کے مہینے کے مطا بق میں کچھ عرض کرتا ہوںہر انسان جس کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے اس کے اوپر بے شمار انعامات نازل کئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہرنسان کے لئے ایسا ایک نظام بنا دیا ہے وہ چاہے کچھ کر ے یا کچھ نہ کرے زندگی کے جو اسباب ہیں اور زندگی کے جو وسائل ہیں وہ سب فراہم ہو تے ہیں اب جیسے ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ ہوا چلا تے ہیں گر می اگر ہے تو سب کے لئے ہے اور یہ نہیں ہے اگر صاحب کوئی آدمی گنا ہ گار ہے اس کے اوپر پا نی بند کر دے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت الحمد اللہ …اللہ تعالیٰ جو ہیں وہ عالمین کے رب ہیں مسلمانوں کے رب نہیں ہیں الحمد اللہ رب العالمین …ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نہیں کہا رب المومنیین …رب العالمین ،  رب عالمین میں مسلمان بھی ہیں اللہ کے دو ست بھی ہیں اللہ کے دشمن بھی ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کو مانتے ہی نہیں ہیں ۔

لیکن خود اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام بنا یا ہے کہ اب وہ جو ربوبیت جو ہیں وہ سب عالمین کے لئے اس لئے اللہ تعالیٰ سب کو رو زی فرا ہم کر تے ہیں اب دیکھئے با رش بر ستی ہے آپ نے دیکھا ہو گا تو بارش کچی زمین میں بھی بر ستی ہے،با رش کچڑ میں بھی بر ستی ہے،با رش پتھر میں بھی بر ستی ہے،با رش ایسے درختوں میں بھی بر ستی ہے جن پر تھوڑے پھل لگے ہو ئے ہو تے ہیں ،اوربا رش ایسی جگہ بھی بر ستی ہے جہاں کا نٹوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ،با رش جب بر ستی ہے رحمت ہے، تو وہاں وہ رحمت کو اس بات کی تخصیص نہیں کر سکتے کہ اسے کچڑ میں نہیں بر سنا چا ہئے یا کیا کہتے ہے پہاڑ پر کوئی پتھر پر بر سی تو کیا ہو گا پا نی بہے جائے گا کوئی فا ئدہ ہی نہیں ہے با رش ہر جگہ بر ستی ہے ۔ اب یہ ہے کہ جہاں کھیتی ہو گی با رش کا فا ئدہ وہ گا وہاں لگے ہاتھوں کھیت بھی بنے گے ،درخت بھی لگے گے ، پودے بھی لگے گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ جو کائنات بنا ئی اس کا ئنات میں جتنی بھی مخلوق پیدا کی اس ،میں انسان ہی نہیں سب مخلوق درندے ، پر ندے ،حشرات الاارض ، جنات سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے زندہ رہنے کے وسائل فراہم کئے ۔

  اب اس میں انسان اور حیوان دو نوں برابر ہیں ۔  اب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں انسان کو افضل مقام عطا کیا ،  آدم کا انتخاب کیا بحیثیت نیا بت اور خلا فت کے تو آدم کو جب اللہ تعالیٰ نے ممتا ز کیا تو آدم کے لئے ایک قانون یہ بنا ایک قانون بنا اس لئے تاکہ دو سری پھیلی ہوئی تمام مخلوق سے ممتا ز ہے جب ممتاز ہونے کا مسئلہ آیا تو وہاں پر ظاہر پہلے ایک قانون بنا اس قانون کی سمجھدا ری کے لئے،  اس قانون کی اہمیت کے لئے اس قانون کو منتقل کرنے کے لئے اور قانون کو پھیلا نے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو سلسلہ شروع کیا اور ان کو خود پڑھا یا اب دیکھئے بڑی عجیب بات یہ ہے پیغمبروں کے استاد نہیں ہو تے ،  ایسا نہیں ہے کبھی نہیں آپ نے سنا ہو گا کہ بھئی حضرت عیسیٰ کا فلاںاستاد ہے،  حضرت موسیٰ کا فلا ں استاد تھا،  حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا فلا ں استاد تھا۔

  بلکہ ان لو گوں نے تو اپنے خاندان کے جو بڑے تھے ان کی مخالفت کی ،  حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے والدکا حکم لوگ مانتے تھے ان کی شان تھی کہ ان کے بنا ئے ہو ئے بتوں کو اس زمانے کے با دشاہ معبود بنا کر پوجتے تھے ۔کیا ٹھکا نہ تھا، عظمت کا، دنیا وی نقطہ نظر سے آپ دیکھیں جس بندے کی بنا ئی ہوئی مورتیوں کو بادشاہ پوجتے ہیں اس کی دنیا میں کیا منزلیت ہو گی کیا مقام ہو گا کیا لیکن حضرت ابرا ہیم علیہ السلام ان کے بیٹے انہوں نے کہا صاحب آپ یہ جو بت بنا رہے ہیں یہ تو مکھی بھی نہیں اٹھا سکتے تو آپ کیوں اس کی پرستش کرر ہے ہیں جو نہ سن سکتا ہو،نہ دیکھ سکتا ہو ،نہ مکھی ما ر سکتا ہو مقصد یہ ہے کہ انہوں نے ایسی تعلیم سے انکار کیا،  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ دیکھئے ،  حضور مو سیٰ علیہ السلام کو بھی آپ دیکھئے اب  وہاں فرعون کا بنا یا ہوا جو قانون تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی مخالفت کی،  تو حضور  ﷺ تشریف لا ئے اب وہاں مکہ میں ان کا جو خاندان  یا قبیلہ یا اہل عرب قریش تھا جو مذہب تھا اور انہوں نے اس مذہب کی بنیا دپر جو خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے تھے ۔

  لوگوں نے کہا آپ یہ نہ کہے آپ ہمارے آبا ئو اجداد کے مذہب کو برا نہ کہے ہم جو آپ کہے وہ کریں گے یہ نہیں کر یں گے،  ظاہر ہے اب آپ کے سامنے حضور پاک  ﷺ کی زندگی ہے کیسی کیسی تکلیفیں ،کیسی کیسی اذایتیں حضور کو اہل عرب نے دی انتہا ء یہ ہے کہ پتھر مارے لہو لو ہان ہو گئے ۔پیر مبا رک سے اتنا خون بہا کہ جو تا بھر گیا کو ڑے بر سا ئے گئے سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجڑی رکھی گئی انتہا ء یہ ہے مکہ بھی چھوڑنا پڑا ،وطن بھی چھوڑنا پڑا لیکن حضور نے اللہ تعالیٰ کا جو مشن نہیں چھوڑاوحدنیت کا مشن جو ہے حضور نے تبلیغ کی اور اس میں تلقین کی جتنے بھی پیغمبر علیہ الصلوٰ ۃ والسلام تشریف لا ئے انہوں نے دراصل ان تعلیمات کا پر چا ر کیا جو خا لق مخلوق سے چا ہتی ہے ۔  اللہ تعالیٰ بحیثیت خا لق سے اپنے مخلو ق سے جو چا ہتے ہیں وہ پیغمبروں نے بتایا اور کہا ۔  ایک لا کھ چو بیس ہزار پیغمبر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کیو نکہ آدم نا ئب اور خلیفہ ہے ۔

 کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو یہ عظمت عطا کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد اگر کوئی ہے تو وہ آدم ہے،  یعنی جعلون فی الارض خلیفہ …آدم کو اللہ تعالیٰ نے علم لاسماء سیکھا یا فرشتوں کے سامنے پیش کیا فرشتوں نے عتراف کیا اب جو آدم کو علم عطا کر دیا وہ ہم جانتے ہی نہیں ہے تو اس خصوصی علم کو ظا ہر کرنے کے لئے نمایاں کرنے کے لئے آدم کی عظمت کو بڑھا نے کے لئے اللہ تعالیٰ نے علم سیکھا یا تا کہ آدم کی اولاد اس قانون پر عمل کر سکے دو سری مخلوقات سے اور حیوانات سے ممتا ز رہے ۔تو یہ جو ہمارے زندگی میں جو ارکان ہیں یہ سارے وہی ارکان ہیں اب مثلا ً یہ عبادت کر نا اب عبادت تو سارے کر تے ہیں اب زمین کے اوپر کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو عبا دت نہیں کرتی، پر ندے بھی عبا دت کر تے ہیں ،  درخت بھی عبا دت کر تے ہیں ، زمین کا ذرہ ذرہ عبا دت کرتا ہے لیکن جب انسان کی عبا دت کاتذکر ہ آتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے پاک ہے وہ نہایا،  دھو یا ہو ،  وضو سے ہو یا جس جگہ عبا دت کر رہا ہو وہ جگہ پاک ہو یا جس کپڑوں سے عبا دت کر رہا ہے وہ کپڑے صاف ہو ا، کہ بھئی کسی چیز اس لئے کسی کا حق نہ ما را جا ئے۔

  اب بکر ی ہے،  اب بکر ی عبا دت تو کرتی ہے اللہ کی، لیکن بکر ی کو یہ پتا نہیں ہوتا چو ری بھی کوئی چیز ہوتی ہے جہاں دل چا ہے منہ ما رلیتی ہے کھا لیتی ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو یہ بتا یا یہ کہ انسان وہی انسان ہے کہ جو ان قوانین کے مطابق عمل کرتا ہے جو اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے انسانوں کے لئے مخصوص کئے اور یہ وہی علوم ہیں یا وہی قانون ہیں جس قانون کی وجہ سے انسان کی عظمت ظا ہر ہوتی ہے اور جس قانون پر عمل درآمدسے انسان تمام مخلوقات سے ممتا ز ہو جا تا ہے ۔

اب اس میں عبا دت کا قانو ن آیا اب دیکھئے پھر وہی بات بسم ربک…عبا دت کر و اللہ کی سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہو نے سے پہلے اور اللہ نے یہ بھی کہا بھئی فرشتے بھی عبا دت کر تے ہیں ،کبو تر بھی عبا دت کر تے ہیں اور پر ندے بھی عبا دت کر تے ہیں ، لیکن انسان کے لئے یہ زائدعمل ایک را بطہ ہے،  انسان کا ایک مسئلہ کہ صاحب پا نچ مرتبہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں حا ضر ہو نا چا ہئے ، پھر یہ کہ نماز کس طرح ادا کی جا ئے ،نماز کس طرح قائم کی جا ئے ،اور یہ کہ نماز خالق اور مخلوق کے درمیان ایک ایسا واسطہ ہے جو واسطہ اگر قائم ہو جائے جو را بطہ قائم ہوجا ئے تو بندہ اللہ کے ساتھ رابطہ قائم ہو جا تا ہے اور وہ اللہ کے قریب ہو جا تا ہے ۔ بندے کا اللہ سے ایک ایسا تعلق ہو جاتاہے کہ بندہ اللہ کو اس طرح دیکھتا ہے جس طرح ایک بندہ ایک بندے کو دیکھتا ہے ۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ یہ لوگ اللہ کو نہیں دیکھ سکتے اللہ کو کیسے نہیں دیکھ سکتے اللہ کو تو ہم وہاں علم ارواح میں دیکھ چکے ہیں جب اللہ نے الست البربکم …کہا تو ہم نے کہا قالوالبلی …جی ہاں ہم نے آپکو دیکھ لیا ہے سمجھ لیا ہے آپ ہی ہمارے رب ہیں اس با ت سے اقرار کر تے ہیں ہم تو پہلے سے اللہ کو دیکھ کر اللہ کا دیدار کئے ہو ئے ہیں ۔

جب  وہ عمل مادیت سے پہلے کا ہے تو مادیت کی بنیاد پر بھی ہم یہ کیسے کہے سکتے ہیں کہ ہم اللہ کو دیکھ سکتے ہیں اب بھئی ما دی پر دہ آپ ہٹا دیں تو اللہ کو دیکھ لیں گے ۔اب یہ بھی کہ صاحب اللہ کو کوئی نہیں دیکھ سکتا لیکن مر نے کے بعد اللہ کو دیکھ سکتے ہیں ارے بھائی تو مر نے کے بعد جب تک انسان زندہ ہے روح ہے،  تو ہم زندہ ہیںروح نہیں ہے ْ تو آدمی مر گیاتو اگر مرنے کے بعد کوئی چیز اللہ کو دیکھ سکتی ہے تو اس کی روح دیکھ رہی ہے تو روح تو ہماری زندگی ہے روح تو ہماری حرکات ہے اگر ہم اس دنیا میں ما دی دنیا میں رہتے ہو ئے اپنی روح کا ادراک حا صل کر لیں اپنی روح کو پہچان لیں …اپنے  نفس کو پہچان لیں یا  اپنے آپ کو پہچان لیں،  تو روح تو اللہ کو دیکھ ہی چکی ہے یہ بات صحیح ہے کہ مادی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی لیکن روح تو اللہ کو دیکھ سکتی ہے کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی ہے لیکن اللہ جب چاہتا ہے تو آنکھ دیکھ لیتی ہے یعنی روح ،  روح جو ہے اس نے تو اللہ کو پہلے ہی دیکھ لیا ہے ۔

یہ جو ہمارے لئے قانون بنے ہیں اس لئے بنے ہیں تا کہ ہم حیوانات سے اور دو سری مخلوق سے ممتاز ہو جا ئیں اس میں حج بھی ہے ، اس میں نماز بھی ہے ،اس میں روزہ بھی ہے دو سری بات جو بہت زیادہ غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کا جب ہم مطالعہ کر تے ہیں تو اسلام کا کوئی بھی رکن کوئی بھی ایک رکن آپ کو ایسا نہیں ملے گا جس میں اجتما عیت نہ ہو ۔ اس کا نام ہی اجتماعیت ہے مثلا ً پانچ وقت کی نماز پڑھنے با ہر جا رہے ہیں مسجد میں اجتما عیت ہے ۔جمعہ کی نماز ایک اور بڑی اجتماعیت ہوئی ،عید کی نماز پو را شہرہی ایک جگہ اکٹھا ہوگیا ،حج ملک ملک قومیں ادھر سے ادھر سے ساری دنیا کے کا لے گورے انگریز غیر انگریزجو بھی ہیں سب جا کر بیت اللہ میں ایک جگہ جمع ہو جا تے ہیں اب دو سری یہ کہ حج بھی ایک اجتماعیت ہے اب روزے کو آپ دیکھ لیجئے انہو ں نے کہا صاحب مولو ی صاحب نے اللہ و اکبر کہہ دیا سحری کے وقت ہر آدمی نے حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر دیا ۔

منہ بند، کوئی اسے کہنے والا نہیں ہے تم نے پا نی نہیں پیا غسل خا نے میں جا کر پا نی پی لو،  کون دیکھنے والا ہے،  لیکن نہیں وہ بھو کا ہے اس لئے کہ اس نے ایک عہد کیا ہوا ہے کہ ا للہ کے لئے بھو کا رہنا ہے،  اس لئے بھو کا رہنا ہے اللہ کے لئے ، جب میں اللہ کے لئے بھوکا رہو گا تو میرے نفس کے اندر ایک رو شنیاں پیدا ہو نگی،  ادراک پیدا ہو گا،  ما دیت سے دور ہو ں گا،  مولوی صاحب نے پھر اللہ و اکبر کہا سا رے کے سارے کھانے لگے اب کسی شہر اب کرا چی،  کراچی میںکم وبیش دس لاکھ آبادی ایک آذان پر ایک کروڑ آدمی منہ بند کر لیتے ہیں اور ایک دو سری آذان پر سارے کے سارے کھا نا شروع کر دیتے ہیں اس سے بڑی اجتما یت کیا ہو گی تو روزہ ایک ایسی اجتما عیت کا نام ہے رو زہ ایک ایسا پروگرام ہے جس پرو گرام پر عمل کر کے انسان ما دی حواس سے دور ہو جا ئے اور روحا نی حواس سے قریب ہو جائے ، جتنا جتنا آدمی اللہ تعالیٰ کے لئے اب دیکھئے نہ ایک تو پا نچ وقت کی نماز ایسا نہیں ہو اکہ بھی روزہ ہو ا تو پا نچ وقت کی نماز معاف ہو گئی ۔

  نہ بلکہ مزید یہ ہوا کہ نماز بھی قائم کر لی،جھوٹ بھی نہیں بولنا ہے ،کسی پر غصہ بھی نہیں ہونا ،کسی سے نفرت بھی نہیں کر نی ،اور بھو کا بھی رہنا ہے بھو کا رہنے سے مرا د یہ ہے کہ مادیت کی طرف تو رمضا ن اصل میں ایسا پرو گرا م ہے کہ جو انسان کو ما دی حواس سے دو ر کر کے رو حا نی حواس میں دا خل کر نا یہ وہ پرو گرام ہے کہ بھئی آپ رو زہ رکھے شب قدر کا پروگرام آجا تا ہے،  شب قدر میں اناانزلنہ …اس آیت میں کہ ایک را ت برا بر ہے ایک ہزار را توں کے ایک ہزار مہینے میں تیس ہزار دن ہوتے ہیں او تیس ہزار رات ہوتی ہیں یعنی ایک انسان کے اندرجو رفتا ر حواس کی کام کررہی ہے وہ رفتار جو تیس ہزار دن اور تیس ہزار راتوں میں سفر کرتی ہے تو ایک رات میں سفر کر رہی ہے ۔یعنی انسان کے اندر اگر رو زے کا صحیح مفہوم پیدا ہو گیا تو رو زے رکھنے والے بندے کے اندر ما دی حواس اللہ تعالیٰ کے اور اللہ کے رسول کے بتا ئے ہو ئے قانون کے مطا بق مادی حواس کی نفی ہو جا ئے اور روحانی حواس بیدا ر ہو جا ئے ۔

 کسی آدمی کے اندر،  رسول اللہ  ﷺ کسی امتی ہے اندر حواس کی رفتا ر ساٹھ ہزار گنا ہو جا ئے تو اس کے سامنے فرشتے آجا تے ہیں انا انزلنہ …فجر سے مرا د دن،  دن کے حواس قر آن میں دو حواس کا بیان کیا گیا ہے ایک دن کے حوا س ا و رایک رات کے حوا س، ا گر ہمارے اندر حواس کی رفتار ساٹھ گنا ہو جا ئے تو ہمارے سامنے فرشتے آجا ئیں گے جبرا ئیل بھی آجا ئیں گے حتی متلاالفجر …جب تک ان حواس میں دن کے حواس شامل نہ ہو جا ئے تو فرشتے ہما ر ے سامنے ہیں ہم دیکھتے رہے تو رمضان کا مقصد ایک پرو گرام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام رسول اللہ  ﷺ کے علا وہ بھی جتنی امتیں ہیں جتنے پیغمبر آئے علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سب گئے تو سب کو بھی کسی نہ کسی دن جا نا ہے ۔

اب ہم نے گڑ بڑ کر دی یہ تو ہمارے یہاں بھی گڑ بڑ ہو گئی مثلا ً اب یہ ہے کہ اب سحری میں ر ہے کیا کھجلہ کھا ئیں گے ،پھینی کھائے گے ،پرا ٹھے کھا ئیں گے وہ اس لئے کہ بھوک نہ لگے مقصد یہ ہی ہے کہ زیا د ہ سے زیا دہ بھوک نہ لگے زیادہ سے زیا دہ رو زہ خالی رہے لیکن یہاں صورت حا ل یہ ہے کہ ہر گھر کا خر چہ اگر سو روپے ہے مہینے کا تو رمضان میں تین سو چا ر سو روپے کا ہو جاتا ہے اب یہ با لکل الگ با ت ہے کہ اللہ تعالیٰ بر کت دیتے ہیں دستر خوان کی رو نق ہو جا تی ہے لیکن مقصد جو ہے وہ یہی ہے کہ ما دی حواس کی گر فت ہے او رما دی حواس کی گر فت اس سے ہی ٹوٹ سکتی ہے کہ آپ کم سے کم کھانا کھائیں زیا دہ سے زیا دہ اللہ کی طرف متوجہ رہے ،  زیا دہ سے زیا دہ اللہ تعالیٰ کو یا د کر یں،  عبا دت کر یں عبادت کے طریقے ہیں درود شریف پڑھیں ،دورد تنجیناپڑھیں ،  یا حیی یا قیوم پڑھیں ، قرآن پا ک کی تلاوت کر یں جو بھی آپ کر سکتے ہیں آرا م سے ، وہ کر یں تو یہ جو رو زہ ہے یہ ایک ایسا اجتماعی پرو گرام ہے اور ایک ایسا اصلا حی رکن ہے اگر ا س رو زہ کے پروگرام پر صحیح معنوں پر عمل در آمد ہو جا ئے تو ایک مہینے میں جو انسان کے اندر ما دی حواس ہیں ان کی گر فت ٹوٹ جا ئے گی اور اس کے اندر رو حانی حواس بیدار ہو جا تے ہیں اورجب کسی انسان کے اندر رو حانی حواس بیدا ر ہو جا تے ہیں تو ظا ہر ہے وہ غیب کی دنیا تو دیکھئے گا، روح کی دنیا ، رو ح جو ہے اس ما دی آنکھ کو دنیا میں دیکھا تی ہے۔

  لیکن رو ح جب برا ہ را ست دیکھتی ہے تو وہ عالم غیب میں دیکھتی ہے تو جب روح اس ما دی جسم کو لیکر چلتی ہے تو اس دنیا میں چلتی ہے ٹا ئم اسپیس کے بند ہے۔ لیکن جب روح برا ہ راست سفر کرتی ہے ،  تو پھر روح جو ہے وہ غیب کی دنیا میںسفرکرتی ہے آسمانوں میں سفر کرتی ہے ،  عرش پر سفر کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے حضور برا ہ را ست حاضر جا تی ہے رو ح جب یہ دیکھتی ہے کہ یہ سامنے میرا اللہ بیٹھا ہے میں اس کے سامنے کھڑ ی ہو ں ۔ اگر رمضان کے پروگرام پر عمل کر یں یہ نہیں کہ بالکل ہی کھا نا پینا بند کر دیں احتیاط سے کھا نا کھا ئیںاتنا کھا ئیں کہ طبیعت خرا ب نہ ہو سارے دن ڈاکا ریں نہ لیتے رہے اس سے یہ ہے کہ بارہ ایک بجے تک ڈاکا رے لیتے رہتے ہو کھٹی کھٹی …اس کے بعد ظہر کی نماز پڑی تھوڑا سا سو گئے جب اٹھے تو دو بارہ پھر کھا نے کا سلسلہ شروع ہو،  مر د جو ہیں با زواروں میں چلے گئے پھل فروٹ خرید نے،  عورتیںباورچی خانے میں چلی گئی وہ کھا نا پکاتے جناب آذان ہو گئی مغرب کی، مغرب کے بعد کھا ئے پئے چا ئے پی لی، عشاء کے بعد پھر کچھ کھا لیا تو دماغ  میںکھا نا ہوتا ہے تو کھا نے کے علاوہ کچھ سوجتا ہی نہیں ہے۔

یہ دیکھئے آپ غور فرما ئیں جو ہم اس افطا ری میں سحری میں جتنا کھا تے ہیں اگر ہم عام دنوں میں کھا لیں گے تو ہم بیما ر ہو جا ئیں گے،  ایسا ہو گا کوئی کنڈیشن نہیں ہے ادھر گو شت بھی کھا رہے ہیں، ادھر جناب چا ٹ بھی کھا رہے ہیں اس میں جنا ب پکو ڑے بھی کھا رہے ہیں اس میں چٹنی بھی کھا رہے ہیںشربت بھی پی رہے ہیں، دود ھ بھی پی رہے ہیں ، چا ئے بھی پی رہے ہیں اور رو ٹی بھی کھا رہے ہیں اس طرح آپ عام دنوں میں کھا کر دیکھ لیں۔تو آپ یہ دیکھیں کہ صبح سے شام تک بھوکے رہنا حالانکہ ہم نے کھا نا اپنے حساب وہ کھا یا، جو زیا دہ سے زیا دہ پیٹ میں آیا لیکن اس کے با وجود بھی ہمارے معدے کو اتنا آرام مل گیا اتنا فا ئدہ ہوا کہ ہم اتنی کچھ چیزیں کھا لیتے ہیں سب ہضم ہو جا تی ہیں ۔اب کھا نا میں اتنا کیوں کھاتے ہیں ۔

 اپنا ایک گرو مندر میں ایک مسجدتھی وہا ں ایک حا جی صاحب بہت اچھا قرآن پڑ ھتے تھے تو شوق میں کہ قرآن شریف اب اچھا ہے وہاں جا یا کرتا تھا بڑے اطمینان سے ایک دن وہاں گئے تھے اب پتا نہیں ان کا درد ہوا ، کیا ہو ااور جب ہم رکو ع میں جا نے لگے امام صاحب تو انہوں نے وہاں دست کر دیا،  تو ساری صفحو ں میں اتنا تعفن، اتنی بدبو پھیلی ا ور میرے پیر  ویر سب بھر گئے اب اس کے بعد سے اللہ معاف کر ے جب بھی میں کسی مسجد میں جا تا ہوں جا نے کی سو چتا ہوں ڈر جا تا ہے کہ کوئی کچھ نہ کر دے ایک خوف بیٹھ گیا ۔ تو اب یہ تو رو زہ ہے اب روزے کی مراد یہ ہے کہ رو زہ جب ہم رکھتے ہیں دراصل رسو ل اللہ  ﷺ کے حکم تعمیل کر تے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ حضو رپاک  ﷺ رو زہ کس طرح رکھتے تھے ایک کھجور کھا لیا،  ایک کھجو رکھا کر رو زہ رکھ لیا،  دو کھجور کھا کر پا نی پی کر رو زہ  افطار کرلیا ۔

  یہ ساراکام کرلے پو را عمل تو جب کہ ہمارے اندر وہ طاقت نہیں رہی نہ ہمارے اندر وہ سکت،  لیکن کم از کم اتنا ضرو ر ہو نا چاہئے کہ اگر روزے سے فا ئدہ اٹھا سکیں تو سب سے پہلے کھا نے میں کنٹرول کر نا ہو گا ۔ اب یہاں جو میں نے شب قدر کا پروگرام چھاپا ہے،  یہاں موجود ہیں آپ سب صاحبان لیجا ئیں اس میں یہ کو شش کی گئی ہے کہ غذائی چا ٹ بنایا ہے بیس دن کا اس پر اگر دس دن خوب کھا لو اور بیس دن چاٹ پر عمل کر کے دیکھ لو،  تو اللہ مدد کر ے گا  میںکو شش جدوجہد کرتا ہے اگر اس سے فا ئدہ نہیں ہوا پا نچ دس دن سے تو ہو گا ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق دے  کہ ہم اللہ تعا لیٰ کے بتا ئے ہو ئے قاعدے پر قوانین پر اور پیغمبروں کے بتا ئے ہو ئے قاعدے پر عمل کر یں ہمارے جو آخری عشرہ ہے ا س میں جو رمضان کی نیت ہے کہ انسان کے اندر ساٹھ ہزار گنا رفتار ہو جا تی ہے اور اس رفتا ر کی بنیاد پر وہ فرشتوں کو دیکھ لیتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے کام کرنے کی توفیق دے ۔آمین اختتام 

Topics