Topics
اعوذبا
اللہ من الشیطان الرجیم
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
اوما
ارسلنک اللہ …
معزیز
خواتین و حضرات آپ کو آواز کی گڑگھڑاہٹ سے آپ صاحبان کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اتنی اچھی نہیں ہے جتنی اس مجلس کی مناسبت کے موقع پر ہو
نی چاہئے تھی ۔ بہرحال میں جس قابل ہوں سیدنا الصلوٰۃ وا لسلام کی ولادت میں موضوع
کے حوالے سے بہت مختصر سی معروضات پیش کروں گااور اس کی وجہ یہ ہے کہ الحمد اللہ…
اس مجلس میں اہل کراچی کے علاوہ حیدر آباد ،ٹنڈو اللہ یار ،سنگھڑ،خیر پور ،اور
دوسرے شہروں سے جو لوگ شریک ہو ئے ہیں اور انہیں اپنے اپنے شہروں میں واپس جانا ہے
۔آپ نے مقالے بھی سنے سید نا الصلوٰۃ والسلام کی شان عقیدت ،نعتیں بھی سماعت
فرمائیں ۔ عید میلاد النبی کے سلسلے میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ آج ہم لوگ
اکھٹے ہو گئے ہیں۔صدیوں سے یہ سفر عمل ہو رہا ہے اور یہ بلا شبہ مسلمانوں کی سعادت
اور خوش بختی ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک والادت پر اور سیدنا
الصلوٰۃ والسلام کی مقدس زندگی پر تقرریں ہوتیں ہیں مقالے پڑھے جاتے ہیں۔
نعتیں سنی جاتی ہیں۔ بے شمار کتابیںلکھی گئیں
ہیں۔سیرت طیبہ پراور عجیب حال ہے جس کتاب کو بھی آپ اٹھا لیںاس میں ایک لذت چاشنی
ہوتی ہے۔ حالانکہ سیرت طیبہ پر جو بھی آدمی کچھ لکھے گا۔ وہ حضور پاک کی زندگی
ہے۔ جو مکے سے مدینے تک اور مدینے سے مکے تک کی زندگی ہے۔ تو مجھے بھی شوق ہوا میں
نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی میں نے کی حضور الصلوٰۃ والسلام کے دربار کی طرف
توجہ کر کے ایک اظہار و تمنا کی، کہ یا
رسول اللہ ﷺ ہوں تو میں کسی قابل نہیں
لیکن میرا دل چاہتا ہے سیرت پاک پر کوئی ایسی کتاب لکھی جائے۔ جس میں روحانی گوشے
جو ہے وہ زیادہ اچھی طرح واضح ہوں ۔اب تک لاکھوں کی تعداد میں سیرت پر کتابیں لکھی
گئیں ،حضور پاک ﷺ کا اخلاق، حضور پاک
ﷺ عادات حضور پاک ﷺ بحیثیت فوجی جنرل ، کے یہ ہر آدمی نے کوشش کی ہے کہ
حضور پاک ﷺ کی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہ رہے۔
جو امت مسلمہ کے سامنے نہ آئے بہرحال میں نے بھی کوشش کی پر میں نے یہ بات
میں اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ میں آپ سے اپنے حق میں دعا کرانا چا ہتا ہوں۔دیکھئے
جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی جب زیادہ غور سے پڑھی تو حضورعلیہ الصلوٰۃ
والسلام نے اسلام کو پھیلانے میں صرف کی۔ اس زندگی میں کوئی ایسی بات نظر نہیں
آئی کہ جہاں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو لوگوں نے اذیت اور تکلیف نہ پہنچائی
ہو۔اب پیدائش سے رسالت کا وقفہ آپ دیکھ لیجئے ۔ پہلے والد کا انتقال ہو گیا ۔پھر
والدہ کا انتقال ہو گیا۔پھر دادا کا انتقال ہو گیا۔ پھر اہل خاندان نے جو اذیتیں
پہنچائی بائی کاٹ کیا ، کانٹے بچھائے راستے میں،حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام خانہ
کعبہ میں سجدے میں تھے۔ ان کے سرپراونٹ کی اوج رکھ دی۔ تومیں جب یہ سناکرتا تھاتو
میں یہ سمجھا کرتا تھا کہ اونٹ کا یہ جو پیٹھ ہوتا ہے۔
اسے آپ دیکھتے ہیں اسے کسی لاکر رکھ دیا ہو
گا۔لیکن تحقیق کی نظر سے اسے دیکھا اور کتابیں پڑھیں تو اوج کا مطلب یہ تھا کہ
اونٹ کی اوج لے جاکر اسے صاف کر کے اس کے اندرغلاظت، گندگی ،کانٹے خون اور نامعلوم
کتنی قسم کی زہریلی چیزیں ڈال کے تو اس طرح آدمی کے سر کے اندر ڈالتے تھے ۔جیسے
غبارے میںسر آجائے اور اس کو وہ ڈال کر اس کا کس دیا کرتے تھے ۔ اس سے یہ ہوتا
تھا کہ آدمی کا سانس رک جاتا تھا ۔ دم گھٹ جاتا تھااور مرجاتا تھا ۔یہ پڑھ کے
اتنا عجیب لگا کہ اس قدر ظالم اور شقی لوگ،
جب بھی حضور پاک ﷺ کا منشاہ اہل
عرب کو تمام انسانوں کو صراط مستقیم پر لانے کا تھا تاکہ یہ بھی سکون حاصل کرے اور
اللہ تعالیٰ کی کشا دگی حاصل کر کے جنت میں بھی سکون کی زندگی گزاریں۔ تو یہ کہ وہ
اس کا قصہ پڑھااور دوسرے طائف کے یہاں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلا م تشریف لا گئے ۔
جہاں ان کے رشتہ دار تھے ان کی یہاں ٹھرنا چاہا تو انہوں نے بجائے اس کے ان کو
ٹھراتے وہ وہاں بدتمیزی سے پیش ہو گئے غنڈے بدمعاش ان کے پیچھے لگا دئے اور انہوں
نے اتنے پتھرحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو مارے کے لہو لہان ہو گئے اور قسم خدا کی
آپ کے جوتے جو ہیں خون سے بھر گئے ۔
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے مدد کی تو میں نے
کوشش کی ہے کہ حضور پاک ﷺ کی زندگی مختصر
انداز میں پیش کروںکہ حضور پاک ﷺ نے اپنی
زندگی میں اسلام کے پھیلانے کے لئے ،اسلام کی تبلیغ کے لئے یہ تکالیف اٹھا ئیں اور
برداشت کی۔ میں کہاں تک کامیاب ہوا یہ تو اللہ کو پتہ ہے ۔ لیکن ایک بات بہت کتابیں میں نے لکھیں ہیں
تقریباً انیس کتابیں لکھیں ہیں ۔کبھی میرے اوپر لکھنے کا زور نہیں پڑا جو دماغ میں
اللہ تعالیٰ نے ڈالا میں لکھتا چلے گیا۔ اس کتاب میں نے عجیب بات یہ محسوس کی کہ
ہر صفحے میں نے اپنے آپ سے بہت کم تر سمجھااور ذہن میں یہ بات رہی کہ حضور
پاک ﷺ سیرت طیبہ پر کچھ لکھنا بڑی بے ادبی
اور گستاخی ہے ۔برحال اللہ تعالیٰ سے دعا کی معافی تلا فی کرتا رہا تو ایک چھوٹی
سی کتاب سامنے آئی میرے ذہن میں سیرت طیبہ کی اوپرجو لکھنا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک
تو میں یہ چاہتا ہوں کہ حضور پاک ﷺ ایک معجزات ہیں۔
یہ ہم سب جانتے ہیں کہ حضور پاک ﷺ نے چاند کو
اشارہ کیا۔معجزہ ہو گیا چاند کے ٹکڑے ہو گئے ۔عقیدے کی لحاظ سے یقین کے لحاظ سے یہ
بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہہ ہمیں اس بات پر ایمان ہمارا ہے ۔لیکن میں یہ چاہتا
ہوں میرا دل یہ چاہتا ہے اندر سے معجز ات رسول اللہﷺ کی کسی بھی صورت سے سائنسی
تحقیق ہو جائے ۔یہ بات سامنے آجائے کہ چاند کیا ہے ؟ سائنس کے اعتبار سے چاند کیا
ہے ؟کہاں سے نکلتاہے ؟کہاں غروب ہوتا ہے ؟اور جب حضور پاک ﷺ نے اس کو اشارہ کیا تو
اس اشارے سے چاند کے ٹکڑے کیسے ہو گئے ؟اس میں اگر سائنس کی تحقیق ہو جائے تو میرا
خیال ہے موجودہ دور کے جو لوگ پڑھے لکھے ہیں۔اس میں عیسائی بھی ہیں ، یہودی بھی
ہیں،غیر مسلم ،بھگوان کو ماننے والے بھی ہیں ،اور ہمارے مسلم بھائی بھی ہیں تو ان
کے لیے ایک نئی بات ہوگی۔ اسی طرح سے رسول پاک ﷺ کی کیا دست مبارک میں کنکریاں
آئیں انہوں نے کہا کلمہ پڑھ لیا ۔
بات
تو بالکل صحیح ہے کہ کلمہ پڑھ لیا۔ لیکن کنکریوں نے کلمہ کیسے پڑھ لیا ؟اللہ
تعالیٰ کی کون سی حکمت تھی ؟کون سا قانون تھا ؟جس قانون کے ذریعے کنکریوں نے لا
اللہ الہ محمد رسول اللہ کہہ دیا۔ یہ بھی بات یہ ہے کہ جب رسول پاک ﷺ تجارت کے لئے
تشریف لے جارہے تھے۔ درخت جھک گئے ،پہاڑ جھک گئے، کوئی ایسی جڑی بوٹی ،کوئی پودا
پھول ایسا نہیں رہا کہ جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میںجھک کر ان
کی عظمت کا اقرار نہ کیا ہو۔اب یہ بھی ایک بات ہے بھئی درخت کیسے جھک گئے ؟پردے
کیسے جھک گئے ؟اس بات کو میں کوشش کرنا چاہا رہا ہوں کے کسی صورت سے کہ اسی کوئی
کتاب لکھی جائے سائنس کا جو علم ہے۔ وہ موجود علم کے ماننے والے بھی رسول پاک ﷺ کی
سیرت طیبہ کا مطالعہ کر کے حضور پاک ﷺ کے راستے پر چلے اور اللہ تعالیٰ انہیں
توفیق دے ۔اور دوسرا یہ ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کے حضور پاک ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے
کتاب نازل فر مائی سب جانتے ہیں کہ ہم حضور پاک ﷺ امتی تھے۔
لیکن کیا شان ہے جس آدمی نے پڑھا ئی نہیں کی ،
اسکول میں داخل ہی نہیں ہوا ،دستخط کرنا بھی نہیں آتے اور کیا عظمت ، کیا شان ہے
قرآن جیسی کتاب اپنی امت کے لئے چھوڑ دی تو اس کتاب میں تین چیزیں ہمیںملتی ہیں ۔
ایک یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کس طرح گزارے ،وہ کاروبار کس طرح کریں ،والدین کے
حقوق کس طرح پورے کرے ،بیوی بچے کے حقوق ،قوم کے حقوق ،ملک کے حقوق ، اس کی جو
معاشیت ہے وہ کس طرح ہوتو اس کا ایک پورا قانون اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں
بیان کر دیا ہے۔ اس کو ہم شریعت کے نام سے جانتے ہیں تو اس پر الحمد اللہ بہت کام
ہوا ہے۔ شر یعت کے بغیر کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے ، جو یہ نہیں جانتا ہوچھوٹ
بولنا گناہ ہے ،کسی کاحق مارنا وغیرہ وغیرہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہ پسندیدہ ہے ۔
لیکن قرآن میںایک حصہ ایسا ہے ۔جو تاریخ کے اوپر ہے ۔یہ جتنے پیغمبران علیہ
الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے ۔
ان کے ادو ار،ان کی قوموں کا تذکرہ ہے مثلا ً
حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کاتذکرہ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں جادو کا تذکرہ
،حضرت یوسف علیہ السلام کا تذکرہ ان کے دور میں خصوصیت کے ساتھ خواب کی زندگی کا
تذکرہ، حضرت سیلمان علیہ السلام کا قصہ ان کے دور میں خصوصیت کے ساتھ ٹائم اینڈ
اسپیس کا تذکرہ، حضرت عزیر کا قصہ اس میں آپ کے پاس یہ جو ریفریجڑ ہے ڈیپ فزر ہے
اس کے پورے فارمولے اور قانون، تو ایک علم یہ چاہتا ہے قرآن میں یہ جو چیزیں ہیں
تاریخی اعتبار سے اللہ تعالیٰ توفیق دے کے اس کو بھی ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔جو
قرآن کا جو تیسرا حصہ ہے وہ یہ تھا کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے کہاں تھا ؟ یہاں
پیدا ہو گیا،اور پیدا ہونے کے بعد ہر انسان جو بھی انسان پیدا ہوتا ہے۔ کہیں چلا
جاتا ہے کہاں چلا جاتا ہے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں عالم ارواح میں چلا جاتاہے ۔کوئی کچھ
تذکرہ اس کا اگر آپ پڑھیں تو اس کے بہت سارے ادوار یہ ہیںوہ زیر بحث آتے ہیں۔
مثلاً مختصر یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے
کن کہاانسان تو عالم ارواح میں تھا عالم ارواح کے بعد وہ کتاب المبین میں آگیا
۔کتاب المبین کے بعدلوح محفوظ میں آگیا، لوح محفوظ کے بعد برزخ میں آگیا ،برزخ
کے بعد یہ عالم ناسوت میں آگیا، اب عالم ناسوت سے نکلنے کے بعد اعراف میں چلا گیا
،اعراف سے نکلنے کے بعد نفخ صور میں چلا گیا، نفخ صور میں سے نکلنے کے بعدحشر اور
نشر میں چلا گیا، حشر اور نشر کے بعد یو م المیزان میں چلا گیا، یوم المیزان میں
سے نکلنے کے بعدیوم الحساب میں چلا گیا ،یوم الحساب سے نکلنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ
حساب کتاب کر لیا تو وہ جنت میں چلا گیا اب یہ جو ادوار ہیں اس کے بعد اور بھی
ادوار ہیں جنت یا دوزخ کے بعد ابد میں چلاگیا،ابد کے بعدابد الآبادمیں چلا گیا تو
یہی ساری چیزیں رسول اللہ ﷺنے قرآن میں
با لکل وضاحت کے ساتھ بیان کی ہیں۔ لیکن عجیب مسئلہ یہ ہے یہ ساری چیزیں ابھی تک
نہ تو مسلمانوں کے سامنے آئیں اور نہ ہی
نوع انسانی کے سامنے آئیں ۔
اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ لوگ نہیں جانتے، اولیاء اللہ حضور پاک ﷺکے وارث ہیں سب جانتے تھے۔حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہ آپ نے سنا ہو گا کہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سے وہ یہ
علم کے دو لفظ دئے ہیں ایک لفظ میں نے ظاہر کر دیا اور ایک لفظ میں نے چھپا لیا
۔صحابہ اکرام ﷺ نے فر مایا کہ علم بھی کوئی چھپانے کی چیز ہے۔ آپ نے کیوں چھپا
لیا ۔انہوں نے کہا اس لئے چھپا لیا کہ ابھی لوگوں کی اتنی سکت نہیں ہے کہ اس کو
سمجھ سکیں ۔اگر میں نے یہ لفظ بیان کر دیا کھول دیا تو فائدہ کچھ نہیں ہو گا ۔تم
لوگ مجھے قاتل کر دو گے۔ میرے سمجھ میں نہیں آئی اب یہ چودہ سو سال کے بعدنوع
انسانی کے شعور میںاتنا ارتقاء ضرور پیدا ہو گیا ہے کہ انسان کا ذہن جو چیزیں
سمجھنے لگا ہے جوانسان کا ذہن وہ سو سال پہلے نہیں سمجھتا تھا ۔مثلاً ریڈیو ،ٹی وی
،کیمرہ ،زمین کے اندر تک دیکھ لینا ،آسمانوں میں دیکھ لینا اب پہلے کے جو لوگ
ہیںساٹھ ستر سال پرانے پہلے کے جو لوگ ہیں۔
ان سے اگرآپ اس وقت یہ کہتے صاحب ریڈیو بجتا ہے
،ٹی وی پر ایٹینا ہوتا ہے ،چینل ہو تے ہیں، یہاں سے اور وہاں سے ساری دنیا کے
پروگرام آجاتے ہیں اور یہاں سے بیٹھ کر آدمی افریقہ میں بات کر لیتا ہے افریقہ
میں وہ بیٹھ کر پاکستان میں بات کر لیتا ہے اور انتہاء یہ ہے کہ وہ تصویر بھی
ٹیلیفون پر آجاتی ہے۔ تو پہلے یہ سب چیزیں نہیں تھیںاور کیونکہ علم محدود تھا۔ اس
لئے انسانی شعور بھی محدود تھا۔ اس انسانی شعور محدود ہو نے کی بناء پرہی حضرت
ابوہریرہ نے یہ فر مایا کہ میں نے ایک لفظ کو جو انسانی شعوری سکت کے مطابق ہے وہ
میں نے ظاہر کر دیا اور جو انسانی شعور کی سکت سے باہر ہے وہ میں نے چھپا لیا۔اب
چودہ سو سال بعد اب انسانی شعور کی اتنی سکت ہوگئی ہے کہ اگر اس کو طریقے کے
ساتھ، دلیلوں کے ساتھ ،حکمت کے ساتھ، برھان کے ساتھ کسی بات کو اگر پیش کیا جائے تو
تصور میں آجاتا ہے۔
تو یہ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ نے اپنی کتاب
لوح و قلم میں فر مایا :آپ نے پڑھا ہوگا کہ یہ کتاب میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے لکھ
رہا ہوں تو اس کتاب کا مطلب یہ ہے کہ نوع انسانی کی شعوری سکت اتنی زیادہ ہو گئی
ہے کہ اب حضرت ابوہریرہ کا یہ فر مانا کہ جو لفظ میں نے چھپا لیا اگر اس کو تھوڑا
تھوڑا تدریج کر کے ظاہر کیا جائے تو انسان کی عقل اس کو سمجھے گی اور اس کا اعادہ
کر ے گی ۔میں آپ حضرات سے یہ التجاء کرتا ہوں ۔جہاں بھی آپ میرے لئے دعاکریں تو
کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اندر یہ تقاضہ پیدا کیا ہے کہ میں حضور پاک ﷺ کی
زندگی کوروحانی نقطہ نظر سے بیان کرنے کے قابل ہو جائوں۔تو اب میں بہت عرصے سے اس
چکر میں تھا ، اللہ کا بہت بڑا کرم ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتداء کر دی اور
محمد رسول اللہ ﷺ کے نام سے پورے دو سو
صفحوں کی کتاب لکھی ہے ۔
اللہ
تعالیٰ اس کو سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دربار میںقبول فرمائے اور آئندہ
مجھے ہمت اورتوفیق دے کے مزید میں چار جلدوں میں رسول اللہﷺ کے اس سیرت طیبہ کو
بیان کرنے میںبیان ہو جائوں ۔ آدمی کے اندر کچھ نہیں آدمی کے اندر کچھ بھی نہیں
ہے ۔قابلیت و اہلیت کچھ بھی نہیں ہے۔ اب دیکھئے ہر آدمی شاعر نہیں ہو تااس کا
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاعری مل جاتی ہے تو آدمی شاعر بن جاتا ہے
۔آدمی مصنف نہیں ہوتا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو اگر کوئی
انسپائر ہو جاتا ہے وہ لکھنا شروع کر دیتا ہے یہ اللہ کی تو فیق ہے۔ انتہاء یہ ہے
کہ آپ اگر غور فرمائیں تو انسان تو کھانا بھی نہیں کھا سکتا۔اگر اوپر سے اللہ
تعالیٰ کی طر ف سے کھا نا کھا نے کی انفارمیشن نہیں ملے ۔کوئی انسان پانی نہیں پی
سکتا اگر اس کے ذہن میں پانی پینے کا خیال نہ آئے ، کوئی انسان گھر سے دفتر نہیں
جاسکتا ،اگر اس کے دماغ میں دفتر جانے کا خیال نہ آئے ،کوئی انسان اس زمین پر
شادی نہیں کر سکتا اگر اس کے ذہن میں شادی کا خیال نہ آئے۔
آپ
ماشا اللہ اتنے سارے افراد بیٹھے ہو ئے ہیں۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں آپ میں سے
زندگی کا کوئی ایک عمل ایک عمل ایسا بتا دیں۔ جو آپ خیال آئے بغیر کرتے ہوںکوئی
ایک آدمی ہاتھ اٹھائے پیدائش سے لیکر مرنے تک ۸۰ سال کی عمر تعین کر لیں ۸۰ سال
کی عمر میں ایک کام، ایک کام ،ایک عمل، ایک خواہش، ایک جذبہ ایسا آپ بتا دیں جو
آپ خیال آئے بغیر کرتے ہو ں ۔بولیں …۸۰ سال میں ایک کام،ایک عمل ۸۰ سال بہت عمر
ہوتی ہے۳۶۵ دن ہو تے ہیں ۔تو بھئی کتنے ہو ئے ۸۰ سال میں چھ تیاں اٹھارہ تقریبا ً
دو ہزار کی تو ہو جائے گی۔ڈھائی ہزار کے قریب ہو گئے کتنے منٹ ہو ئے کتنے گھنٹے ہو
گئے ۔ہر آدمی میں ہر پندرہ سیکنڈ کے بعد دوسرے خیال میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ہر
آدمی میںہر پندرہ سیکنڈ کے بعد یہ قانون ہے ۔ اس کا ہر آدمی ہر پندرہی سیکنڈ کے
بعد دوسرے خیال میں منتقل ہو جاتا ہے ۔اب ۸۰ سال کے آپ سیکنڈ لگا دیجئے کروڑوں
کروڑوں خیا لات میں ان کروڑوں خیالات میں ایسا عمل ہو جس کا نام بتادیںکہ یہ کام
ہم بغیر خیال کے کر تے ہیں۔
جی……
اچھا کوئی کام آپ بغیر خیال کے نہیں کرتے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیال
کہاں سے آرہا ہے؟ آپ کوپتا ہی نہیں ہے کہاں سے آرہا ہے بھئی …مثلا ً آپ ریڈیو
چلا تے ہیں۔وہ ریڈیو اسٹیشن سے لہریں آرہی ہیں۔ فریکونسی بن رہی ہے۔ ٹی وی آپ
چلا تے ہیں مختلف چینل ٹی وی اسٹیشن سے یہ سلسلہ جاری ہے پھربوسٹر لگے پھر یہ لگا
وہ لگا ۔اب یہ بتائیں کہ زندگی کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے ۔جو خیال کے بغیر آپ
کرتے ہوتو ظاہر ہے آپ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ خیال کہیں سے آرہا ہے ۔کسی کو پتا
نہیں خیال کہاں سے آرہا ہے ؟ کیوں بھئی …کہاںسے خیال آرہا ہے؟ ظاہر ہے اللہ کی
طرف سے آرہا ہے ۔ تو آپ کہتے ہیں جی اللہ توہمیں بھول ہی گئے۔ اللہ تو ملتانہیں
بھئی آپکی زندگی تو خود اللہ ہے۔ بھئی خیال نہیں آئے گا تو آپ ہاتھ بھی نہیں
ملا سکتے ۔وہ خیال ہی جو ہے وہ اللہ کی طرف سے آرہا ہے ۔
مانقرب
… میں تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہوں …الاانا بکل شئی محیط…اللہ تعالیٰ کہتا ہے
میں و ہ ذات اکبر اقدس ہوں ۔جو میری اس صفات میں تمہارا احاطہ کیا ہوا ہے اس احاطہ
سے باہرہی نہیں نکلو ۔۔۔قالوانا …اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں اوپر سے نیچے بھیجتا
ہے اور نیچے سے اوپر بھیجتاہے ۔ایک سرکل ہے ایک دائرہ ہے آپ کہیں سے آرہے ہیں
کہیںجا رہے ہیں ۔نہ آپ کو یہ پتا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں نہ آپ کو یہ پتا کہ
آپ کہاں جا رہے ہیں ۔تو آپ میں ایک دُنبے میں اور بکرے میں فرق کیا ہوا ؟بھئی
آپ کو علم دیا اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی یہ کہتا ہے ۔میںروٹی کھا تا ہوں ،ہر آدمی
یہ کہتا ہے ، میں کپڑے پہنتا ہوں ،ہر آدمی یہ کہتا ہے کہ میں تعلیم حاصل کرتا ہوں
،ہر آدمی یہ کہتا ہے یہ میری جائیداد ہے ، ہر آدمی یہ کہتا ہے کہ یہ میری بیوی
ہے ،میرے بچے ہیں ،میرے شوہر ہے ۔آپ کہتے ہیں نا یہ لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر
آپ کی بیوی ہے اگر بیوی پیدا نہیں ہو گی تو پھر کیسے بیوی ہے ؟
بیوی
کی پید ائش کیسے ہو گی وہ کہتے ہیں نا یہ میرا شوہر ہے بیوی بھئی شوہر کی پیدا ئش
کیسے ہو گی ؟اللہ حاضرہے۔ آپ روٹی کھا تے ہیں اگر گیہوں نہ ہوتا ،چکی نہ ہوتی
، چکی ہوتی تو آٹا گوندنے کے لئے پا نی
نہ ہوتا ،آٹا گوندنے کے لئے چلئے پانی بھی ہو گیا، توا نہ ہوتا ،چلئے توا بھی ہو
گیا اگر آگ نہ ہوتی چلئے آگ بھی ہو گئی آپ نے بنالی آپ کا معدہ ہی نہیں ہوتا ،
پیٹ ہی نہ ہوتا، روٹی کھانے کے لئے جتنا آپ غور کریں گے زندگی کے اوپر آپ کے
اوپر یہی بات منکشف ہو گی کہ یہاں کوئی چیز ذاتی حیثیت نہیں رکھتی ۔سورج ہو ، چاند
ہو ،ستارہ ہو، زمین ہو،پانی ہو ،درخت ہو ، معدنیات ہو،نباتات ہو ، کہکہشانی نظام
ہو ، سماوات ہو،زمین کے ذرات ہو ،زمین کے ندر پانی ہو ،پہاڑوں کے اوپر پانی ہو
،آپ بتائیے کون سی ایسی چیز ہے جس کے اوپر آپ کی دسترس ہے اور جس میں آپ یہ کہہ
سکیں کہ یہ ہماری دسترس ہے ۔
سائنس نے بڑی ترقی کی بلاشبہ ترقی کی لیکن آپ
کوئی سائنس کی ایک ترقی بتا دیں ۔ جو اللہ تعالیٰ کے وسائل کے بغیر اس نے تر قی ہو
،بتائیں اب بجلی بنی اب بجلی کے لئے اگر پانی نہ ہو ،چلئے پانی ہو تو ٹربائن نہ ہو
جب ٹربائن ہو تو مگنیٹ نہ ہو،مگنیٹ ہو تو تار نہ ہو ،تار ہو تو بجلی کے اندر دوڑنے
کی صلاحیت پیدا نہ ہو، پھر یہ تار بھی ہو گیا بجلی بھی ہو گئی کھمبا نہ ہو پنکھا
نہ ہو،تو یہ جتنی بھی چیزیں ہیں۔ ان کے بارے میں جتنا بھی آپ غورو فکر کریں گے۔
آپ کو ایک ہی جواب ملے گا کہ یہاں کوئی چیز اپنا ذاتی وجود میں نہیں رکھتی ہے
۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے ۔ اہل باطن لوگ کہتے ہیںوراسیخون فی… رسول اللہ ﷺ کی وراثت یافتہ لوگ قرآن پاک جب پڑھتے ہیں
تو وہ اس بنیاد پر پڑھتے ہیںکہ انسان کی حیثیت سوائے نفی کے کچھ… وراسیخون…یہاں
کوئی چیز ایسی نہیں ہے ۔ جس کا اللہ سے رابطہ اور تعلق قائم نہ ہو۔
کوئی چیز رہ ہی نہیں سکتی اللہ کے بغیر، تو
قرآن پاک کا ایک بڑا حصہ جو اس بنیاد پر قائم ہے کہ یہاں اللہ کے علاوہ کچھ بھی
نہیں ہے۔ اس کو قرآن پاک نے معاد کہا ہے۔
معاد میںعالم ارواح بھی ہے ،معاد میں فر شتے بھی ہیں ،معاد میں فرشتوں کی
قسمیں بھی ہیں ، معاد میں جنات بھی ہیں ،معاد میں انسان بھی ہے ،معاد میںکروڑوں
دنیائیں ہیں ۔آپ کی طرح کی ، معاد میں کہکہشانی نظام ہے ،معاد میں انبیاء علیہ
الصلوٰۃ والسلام کے مقامات وہ حصہ ابھی تک یہاں ہے آپ حضرات دعا کیجئے اللہ
تعالیٰ میرا سینہ کھو لیں اور میرے دماغ میں اتنی سکت پیدا کرے کہ مرنے سے پہلے یہ
کام کر جائوں کہ معادکے اوپر سے پردہ ہٹا جائوں اور مجھے یقین ہے یہ کام
ہوگا، آپ حضرات نے میرے لئے دعا کی، لوگوں نے پورے دل سے دعا کی تو انشا اللہ پورا
نہیں تو اتنا ضرور کہہ جائوں گا کہ آئندہ آنے والی نسل جو ہیں ان کے لئے ایک
راستہ مقرر ہو جائے گا ۔
یہ میری بات غرض ہو گئی جو میں نے آپ سے دعا کے
لئے عر ض کیا۔ اب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت طیبہ کے بارے میںبہت مختصر
بات ہے کہ حضور پاک ﷺ کی زندگی کا کوئی
بھی عمل جب آپ اس پر غور کریں گے تو حضور اپنی ذات کے لئے نہیں جو بھی کچھ کیا
حضور پاک ﷺ نے جو کچھ کیا اللہ کے لئے
کیا،جو کچھ سوچا حضور پاک ﷺ نے صرف اللہ کے لئے سوچا، جو کچھ پیغام پہنچا یا اللہ
یہ کہتا ہے ،اللہ یہ کہتا ہے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے نبی کے
محترم ﷺ کی نقش قدم پر چلتے رہیں۔حضور
پاک ﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کر یں اور
اس مطالعے کے نتیجے میں یہ بات آپ کے اوپرآشکار ہو کہ حضور پاک ﷺ نے جو بھی کچھ کیا ۔اللہ کے لئے کیا تو امت
کی حیثیت سے ہمارے اوپر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم بھی اپنی ذاتی حثیت یہاں جو بھی
کچھ کریں اپنے رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی اللہ کے لئے کریں ۔
اگر
ہماری کسی سے دشمنی ہے تو اللہ کے لئے ہے تو ہماری کسی سے دوستی ہے تو اللہ کے لئے
ہے ۔اگر ہم کھا نا کھا تے ہیں تو اللہ کے لئے کھا تے ہیں وہ اس لئے کہ اللہ چاہتا
ہے ہم کھا نا کھا ئیں ۔ تو جب ہم پانی پیتے ہیں اس لئے پیتے ہیں پانی بنا یاہی اس
لئے ہے کہ ہم پیتے، اللہ کے لئے، اللہ تو
پانی نہیں پیتا،کھا نا نہیں کھا تا ، اللہ کا تو گھر بھی نہیں ہوتا اگر صرف اس بات
پر ہم اپنی زندگی کو قائم کرتے ہیں۔ ہمیں جو بھی کچھ کر نا ہے اللہ کے لئے کرنا ہے
تو ہم انشا اللہ رسول اللہ ﷺ کی طرز زندگی
سے نا صرف واقف ہو جاتے ہیں بلکہ رسول اللہﷺکی نسبت ہمیں منتقل ہوتی ہے ۔یہ زبانی
عشق ہو نا ، شعر پڑھنا ، نعتیں پڑھنا، رسول ا للہ ﷺ پر دوردو سلام بھیجنا بلا شبہ
بہت بڑی نعمت ہے بہت بڑی سعادت ہے بہت بڑی سکت ہے ۔ لیکن آپ یہ غور کریں چودہ سو سال سے نعتیں بھی
پڑھی جا رہی ہیں ،میلا د النبی بھی ہو رہے ہیں ۔
ہر
پیغمبر کے ہر مسجد میں ہر گھر میں رسول اللہ
ﷺ کی تعلیمات کا چرچہ بھی ہے ،ہر مسلمان اس بات پر ایمان بھی رکھتا ہے کہ
رسول اللہ ﷺ کی شفاعت بھی حاصل ہو۔ ہر
مسلمان میں آپ سے عرض کروں گا عقیدہ ہے، ایمان ہے، اس وقت ایک ارب مسلمان ہیں
دنیا میں، میں اپنے اندر یہ بات بہت محسوس کرتا ہوں کہ بڑی گہرائی میں ایک ارب
مسلمان ہے ۔جسے بھی ہیںگناہ گار ہیں ۔جسے بھی ہیں ہم سب جانتے ہیں لیکن اگر کسی
مسلمان کو اس بات پریقین ہو جائے کہ میری جان دینے سے رسول اللہ ﷺ خوش ہو نگے تو ایک ارب آدمی سے ایک بھی ایسا
آدمی نہیں ہو گا۔ جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرے گا ۔اب اس بات کو آپ کیا کہتے
ہیں کیفیت ،آپ اتنے سارے آدمی بیٹھے ہیں اپنے اندر جھانک کے دیکھ لیں جواب ہاں
میں ملے گا ۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر رسول اللہ ﷺ کی محبت ڈالی ہوئی ہے لیکن
ہماری محبت زبانی وجود تک ہے جب کہ رسول اللہ
ﷺ نے عموماً ہر چیز کو کر کے بتایا ہے۔
اب مثلا ً مسلمانوں میں دعا کا کنسپٹ ہے۔دعاکرو
،دعا کرو ،دعا کرو اب وہ صاحب تو بڑی اچھی دعا کراتے ہیں۔ اب صاحب دعا بھی اچھی
بری ہو گئی جو آدمی بہت ساری لمبی لمبی دعا کر کے تو بڑی اچھی دعا لیکن سوال یہ
ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی زندگی کا مطا لعہ کر تے ہیں تو حضور پاک ﷺ نے کبھی بغیر عمل کے دعا نہیں کی ۔ جنگ بدر
میں حضور تشریف لے گئے ۔ ایک طرف ایک ہزار آدمی تھے۔ ایک طرف تین سو تیرا آدمی
تھے مکے میں یا مدینے میں بیٹھ کے دعا نہیں کی میدان جنگ میں جاکر دعا کی یا اللہ
جو کچھ میں لا سکتا تھا میں لے آیا اب ہماری مدد کرو اس عمل میں جانے کے بعد دعا
کی گئی تو اللہ نے فرشتے نازل کر دئے ایک ہزار آدمی کے لئے اللہ نے تین ہزار
فرشتے نازل کر دئے اور تیں سو تیرہ آدمی کا جلوس تیار ہو گیا آگے تو ہمیں یہ
سوچنا ہے کہ ہمیں جو بھی کچھ کرنا ہے اس کا پہلے عملی مظاہرہ ہو ۔
پھر
رسول اللہ ﷺکی نسبت سے ان کے تعلق سے ان
کے وسیلے سے دورد سلام بھیج کر اللہ سے دعا کریں یہ خالی دعا نہیں کہ بھئی دعا کرو
،دعا کرو، دعا کرو یہ اصل میں بے عملی کا مظاہرہ ہوتا ہے ب آپ دیکھئے کہ صبح سے
شام تک بیٹھ کر دعا کر رہیں ہیں ۔یا اللہ مجھے پراٹھے کھلا دے، یا اللہ مجھے
پراٹھے کھلا دے، یا اللہ مجھے پراٹھے کھلا دے ، کیا آپ پراٹھے کھا لیں گے؟ ۔بھئی
آپ پراٹھے پکا لیں اور کھالیںتو ایک تو مسلمانوں میں عملی کا مظاہرہ ہے یہ ثابت
ہو نے لگا ہے اس سے انتشار پیدا ہو گیا اور اس انتشار سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا
ہو گیا۔فرقے بن گئے یہ فرقے بھی اس لئے بنے ہیں عملی مظاہرہ کم سے کم ہو جائے
اگرہوعملی مظاہرہ ہو تو اس لئے جب عملی مظاہرہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضورجھکتے
ہیں، سجدہ کرتے ہیں تو ہم وہ کام کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺکر کے ہمیںبتا گئے۔ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ
آپ عید میلاالنبی میں شریک ہو تشریف لا ئیں اچھی اچھی باتیں سنے رسول اللہ ﷺ پر
درودسلام بھیجا جائے لیکن یہ بھی بہت ضروری ہے ہماری زندگی میں عمل ہو نا چا ہئے ۔
اور
عملی مظاہرہ اس طرح ہو نا چاہئے رسول اللہ ﷺ نے عملی مظاہرہ حضور برحق نے ہمیں کر
کے بتا یا ہے ۔اب میرا خیال ہے جو کچھ میں نے کہنا تھا وہ تو آپ نے سن ہی لیا اور
ایک کہ میں نے لطیفہ سنا تھاملا نصیر الدین کا جی کا اچھا نہیں تھا، لوگ ان کو زبرستی پکڑ لے گئے جلسے میںیہاں آپ
نے تقریر ضرور کرنی ہے ۔انہوں نے کہا میں نہیں کرتا لیکن زبر دستی پکڑ کر لے گئے
تو انہوں نے کہا بھا ئیوں میں جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں آپ لوگ سمجھتے ہو آپ
لوگ اسے سمجھتے ہیں ؟کہا جی ہم نہیں سمجھتے انہوں نے کہا آپ ہیں ہی بے وقوف آپ
سے کیا کہنے کی ضرورت ہے اسٹیج سے اتر گئے لوگوں نے کہا بھئی یہ تو بہت تیزآدمی
ہے اب ایسا کرو کہ ہم کہہ گے ہم سمجھتے ہیںانہوں نے کہا جی ٹھیک ہے ہم سمجھتے ہیں
انہوں نے کہا جی ٹھیک ہے پھر بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر انہوں نے کہا صاحب آدھے
یہ کہو ہم سمجھتے ہیں اور آدھے یہ کہو ہم نہیں سمجھتے تو پھر آگئے اسٹیج پر پکڑ
کر لیا ہوگا کوئی آدمی آدھوںنے کہا ہم سمجھتے ہیں آدھوں نے کہا ہم نہیں سمجھتے
تو انہوں نے کہا جو سمجھتے ہیں ان کو سمجھادے جو نہیں سمجھتے تو ماشااللہ آپ نے
اتنی تقریر مقالے سنے ہیں۔
اب جو کچھ جو آپ نے سنا ہے وہ آپ اپنے گھروں
میں جاکر سنائیںاور ایک بات جو یہاں سے مطلب باندھ کر لیجا نی ہ وہ یہ کہ مسلمان
میں سے عمل نکل گیا ہے ۔عملی زندگی جو ہے اس کی طرف توجہ دیں اور جو بھی عمل کریں
اس کے بارے میں یہ ضرور سوچیں یہ عمل ہم نے خیال آئے بغیر نہیں کیا خیال آئے
بغیر نہیں کیا اور ظاہر ہے آپ یہ سوچیں خیال کہاں سے آیاتو خیال جو ہے وہ اللہ
کی طرف سے آتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔ ہم سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کی عملی زندگی کے متعلق اپنی زندگیوں کو ڈھالیںاور رسول اللہ ﷺسے عشق کا تقاضہ
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو تکلیفیں برداشت کیں ہیں ہم تو ان کاتصور بھی نہیں کر سکتے
ہم کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں رسول اللہ ﷺ جو ہمارے لئے ایک راستہ متعین کر دیا
ہے اس راستے پر چلتے رہے اور اس میںسب سے بڑی بات یہ ہے کہ… وما ارسلنک … اللہ
تعالیٰ نے فر مایا کہ میرے حبیب رسول اللہ ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے تو اب امت
میں بھی رحمت ہو نی چاہئے۔
بھئی امت کا کیا مطلب ہے اپنے نبی کی جوو طرز
فکر ہے وہ امت میں منتقل ہو جائے ۔تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے اندر رحمت کتنی
ہے ۔ہمارے اندر غصہ کتنا ہے ،ہمارے اندر نفرت کتنی ہے، ہمارے اندر قہر کتنا ہے، ہمارے اندر بڑائی کتنی ہے تو جب ہم اپنا محاسبہ
کرتے ہیں تو ہمیں تو سوائے قہر کے ،نفرت کے ،غصے کے کچھ ہے ہی نہیں، رحمت نظرہی
نہیں آتی ہے ۔ما شا اللہ اتنے سارے لوگ ہیں ذرا میں بھی کرتا ہوں آپ اپنا محاسبہ
کریںکہ ہمارے اندر سو سو برائیاں ہیںکیا ہمارے اندر پانچ ایسی خوبیاں ہیں جن کو
رسول اللہ ﷺ سے نسبت دے سکتے ہیں۔سو میں پانچ سچی بات یار سو میں سے ایک بھی نہیں
اب غصہ ہے، غصے کے بارے اللہ تعالیٰ نے
فرمایا …جو لوگ غصہ کرتے ہیں اللہ ایسے لوگوں سے محبت ہی نہیں کرتابات ہی ختم ہو
گئی جو لوگ غصہ کرتے ہیں اللہ ان سے محبت نہیں کرتا ۔حضرت علی کا آپ نے مشہور
واقعہ سنا ہو گا ایک کشتی ہو گئی، لڑائی
ہو گئی یہودی سے وہ انہوں نے اسے نیچے گرا دیا نیچے گرا کر تلوار نکالی اس کو قتل
کر نا چاہتے تھے ۔
اس
نے منہ پر تھوک دیا، آپ نے چھوڑ دیا اور
ایک طرف ہو گئے۔ اس نے کیا اب تو آپ مجھے اور زیادہ غصہ آنا چاہئے تھا آپ کو ،
انہوں نے کہا نہیں بھئی میں تو اپنے لئے تجھ سے نہیں لڑ رہا تھا۔ میں تو اللہ کے
لئے لڑ رہا تھا ۔اب تو نے جسے ہی میرے منہ پر تھوکا اب مجھے غصہ آگیا میری ذات
سامنے آگئی میں تجھے آزاد کر رہا ہوں تو بھا گ جا۔تو ہمیں اپنے اوپر کنٹرول کرنے
اورغصہ اور نفرت اور بڑائی اس سے اللہ تعالیٰ نے بھی منع کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ
کی عملی زندگی بھی یہی ہے کہ حضور نے کبھی کسی پر غصہ نہیں کیاانہوں نے سب کو معاف
کیا، سب کو معاف کیا ۔ اپنے خاندان کے
قاتل معاف کر دئے ،اپنے خاندان کے قرضے معاف کر دئے، اپنے خاندان کے برسوں سے
جھگڑے فساد ہو تے تھے وہ سب معاف کر دئے۔ اب دیکھئے حضور پاک ﷺ رحمت اللعالمین نے
معاف کردیا۔ آپ پوری سیرت طیبہ کا مطالعہ کر لیںغصے کی بات آپ کو کہیں نظر نہیں
آئے گی ۔
ایک
ہندہ نے حضرت کے چاچا کلیجہ چبا لیا اور وہ مسلمان ہو گئی تو آپ نے اسے بھی معاف
کر دیا بس یہ فر ما یا کہ بھئی جب تم سامنے آتی ہو تو مجھے اپنے چچاکا سراپا
سامنے آجا تا ہے تو تم میرے سامنے نہیں آیا کرو لیکن معاف کر دیا تو حضور پاک ﷺ
کا مظاہرہ یہ ہوا کہ حضور سراپا رحمت ہیں تو ہمیں بھی اپنے حضور پاک ﷺ کی طرز
فکرپر عمل کرکے ہمیں بھی اپنے بھا ئیو ں کے لئے ، اپنے بچوں کے لئے ،اپنے خاندان
کے لئے رحمت بنا چاہئے اور جب ہم رحمت بن کر رہیں گے۔ اس رحمت کی وجہ سے ہماری بے
شمار دنیا وی پریشانیاں اور کیا کیا یہ سب ختم ہو جائیں گی ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو
توفیق دے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی پر عمل کرنے کی جدوجہد اور کوشش کریں
اور ہمیشہ یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ یہ دنیا میں جو بھی کچھ ہے وہ اللہ کا
بنایا ہوا ہے ۔آپ بھی اللہ کے بنا ئے ہو ئے ہیں ،آپ کی ضروریات زندگی بھی اللہ
کی بنائی ہوئی ہے، سورج بھی اللہ کابنا یا ہوا ہے ،چاند بھی اللہ کا بنا یا ہوا ہے
،پانی بھی اللہ کا بنا ہوا ہے ،زمین بھی اللہ کی بنائے ہوئی ہے ،اللہ تعالیٰ اتنا
رحیم کریم ہے کہ اس نے ہر چیز آپ کے لئے بنا دی اورمفت بنا دی، ایسے اللہ سے دوری
سوائے بد نصیبی کے کچھ نہیں شکر کرے،
ٹھنڈا پانی بھی پیئے تو یا اللہ تیرا شکر ہے ۔
پیٹ
بھر کے روٹی کھا ئیں یا اللہ تیرا شکر ہے ۔کوئی دوست ملے اس سے ہنس کے بات کرلی یا
اللہ تیرا شکر ہے تو شکر کی بھی عادت پڑ جاتی ہے…اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں شکر
کا، شکر کرنے والے بہت کم بندے ہو تے ہیں
تو میں آپ اس بات پر عمل کرلیں کہ جب بھی کوئی چیز استعمال کریں تو آپ کہیں یا
اللہ تیرا شکر ہے ،پانی پیئے یا اللہ تیرا شکر ہے ،نئے کپڑے پہنیں یا اللہ تیرا
شکر ہے ،اب آپ سو گئے مر گئے سونا مرنا برابر ہے اب صبح اللہ تعالیٰ آپ کو
دوبارہ زندہ کر دیتا ہے تو اس کو کہنے میں کیاکوئی خرچا ہوتا ہے یا اللہ تیرا شکر
ہے۔ تونے ہمیںدوبارہ زندہ کر دیا تو شکر کو آپ عادت بنالیں گے۔ تو اس ایک عادت کی
وجہ سے آپ یقین کیجئے کہ رسول اللہ ﷺ سے
آپ کا تعلق قائم ہو جائے گا ۔ صرف یہ کام کریں کہ شکر کرنا آسکے۔کھا نا کھا ئیں
شکر کریں ،پانی پیئے شکر کریں ،کپڑے پہنے شکر کریں ،بچوں کو دیکھے خوش ہوں شکر
کریں …اور ایک بات حضور پاک ﷺ نے فر مائی
قرآن پاک میں فر مائی حضور ﷺ کی زبان سے…
ولقد اتنا لقمان…کہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تو اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے
لقمان کو حکمت عطا کی تاکہ وہ شکر ادا کرے۔
اب
لقمان حکیم کیا وہ تسبیح لیکر بیٹھ گئے ،یا اللہ تیرا شکر ہے ،یا اللہ تیراشکر
ہے، یا اللہ تیرا شکر ہے نہ جڑی بوٹیوں پر
ریسرچ کرتے،نہ امر اض کی تشخیص کرتے، نہ لوگوں کا علاج کرتے کیا یہ شکر ہو گیا تو
کیا یہ شکر ہو گیا تو حضور قلندر بابا اولیائؒ سے میں نے پو چھا …انشکروک اللہ…کا
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی نعمت عطا کی اس کو استعمال کرو اللہ تعالیٰ
نے لقمان کو حکمت دی اسلئے تاکہ وہ استعمال کر سکیں لوگوں کو اس سے فائدہ ہو،لوگوں
کا علاج کرے …ولقد اتنا …کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو استعمال کرتے ہیں۔اس کا
فائدہ ان کو پہنچتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا استعمال نہیںکر
تے وہ محروم ہو جاتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ماورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے
آپ کے لئے اتنی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے اس قدر نعمتیںمفت عطا کی ہیں کپڑے پہنتے
ہیں نا ، نہاتے ہیں دھوتے ہیں شکر اپنا ئیں ، ورد کریں یا اللہ تیرا شکر ہے یااللہ
تیرا شکر ہے آپ دیکھئے انشا اللہ اس سے آپ کے اندر ایسی بھٹی سلگ جائے گی جو
یقینا آپ کو رسول اللہ ﷺ کے دربار میں لے جائے گی ۔
اللہ
تعالیٰ ہمیںتوفیق عطا فر مائے پانچ دس منٹ مراقبہ کرلیں اس کے بعدمراقبے کے بارے
میں یہاں جتنے بھی حضرات ہے آدھے لوگوں کو علم ہو گا کہ مراقبہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے ۔جو حضور پاک ﷺ نبوت سے پہلے غار
حرا میں جاکر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غورو فکر کرتے تھے۔غارحرا میں نبی ﷺ نبوت سے سرفراز ہو نے سے پہلے تشریف لا جایا
کرتے تھے۔ وہاں رات کو بھی رہتے تھے دن کو بھی رہتے تھے۔مختلف مدتیں لوگ اس کی بتا
تیں ہیں جب کم سے کم مدت تاریخ میںبتا ئی
جاتی ہے تین سال کی ہے۔ ویسے تو سات سال کی ہے۔
لیکن تین سال ، تین سال حضور ﷺ غار حرا میں تشریف لیجاتے رہے ۔تو وہاں
دیکھئے نبوت سے پہلے نہ تو نماز فرض ہوئی تھی ،نہ روزہ تھا ،نہ حج ،نہ زکوٰۃ جب ۔
معراج شریف میں سب کچھ ہوا تو رسول اللہﷺ نے غار حرا میں تشریف لیجاتے تھے اور
اللہ کی نشانیوں پر غورو فکر کرتے تھے…کہ عقل مند وہ لوگ ہیں۔
جو اللہ کی نشانیوں میں غورو فکر کرتے ہیں تو
مراقبہ کا مطلب ہے غورو فکر کرنا،اللہ کی نشانیوں میں تفکر کرنااب یہ انسان سب سے
بڑی اللہ کی نشانی ہے اب دیکھئے آپ کے اندر جو مشین لگی ہوئی ہے دل پھیپھڑے ،گردے
ہر چیز چل رہی ہے اٹو میٹک چل رہی ہے ۔ اب یہ پتا ہی نہیں ہے۔ کرنٹ کہاں سے آرہا
ہے یہ کتنی بڑی شکر کی بات ہے ابھی بیٹھا ہوا ہوں بیٹھے بیٹھے ختم ہوجائوں توب یہ
ایک تفکر جو ہے اس کو کہتے ہیں مراقبہ یعنی وہ تفکر جو انسان اللہ تعالیٰ کی
خوشنودی کے لئے کرتا ہے وہ تفکر انسان اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کے لئے کرتا
ہے ،وہ تفکر جو انسان اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے ، اس کو کہتے
ہیں مراقبہ اور یہ جورسول اللہ ﷺ کی سنت
ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی غار حرا میں اس پر
عمل کیا اور اس عمل کے نتیجے میں رسول اللہ
ﷺ کے پاس غار حرا میں جبرائیل تشریف لائے اور …اقرا بسم ربک خلق…اور حضرت جبرائیل قرآن شریف
لے کر نازل ہو ئے اس تفکر سے انسان کائنات کے مخفی گوشوں کو تلا ش کرتے ہیں۔
انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو روح کام کر رہی
ہے نظر اس روح کو ڈھونڈ لیتی ہے رسول اللہ
ﷺ کی نسبت تو ویسے ہمیں حاصل ہے ۔جب ہم غوروفکر کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺکے غورو فکر کے عمل کو اپنا تے ہیں۔ ان کی سنت
پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺکی جو
نسبت ہے اس کا ادراک ہو جاتا ہے ۔تو مراقبہ ایک عمل ہے فکر کر نا غور کرنا اور اس
کا طریقہ یہ ہے کہ آپ تمام طرف سے اپنا ذہن ہٹا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ
جائیںاور یہ تصور کریں کے آسمان سے نیلی روشنی آرہی ہے اور وہ دل میں جذب ہو رہی
ہے روشنیاں آپ سرخ بھی کر سکتے ہیں پیلی بھی کر سکتی ہیں ، جی نیلی ہی روشنی کیوں
نیلی روشنی کا مراقبہ اس لئے ابتدائے دور میں کرایا جاتا ہے۔ کہ انسان کا ذہن
بلندی کی طرف مائل ہو آسمان بھی نیلا ہے تو جب آپ یہ خیال کریں گے کے آسمان سے
نیلا رنگ آرہاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا جو شعور ہے ، زمینی شعور زمین سے لیکر اعلیٰ کی طرف اس کا
رتبہ ہے آسمان کی طرف ،غیب کی دنیا کی طرف اللہ کی طرف اس کا وجود ہے اورمراقبہ
کرنے سے پہلے گیارہ دفعہ یا حیی یاقیوم
اور گیارہ دفعہ دوردو شریف پڑھ لیںگھر میں جب آپ لوگ مراقبہ کریں تو سو دفعہ
دورود شریف پڑھیں سو دفعہ یا حیی یا قیوم پڑھیں مراقبہ کی مدامت کریں ۔
مراقبہ پابندی کے ساتھ کریں سونے سے پہلے کریں
انشا اللہ اس سے بھی بہت بڑا فائدہ ہوتا ہے اور انسان پریشانیوں بیماریوں سے اس کو
محفوظ فر ما دیتا ہے۔گیارہ دفعہ دورود شریف گیارہ دفعہ یا حیی یا قیوم پڑھ
کرآنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں اور یہ تصور کریں کے آسمان سے نیلی روشنی آرہی
ہے ۔مراقبہ اختتام۔