Topics

سوال : عام مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہے؟

 

جواب:  عجیب آپ نے سوال کیا ہے ۔ سوال دوسرے طریقہ سے ہوتا۔ ہم آپ سے یہ سوال کرتے ہیں۔ جن صاحب نے بھی یہ سوال کیا ہے کہ ایک میٹریکولیٹ اور پی ایچ ڈی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ حالانکہ میٹرک کرنے والا بندہ بھی آپ کی طرح روٹی کھاتا ہے، سوتا ہے، جاگتا ہے۔ عقل کی باتیں کرتا ہے۔ کاروبار کرتا ہے۔ اپنے عزیزوں کو اور رشتہ داروں کو پہچانتا ہے اور علم بھی رکھتا ہے جتنا اس کا۔ لیکن ایک پی ایچ ڈی میں اور ایک میٹریکولیٹ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ کیا فرق ہوتا ہے؟ علم کا فرق ہوتا ہے۔ کہ جتنا علم زیادہ ہوگا۔ اسی مناسبت سے کسی بھی آدمی کا دماغ اور ذہن روشن ہوجائے گا۔ یہ عام دنیا داری کی بات ہے۔ یہی ایک عام آدمی میں مومن میں فرق ہے۔ مومن کے بارے میں رسول اللہ  ﷺ کا ارشاد ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔تو مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ عام آدمی اللہ کے نور سے نہیں دیکھتا۔

 تو عام آدمی میں اور مومن میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی نظر عطا ہوجاتی ہے کہ نور اس کے سامنے آجاتا ہے اور مومن جو کچھ دیکھتا ہے ان انوار اور تجلیات کی روشنی میں دیکھتا ہے۔تو ایک عام آدمی میں تو فرق یہ ہوگا عام آدمی اور مومن میں فرق یہ ہوگا۔ اب یہ سوال کہ بھئی اللہ تعالیٰ ہاتھ بن جاتا ہے ۔کان بن جاتا ہے۔ یہ حدیث ہے۔ ہاتھ بن جاتا ، کان بن جاتا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ جس طرح ہمارے ہاتھ ہیں اللہ میاں کے بھی ہاتھ ہیں۔یا جس طرح ہم ان آنکھوں سے دیکھتے ہیںاللہ میاں بھی ان ہی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ یہ ہاتھ کان پیر یہ مخلوق کی بشری چیزیں ہیں۔ خالق جو ہے ان سے ماورا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آنکھ بن جاتا ہوں ۔ کان بن جاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ وہ بندہ اگر کوئی چیز سنتا ہے ۔ تو وہ میری معرفت سے سنتا ہے۔

 اگر وہ کچھ دیکھتا ہے تو وہ میری معرفت دیکھتا ہے۔اگر وہ کہیں جاتا ہے تو میری معرفت پیروں سے چل کر جاتا ہے۔ یعنی اس کے ذہن میں میرے علاوہ کچھ تصور نہیں ہوتا۔ ہر کام جو بھی وہ کرتا ہے میری خوشنودی کے لئے کرتا ہے۔ کسی بات کو بیان کرنے کا یہ ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ صاحب اللہ تعالیٰ آنکھ بن گیا۔ اللہ تعالیٰ ہاتھ بن گیا۔ اللہ تعالیٰ پیر بن گئے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کے بھی ہاتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بھی پیر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے بھی آنکھیں ہیں۔ جو کہ … آنکھ ، ناک،کان ، پیر ، ہاتھ یہ سب مخلوق کی صفات ہیں۔ تو یہ کہ اللہ تعالیٰ ہاتھ بن جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ ایسی بصیرت عطا کردیتا ہے کہ وہ جب کچھ دیکھتا ہے تو اس دیکھنے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کے سامنے ہوتی ہے۔ اور وہ کوئی ایسی چیز کو نہیں دیکھتا کہ جس چیز کے دیکھنے سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتے ہیں۔

 وہ کسی ایسے راستے پر قدم نہیں بڑھاتا جس راستے پر قدم بڑھانے سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتے ہیں۔ وہ کوئی ایسی چیز ہاتھ سے نہیں پکڑتا ۔ مثلاً ایک آدمی سودی کاروبار کرتا ہے۔ اب سودی کاروبار کرنے کا مطلب ہے کہ جب رقم آئے گی تو آدمی ہاتھ سے پکڑے گا۔ ایک آدمی شراب خانے کی طرف چلتا ہے۔ ایک آدمی مسجد کی طرف چلتا ہے۔ ظاہر ہے چلنا جو ہے تو وہ اگر وہ شراب خانے کی طرف چلنا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ناخوشنودی ہے۔ اگر وہی آدمی مسجد کی طرف چل رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ اب ایک آدمی شراب خانے سے چل کر جب مسجد کی طرف یا مکے کی طرف یا مدینے کی طرف سفر کرتا ہے تو ظاہر ہے اس کا سارا چلنا اللہ کے لیے چلنا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی خوشنودی کے تحت قدم اٹھارہا ہے۔ یہی ذہن کی بات ہے۔ جب وہ کچھ سوچتا ہے تو اس کی سوچ میں رحمانیت ہوتی ہے شیطنت نہیں ہوتی۔

 تو اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ بندہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا میں ہاتھ بن جاتا ہوں، کان بن جاتا ہوں وہ بندہ جو ہے وہ مکمل اللہ تعالیٰ کی رضا پر قائم ہوجاتا ہے۔ راضی برضا ہوجاتا ہے۔ اور انہی بندوں کے لئے ایک اور بھی حدیث ہے ۔ رسول اللہ  ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کے ایسے بندے ہوتے ہیں کہ جب وہ اللہ کے بھروسے پر کوئی بات کہہ دیتے ہیں تو اللہ اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے وہ بات پوری کرتا ہے۔یہی بزرگوں کی شفاعت ہے۔ کہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت ان پر عمل کرتے ہیںاور جن باتوں سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتے ہیں ان کو اختیار نہیں کرتے۔اختتام

Topics