Topics

سوال : عرس کے کیا معنٰی ہیں اور یہ کیوں منا یا جا تا ہے ؟

 

ایک خاتون ہیں انہو ں نے بڑا طویل خط لکھا ہے شیخ ، وہ کہتی ہیں کہ صاحب حضور قلندر بابااولیا ء ؒ کے عر س کے سلسلے میںپورے مراقبہ ہال کو سجا یا گیا خواتین نے اس سجاوٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ حضور قلندر بابااولیا ء ؒ کا وصال ہو گیا وہ اس دنیا سے پر دہ فرما گئے۔ اس کا ہم افسوس کر تے ہیں غم کر تے ہیںاس کے برعکس مرا قبہ ہال میں بڑے چراغاں کیا گیا ،مرا قبہ ہال کو سجا یا گیا ، تبرک تقسیم کئے گئے۔  یہ حضور کے حوالے سے یہ جتنے بھی اسراف ہو تے ہیں ان کی کوئی مذہبی اور شعوری حیثیت تو نہیں ہے ۔لیکن اس میں ایک بات ضرور ہے کہ اولیا ء اللہ جو اس دنیا سے تشریف لے گئے وہ اپنے پیچھے کوئی نشانی چھوڑ کر جا تے ہیںاور ان کا یہ مشن رسول اللہ  ﷺ کی تعلیمات پر منبع ہوتا ہے اور رسول اللہ  ﷺ کی جو وراثت ہے اس وراثت کو حاصل کر تے ہیں یہ لوگ اور پھیلاتے ہیں ۔

یہ سالانہ تقریبات ہوتی ہیں درا صل یہ اس بات کی خوشی ہوتی ہے اور اس بات کو بار بار دوہرایا جا تا ہے کہ ایک بندہ اس دنیا میں اکیلا آیا اور اس نے اللہ اور اللہ کی تعلیمات کو پھیلا یااور اس کے پیچھے جو وراثت کا پیغام ہے،  دین سے متعلق ہے وہ تکمیل ہوتا ہے ۔انہو ں نے مشن میں کام کیا تو وہ اصل میں خوشی جو ہے اس مشن کی کامیابی کی ہوتی ہے دو سرا یہ ہے کہ اس تقریب میں جیسے ہمارے یہاں آپ نے د یکھا ہوگا تقریباً ساری دنیا سے لوگ اکھٹے ہو تے ہیں اور وہ دنیا کے چھوٹے بڑے شہروں سے ، بر طانیہ سے،ہالینڈ سے، افریقہ سے ،یورپ سے ،انڈیا سے ،امریکہ سے تو یہ جو اکھٹے اس لئے ہو تے ہیں کہ وہ اپنے جو بزرگ ہیں اس کی تعلیمات ہیں ان کا جو مشن ہے اس مشن کی پیشکش کو ایک فائل بنا ئیں اس پر کتناکام کیا اور پھر کتنی تر قی ہوئی اور آئندہ کے لئے کیا عمل اختیار کیا جائے۔ جس کی بنیاد پر اور لوگوں کی ترقی ہوں۔

  اب یہ آپ نے دیکھا ہو گا سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام اس دنیا سے تشریف لے  گئے تو عیدمیلاالنبی لوگ منا تے ہیں کہ بھئی کہ رسول اللہ  ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فر مایا ، اپنے سے منتخب کیا ،پھر اپنا دوست بنا یا،اپنا محبوب بنایا اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام بھیجا اس سے مرا د دراصل یہی ہے کہ اس بندے کی جواخلاق ہیں اوراس بندے نے جو تکلیفیں اٹھا کراپنے مشن کوآگے بڑھا یا ہے اس کی خوشی میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا بندہ عطا کیا کہ اس کے لئے ہم نے میلاد شریف کر وایا اس لئے کہ جتنے بھی بزرگان اسلام ہیں ان کے لئے جو لوگ جمع ہو تے ہیں اس خوشی میں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسا اپنا دوست عطا فرما دیا ہے کہ جس کی وجہ سے ہماری ذہنی تربیت کو طرزفکر میں تبدیلی آئی اور اس سے ہمیں ایسا دوست مل گیاتو یہ عرس کا لفظ ویسے بھی عرس کہتے ہیں آدمی یہ عرس کی یعنی ایک خوشی ہوتی ہے اب یہ ہے کہ ہمارے بزرگ چلے گئے اور ہم ساری زندگی روتے پیٹتے رہے کہاں چلے گئے ؟

 چلا توآدمی کہیں بھی نہیں جاتا آپ نے سنا ہو گا آپ جا نتے مرنا جو ہے اس کا انتقال کہا جا تا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتقال بالکل ایسی ہی ہے ہماری ایک ولائت جیسے پاکستان میں ایک ولا ئت ایشیا یورپ بریرصغیرہے یہاں سے آدمی منتقل ہوکر یورپ چلا جا ئے کسی اور ملک میں چلا جا ئے اور وہاں اس کے لئے آسانیاں زیادہ ہوں تو ظاہر ہے یہ مر ناتوخوشی کی بات ہوئی مر نا توانسان کی زندگی کا حاصل ہے ۔انسان جب پیدا ہوتا ہے پیدا ہو نے کے بعد شعور میں داخل ہوتا ہے شعور کی پہلی سڑھی سے ہی وہ اس بات کی تیاری کر لیتا ہے مجھے اس دنیا میں عارضی طور پر رہنا ہے اوراس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہونا ہے اور وہاں وہ اپنی زندگی کو یہاں کی زندگی سے نہایت خوشنما بنا نا ہے ۔اور لوگ کہتے ہیں کہ صاحب آدمی مر گیا۔

دنیا بڑھتی ہے اور بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ آدمی یہاں کی دنیا سے وہاں کی دنیا کی جو آسائشیں ہیں ان سے واقف ہو جا تا ہے اب میں یو ں کہوں کہ میری جو معلومات ہیں میرے پیر ومرشد کی میری جو روحانیت سے واقفیت ہے سب سے پہلی بات تو یہ ہے جس طرح آدمی یہاں رہتے ہیں وہاںبھی رہتے ہیں ،جس طرح یہاں گھر ہیں اسی طرح وہاں بھی گھر ہو تے ہیں ، جس طرح یہاں ہم کھاتے پیتے ہیں، اسی طرح وہاں بھی ہم کھا تے پیتے ہیں ،جس طرح یہاں لباس پہنتے ہیں اسی طرح وہاں بھی لباس پہنتے ہیں، لیکن بنیادی جو ضروریات ہیں مثلاً ہوا کھا ناگھر یہ سب فری آسائشیں ہیں۔ وہاں نہ بجلی کا بل ہے ،نہ وہاںگیس کا بل آتا ہے ، یہاں آپ کو اون جلا نا پڑھتا ہے ،پکی پکا ئی روٹی ملتی ہے ،کھا تے ہیں گھر فری ملتا ہے تو اب اس دنیا کے مقابلے میں ایسی دنیا جہاں آپ کو لکڑی جلا کر روٹی نہ پکا نی پڑھتی ہو ، جہاںآپ کو بینک سے لون لینا ضروری نہیں ہے ، ایسی جگہ جا نا خوشی کی بات ہے یا غم کی بات ہے ۔

 کوئی ایسی جگہ جہاں ہر چیز آپ کو مفت فراہم ہو رہی ہے ۔پھر یہ بات کوئی رشتہ دار ناراض ہو جا ئے گا، یہ ناراض ہو جا ئے گا ،وہ ناراض ہو جا ئے گا، بیوی ناراض ہو جائے گی ،شو ہرناراض ہو جا ئے گا ،بچے ناراض ہو جا ئیں گے ۔یہ independentآزاد زندگی ہے ۔تو اصل یہ جو ہم مر نے سے ڈرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل جو ہے وہ اس دنیا سے واقف نہیں ہیں۔ حیرت ہے کہ یہ جناب حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا واضح ارشاد ہے کہ مرنے سے پہلے مر نے کے بعد کی زندگی کو دیکھ لو اور مر نے سے پہلے اپنی رو ح سے واقفیت حاصل کر لو ۔ اسی طرح سے قرآن پاک میں بھی کہ جو بندہ بھی یہاںپیدا ہو گیااس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس سے تو اتنی یقینی چیز کہ جس سے فرار کسی بھی طرح ممکن نہ ہو اس سے ڈرنا کیا اور ڈرنے کا مطلب تو آدمی تو سانپ سے ڈرتے ہیں ۔ سانپ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہوا کہ سانپ سے آپ خود کو بچالیتے ہیں حفاظت کر تے ہیں۔

 آپ چھت پر گرنے سے ڈرتے ہیں حفاظت کرتے ہیں چھت کو مضبوط بنا تے ہیں۔ اگر آدمی دیکھیں چھت گر رہی ہے فوراً با ہر آجا تے ہیں تو ڈر کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس سے ڈرنے کی کوشش کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں،  تو موت سے تو کوئی بچ ہی نہیں سکتا کوئی بھی بڑے بڑے نمرود پیدا ہوئے۔  انہو ں نے خدائی کا دعوی ٰکیا شہنشاہ بڑے بڑے قارون پیدا ہو ئے اتنے امیر ان کی خزانوں کی چابیاں چالیس گنی جا تی تھیں مر گئے ،  کچھ بھی نہیں لیکر گئے اب دیکھئے شہنشاہ ایران کی مثال آپ کے سامنے ہے کیا لے گئے؟  تو یہ میرا خیال ہے آپ مجھے سے سوال کیا کیا کہ صاحب حضور قلندر بابااولیا ء ؒ کے وصال پر ہمیں غمگین ہونا چاہئے تھا ؟ تو غمگین کیوں ہو ں ؟یہ تو ایک یقینی صورت ہر آدمی کے ساتھ پیش آنی ہے ۔مطلب یہ ہے کہ ہم اس بات کی خوشی مناتے ہیںکہ ہمارے حضور قلندر بابااولیا ء ؒاس مادی پر دے سے نکل کر ایک عالم حقیقت میں چلے گئے۔

یہاں ٹائم اسپیس کی پابندی ہے۔ یہاں آپ اپنے گھر سے آئے بس میں بیٹھے سوزکی میں بیٹھے گھنٹوں میں آپ یہاں مراقبہ ہال پہنچیں ۔وہاں کوئی ٹائم اسپیس کی پابندی نہیں ارادے کی ساتھ زمین لپٹ جا تی ہے۔ آپ یہاں سے کراچی جا نا چا ہے تو ایک قدم یہاں ہے تو دوسرا قدم کراچی میں۔ رفتارمیں اضافہ ہو گا ،پوری ٹائم اسپیس کی اس دنیا میں آزادی ہے۔پھر یہ جو اللہ کے بندے ہو تے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل ہو جا تی ہے او ر رسول اللہ  ﷺ کے دربار میں حاضری نصیب ہو جا تی ہے ۔  تو یہ جو مرناجو ہے یہ افسوس کی بات نہیں ہوتی،  میں تو کہتا ہوں ایک ایسی کیفیت پیدا ہو نا یہ ایک حقیقت ہے اس کا مطلب ہی ایک حقیقت ہے رہا یہ کہ بھئی عر س کی تقریبات میں چراغ جلا نا۔ اب ظاہر ہے جب دور دراز سے لوگ آتے ہیں تو ان کے لئے ایک اہتمام ہوتا ہے ،ان کے لئے بستروں کا بھی اہتمام ہو گا ،کھا نے پینے کا بھی اہتمام ہو گا ،آسائش اور غذاء کا بھی اہتمام ہو گا، اس دوران اگر تھوڑی سے روشنی بھی زیادہ ہو گئی ضروری نہیں ہے میںیہ نہیں کہتا کہ بہت ہی ضروری ہے بھئی… روشنی ہو لیکن مہمانوں کے استقبال کے لئے مہمانوں کے خوشی کے لئے جیسے ہم جنوری میں عرس ہوتا ہے تو اکتوبر سے تیاریاں شروع کر دیتے ہیں کہ بھئی ہمارے مہمان آئے گے ۔

پچھلی دفعہ ہم نے فلاں فلاں چیزیں آرائش کی تھی وہ بڑے خوش ہو ئے تھے اب کے ہمیں کیا کر نا ہے تو ہم زیادہ سے زیادہ پھول سجا تے ہیں ،درختوں کو ہرطرح ٹھیک کر تے ہیں ان کے رہائش کا ، ان کے کھانے کاان کے پینے کا ، ان کے بستروں کا اہتمام کر تے ہیں تو اب یہ لوگ سوچ میں اور غم کرنے بیٹھ جائیں تو کہاں مہمان آئیں گے کہاں ٹھہرے گے انہیں کو ن پوچھے گا؟ ۔تو یہ جو سلسلے وغیرہ جو ہیں یہ اس لئے نہیں چلائے جا تے کہ بھئی کوئی اس میں حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ کے خدا نخوستہ شان میں گستاخی ہے بلکہ ایک یہ ہے اپنے مہمانوں کو خوش کرنے کے لئے اور حضور قلندر بابااولیا ء ؒ کے ایصال ثواب کے لئے اور اب دیکھئے نا۔ جہاں مہمان آتے ہیں تو ہمارا جو عقیدہ ہے کہ پیغمبر کے بعد پیغمبروں کی جو اولاد ہے صاحب واثت وہ بھی زندہ ہے روح کبھی مر تی نہیں ہے روح مر تی نہیں ہے ۔اب ظاہر ہے ان کی مہمان آئیں گے ان کی روح بھی انہیں دیکھی گی اب جتنے ان کے مہمانوں کے لئے اہتمام کر یں گے اتنا ہی حضور قلندر بابااولیا ء ؒ کی روح کو سکون پہنچے گا ۔

  تو ا سلئے یہ سب چیزیں ہوتی ہیں یا یہ کہ اس سال کا اہتمام ہو گا۔  اس کی کوئی شعوری حیثیت ہے یا قرآن حدیث کے مطا بق اس کی کوئی حیثیت ہے تو ا س سلسلے میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ قرآن نے یہ کہا ہو۔  دیکھئے قرآن میں ضرور ہے حدیث میں بھی ضرور ہے کہ تمہارے بزرگ یہاں سے اس دنیا سے چلے گئے ان کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کرو ۔کھا نے پکائو کھا نے پکا کر غریبوں کا کھلا ئو تاکہ وہ خوش رہے اس سے یہ پتا چلتا ہے اگر آدمی یہاں مرنے کامطلب فنا ہو جا نا ہے تو آپ خوراک کیسے پہنچا رہے ہیں آپ کپڑے کس کے لئے بھیج رہے ہیں ، آپ قرآن خوانی کس کے لئے کر رہے ہیں ،حضور پاک  ﷺ کا ارشاد کہ اپنے بزرگوں کو یاد رکھو،  دعا کیا کرو اپنی والدین کی مغفرت کے لئے تو ا س کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا ئیں بھی سنتا ہے ۔ جیسے ہی کوئی اپنے بزرگوں ایصال ثواب کر تے ہیں پہنچ جا تا ہے اس سے یہ ظاہر ہے کہ مر تا ورتا نہیں ہے مر نے کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو ہمارا گوشت پوست کا جسم ہے یہ قبر میں جا کر مٹی ہو جا تا ہے اور روح نہ کبھی مر ی ہے نہ کبھی مر ے گی ۔

رو ح کا ایک وقت ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیداکیا عالم ارواح میں،  عالم ارواح سے مختلف زون سے گزرتی ہوئی اس دنیا میں آئی ہے اور روح ہر زون کی ضروریات کے مطابق اپنا ایک لباس بنا لیتی ہے اور جیسے اس دنیا میں آئی عالم ناسوت میں توپھراس روح نے اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے لئے مادیت کا خول چڑھا لیا اپنے اوپر یا مادیت کا ایک لباس بنا کر اس کا ظاہر کر دیا۔ جب یہاں سے آدمی مر اتو عالم اعراف میں روح نے روشنیوں کا لباس بنا کر خود کو ظاہر کر دیا پھر عالم اعراف سے آدمی حشر و نشر میں گیاتو وہاں حشر و نشر میں پھر مادی چیزیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بھئی تم اسی طرح پھر زندہ کردئے جا ئو گے پھر روح نے اس کو اپنا ایک لباس بنا کر خود کو ظاہر کر دیا پھر روح جنت میں گئی وہاں اس نے نور سے اپنا لباس بنا کر خود کو ظاہرکر دیا تو روح جو ہے روح براہ راست قانون کے تحت ہے۔

  ایک قانون ہے روح کا،  روح جو اپنے آپ کو کسی نہ کسی لباس میں رکھتی ہے اب یہ ہے کوئی بھی آدمی مر تا ورتا کچھ بھی نہیں ہے مر نے سے، مر نے کا بھی آپ تجربہ لیں تو ان سے روح امر ہو گئی ۔ امر ہو گئی امر ہونے کا مطلب ہے کہ آدمی اس طرح زندہ ہو گیا جس طرح دوبارہ نہیں مر ے گا ۔ عربی اعتبار سے آپ انتقال کا لفظ دیں ۔ اس مطلب یہ ہے کہ آدمی اس دنیا سے اس دنیا میں منتقل ہو گیا اس کا کوئی بھی کہ جب آدمی اس دنیا سے اس دنیا میں گیا تو وہ فنا ہو گیا فنا کاجہاں لفظ آیا قرآن پاک میں تو فنا کا لفظ جو آیا وہ ہمارا یہ جو لباس ہے مادیت کا ہم اس کوقبر میں دال دیتے ہیں یہ وہاں فنا ہو جا تا ہے فنا ہو نے سے مراد یہ ہے کہ نسبت و نابود ہو جا تا ہے فنا ہو نے سے مراد یہ ہے کہ یہ جو روح ہے مادیت سے اور میٹر سے مٹی کے ذرات سے عناصر سے جن عناصر کا نام مٹی ہے ایک لباس بنایا جا تا ہے ۔

وہ لباس ٹوٹ کر بکھر کر دوبارہ مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جا تا ہے ۔مٹی کے ذرات بن جاتا ہے تو فنا کچھ بھی نہیں ہے اب آپ جب کہتے ہیں کہ جسمانی جو خدوخال ہیں ہاتھ، پیر، آنکھ، ناک ،جگر یہ مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو کر فنا ہو گیا کیا فنا ہو گیا ؟

شکل و صورت اور نقش ونگار کے بعدکیDimension اس کابھی مطلب یہی ہے کوئی چیز فنا نہیں ہو سکتی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے آدم کو کھنکھاتی بجنی مٹی سے بنایا اور اس کے اندر اپنی روح ڈال دی تو سوال یہ ہے کہ یہ آدم بالکل ا لگ ہے روح بالکل الگ ہے پہلے آدم کا پتلا بنا یا ہاتھ آدم کا پتلا خلا ء سے بنایا …عربی آیت …اس کا مطلب یہ نہیں ہے ایک جن آگ سے بنا ہے تو آگ اس کو نہیں چھوئے آگ لپٹ لگے گی جن جل جائیں گے،  مقصد یہ ہے کہ آدم کی جو مٹی ہے، اس میں پانی بھی ہے، ہوا بھی ہے، آگ بھی ہے لیکن اس کے دل میں جو عناصر مٹی کے جو عنا صر ہیں وہ عنا صرنہیں ہیںکہ جس میں اب آدمی کا اگر تجزیہ کیا جا تا ہے اس میں تمام ضروریات بھی ہوتی ہیں آگ بھی ہوتی ہے مٹی بھی ہوتی ہے ہوا بھی ہوتی ہے خمیر بھی ہوتا ہے آب بھی ہوتا ہے اسی طرح ہم جنات کی تخلیق کا تجزیہ کر تے ہیں تو اس میں ہمیں آگ کی مقدار زیادہ نہیں ہوتی،  آگ فاسفورس ہوتی ہے یہ ایک قسم کا ایسا عنصر ہے جو آگ سے قریب ترین ہوتا ہے اس لئے ہم اس کو آگ کا بنا ہوا کہتے ہیں۔

  جنات فاسفورس سے بنا یا ہوا تو جنات بھی جب مر تے ہیں وہ بھی قبرستان میں اسی طرح انسانوں کی طرح دبا یا جا تا ہے اور وہ بھی ذرات سے بنا ئے ہوئے عناصر میں منتقل ہو جاتے ہیں جن سے ان کی تخلیق ہوئی ہے تو یہ مر نے کی مرنے کے بعد افسوس کرنے کی یہ تو کسی بھی صورت سے بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ اس بات کا افسوس کررہے ہیں کہ ہمارا بزرگ اچھی جگہ چلا گیا ۔ اب دیکھئے نا ایک آدمی نیک ہے اللہ کا بندہ ہے اس نے اللہ کے قانون کی پابندی کی رسول اللہ  ﷺ کے بنائے ہو ئے قوانین کا عمل کیا جب وہ اس دنیا میں مر ے گا جنت میں ہی جا ئے گا نا۔  اب آپ افسوس کر رہے نہیںمیرا بزرگ جنت میں کیوں چلا گیا؟  میں یہاں دوذخ میں ہوں تو وہ کیسے جنت میں چلے گیا اس بھی یہاں دوذخ میں رہنا تھا ۔  مو ت آپ یقین کر یں موت سے اچھی حالت اور موت سے بہترین زندگی دنیا میں کچھ نہیں ہے ۔

  اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے ہمارے اندر کی آنکھ کھولے تو ہم جتنے یہ بڑے بڑے اولیا ء اللہ ہیں اللہ کے نیک بندے ان سب کو موت کی تمنا ہے صحابہ اکرام کو آپ دیکھئے جتنے گئے ہیں وہ کیا کہتے ہیں جہادپر تو بڑھ چڑ ھ کر اس میں حصہ لیتے تھے جانے کی کوشش کرتے تھے اور دعا مانگتے تھے یا اللہ ہمیں جہاد سے شہادت عطا فرما کیوں کہ رسول اللہ  ﷺ سامنے تھے اور صحابہ اکرام کی جو اروح تھی وہ نور نبوت سے فیض یاب تھی اس لئے ان کے اندر کی آنکھ کھولی ہوئی تھی انہوں پتا تھا کہ جنت کے بعد کی بھی زندگی ہے ۔

مر نے سے کبھی نہیں ڈرنا مرنے کی تمنا  رکھنی چا ہئے اس لئے کہ مر نا تو ایسا عمل ہے کہ جس میں انسان مادیت سے آزاد ہو جا تا ہے اس اصلی دنیا میں چلا جا تا ہے جہاں ٹائم اسپیس کی محدودیت ختم ہوجا تی ہے اب آپ خواب د یکھتے  تو خواب میں بھی یہی بات ہوتی ہے کہ ہماراجو مادی جسم میں اس کی برا ہ راست جوپٹری ہے یا برا ہ راست جوActivities ہیں وہ بہت ہے اندر سے کوئی چیز یا کوئی آدمی کوئی آدمی اگر یہاں غیب ہے جن وہ خواب دیکھے گا وہ یہی دیکھئے گا کہ غیب میں نکلا آسمانوں پر جا رہا ہے وہ دیکھتا ہے کہ رسول اللہ  ﷺ کے میلاد شریف سے مدینہ کی محفل میں کھڑا ہے اور الصلوٰۃ والسلام و علیک یا رسول اللہ کہے رہا ہے ذرا تھوڑی سی حرکت ہوئی وہ پھر واپس آگیا مطلب یہ ہے کہ اگر زندہ ہی مادیت کی آنکھ کا رشتہ عارضی طور پرمنقطع ہو جا ئے تو مر نے کے بعد کیوں کہ یہ مادی جسم رہتا ہی نہیں ہے اس لئے انسان جو ہے بڑا خوش رہتا ہے میں تو کہتا ہوں ہم گناہ گار لوگ ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو گناہوں سے برائیوں سے محفوظ رکھے اپنے حفظ امان میں رکھے یہ بھی مرنے کے بعد اس لئے مرنے کے بعد جب کھنڈر ہے۔

  بھنڈاروہ کیا کہتے ہیں کھا نے کا،  کمانے کا گھر سے بھی نجات مل گئی ،ٹائم اسپیس سے بھی نجات مل گئی ،وما ادرک ما علین …وما ادرک ماسجین …اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کتاب المرقوم …تو یہ جو زندگی ہے،  یہ مادی زندگی ہے اس کا اس کا ایک ایک لمحہ ایک ایک خیال سب کا سب بے کار ہے یعنی ایک ویڈیو فلم ہے،  اس ویڈیو فلم میں ہمارا اٹھنا، بیٹھنا ،کھا نا، پینا ،گا لی دینا ،کسی کو برا کہنا ،نفرت کرنا، محبت کے ساتھ پیش آنا ،  رسول اللہ  ﷺ کے ارشاد اعلیٰ کے مطابق تمام مسلمانوں کا بھا ئی سمجھنا اپنے بھائیوں کے کام آنا،  اللہ کی مخلوق کی خدمت کر نا،  نماز پڑھنا ، روزہ رکھناہر چیزریکارڈ ہے بالکل اس طرح آپ یہاں ایک کیمرہ لگا دیں ویڈیو کیمرہ آپ یہاں بیٹھے ہو ئے ہیں ہر چیز اس کے اندر آتی رہے کی آپ ہاتھ ملا ئیںگے وہ بھی اس میں آجا ئے گا اب Airportجا تے ہیں وہاں کمرے لگے ہو ئے ہیں اس کے اندر یہ ہے کہ سیکورٹی کی جگہ ہے جہاں کوئی بھی آدمی کوئی حرکت کر ے وہ ریکارڈ ہو کر وہاں اسکرین پر جا تا ہے تو اسی صورت سے ہر انسان کے پاس دوکیمرے ہیں جن کو کیا کہتے ہیں کرا ماً کاتبین کہتے ہیں ایک دائیں طرف بیٹھا ہے ایک بائیں طرف بیٹھا ہے تو وہ ہے تو فرشتے لیکن مثال کے طور پران کو کیمرے سے تشبیہ کیا ہے کہ کسی بات کو سمجھا نے کے لئے کوئی بات ایسی ہوتی ہیں تو وہ دو فرشتے بیٹھے ہو ئے ہیں تو ہم یہ بھی کہے سکتے ہیںفرشتے کے پاس دو کیمرے ہیں ۔

 وہ ہمیشہ ہو تے ہیں کیمرے چلا رہے ہیںاس کی حفاظت کر رہے ہیں فمن یعمل مثقال ذرہ خیرایرا…ومن یعمل مثقال ذرۃ شریرا…اگر خیر ذرہ برابر کی گئی ہے تو وہ بھی ریکارڈ ہے اور اگر شر برابر کیا تو وہ بھی ریکارڈ ہے ۔تو مرنے کے بعد جو تکلیف وہ یہ ہے کہ مر نے کے بعد انسان جو ہے وہ اپنی ہاتھ سے بنا ئی ہوئی فلم ہے مثلا ً اگر اس نے کوئی برا ئی کی تو اس کے ذہن میں یہ ہے میں نے برا ئی کی اس کا ضمیر توملامت کر ے گا اور وہ فلم دیکھ رہا ہے کہ میں نے برا ئی کی اور مجھے کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا اگر اس نے کوئی بھلا ئی کی اس کا دل مطمئن ہو ا اوروہ فلم دیکھ رہا ہے میں نے کوئی اچھا کام کیا میرا دل مطمئن ہو گیا اور اللہ بھی خوش ہے اللہ کا رسول بھی خوش ہے اور مجھے اجر ملے گا تو یہ جو چیزیں وہ دیکھ رہا ہے ان چیزوں کے دیکھنے سے وہ یا تو غمگین ہوتا ہے پریشان یا پھر وہ خوش ہوتا ہے یہ الگ بات ہو گئی کہ وہ خوش ہوتا ہے غمگین ہوتا ہے لیکن اعراف کی زندگی کا یہ جو قانون ہے کھانے پینے کا معاشریت کا وہ سب چھوٹ ہے وہاں سب آرام سے رہتے ہیں مثلاً گھنٹی بج جاتی ہے یہ میں نے جو گھنٹی یہاں لگا رکھی ہے نا کھانے میں بجتی ہے میں اعراف میں دیکھ کر آیا تھا میں نے بھی نقل کی ہوئی ہے ۔

  وہاں بھی گھنٹی بج جاتی ہے سارے دور دراز سے لوگ آتے ہیں میں نے کہا یہاںبھی گھنٹی لگا دوں۔اختتام

Topics