Topics
یہ
ایک آیت ہے اللہ نورسماوٰت والارض…اس آیت میں کا ئناتی تخلیق اور انسانی تخلیق
کا پو را فارمولا بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ االلہ تعالیٰ زمین
اور آسمان کی روشنی ہے ۔اور اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے …عربی آیت …ایک قندیل ہے
اور ایک طاق ہے اور طاق میں قندیل ہے، قندیل میں چراغ ہے توقندیل طاق اور چراغ یہ
تین دائرے بن جا تے ہیں اور پہلے طاق آیا طاق کے بعدقندیل، چراغ آیا ۔یہ تین
دائرے بن گئے یعنی تین رخ بن گئے اب اس میںچراغ کو …تو یہ جو چراغ ہے یہ ستارے کی
طرح ہے ایسا ستارہ جو چمک رہا ہے اور اس طرح چمک رہا ہے جیسے کوئی بھڑکتی آگ ہے
…عربی آیت شجرۃ اور یہ ایک اس میں جو ہے ایک زیتون کا چراغ جل رہا ہے ،بہر حال
کائنات کا فارمولا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تین دائروں کا تذکر ہ کر رہے
ہیں ۔یہ تین دائرے حضور قلندر بابااولیا ء ؒ نے بیان کئے ہیں کتاب لوح و قلم میں ۔
اللہ
تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ میں نے ساری کائنات جو ہے اپنے روح سے بنا ئی اپنی روح سے
تخلیق کی یا کا ئنات کو تخلیق کر کے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی نور ڈال دیا، روشنی ڈال دی ۔اور وہ روشنی کا نور ہے اس کا جو
نزولی اورصعودی سلسلہ ہے ۔وہ تین دائروں پر ہے ۔اور وہ تین دائروںپر ابھی آپ سے
عرض کیا کہ روح کے تین رخ ہے۔ روح حیوانی،
روح انسانی اور روح اعظم۔ تو ان تین دائروں کی مزید تفصیل اس طرح ہوئی کہ
ہر دائرہ نو ر سے مقید ہو ا یا پھر آپ کو پتا ہے آپ روح اعظم کے دودائرے لطیفہ
خفی اور لطیفہ اخفٰی۔اب روح انسانی کے دو دائرے لطیفہ رو حی لطیفہ سری،اب روح
حیوانی کے دو دائرے ہیں لطیفہ نفسی اور لطیفہ قلبی تو یہ جو آیت ہے اس آیت میں
اللہ تعالیٰ نے تعریف بیان کی ہے روشنی کی اور یہ بھی فرمایا ہے کہ روشنی ایسی ہے
کہ اس کا کوئی سمت کا تعین نہیں کیا جاسکتا لا شرکیتا لا غربیتاً…یہ روشنیاں ایسی
ہیں اس میں سمت کا تعین بھی نہیں ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ روشنی جوOriginal
روشنی ہے اس میں کسی قسم کی مادیت نہیں ہے جب یہ اس کا نزول ہوتا ہے تو اس میں جو
چراغ آپ کہتے ہیں چراغ ایک چراغ ہے یہ چراغ ایسا ہے جیسا ستارہ ۔
یہ
ستارہ جب آیا اور اس ستارے کی روشنی زیر بحث آگئی تو وہ ستارہ جیسے اب بھڑکا تب
بھڑکا یہ یہاں سے ڈیمنشن پیدا ہو جا تی ہے۔
پھر اس میں تیل کا ذکر آجا تا ہے اس کی جو روشنی ہے اس میںجیسے زیتون کا
تیل زیتون جل رہا ہوتو زیتون کی مثال اس میں اس لئے دی گئی ہے کہ ا س میں دھواں
نہیں ہوتا سمجھئے کہ اس کی جو روشنی ہے اس کی لوح میں ایک خاص قسم کا ٹھہرئو ہوتا
ہے، تو خاص قسم کا ٹھہرئو کا ئنات میں بھی
ہے لیکن ساتھ ساتھ اس میں حرکت بھی ہے اس میں روشنیاں ہیں اور روشنی جو ہے اس میں
چاروں طرف اس کی پھیل رہی ہے اور جب اس روشنی کے اندر غورفکر کیا جا تا ہے تو یہ
لگتا ہے جیسے نور ہے ۔اور پھر جب غور کیا جا تا ہے تو یہ پتا چلتا ہے کہ نور اعلیٰ
نور، نور کے اوپر نور ، اوپر تلے نور پر نور ہے ۔
یا
اللہ نوری منشاہ …اور یہ ایسا نور ہے جس کو اللہ تعالیٰ چا ہیں جس کو ہدایت دیتے
ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتے ہیں وہ اس نور میں رہتا ہے اور یہ جو کچھ
ہم نے بیان کیا ہے پوری آیت میں یہ مثال میں اس لئے بیان کیا ہے کہ لوگ جواس آیت
کو زیادہ اچھی طرح آسانی سے سمجھ لیتے ہیں اور فی الواقع کیا ہے یہ بات اللہ کے
اوپر ہے کہ جس کا اللہ تعالیٰ علم دے دے تو اس آیت میں پو را فارمولا کائنات کا
بیان کیا گیا ہے جس میں روحیں بھی حیوان بھی ہیں انسان بھی ہیں پھر آدم اس کی
موجود نسل۔ صدرالصدور حضور قلندر بابا اولیاء
نے پھر اس کی مزید تشریح لوح قلم میںکی ہے۔ نور مرکب، نور مفرد، نور مطلق اور پھر اس کی اور مزید تشریح اس طر ح
حضور قلندر بابا اولیا ئؒ نے فرما ئی علم القلم ،عالم ارواح ، لوح محفوظ پھر اسکی
مزید تشریح اور لو ح محفوظ سے جس کو حضور قلندر بابااولیا ئؒنے عالم ـ’جو‘
ـ بھی کہا ہے، برزخ بھی فرما یا ہے
پھر اس کے بعد عالم ناسوت آگیا، جس میں
عالم ناسوت کے بعد عالم اعراف آگیا پھر وہی جس کے تین دائرے میں۔
عالم حشر نشر ہو گیا ، عالم جنت ودوذخ ہو گیا
،پھر عالم ابد ہو گیا تو وہ جو تین با تیں ہیں کہ صاحب ایک طاق ہے طاق میں قندیل
ہے، قندیل میں ایک چراغ ہے، تو یہاں تو یہ طاق قندیل اور چراغ میں یہ
ڈائمنشن بنتی ہے اور پھر اس کی مزید جو ہے وہ تشریح ہے اور یہ اللہ تعالیٰ نے کا
ئنات کی تخلیق کا فارمولا بنا یا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا یا ہے کہ یہ جو نور
ہے اللہ کا یہ اسی بات نہیں ہے کہ آپ اس کو دیکھ نہیں سکتے آپ اس کو جان نہیں
سکتے یااللہ نوری منشاہ …اللہ تعالیٰ نے جس کو چا ہے اس نور کی ہدایت دے دیں اور
وہ اس نور کا مشاہدہ کر لے ۔اختتام