Topics
انسان
کیا ہے اور انسان کی حقیقت کیا ہے توہمیں دو با تیںقرآن پاک سے اور رو حانی علوم
سے سمجھ میں آتی ہیں جب انسان کو بشری تقاضوں کے تحت انسان زندگی گزار رہا ہے اس
کا مطا لعہ کر یں تو یہ نظر آتا ہے کہ انسان تعفن اور گندگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے
اس سے پیدا ئش پر غور کرنے سے یہ پتا چلتا ہے انتہا ئی غلیظ بدبودار اور متعفن
قطرے سے ماں کے پیٹ میں وجودپا تا ہے او ر انتہا یہ کہ جس زمین پراس کی پیدا ئش کا
جو عمل ہے اور پھر انتہا ئی غلیظ خون جس کو آپ حیض کے نا م سے جا نتے ہیں اور
پیدا ئش کا جو عمل ہے وہ انتہائی غلیظ اور گنداہے ، مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسان
پیدا ہوتا ہے تو اس راستے سے گندگی کے اخراج کے راستے علاوہ دو سرا کوئی دوسرا را
ستہ نہیں آجا تا اب مثلا ً پیشاب آنا حیض آنا وغیرہ وغیرہ اور جب حیض انسان کو
آئے تب بھی وہ نماز نہیںپڑھ سکتا ،کوئی نفلیں ادا نہیں کرسکتا خود کو نا پاک
محسوس کرتا ہے تو انسان جب کسی بزرگ کے پاس جاتا وہ بھی اپنے آپ کو گندا محسوس
کرتا ہے اور جب تک وہ غسل نہیں کر لیتا،
جب تک وہ نہا نہیں لیتا، جس جگہ پر
وہ گندگی لگ جا ئے اس جگہ کو دھو نہیں لیتا تو۔
پیدا ئش کے بعد کا عمل جب ہم دیکھتے ہیں تو اس
میں بھی یہی ہے کہ انسان نا پاک ہوتا ہے لیکن جب مائیں دودھ پلا تی ہیں توحیض بند
ہو جا تا ہے مطلب یہ ہے کہ حیض کا گندھا اور غلیظ خون دودھ کہ جگہ منتقل ہو کر بچے
کے اندر منتقل ہوتا ہے اوراس کی نشوونما ہوتی ہے اورجب وہ بڑا ہوتا ہے تو رو ٹی
کھا تا ہے ، چاول کھا تا ہے ،گو شت کھا تا ہے تو چا ول گو شت اور رو ٹی یہ بھی جب
آپ دیکھیں تو یہ بھی غلاظت کے علا وہ کچھ نہیں، آٹا گوندکے رکھ دو وہ سڑ جا ئے
گا اتنی بدبو اور تعفن اس کے اندر آئے گی آپ اس کے قریب بھی نہیں کھڑے ہونگے
یہاں تک کے کیڑے بھی پڑ جا ئیں گے ، اب
یہی چا ول کا حال ہے، چاول پکا کر آپ رکھ
دیں تو اس میں اتنی بد بو ہو جا ئے گی آپ اس کے قریب نہیں جا ئیں گے ۔ گوشت گو شت
کے بارے میں جب ہم تصور کر تے ہیںتو گوشت کے بارے میں سوچتے ہیں گوشت کیا ہے تو اس
کا ایک ہی جواب ملتا ہے کہ خون کے لوتھڑے جو ہوتے ہیں خون کے لوتھڑے جب جمع ہو جا
تے ہیں اس سے گوشت بنتا ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی جتنی بھی بشری
غذائیں ہیں وہ بھی تعفن اور گندگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ اب گیہوں بوتے ہیں آپ
اور اس میں وہی کھاد جیسے آپ کہتے ہیں گو
بر کاگائے گا گو بر ،بھنس کا گوبر ، انسان کافضلہ تو ہر چیز تعفن زمین پر ڈال دیں
تو جب گیہوں کی صحیح نشوونما ہو گی اور زمین میں کھاد نہ ڈا لا جا ئے یعنی گندگی
اورتعفن نہ ڈا لا جائے تو نشوونما نہیں ہوتی ۔ کوئی بھی چیز اب پا نی اورکوئی بھی
ہو پا نی اب پا نی بھی سڑ جاتاہے اس میں بھی کیڑے پڑ جا تے ہیں ،دودھ کتنالطیف غذا
ہے کتنی اچھی غذا ہے لیکن جب وہ پھٹ جا تا ہے اس میں بہت بدبو آتی ہے اور پھینکنے
کے علاوہ آپ کے پاس کچھ چا را نہیں ہوتا ۔
اب جب تک آ پ نہا ئیں نہیںتوآپ کے اندر سے بو
نکلتی ہے، تعفن نکلتا ہے ،پسینہ نکلتا ہے اور اگر آپ نہائیں دھو ئیں نہ صفا ئی نہ
کر یں تو خود سے نفرت ہو نے لگتی ہے دوسرے آدمی کو تو چھوڑے ، خود کو نفرت ہو نے لگے گی کہ یارمیں نے اتنا
گندا ہوں کھا نے کے بعد جب آپ با تھ رو م جا تے ہیں جب پاخانہ نکلتا ہے تو وہ بھی
تعفن کے علاوہ کچھ نہیں تو انسان کی جو حقیقت ہے ، وہ دو رخ بنے ایک تویہ کہ جب مادی وجود میں
عالم ناسوت میں ہے تو تعفن اور گندگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، نہا یت سڑی ہوئی غلیظ
ایسی سڑی ہوئی گلی ہوئی چیزکہ اس کی بد بو سے آدمی کادماغ پھٹ جا ئے اور اس کی
گندگی سے آدمی بیمار ہو جائے اور اس کی بدبو سے آدمی پا گل ہوجا ئے ۔جب یہ مر تا
ہے مرنے کے بعد کی بھی یہی صورت ہے آپ لاش کودو دن تین دن رکھ دیں اس کے اندر بھی
سڑان اور تعفن ہے، اتنا تعفن پیدا ہو جا تا ہے کہ کئی کئی کلو میٹر دور اس کی بد
بو جا تی ہے تو یہ انسان کی حقیقت ہے جس انسان کو ہم بشر کہتے ہیں کہ جس کو ہم
مادی انسان کہتے ہیں دو سری حقیقت انسان کی وہ ہے کہ جس حقیقت نے اس بشری حقیقت اس
سڑان کو سنبھالا ہوا ہے اسے روح کہا جا تا ہے تو روح میں لطافت ہوتی ہے روح کے
اندر تقیط ہوتی ہے روح جو ہے نور ہے اور روح جو ہے اللہ کا احسان ہے ۔
بشری تقاضوں کے تحت جب ہم زندگی گزار تے ہیں
۔تو بشری یہی صورت جب ماں کے پیٹ سے وجود میں آتی ہے تو اس کاقانون یہ ہے کہ وہ
ہر وقت اس میںگھٹتی رہتی ہے اور گھٹتے
گھٹتے ایک دن وہ صورت نیچے گر جا تی ہے ۔ حضور کے بارے میں کوئی معلوما ت یا مشن
سامنے آتا ہے یا ہم کسی بزرگ سے سنتے ہیں یا اللہ تعالیٰ ہمیں یہ صلاحیت اور سکت
دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی سے واقف ہو جا ئیں تو ہمیںوہاں انوار اور روشنیوں کے
علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ما دی وجو د میں کیونکہ سڑان ہے اس لئے آدمی جب تک مادی
وجودکے ساتھ چپکا رہتا ہے اس کے اوپر وسوسے شکوک و شبہات اپنی بے یقینی اوراپنی سر
ما ئے کی محدودیت اور تصورات اس پر غالب ر ہتے ہیں لیکن جب بشری تقاضوں سے ہٹ کر
وہ اپنی روحانی انسان کو تلا ش کر لیتا ہے اور جب وہ روحانی انسان کو دیکھتا ہے تو
وہاں محدودیت بھی نہیں ہے ۔وہاں بے سکونی بھی نہیں ہے ، وہاں بھوک اور فلاس کا بھی
کوئی چکر نہیں ہے توانسان دو وجو د ہے ۔
ایک وہ ہے ما دی وجود اورایک رو حانی وجودہے تو
ما دی وجود گندگی اور تعفن کے کچھ نہیں اوررو حا نی وجود جو ہے سوائے نور انتہا ہی
شفا ف اور تازگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ ما دی وجود قدم قدم پر ٹائم اسپیس وہ بند
رہنے پر مجبو ر ہے اور رو حانی وجود اس کے لئے نہ کوئی اسپیس ہے ،نہ کوئی ٹائم ہے
،نہ کوئی پابندی ہے وہ ماورائی دنیا ہے کوئی دا خل ہو نا چا ہے ماورائی دنیا میں
داخل ہو جا ئے تو اگر مادی وجود کی دنیا میں رہنا چا ہے مادی وجود میں رہے یہ تو ا
نسان کی حقیقت ہو گئی خصوصاً ، بات بہت
لمبی ہے اب یہ کہ انسان کوپیدا کیوں کیاگیا؟
اب پیدائش کے بارے میںجب ہم غور کر تے ہیں تو
ہمارے لئے سورہ معدین موجود ہے تو رو حانی علوم تو ہیں نہیں تو اس میں ہمیں یہ ایک
بات یہ نظر آتی ہے مادی وجود اس کے با وجودکہ یہ سڑان ہے تعفن ہے اس کو تحفظ دیا
گیا ہے اور تحفظ اس طرح دیا گیا ہے کہ اس کے لئے وسائل پیدا کئے جا ئیں مثلا ً ہوا
،پانی، گیسیز،زمین والدین ،سورج ،چاند، زمین کے اندر پیدا ہونے والے اجناس، معدنیات لیکن جب انسان کی زندگی پر غور کیا
جاتا ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے کروڑوں وسائل انسان کے لئے ایسے پیدا
کر دئیے ہیں کہ وہ کچھ کر ے یا نہ کر ے یا وسائل سے فائدہ اٹھا نا چا ہے یا نہ چا
ہے تو وسائل اس کی خدمت گزاری میں مصرو ف رہتے ہیں۔
اب انسان چا ہے نہ چاہے اس کے پھیپھڑوں کو ہوا
ملتی رہتی ہیں ، انسان چاہے یا نہ چاہے اس کے لئے آکسیجن یا دو سری گیسز وہ اس کو
ملتی رہتی ہیں ، انسان چا ہے یا نہ چا ہے
سورج کی رو شنی اس کو ملتی رہتی ہیں اور سورج ہر وقت یہ خدمت گزاری میں مصروف رہتا
ہے ، انسان چا ہے یا نہ چا ہے چا ند کی چا
ندنی سے لطف انداز ہوتا رہتا ہے ، ایک انسان چاہے یا نہ چاہے نیند اسے آتی رہتی
ہے اور وہ خواب میں انر جی بھی حاصل کرتا ہے اور جو انرجی اس تعفن کے جسم کو چلاتی
رہتی ہے اور انسان جو ہے چلتا رہتا ہے تو اب یہ بات سمجھ میں آگئی ، ہمارا جو یہ
مادی وجود ہے یا روحانی وجود ہے اس کو کسی نے سنبھالا ہوا ہے یہ ز ندہ رہنے کے لئے
ہر ہر قدم پر وسائل کا محتاج ہے اور وسائل کسی نے قبضہ کر کئے ہو ئے ہیں اب مثلا ً
سورج ہے اب سورج کو مشرق سے ہی نکلنا ہے اب سورج کی مر ضی ہے وہ شمال سے نکل رہا
ہے تو مطلب یہ ہوا اس کا کہ کوئی ہستی ایسی ہے تو جس نے سورج کو پا بند کر دیا اس
بات پر کہ انسان نے یہ کیا اب زمین پر آپ گیہوں بوتے ہیں تو گیہوں کے اندر دالیں
ہی نکلیں گی یہ کبھی نہیںہو گا کہ بانس نکل آئے نکلے گا کہ یا گیہوں سے آپ کیکر
کا درخت نکال لیں ،جب گیہوں بو ئے گے تو گیہوں ہی نکلے گا ، ، جب باجرہ بو ئے گے
تو باجرہ ہی نکلے گا ، جب انگور بو ئے گے تو انگورہی نکلے گا ، اور اس طرح اس کا
ایک نظام ہے اللہ تعالیٰ کا کہ اس امرود کو بھی اللہ تعالیٰ پرورش کر تے ہیں، جس
طرح انسان کی پرورش ہوتی ہے اب مثلا ً پانی کی نیچر یہ ہے کہ وہ نشیب میں بہتا ہے
لیکن جب درخت کا تجزیہ کر تے ہیں تو پانی کی نیچر تبدیل ہو جا تی ہے پا نی بجا ئے
نیچے بہنے کے اوپر چڑھتا ہے اگر درخت کی جڑوں سے پانی اوپر نہ جا ئے تو درخت زندہ
رہے سکتے ہیں اور درخت پر نہ کسی قسم کا پھل آسکتا ہے۔
تو یہ ہستی ہے یہ سارے وسائل پیدا کئے تو اس کی
ایک منشاہ اور مر ضی ہے اور منشا ہ اور مرضی یہی ہے کہ انسان اس ہستی کو جا نے اور
پہچانے جس ہستی نے انسان کے لئے یہ ساری کا ئنات بنا ئی اور جس ہستی نے انسان کو
پیدا کیا اورجس ہستی نے انسان کے لیے تمام وسائل پیدا کئے تو اس انسان کی پیدا ئش
کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس اللہ کا، اس رب کو جس نے پیدا کیا جس نے قدم قدم پر
حفاظت اور حفاظت کرنے کے بعد بچے سے بڑا کیا اور شعور ڈالا او ر شعور سے اس کے لئے
وسائل پیدا کئے اور وسائل سے اس میں نئی نئی ایجا دا ت پیدا کئے اور دنیا میں رو
نق ہے یہ سب اللہ میاں نے پیدا کیا تو مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے ،
پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے اب رب کو پہچا نے کا کیا طریقہ
ہے تو اس کے لئے ابھی ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ جن لوگوں نے اللہ کو پہچا نا ہے
انہوں نے کیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ تو رب کو پہچانے والے گروہو ںمیں سب سے بڑا
گروہوں یا سب سے بڑی اہمیت انبیا ء علیہ ا لصلوٰۃ والسلام کی ہے۔
انبیا ء نے رب کو پہچا نا اور انبیا ء نے ہی رب
کو پہچا نے کے طریقے آگے اپنی امتوں کو بتا ئے اوروہی طریقے نو ع انسانی میں
پھیلے اور رب کو پہچا نے کا انبیا ء کی زندگی سے ہمیں جو حاصل ہوتا ہے طریقہ وہ یہ
ہے کہ انبیا ء کی ایک طرزفکر ہوتی ہے تمام انبیاء
جتنے بھی انبیا ء موجود ہیں، انبیا ء کی کہ وہ لوگ ہر چیز کو اللہ کی طرف
سے جا نتے ہیںاو ر ہر عمل کا رخ اللہ کی طرف موڑتے ہیں اور ہے بھئی صحیح اگر اللہ
پیدا نہ کر ے بچے کو تو، بچے تو پیدا ہی نہیں ہو سکتے، اگر اللہ بچے کو شعور نہ دے
تو ساری دنیا پاگل ہی ہو گی کوئی ایجا د نہیں ہو گئی کوئی گھر نہیں بنے گادنیا میں
رو نق ہی نہیں ہوگی، اگر اللہ تعالیٰ زمین پیدا نہ کرتے تو وسائل ہی پیدا نہ ہو تے
تو آدمی کھا تا پیتا کہاں سے مرجا تا ،اگر اللہ تعالیٰ آکسیجن پیدا نہ کر تے ،
تواللہ تعالیٰ ہواپیدا نہ کرتے،اللہ تعالیٰ پانی پیدا نہ کر تے تو انسان کا وجود
ہی زیر بحث نہیں آتا تو فی الواقع جو عمل ہے یعنی ہرچیز اللہ کی طرف سے ہے اور
اللہ ہی ا نسان کو وسائل دے رہا ہے یہ ثابت کر رہا ہے یہ انبیا ء کی طرز فکر کی تا
بع ہے اورا نبیا ء نے ہی منتقل کی ہیں اورانبیا ء نے ہی یہ بتا یا ہے کہ اللہ ہی
پیدا کرتا ہے ،اللہ ہی جوان کرتا ہے اور اللہ ہی جوانی کے بعد وسائل فراہم کرتا ہے
اور اللہ ہی بو ڑھا پے میں حفا ظت کرتا ہے اور جوانی میں بھی حفا ظت کرتا ہے اور
بچپن میں بھی حفا ظت کرتا ہے تو انبیا ء کی یہ طرز فکر لو ح قلم میں حضور قلندر
بابااولیا ئؒ نے جو تفصیل سے لکھا ہے کہ انبیا ء عاد تاً اس بات کو اختیار کر تے
تھے کہ کوئی بھی کام ہوتا تھا وہ اللہ کی طرف سے ہوتا تھا ۔
دو سرا یہ کہ وہ ہر کام کو اللہ کی طرف سمجھتے
تھے تو زندگی کے ہر عمل میں ان کا تعلق اللہ کے ساتھ قائم تھااس کا طریقہ یہ ہے کہ
آپ زندگی میں کچھ بھی کر یںاس کا رخ اللہ کی طرف رہے جیسے یہ حقیقت بھی یہ ہے سب
اللہ کی طرف سے ہے اب اس طریقے کو اختیارکر نا بھئی ہر کام کو اللہ کی طرف کیسے مو
ڑدیا جائے تو اس کا آسان طریقہ ہے ، وہ
یہ ہے یہ جو دنیا ہے ما دی دنیا میں انسان کا ذہن اللہ کی طرف سے ہٹتا ہے تو مثلا
ً آدمی یہ کہتا ہے کہ صاحب میں رو ٹی نہیں کھا ئوں گا زندہ کیسے رہوں گا؟
مر جائوں گا لیکن ہرآدمی کسی نہ کسی آدمی سے
توقع رکھتا ہے کہ یہ میرا بھا ئی ہے، یہ میری ماں ہے، یہ میری بہن ہے ،یہ میری
بیوی ہے یہ میرا دو ست ہے یہ میرا یہ کا م کر دے گا ،یہ میرا وہ کام کر ے گا یہ
توقعات جو ہیں یہ انسان انسان کے ساتھ رکھتا ہے مادی وجود میں ہے اور اس کے اوپر
ایک بے یقینی کابھی دور آتا ہے مستقبل کے بارے میں وہ ڈرتا رہتا ہے خوف زدہ رہتا
ہے اگر وہ ساٹھ سال کا آدمی بھی ہے تو وہ کبھی یہ نہیں سوچتا کہ میرے ساٹھ سال
گزر گئے ساٹھ سال میں نے رو ٹی بھی کھا ئی ،ساٹھ سال میں نے کپڑے بھی پہنے ،ساٹھ سال
ایسے گزر گئے میں کبھی بھوکانہیں رہا کبھی ننگا نہیں رہا لیکن وہ ساٹھ سال کے بعد
اکسٹھ سال کا تذکر ہ کر یں تو اس کے اوپر خوف ہو گا مستقبل کیسا ہو گا ؟کیا ہو گا؟
حا
لا نکہ اس کا تجر بہ یہ ہے ساٹھ سالہ تجر بہ کہ ساٹھ سال تک جس کو مستقبل کہتا رہا
وہ وسائل ہے اورزندگی اس کی اچھی گزرتی ہے مثلا ً اس کے بچے جس کی شادی ابھی ہوئی،
مثلااس کے بچے کارو بار میں بھی لگ جائیں بچوں کے گھر بھی بس گئے سب کچھ ہو گیا
لیکن اس کے با وجود اس کے یقین میں یہ بات نہیں آتی کہ سب اور وہ مستقبل سے خوف
زدہ ہو جا تا ہے اور وہ مستقبل سے خوف ذرہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کے اندر بے یقینی
ہے ،شک ہے وسوسہ ہے اب طریقہ یہ ہے کہ اس شک اور وسوسے سے خود کو آزاد کر کے اس
طرف اپنا ذہن لڑا یا جا ئے جس طرف پیغمبروں کی طرز فکر ہے یعنی یقین کا پیٹرن اور
اس یقین کے پیٹرن کو حاصل کرنے کے لئے یہی طریقہ ہے کہ مادی دنیا سے نکل کر ما دی
دنیا سے دور جا کر یکسوں ہو کر ذہن کواللہ کی طرف لگا یا جائے اوربات پر بار
بارتفکر جائے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ چا ہتا ہے تو انسان زندہ ہے او
ر اللہ نہ چا ہے تو یہ کا ئنات ایک منٹ بھی نہیں ٹھہر سکتی تو اس یکسوئی کے ساتھ
غورو فکر کو اور تفکر کو رو حانی علوم میں مراقبہ کا نام دیا ہے مرا قبہ ایسا
طریقہ ہے کہ جس میں انسان ما دی وسائل سے مادی وجود سے مادی زندگی میں جوشکوک و شبہات
ہیں ان سے آزاد ہو کر غیب کی دنیا میں یا اللہ کی طرف رجو ع ہو جا تا ہے اور
آہستہ آہستہ مرا قبے کی کامیابی کے نتیجے میں وہ مقصد پو را ہو جا تا ہے جس مقصد
کے ساتھ اللہ اس بندے کو پہچانتا ہے ۔
اختتام
ٹائم
معنی زما نیت اور اسپیس معنی مکان یا مکا نیت زمین پر یہ پو ری زندگی رواں دواں ہے
اور زندگی میں کوئی بھی فرد ہوں چاہے وہ درخت ہوں ،چا ہے وہ پا نی ہو،چا ہے وہ پر
ندے ہو ں،چا ہے وہ چٹان ہوں سب زمانیت اور مکانیت میں قید ہے۔
زمانیت اور مکانیت میں فرق ہے زمانیت کا مطلب
ہے کہ جیسے ہم سب لوگ بیٹھے ہوئے ہیں یہاں اس کوبھی کہا جائے گا کہ ہمارے جو
بیٹھنے کی پو زیشن ہے یعنی سمت ہے وہ مکا نیت ہے،
زمانیت یہ ہے کہ ہم کس زمانے میں بیٹھے ہو ئے ہیں مثلا ً اب وہ آخر کا ر
جو دنیا بنی تھی پہلے جو زمانہ گزر چکا ہے اس زمانے کو گزار کر موجودہ زمانہ گزرا
ہے یعنی ماضی کے نقوش فراہم ہے اور ما ضی کے نقوش زمین کے او پر زمانیت کو قائم کر
رہا ہے تو اس کو سمجھنا بڑا آسان ہو گا کہ ایک بچہ ہے جو با رہ سال کا دس سال کا
ایک دس با رہ سال کے بچے میں اتنا شعور ہوتا ہے کہ وہ کا فی حد تک خود سے بھی واقف
ہوتا ہے والدین سے بھی واقف ہوتا ہے ،ما حول سے بھی واقف ہوتا ہے ،اسکول سے بھی
واقف ہوتا ہے اور اپنے وطن سے بھی واقف ہوتا ہے لیکن جب یہ بچہ دس سال کی عمر سے
آگے بڑھتا ہے با رہ سال کا ہوتا ہے بیس
سال کا ہوتا ہے تیس سال کاہوتا ہے ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو جو ساٹھ کا سال بچہ ہے
اس کو قربت ہے دس سال کی وہ اس کے نقوش اس کے اندر منتقل ہو جا تے ہیں مثلا ً اس
کو یہ یاد ہوتا ہے میں نے کس اسکول میں میٹرک پاس کیا کتنا میں نے پڑھا کون کو ن
اساتذہ تھے کس کی رہنمائی سے میری تر بیت اچھی ہوئی کن کن صحبت سے مجھے برا ئی ملی
،کس سے میرا رزلٹ خرا ب ہوا تو یہ جو دس سال سے ساٹھ سال یعنیء پچاس سال کا واقفہ
دیاوہ سب زمانیت کا ہے لیکن ساتھ ساتھ زمانیت کے وہ زمین کے اوپر بھی زندگی گزار
رہا ہے زمین پر بھی موجود ہے یعنی جس طرح دس سال کا بچہ زمین پر چلتا پھر تا تھا
زمین پر سوتا تھا زمین پر اٹھتا بیٹھتا تھا اسی صورت سے وہ ساٹھ سال کا بھی زمین
پر چلتا ہے ہے پھر تا ہے با تیں کرتا ہے مگر جب ہم اس پچاس سالہ زندگی کو غو رکر
تے ہیں فکر کر تے ہیں تو پچاس سالہ زندگی ہمیں یا دتو ہے اس کے نقوش بھی ہیں نقوش
ہو نے سے مرا دیہ ہے کہ ہم دس سال سو سال کی زندگی سے واقف ہیںآپ جا نتے ہیں
والدین کو جانتے ہیں،دوست کو جا نتے ہیں رشتہ داروں کو جا نتے ہیں سب سے بڑی بات
خود کو جا نتے ہیں لیکن جب اسکول کا تذکر ہ آتا ہے تو ساٹھ سال کی زندگی کم نظر
نہیں آتی زمین پر کوئی بات ایسا نہیں ملتا کہ جس سے ہم دس سال کی زندگی کو ساٹھ
سال کی زندگی میں تلاش کر لیں اور کہے دیں لیکن جب ہم یاد کر تے ہیں تو آناً فناً
منٹوں سیکنڈوں میں ہمارے اندر ایک جوانی کا تصور بڑھتا ہے کسی دو ست کا کسی رشتہ
دار کاتصور بڑھتا ہے اور اس طرح تصور بڑھتا ہے کہ ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں ہمارے
ایک بزرگ تھے ہم اٹھا رہ سال کی عمر میں ان کی صحبت میں جاکر بیٹھا کر تے تھے وہ
اس قسم کی باتیں کرتے تھے انہوں نے ایسا کہا تو اللہ نے ایسا کر دیا ایسا کہا تو
اللہ نے ایسا کر دیا تو ان کے دل میں اللہ کی مخلوق کادرس تھا اور اللہ کی مخلوق
کے کام آتے تھے اور ایسے انتہا ئی تخریب پسند تھے ان کا کام ہی یہ تھا کہ لوگوں
کوپریشان کر نا زمین پر فساد پھیلا نا تو یہ جو یاداشت ہے پچاس سال کی یاداشت یہ
آپ کوفوراً یاد آجا ئے گی لیکن کبھی آپ غور کر یں گے تو زمین پراس کا کوئی اثر
ا نظر نہیں آتا تو دو رُخ آپ کے
سامنے ہیں۔
ایک یہ کہ ایک رُخ یہ ہے کہ آپ خود کو ٹھوس
محسوس کرتے ہیں خود کو بھا ری محسوس کر تے ہیں خود کو کسی میں بند محسوس کرتے ہیں
اور وہ جو زندگی ہے اس کا سارا کا سارا تعلق جو ہے وہ زمین سے تعلق رکھتا ہے جو
زمین کے اوپر آکر زمین کے اوپر آپ کام کر یں گے زمین کے اوپر آپ باغ لگا ئیں گے
زمین کی وجہ سے آپ گرمی سردی محسوس کر یں گے لیکن یہ جو پچاس سال آپ گزر گئے تو
اس کا کوئی نقش ہے وہ نقش جو ہے وہ زمانیت ہے اب ہماری زندگی کے دورُخ ہیں ایک رُخ
یہ ہے کہ کہیں سے زندگی گزارنے کا خیال موصول ہوتا ہے اب کوئی خیال آیا شا دی کر
نی چا ہئے تو خیال آیا شا دی کر نی چا ہئے تو شادی کی ،کہیں یہ خیال آیا مجھے پا
نی پینا چا ہئے اگر پا نی پینے کا بندے کو ایک مہینے تک خیال نہ آئے تو پا نی کا
ایک قطرہ اس کے حلق میں نہیں اتر ے گا اب دیکھئے گلہ خشک ہو گیا پا نی بند ہو گیا، ابھی یہاں پچھلے دنوں ایک صاحب میرے پاس آئے
تو انہوں نے کہا پتا نہیں کتنے پانچ سال بتا ئے یا آٹھ سال بتا ئے آٹھ سال سے
میں رو ٹی ہی نہیں کھاتا تو میں نے کہا یار آٹھ سال سے روٹی نہیں کھائی تم زندہ
کیسے ہو انہوں نے کہا وہ بسکٹ آتے ہیں بچوں کے وہ پا نی میں گھول کر پی لیتا
ہوںآٹھ سال ہو گئے رو ٹی نہیں کھا ئی تو میں نے اس سے کہا تم نفسیاتی مریض تو
نہیں ہو کوئی آدمی آٹھ سال رو ٹی کھا ئے بغیر بھی رہ سکتا ہے تو میں نے کہا بھئی
تو رو ٹی کھا تو اس نے کہا میں نہیں کھا سکتا میں علاج کروانے آیا ہے اور میں آپ
کے پاس کئی دفعہ آیا ہوں میں بیمار ہوں ۔
گلا
دیکھا ئوں تو میں نے دیکھا تو ٹھیک تھا گلا زبردستی کھلا یا تو اس کی آنکھیں باہر
آگئیں وہ گر گیا میں بڑا پر یشان ہوا کہ بھئی یہ کیا ہو گیا تو اس کا علاج فلاں
ڈاکٹر نے کیا فلاں نے کیا آٹھ سال ہو گئے ہیں جو کماتا ہوں وہ دوائی میں خرچ ہو
جا تے ہیں ۔رو نے لگا پھر میں نے اس سے بات کی بہت پو چھا کیا ہوا یہ ہوا پتا ہی
نہیں چلا بہت دیر سے پو چھ رہا تھا اس بندے کے ذہن میں یہ بات آگئی کہ جب میں کھا
نا کھا ئوں گا تو کھا نا، کھا نے کی نا لی میں جا ئے گا تو جب کھا نا کھا نے کی نا
لی سے جا ئو گا تو میں سا نس لوں گا تو سانس اندر نہیں جائے گا میں مر جائوں گا اس
کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی ایک نا لی نے ادھر سے بھی بند ہو جاتا ہے ادھر سے بھی
بند ہو جا ئے گا ۔
ایسا
اس کو سمجھا یا کہ بھئی کو سانس کی نالی الگ ہے کھا نا کھا نے کا نر خرہ جس سے کھا
نااتر تا ہے وہ الگ ہے ہیں وہ تو اطلاع سے جو زمانیت اس میں دیکھئے آپ اسے اطلاع
ہے اس کی زندگی کی میں تو مرجائوں گا تو زمانیت ہے اس میں گڑ بڑ ہو گی وہ اس سے
کہاکہ اللہ کے بندے دو نا لیاں ہوتی ہیں بہت سمجھایا تو پھر اس سے کہا کہ بھئی صبح
اس کو لیجا ئو قسائی کی دو کان پر، قسائی
کی دوکان پر وہاںوہ پھیپھڑے ٹانگے ہو ئے تھے انہوں نے کہا دیکھ بھئی اس کے ساتھ
ساتھ یہ نرخرہ ہے اس کے ساتھ ساتھ نا لی جا رہی ہے کھانے کی اس کا اس سے کوئی تعلق
نہیں میں نے دعا بھی کی، دم بھی کیا تو اگلے دن ہم نے اس کو کہا کہ صاحب روٹی کھا
ئے گا تو اس نے کہا جی اگر نگل جا ئوں تو کھا ئوں گاتو میں نے چاول سے شروع کیا تو
اس نے بمشکل گن کے چا رچا ول کھائے اور وہ چا ر چا ول اتر گئے نیچے تو صاحب اس کی
خوشی کا ٹھکانہ نہیں کہ صاحب میں تو کھانا کھا سکتا ہوںمیں نے چا ول کھلائے روٹی
کھلا ئی تین چار دن یہاں ہی رکھا تو وہ خوب پیٹ بھر کے رو ٹی کھانے لگا بات کچھ
بھی نہیں تھی بات صرف اتنی تھی کہ صاحب اس کے ذہن میں یہ بات آگئی تھی کہ جب میں
تو وہ سمجھ گیا اس کا وہ جو یقین تھا بے یقینی کہے لیں جو یقین تھاوہ ختم ہو گیا
کھا نا کھا نا شروع کر دیا اس نے او ر خواجہ صاحب کی کرا مت ہوئی خواجہ صاحب بڑے
بزرگ ہیںآٹھ سال سے رو ٹی نہیں کھا ئی بندے کو رو ٹی کھلاکر بھیج دیا اب اس میں
کرامت کاکوئی تعلق نہیں اب یہ اطلاعات ہیں ہمیں اگر کسی بندے کو اب یہ میں کھا نا
کھا ئوں گا اس میں زہر ملا ہوا ہے میں مر جا ئوں گا یہ ہر گز نہیں ہوگاایسے کئی
کیس استعمال ہو تے ہیں کہ لوگوں کو ذہن میں وہم ہو جا تا ہے اس میں زہر ملا ہوا ہے
کسی کو وہم ہو جا تا ہے کہ بیوی نے زہر ملا دیا بیوی کویہ وہم ہو جا تا ہے کہ شوہر
نے زہر ملا دیا میرے پاس ایک صاحبہ آئی بڑی روتی ہوئی آئی کہ صاحب ان کے خاوند
ذرا، ایسے ہیں ویسے ہیںمیں گیا رات کو جناب دیکھنے وہ بہت ہی رورہی تھیں بہت بڑا
گھر یہ اور وہ بھائی کیا مصیبت ہے وہ کہنے لگے میری نو کروڑ کی جائیداد ہے اور یہ
بیوی مجھے مارنا چا ہا رہی ہے تو کھانااس نے کھا نا ہی چھوڑ دیا بازار کا بھی نہیں
کھاتے اگر میں سو جائوں گا تو یہ مجھے انجکشن دے دے گی، نو کروڑ کے چکر میں سو تا نہیں تھا ڈاکٹر آتا
تھا تو جناب اس نے نیند کی گولیاں دی پتا نہیں کو ن سی دوائی اس بندے نے ایک دن
بیس گو لیاں کھا لی پھر بھی اسے نیند نہیں آئی تواس کا مطلب یہ ہے یہ ہماری زندگی
ہے سوائے اس کے اور اطلاعات کی کوئی حیثیت ہی نہیں اگر ہمیں جب بھوک لگتی ہے بھوک
کا مطلب ہے روٹی کھا ئوں اب پانی پینے کی صورت ہے اب ہم سوتے ہیں تو سوتے جب ہیں
ہمیں یہ اطلاع ملتی ہے ہما را جسم سوئے گا کہ ہم مزید کم نہیں کر سکے ہمیں سو نا
چا ہئے تو ہم سو جا تے ہیں لیکن اگر سونے کی اطلاع ہے اس میں ہو جا تے ہیں تو
آدمی کی نیند اڑ جا تی ہے آدمی سو نہیں سکتا تو دو صورت ہیں ایک صورت یہ کہ کہیں
سے ہمیں اطلاع مل رہی ہے کہیں سے آرہی ہے زندگی سے متعلق لیکن ہمیں یہ نہیں پتا
وہ اطلاع کہاں سے آرہی ہے ہمیں یہ اطلاع ملی کہ ہم نے کھانا کھا لیا اور کھا نا
کھا نے کے بعد جو ہمارا عمل ہے وہ ریکارڈ ہو گیا اور ریکارڈ ہو نے کا عمل جو ہے وہ
پتا نہیں کہاں چلا گیا ہمیں پتا نہیں لیکن جب ہم اس ریکارڈ کو یاد کرنا چا ہتے ہیں
دس سال کی عمر تک تو ہمیں یا د آجاتا ہے تو جہاں سے زندگی گزارنے کی اطلات ہمیں
مل رہی ہیں یا جہاں زندگی گزارنے کے بعد ہمارے اعمال ریکاڈ ر ہیں وہ سب کا سب
زمانیت ہے ٹائم اور جہاں ہم اس کو قبول کر کے زندگی گزار رہے ہیں کھا رہے ہیں پی
رہے ہیں ہنس رہے ہیںبول رہے ہیں تو چا ہے وہ عمل کرنے کی زندگی ہو چا ہے وہ عمل کے
بعد کی زندگی ہواس کا نام زمانیت ہے او ر جہاں اس زندگی کاریکارڈ Display ہورہا ہے
یہاں ہم دوڑ بھی رہے ہیں رو ٹی بھی کھا رہے ہیں بھاگ بھی رہے ہیںیہ سب جو ہے یہ
اسپیس اور مکا نیت ہے ۔
تو روحانیت میں یہ دو چیزیں زیر بحث آتی ہیں
انسان کو یہ بتا یا جا تا ہے کہ رو حانی علوم میں کہ انسان کچھ نہیں ہے انسان
اطلاع کا نام ہے بہت ساری اطلاع زمانیت سے آتی ہیں انسان انہیں قبول کرتا ہے پھر
ان اطلات کو مادی خدوخال اور مادی وسائل کے ساتھ استعمال کرتا ہے جہاں رہے کر وہ
اطلاعات کو Flow کرتا ہے اس کا نام اسپیس ہے تو ٹائم اسپیس مختصریہی ہے کہ انسان
جو ہے اطلاعات کا نام ہے اطلاعات کہیں سے آتی ہیں تو انسان عمل کرتا ہے پھر وہ
عمل ریکارڈ بھی ہو جا تا ہے اگر وہ عمل ریکارڈ نہ ہو تو کوئی آدمی اپنا نام یا د نہیں
کر سکتا مثلا ً ایک آدمی پیدا ہو اعبداللہ نام رکھ دیا اور وہ ساٹھ سال میں بھی
عبدا للہ ہے کیوں اس لئے کہ ساٹھ سال کی زندگی برابر ریکارڈ ہو رہی ہے اس کا
بچپناختم تو ہوا جوانی میں اس کا بچپنا جو ہے وہ روشنیوں میں منتقل نہیں ہو گیا
ختم نہیں ہو گیا ریکارڈ تو جب بھی ریکارڈ کو دیکھنا چا ہتا ہے تو سامنے دماغ میں
اس کا ریکارڈ ہو نے لگتا ہے تو اسی وجہ سے وہ دس دن کا بچہ ہے جب بھی عبد اللہ ہے
ساٹھ سال کا ہے جب بھی عبداللہ ہے اور سو سال کا ہے جب بھی عبد اللہ ہے تو انسان
کا مطلب ہی یہ ہے کہ زندگی کے تقاضے جہاں سے بنتے ہیں اور زندگی کے تقاضے بننے کے
بعد جہاں ریکارڈ ہو تے ہیں زمانیت ہے اور جہاں زندگی کا عمل داخل ہوتا ہے آدمی
کام کرتا ہے وہ سب اسپیس ہے زمین ہے اور مکا نیت ہے ۔
اختتام …