Topics
گرامی قدر عظیمی محترم بہنوں اورجان سے عزیز شاگر
دبچوں اور بچیوں آپ اس سلسلے میں یہاں تشریف لا ئے ہیں اس کا منشاء یہ ہے کہ ہم جو
بھی کچھ سیکھنا چا ہتے ہیں اور جو کچھ سیکھ سکتے ہیں اس علم کو حاصل کرنے کے بعد لوگوں
تک پہنچا نا چا ہتے ہیں یہ سیکھنا اور سیکھا نا ازل سے شروع ہوا ابد تک قائم رہے گا ۔اللہ تعالیٰ نے جب یہ کائنات
بنا ئی تو اصل میں کا ئنات کا جو تصور ہے وہ یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کا علم جو اللہ
تعالیٰ نے اپنے لئے محفوظ کرلیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے پھیلا نا چا ہا یہ ساری تخلیق
اگر سوچا جا ئے ، تفکرکیا جا ئے تو یہ ساری تخلیق ہی علم ہے ۔ تخلیق کا کوئی بھی پہلو
آپ سامنے رکھیں اور اس پر غور کریں تو وہ پہلو علم کے علاوہ آپ کو کچھ بھی نظر نہیں
آئے گا مثلا ً آپ درخت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں وہ ایک مکمل علم ہے ایک بیج
ہوتا ہے ننھا سا بیج اس ننھے سے بیج میں اتنا بڑا درخت ہوتا ہے اگر اس بیج کی جسامت
کو سامنے رکھ کر درخت کا تصور کیا جائے تو عقل حیران ہو جا تی ہے اور کسی طرح یہ بات
سمجھ میں نہیں آتی کہ اس ننھے سے بیج میں اتنا بڑا درخت کس میں چھپا ہوا تھا ۔
برگدکا درخت آپ نے کہی دیکھا ہو گا اس کابیج خشخش
کے دا نے سے چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس خشخش کے چھوٹے سے دانے میں اگر آپ کے پاس کوئی
ایسی تر کیب ہو کہ اس کے اندر آپ جھا نک لیں یا دیکھ لیں تو اس ننھے سے بیج میںآپ
کوایسا درخت نظر آئے گا کہ جس درخت کے نیچے ہزار پندرہ سو آدمی آرام سے بیٹھ سکتے
ہیں لیٹ سکتے ہیں سو سکتے ہیں تو یہ بھی ایک کام ہے ایسے ہی پا نی ہے، پانی بھی ایک مکمل علم ہے۔ آکسیجن ہائیدروجن یہ
تو کہنے کی باتیں ہیں بس طے کرلیا گیا ہے کہ آکسیجن اورہا ئیڈروجن سے پا نی بنتا ہے
دیکھئے نا اگر آکسیجن ہائیدروجن سے پانی واقعہ بنتا ہے تو خشک سالی کاعلاج ہوتا یہ
کبھی نہیں آتی۔ یہ ساری دنیا میں خشک ہو جا
تی ہے کہر پڑتا ہے۔ تو معلوم ہوگیا اس فارمولے
سے ہا ئیڈروجن اور آکسیجن سے پا نی بنتا ہے
تو آپ اس فا رمولے سے زمین میں پانی کیوں نہیں پیداکر لیتے آسمانوں سے پانی بر سا
کیوں نہیں دیتے ،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں یہ علم تو ہے اس علم کی کوئی ایسی بنیاد
نہیں ہے جس بنیاد ہو ہم یہ کہے کہ یہ حقیقی بنیاد ہمیں فراہم کی گئی ہے۔
جب آکسیجن اور ہائیڈروجن کوملا تے ہیں تو پانی
کی طرح کوئی چیز بن جا تی ہے اس کو کہاپا نی بن گیا وہ نہ پینے میں استعمال آتا ہے
نہ درختو ں کے پینے کے استعمال اگر وہ استعمال آسکتا ہے تو خشک سالی کا مسئلہ تو حل
ہو جا نا چاہئے پھر آپ کہتے ہیں آکسیجن کا بھی علم ہمیںحاصل ہے ابھی تک آکسیجن کی
کوئی تعریف تو بیا ن نہیں ہوئی۔اب کہتے ہیں آکسیجن ہوتی ہے اور جتنے گیسیز ہیں بے
شمار اسی صورت سے آکسیجن میں ایک گیس دریا فت ہوئی ہے اس کانام رکھ لیا گیا ہے اور
اس آکسیجن کا علم یہ ہے کہ وہ آدمی کوزندہ رکھتی ہے اگر آکسیجن نہیں ہو گا تو آدمی
زندہ نہیں رہے گا ۔تو آدمی کا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک آدمی مر گیا اس کی میت میں دس
آدمی موجود ہیں بیس آدمی موجود ہیں پو را خاندان موجود ہے تو ایک آدمی مر گیا ،
با قی سب زندہ ہیں ایک اس آدمی کے لئے گھر میں ٹنوںکے حساب سے آکسیجن ہے ایک آدمی
کے لئے وہ ختم ہوگئی آکسیجن سے آدمی زندہ ہے تو اس آدمی کو مر نا نہیں چا ہئے آکسیجن
تو وہاں موجود ہے اور اگر آکسیجن وہاںموجود نہیں ہے تو بیس آدمی کیوں زندہ ہیں بیس
آدمی زندہ ہیں ایک آدمی مر گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس لئے مر گیا اس کو آکسیجن
نہیں ملی ۔
تو کہاں سے نہیں ملی آکسیجن تو موجود ہے آکسیجن
میں تو غبا رہ بھرا ہوا ہے آکسیجن تو ہے کہ آکسیجن سے آدمی زندہ رہتا ہے لیکن یعنی
نہیں ہے کہ بیس آدمی کیوں زندہ ہیں اور وہ کیوں مر گیا تو اب جب آکسیجن کاذکر آگیا
تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آکسیجن بھی ایک مکمل علم ہے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کی
گئی لیکن اس کی جو کنہہ ہے اس کی جو حقیقت ہے اس کی جو وہاں تک ابھی انسانی شعور نہیں
پہنچا تو جتنا بھی آپ غوروفکر کر یں گے ۔ پر ندے ہیں اب نظام یہ ہے کہ یہ نوع دو پیروں
سے دو ہاتھوں سے چلتی ہے اب انسان ہے دو پیروں سے چلنے والاجا نور اس کے دو نوں ہا
تھ کاٹ دیں پھر دیکھیں کیسے چلتا ہے دونوں ہاتھ کاٹ دیں آدمی نہیں چل سکتا کوئی بھی
نہیں چل سکتا جیسے ہی چلے گا گر جا ئے گاتو اس کا مطلب ہے چلنا بھی ایک قانون ہے دوپاوں
کو بیلنس کرنے کے لئے دو ہاتھوں کاہو نا ضروری ہے دو ہا تھ جب دو ٹانگوں کو بیلنس کر
یں گے اس کا نام چلنا یا اس کا نا م رفتا ر ہے۔
جتنا آپ تیز دو ڑایں گے اس کی مناسبت سے آپ کے
ہاتھ بھی جلدی جلدی چلیں گے پیر بھی جلدی جلدی چلیں گے آپ کسی آدمی کو کھڑا کر دیں
اس کے دو ونوں ہاتھ باندھ دیں اور اس سے کہے بھاگ تو دس قدم پرہی گر جا ئے گا نہیں
بھا گ سکتا تو اس کامطلب یہ ہے کہ چلنا جو ہے دو ہاتھ ہوں دو پیر ہوں اب آپ پر ندوں
کو دیکھیںپرندوں کے اگر آپ پر کاٹ دیں اڑ نا تو کیا وہ چلنے سے بھی رہے جا ئیں گے
معذور ہو جا تے ہیں اس کا مطلب ہے کبھی آپ نے کبوتر کو دیکھا ہو گا ان کے پاس دو پرایسے
ہوتے ہیں اڑ کر یوں کھڑے ہو جا تے ہیں اور با لکل بیکار نہ وہ چل سکتا ہے نہ اڑ سکتا
ہے سیدھی سی بات ہے اس کے دو پیر دو ہاتھ ہیں دو ٹانگیں دو ٹا نگیں ہیں جس طرح انسان
کے ہاتھ با ندھ دو، وہ نہیں چل سکتا اسی طرح کبوتر کے پر با ند ھ دو وہ نہیں چل سکتااب
آپ کہے رینگنے والے کیڑے ہیں ان کے تو ہاتھ پیر نہیں ہو تے ان کے ہاتھ پیر وہ ہیں
ان کا جو پیٹ ہے اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے اس قسم اعضا کے رکھ دئیے ہیں اس کی موجودگی
یہ ہے اس میں رینگنے کی صلاحیت ہے کہ جب وہ رینگتے ہیںتو بالکل ان کی چال کواور انسان
کوچال کو آپ موازنہ کریںتو ایک سی چال۔
انسان سیدھا کبھی نہیں چلتااچھا ایک لائن ڈٖال دو
پوری اور اس کو چلنا ہے وہاں تک تو اس کی چال دیکھوکیا ہو گی اور تھوڑی دیر میں جا
کر تھک جا ئے گا بغیر اس لا ئن کے ہوسکتا ہے رینگنے والے کیڑے میں اللہ تعالیٰ نے ایسی
صلاحیت پیدا کر دی ہے اللہ تعالیٰ نے جب وہ چلتا ہے تو اس کی جو پیٹ ہے پیٹ کے نیچے
جو عضلات ہیں وہ ہاتھ اور پیروں کے قائم مقام کام کر تے۔ یہ جب آپ غور کریں گے تو کوئی چیز آپ کوایسی نظر
نہیں آئے گی جس کو آپ یہ کہے گے اس کے پیچھے کوئی علم نہیں۔ ستارے ہیں،
ستا رے آسمان پر چمکتے ہیں چا ند ہے اس کاایک علم ہے ،سورج ہے اس کاایک علم
ہے ، کہکہشانی نظام جس کو آپ گلیکسی کہتے ہیں اس کاایک علم ہے، حساب کاعلم ہے ، کتاب
کاعلم ہے ،معاشیات کا علم ہے ،معاشیات سے آزاد ہو وہ بھی ایک علم ہے تو یہاں آپ کو
علم کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آسکتی اب یہی علم ہے تو علم کو سیکھانے والے بھی ہو
نے چا ہئے علم سیکھنے والے بھی چا ہئے۔
تو سیکھنے والے طلب علم کو طلبہ اسٹوڈنٹ کہاجا تا
ہے اور سیکھا نے والے کو استاد کہتے ہیں ۔
ٹیچر کہتے ہیں اس کا جو بھی نام رکھ لیں اب یہ کہانی شروع ہوتی ہے کائنات سے
تو اللہ تعالیٰ نے کائنات بنا ئی، کا ئنات
میں افضل تر ین مخلوق انسان کو بنایا، لقد
خلقنا انسان فی احسن تقویم…ثم رددنہ اسفل سافلین …ہماری بہترین صناعی بہترین تخلیق
انسان ہے ثم رددنہ …لیکن جا ہل ہے پڑھا لکھا نہیں ہے ثم رددنہ …گڈھے میں گرا ہوا ہے
جی گڈھے میں جاہل ہی آدمی گر تا ہے پڑ ھا لکھاآدمی تو گڈھے میں نہیں گر تا ۔ ایک
آدمی ہے اس کو گڈھے کا علم ہی نہیں ہو گا وہ گر جائے گا ایک آدمی کو یہ علم ہے یہ گڑھا ہے میں اس کے اندر ذرا سا بھی گر جا
ئوں گا بچوں گا نہیں تو جتنے لوگ اسفل سافلین میں پڑے ہو ئے ہیں اس کامطلب یہ ہے وہ
جا ہل ہے اور انسان ہماری بہترین صنا عی اور ابھی اس نے علم نہیں سیکھا اس لئے وہ خسارے
میں ہے، نقصان میں ہے تو اللہ تعالیٰ جو ہے
خالق بھی ہے اللہ تعالیٰ مالک بھی ہے، اللہ
تعالیٰ رب بھی ہے، خاص عالمین کا رب ہے اللہ
تعالیٰ لوگوں کاہی رب نہیں ہے یہاں تک سات ارب دنیا ئوں کا بھی رب ہے ۔
تو رب بھی ہے اور استاد بھی ہے تو جب اللہ تعالیٰ
نے یہ کائنات تخلیق کی اور انسان کوافضل قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ طے کیا کیوںکہ
افضل ہے تو اس کی فضلیت اس بات سے ثابت ہو گی کہ اس کو علم سیکھا جا ئے اور آدم علیہ
السلام کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے علم سیکھا یا ۔ علم سیکھا نے کے بعد کہ بھئی فرشتے سجدہ کرو، کیوں
سجدہ کرو؟
بھئی آپ تو سجدہ کر رہے ہیں اس لئے سجدہ کرو وعلما
انسان معلم یعلم …کیوں کہ یہ جا ہل تھا پڑھا لکھا نہیں تھاہم نے اس کو علم سیکھادیا
وعلماانسان معلم یعلم…وہ یہ علم نہیں جانتا تھا ہم نے اس کو سیکھا دیا ہے کہنے لگے
علم تو ہمیں بھی آتا ہے تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے اگر جو تمہیں یہ علم آتا ہے جو ہم
نے اس کو سیکھا دیا ہے تو بیان کرو بتائوکیوںکہ وہ علم تو انسان کو اللہ تعالیٰ نے
سیکھا دیا تھا وعلما انسان معلم یعلم …فرشتے کو نہیں آتا تھا اب اللہ تعالیٰ نے کہا
آدم سے بھئی اب تمہیں ہم نے جو علم سیکھا یا ہے تمہیں بتا ئو وعلما انسان معلم یعلم…جو علم ہمیں نہیں آتا تھا
وہ ہم نے تمہیں سیکھا دیا ہے تمہیں نہیں سیکھا یا اب وہ تصدیق کر نا چاہتے ہیں اطمینان
کر ناچا ہتے ہیں کہ وہ کون سا علم ہے جو فرشتوں کو حاصل نہیں ہے انسان کو حاصل ہو گیا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہاب ان کو علم سیکھا ئو یا ان کو پڑھ کر سنا ئو۔
۔قالو
سبحان …کیا ہے بھئی کیا ہے وعلما آدم لاسماء … کہ ہم نے تمہیں اپنی تخلیقی فا رمولوں
کا علم سیکھا دیا ہے ۔ وعلماء آدم الاسماء …کہ ہم نے آدم کوآسماء سے مراد صفت تو
اللہ تعالیٰ کی صفت خالق کے تخلیقی فارمولے اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ہم نے تمہیں تخلیقی
علم سیکھا یا ہے وہ تم بیان کرو آدم نے وعلما آدم لاسمائ…ثم الاملا ئکہ …فرشتوں کوسامنے
بیٹھا کر کھڑا کرکے آدم سے کہا جو تمہیں علم سیکھا یا ہے اپنی صفات کا، تخلیق کا ، وہ انہیں تم بتا ئو آدم نے وہ علم بتا
دئیے فرشتوںنے جب وہ علوم سنا تو وہ قالو …انہوںنے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہم یہ علم نہیں
جا نتے ہم یہاں لاکھوں کروڑوں سال سے عبادت کر رہے ہیں آپ کی نظامت میں کارندے ہیں، آپکے کارکن ہیں، آپ کے غلاموں میں ہیں جوکچھ آپ کہتے ہیں کرتے
ہیں جہاں کھڑا کر دیا وہاں کھڑے ہیں۔ جہاں سجدے میں ڈالدیا وہاں سجدے میں ہیں۔
یہ کون سا علم ہے جو نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ نے
فرمایا نہیں تم کہتے تھے نا کون سا علم سیکھا دیا یہ تو بڑا خون خرابہ کرے گا فساد
بر پا کر دے گا اور آپ کی نیا بت کے فرا ئض کس طرح انجام دے گا آپ بتا ئو کچھ اگر
تم سچے ہو تو بتا ئو تمہیں یقین آجا ئے قالا انی علمو معلایعلا…فرشتوں نے کہا اللہ
تعالیٰ آپ سچے ہیں، بیشک ہمیں یہ علم نہیں
آتا جو آدم نے ہمیں پڑھ کر سنا یا ہے یا جو آدم نے جس کے یقین شدہ کیا تخلیقی فا
رمولوں کے بارے میں آپ نے جو آدم کو علم سیکھا دیا ہے وہ ہمیں نہیں آتا اور فرشتوں
نے آدم کی حاکمیت کو قبول کرلیا تو دو سرا وہ شیطان نے قبول نہیں کیا او ر مردود ہو
گیا اور یہ بات وہی ہے ، جب تک آدم کواللہ تعالیٰ نے علم نہیں سیکھا یا آدم مسجود
ملا ئکہ نہیں بنا۔ جب تک آدم کو اللہ تعالیٰ
نے علم سیکھا نے کے بعد آدم سے وہ علم نشر نہیں کروادیا، فرشتوں کے سامنے ، تو فرشتوں کواطمینان جب ہوا جب آدم نے وہ علم اللہ
تعالیٰ کو بتا دئیے ۔
اب آپ یہ آیت پڑھیں وعلما الانسان معلم یعلم…ہم
نے انسان کو وہ علم سیکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا مختصر بات یہ ہے کہ ساری کائنات
علم ہے کائنات کا ہر ذرہ علم ہے ایٹم کیا ہے ایٹم اگر علم نہیں ہے تو اس کے اندر توانائی
اور انر جی کس طرح تلاش کر یں جس طرح آم کی گٹھلی میں اتنا بڑا درخت ہے ،جس طرح آپ
کی گٹھلی میں ہزاروں ہزاروں آم لگے ہو تے ہیں جس طرح آم کی گٹھلی میں ہزاروں پتے
ہیں ،جس طرح آم کی گٹھلی میں تختے ہیں ،پٹیاں ہیں ،پا ئے ہیں ایک آم کی گٹھلی میں
اس طرح کائنات کے ہر ذرے میں مٹی کا ایک ذرہ برابر اٹھا کر اس کا تجزیہ کر یں وہ غلاف
ہے اس غلاف پربھی غلاف ہے کوئی بھی غلاف اٹھالیں،
ہم سب پید ا کیسے ہو ئے ایک قطرہ آپ کا، ایک قطرہ ہوتا ہے اگر اس کو دیکھیں
تو یہ بھی ایک مکمل اس میں آپ کو بچہ بھی نظر آئے گا اس میں آپ کو کرو سومز نظر
آئیں گے تو اس میں آپ کویہ بھی نظر آجا ئے گا اس بچے کی آنکھیں کیسی ہیں کالی ہیں،
کلانجی ہیں،شربتی ہیں آپ کو اس میں یہ بھی نظر آئے گا کہ اس بچے کے بال گنگریالے
ہیں۔
سیدھے
ہیں آپ کواس میں یہ بھی نظر آئے گا بچہ کمزور ہے ،طاقتورہے ،صداقت ہے معزور ہے تو
وہ ایک قطرہ مکمل علم کاکپسول چھو ڑ دے، اب
جتنا بڑا کپسول ہے اُتنا بڑا علم ہے اتنا چھوٹا کپسول ہے علم کے علاوہ یہاں کچھ نہیں
ہے اللہ تعالیٰ نے قلم سے وہ علوم سیکھا دیا جو تمہارے لئے چھپا ہوا تھا جو تمہار ے
لئے پر دے میں تھا اللہ تعالیٰ کیا ہیں اللہ تعالیٰ خود ایک علم ہیںبھئی ہم تو یہ کہتے
ہیں اللہ میاں ہیں اس کا کیا مطلب ہوا یعنی ہمیں اس بات کو علم ہے کہ اللہ ہے جب ہم
کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس علم کاتذکرہ کررہے ہیں جس علم میں ہمیں وہ حواس
عطا کر دئیے جو حواس دن کو دن کہتے ہیں اور رات کو رات کہتے ہیں ۔اب ایک دھات تانبہ ہے اس بات کا تجزیہ کیا جا ئیے گا اس
بات میں آپ کو تا نبہ بھی نظر آئے گا ،پتل بھی نظر آئے گا ، نہ معلوم دھاتیں اس
میں کتنی آپ کونظر آئے گی اور وہ چھوٹا سے با ریک سے با ریک بال جو ہے آپ کو ایک
گھاس کا درخت نظر آئے گا ۔
ہر
بال میں نلکے کی طرح جس طرح پا نی اوپر چڑھتا ہے اسی طرح ہر بال میں دماغ سے غذا اوپر
کو جاتی ہے جتنی غذا اوپر جا تی ہے اتنا بال بڑا ہوتا ہے جتنی غذا کمزور ہوتی ہے اتنا
بال کمزور ہوتا ہے اور گر جا تا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کے سر پر ایک
ہزار بال ہیں تو اس کا مطلب ہے ہرآدمی کا سر ایک ہزار درختوں کے لئے سر زمین ہے ہر
آدمی اپنے سر پر ایک ہزار درخت اگا ئے پھر رہا ہے اب کیسا عجیب درخت ہے نا اس میں
لیکن وہ اب زمین کو سنگ لگ جا ئے پو ری پوری کھیتیاں اجڑ جا تی ہیں برباد ہو جا تی
ہیں آپ کے سر پر سنگ لگ جائے خشکی ہو جا ئے مفہ لگ جا ئے آپ کے بال اس طرح گر جائیں
گے جس طرح گھاس گر جا تا ہے آپ ا ن کی حفاظت کریں زمین کو ٹھیک کر لیں جو بھی اس کا
طریقہ کار ہو زمین میں آپ مٹی بدلتے ہیں کھا د دیتے ہیں پا نی دیتے ہیں دوایاں ڈالتے
ہیں آپ سر کی بھی حفا ظت کرتے ہیں تاکہ بال بڑے بڑے ہوں یہ بھی ایک علم ہے لیکن بال
اور بال بھی ایک علم ہے آپ نہ سوچیں نہ دیکھیں نہ ذکر کر یں تو کوئی علم نہیں ہے کائنات کوآپ مختصر لفظوں میں یہ کہے گے کا ئنات
کیا ہے علم۔
اب یہ ساری کہ سیارے ہوتے ہیں ستارے ہو تے ہیں کہکہشانی
نظام ہوتے ہیں عالمین ہو تے ہیں جنت دوزخ فرشتے اعراف برزخ ، دوزخ، عرش کر سی آسمان
بے شما رلیکن یہ ہوتے ہیں، اسی وقت ہیں جب
آپ کو ان شعبوںکے بارے میں علم عطا ہو اب اللہ تعالیٰ کا نظام کیا ہے پہلے تو اللہ
تعالیٰ نے آدم کو بنا یا انسان آدم ہی ہوا نہ اب جب وہ اس کو بنا یا تو دیکھئے علم
تھا نہیں، مٹی کی مورتی تھی اس کو آپ یوں سمجھیںآپ ایک مٹی مورتی بنائے اور اس میں
کوئی روح نہیں اس مورتی میں ایک کیسٹ چھوٹا سا لگا دیںاور وہ مورتی بولتی چلی جا ئے گی،اب یہ تو بہت ہی سمجھنا آسان
ہے سمجھنے نہیں آتی رو نے والی گڑیا بولنے والی گڑ یا ہنسنے والی گڑیا چلنے والی گڑیا
تو اب اللہ تعالیٰ نے بھی یہی مو رتی بنا ئی اسمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ڈسک ڈال دی کمپوٹر
کی زبان میں ، اب کمپوٹر رکھا ہوا ہے اتنا بڑا ڈبہ اس میں آپ پروگرامنگ سے بھرا ہوا
ڈسک ڈالیں تو وہ پرگرام کے مطابق کام کرتا ہے۔
اگر اس کمپیو ٹر کوآدمی کا قائم مقام سمجھ لیں
سارا مسئلہ حل ہوجا ئے گا کمپیوٹر کا ایک آدمی ا س کے اندر ایک ڈسک لگا ہوا ہے ، جس
قسم کی ڈیسک ڈالی وہ بول رہا ہے اگر گانا ڈال دیا وہ گانا بول رہا ہے اگر اس میں آپ
نیت شاعری دالی تو شاعری بول رہی ہے ۔اگر اس میں ڈسک میں آپ نے ہر وہ چیز ڈال دی جس
صبح سے شام تک آپ کر تے ہیں اور جب آپ اس کو کھولیں گے تو وہ ڈسک بو لے گی پھر آپ
کوکمپوٹر کی آواز آئے گی ۔ اب یہ کہ اللہ
تعالیٰ نے کمپوٹر بنایا ڈبہ اور ڈبے کے اندر اللہ تعالیٰ نے ڈسک ہی کہتے ہیں نہ کیا
کہتے ہیں۔
ڈسک
کہتے ہیں نہ وہ ڈسک ڈال دی روح کی اب اس آیت پر وعلما ء انسان معلم …کہ کمپوٹر ایک
ڈبہ تھا خالی ہم نے اس کے اندر ایک ڈسک ڈال دی یعنی انسان کو کچھ پتا نہیں تھا جب ہم
نے ڈسک ڈالی تو بو لنے لگا جو وہ نہیں جانتا تھا وہ جا ن گیا ہم نے انسان کووہ علم
سیکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا تو اب یہ ساری کائنات بھئی علم کے علاوہ کچھ نہیں ہے
اللہ خود علم ہے ، جتنے انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃوالسلام تشریف لائے جتنے اولیا ء اللہ
آئے ان سب کی پہچان کیا ہے ایک پیغمبر کی اور اربوں کھربوں آدمیوں کی کیا پہچان ہے
اربوں کھربوں آدمی وہ علم نہیں جانتے جو پیغمبر جا نتے ہیں او ر حضور پاک ﷺ ہمارے نبی اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر
چلا ئے انسانوں کی طرح پیدا ہوئے انسانوں کی طرح جوان ہو ئے بلکہ ایک عام انسانوں سے
زیادہ تکلیف اٹھاکر جوان ہو ئے سب لوگوں کے تو ماں باپ بھی نہیں مر جا تے سب لوگوں
کے تو قبیلے والے بھی نہیں ہوتے کہیں نہ کہیں سہارا تو ہوتا ہے پیدا ہو نے سے پہلے
والد صاحب چلے گئے پھر سات سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا ذرابڑے ہو ئے تو
دادا کا ہو گیا، چچا عبد امطلب نے پاس رکھا
تو ساری قوم ساری دنیا ان کی مخالف ہوگئی مار، پٹا ئی ،کانٹے بچھا نا، پتھر پھکنا ،مٹی
پھکنا یعنی عام آدمی کی زندگی میں اتنی تکا لیف کبھی نہیں ہوتی تھی جتنی حضور ﷺ کی زندگی میں مصائب اور لیکن سب کے اوپر فضلیت
ہے۔
صرف سات ارب کے اوپر فضلیت نہیں ہے اگر سات ارب
دنیا ئیں اور سات ارب آبادیاں اس کائنات میں ہیں تو ان سات ارب آبادی کے اوپر ایک
شخص پر تو فضلیت ہے وماارسلنک الا حمت العالمین … ایک ایسی ہستی جس کو تمام عالمین
کوہم نے رحمت بنا کر بھیج دیا رحمت بنا کر بھجنے کاکیا مطلب ہوا وہ علوم سیکھا دئیے
جب علوم میں رحمت کے علاوہ کچھ نہیں ہے عفودرگزر ہے، کوئی لالچ نہیں ہے ، کوئی حسد نہیں ہے ، حکمرا نی
کا شوق نہیں ہے ، خودنمائی نہیں ہے ،کیوں نہیں اس اللہ کے محبوب بندے کے اندر اللہ
تعا لیٰ نے ایسی ڈسک ڈال دی ہے جو اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ علم ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام
عجیب و غریب طریقے سے ان کی پیدا ئش ہوئی ، اللہ نے اپناجلوہ دیکھایا ۔ یہ ان کی خصوصیت ہے بھئی ان کی خصوصیت بھی علم ہے
تو جب پیغمبروں کی یہ خصوصیت علم ہے تو اور سب سے پہلی جو خصوصیت علم کی شروع ہوئی
وہ آدم علیہ السلام سے ہوئی وہ پیغمبر بھی ہیں
ہمارے بھی سب کے بھی اور پیغمبروں کے بھی پیغمبرہیں ۔
تو اگر اب انسان کے پاس علم ہے اب دیکھئے شا خیں
بہت ہے ایک بنیادی علم ہے،سائنسی علوم ہیں ،مثلاً آج کا دور ہماراسائنسی علوم کا دور
ہے ہر سائنسی علم کی جو ترقی کی مثالیں دی جا تی ہے اس کوہم ترقی کی معر اج کہتے ہیں
یہ الگ بات ہے وہ ایجات ہمارے لئے وبال جان بن گئی ہے اور ہمیں آرام پہنچا رہی ہے
بظاہر سارے علوم ہمیں کہے جا تے ہیں کہ آرام پہنچا رہے ہیں جب ہم اس کے اندر گھستے
ہیں تو پتا چلتا ہے آرام کا تو وہاںکوئی شعبہ ہی نہیں ہے ۔بظا ہر ہے سب آرام اب کوئی
رات گھٹتی چلی جارہی ہے سکون غائب ہوتا جا رہا ہے کوئی کہتا ہے ڈپریشن ہے کوئی کہتا
ہے ٹینشن ہے پتا نہیں اس کے لئے کتنے لفظ آپ نے نکال لئے بھئی اس بات کا ٹینشن ہے
یقین ہی نہیں ہے بھئی۔ صاحب وہ تو بہت بھئی انڈے نہیں کھا تے لو جی انڈے پراٹھے کے
بغیر تو گزارہ ہی نہیں ہے بھئی گھر نہیں ہے جی گھر بھی بڑا اچھا ہے ماشا اللہ اے سی
بھی لگا ہوا ہے، فریج بھی ہے او رقالین بھی ہے اورصسوفہ سیٹ بھی ہے بھئی کپڑے بھی ہیں
پہنے کو، لوجی بیس پچیس تو جوڑے پڑے ہو ئے
ہونگے۔
تو
بھی یہ کس بات کاڈپریشن ہے یہ کس میں ہے بھئی تمہارا کوئی بھا ئی بند دوست احباب کوئی
تمہارا دشمن ہے ، نہیں دشمن تو نہیں ہے سب
ڈپریشن ہیں ، بھئی کس بات کاڈپریشن ہے روٹی تمہیں مل رہی ہے کپڑا تمہیں مل رہے ہیں
گھر تمہارے پاس ہے اماں ابا تمہارے پاس ہیں الحمد اللہ بیوی تمہارے پاس ہے بچے تمہارے
پاس ہیں پڑھ بھی رہے ہیں لکھ بھی رہے ہیں پھر کس بات کا ڈپریشن ہے ، کیا ہوا جی و ہ
ڈپریشن ہو ابڑا یہاں دل پر دبائو پڑا سینے میں در د ہوا کیا ہوا، کیا ہوا بھئی یہ تو
بیمار لگتا ہے ڈاکٹر کے پاس چلو، ڈاکٹر نے
بینچ پر لیٹا دیا اور یہ ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے تو کہے گا آپ کا پین ہوا بھئی کیوں
ہواڈپریشن تھا جی بھئی کس بات کا ڈپریشن ہے تمہیں کہ تمہارے پاس گا ڑی واڑی نہیں ہے
کہاگاڑی تو بہت اچھی ہے ٹھیک ٹھا ک گا ڑی ہے، ہمارے گھر میں تین گاڑیاں ہیں ایک علم
یہ ہے جس میں ڈپریشن ہوتا ہے جس میں نیندیں اڑ جا تی ہیں جس میں جینا دشوار ہو جا تا
ہے جس کی بنیاد پر ہوتا ہے گر دوں کا مرض ہوجاتا ہے ، جس کی بنیاد پر جگر میں کنسر
پھیل جا تا ہے گٹھلیاں بن جا تی ہیں ،جس علم کی بنیاد پر دل کی تکلیف ہوتی ہے ، بھئی
خدانخستہ کوئی کاروبارمیں پریشانی ہے نوکری نہیں ہیں، نہیں نوکری تو ہے جی لیکن وہ صحیح گزارہ نہیں ہوتا
بھئی صحیح گزارہ تو اب ہوگا گھر میں اے سی ہے کہے جی وہ تو تین تین ہیں بھئی دو بند کر دو ایک رکھ لو تنخواہ
پو ری ہو جا ئے گی وہ کیسے ہو سکتا ہے جی ایک بچوں کا ہے ایک بیوی کا ہے ایک گھروالوں
کا ہے گاڑی ہے گاڑی بھی دو ہیں ایک کر لو جی وہ کیسے ہو سکتا ہے ایک کمرے میں رکھا
ہوا ہے ہمارے ایک کچن میں رکھا ہواہے یہی علم ہے کہ تکالیف کو جمع کر نا ، شہر سے دور
ہو نا ، شوق کر نا کہ صاحب بند روڈ میں رہے
گے کیا بھئی وہاں وہاں تو ہوابڑی خراب ہے، وہاں تو دروازے بھی بند کر و تکلیف کیا جمع
ہے بلکہ ایسی جگہ رہو جہاں شور نہیں ہے، سرجانی، بھئی یہ تو غریبوں والا شہرہے اس کے تو ہم خلاف
ہیں یہاں تو ہم رہے ہی نہیں سکتے ،بے عزتی ہو جا ئے گی۔
یہ بھی ایک علم ہے عجیب و غریب علم ہے آدمی یہ
کہتا ہے سکون چا ہئے رہنا بندر روڈ پر چاہتاہے جہاں سوائے شور کے، دھواں کے،
پو لیس کی چنخنے والی گاڑیوں کے، فساد
کے ایکسڈنٹ کے کچھ بھی نہیں ہے اس کی قیمت ہو گئی پانچ لاکھ رو پے، سرجانی ٹائون جیسی بستی میںپانچ لاکھ ہوگا تو پورا
گھر بن جائے گا ۔پانچ لاکھ رو پے دے کر دنیا بھر کی تکالیفیں برداشت کرتا ہے اور کہتا
ہے سکون چا ہئے دھواں دھار میں گندے میں کھڑے ہو ئے ہیں کپڑے کالے ہو جا تے ہیں، مطلب
یہ بھی ایک علم ہے ۔ایسا علم جس میں اذیت کے سوا پریشانی کے علاوہ اور مسائل کے علاوہ
کچھ نہیں ہے۔
یہ علم آپ کا وہ علم ہے جو علم آپ سیکھتے ہی اس
لئے ہیں آپ زیادہ سے زیادہ تکلیف اٹھا ئیں ، منشاہ آپ کوپتا ہے زیادہ سے زیادہ آرام
پہنچیں منشاہ ہونے سے کیا ہوتا ہے عملا ً جو تجربہ ہو گا جو نتیجہ نکلے گا وہ زیر بحث
آئے گا اور ایک علم یہ ہے کہ آپ کے اندرقناعت ہوآپ بہترین روٹی کھا ئیں بہترین لباس
پہنیں اپنے بچوں کی اعلیٰ قسم کی تعلیم و تربیت ہے لیکن آپ کوسکون نہیں ہے اب آپ
یہ بتا ئیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ، و علما انسان معلم یعلم …کہ ہم نے انسان کو
وہ علوم سیکھا دیا جووہ نہیں جانتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے کون سا علم سیکھا یا عزت
پر یشانی کاعلم سیکھا یا یا پر سکون رہنے کا علم سیکھا یا اگر آپ کہتے ہیں نہیں صاحب
یہ تو اللہ نے ہمیں علم نہیں سیکھایا اللہ میاں، ہمیں چا ہتے تو یہ علم کیسے ہوتا تو اس کے بارے میں قرآن
پاک میں فرمایا میرے دوستوں کو وہ علم آتا ہے جس علم کی بنیاد پر ان کے اندرسے غم
اور خوف ڈر نکل جا تا ہے وعلما انسان …اللہ تعالیٰ نے انسان کووہ علم سیکھا دیاجس کی
بنیاد پر اس کے اندر سے خوف بھی نکل جا تا ہے اور غم بھی نکل جا تا ہے تو اب بات یہ
بنی یہاں علم کے علاوہ کچھ نہیں ہے اب انسان خود ایک علم ہے مثلا ً آپ کوئی بھی کسی
کانام لیں وہ کیا ہے سب سے پہلے آپ کا لیں، آپ کے والد صاحب نے آپکانام رکھ دیا
اس کا کیا مطلب ہو ا بھئی آپ کے والدین نے آپ کے بزرگ نے آپکے اندر یہ علم منتقل
کر دیا کہ تیری شناخت کے لئے تیرا یہ نام ہے۔
علم تو منتقل ہوانا ، پیدا ہوئے سب سے پہلے آپ کے
کان میں آذان دالوائی گئی اس کا کیا مطلب ہوا آپ کے شعور کو یہ علم منتقل ہوجا ئے
کہ تو کس گھرانے میں پیدا ہوا ہے وہ گھرانہ تو حید پرست ہے اس گھرانے میں جو روایات
ہیں اور اس گھرانے کی جو طرز فکر ہے کہ اللہ ایک ہے وحدلاشریک ہے اور اس کے بھیجے ہو
ئے پیغمبر قابل احترام ہیں قابل تقلید ہیں اور آخری نبی محمد ﷺاس کوآپ علم کے علاوہ کیا کہے گے ،پھر ماں بچے
کو ،بچے کی یاد میں آدمی رورو جا تا ہے ماں کی یادوں میں روح اسے نکالدیتی ہے یہ کیا
علم نہیںہے ۔ یہاں آپ دس سال پانچ چھ سال کے ہوئے پھر آپ کواسکول میں داخل کر دیا
گیا یہ کیا علم نہیں ہے۔ آپ جب اپنی ہستی
کا اپنی شخصیت کا تجزیہ کر یں گے تو ایک ہی جواب ملے گاعلم کے علاوہ کچھ نہیں ہے جب
آپ پوچھیں گے اللہ میاں کیا ہیں؟ تو ایک ہی جواب دیں گے اللہ میاںعلم ہیں بھئی علم
کس طرح ہیں؟
بھئی یہ اللہ تعالیٰ کا تو علم ہے دوپیر بنا دئیے
دو ہاتھ بنا دئیے ناک بنا دی دماغ بنا دیا نظام بنادیا پو ری مشین کی انڈسٹریس کر دی
میں نے روحانی ڈائجسٹ میں لکھ دیا اللہ میاں سب سے بڑے سائنس داں ہیں سارے لندن کے
مولویوں نے شور مچا دیا کہااللہ تعالیٰ کو سائنسدان بنادیا ۔۔۔اختتام