Topics
جواب : رسول
اللہ ﷺ کے دو احکامات ہیں۔ایک تو یہ کہ
علم حاصل کرنا مرد و عورت پر فرض ہے۔ دوسرا یہ فرمان ہے کہ علم اگر تمہیں چین میں
ملے تو چین میں جاکر علم حاصل کرو۔ علم جو ہے دینی علم ہو، دنیاوی علم ہو دونوں کا
سیکھنا جو ہے وہ ضروری ہے۔ قرآن پاک میں جو اللہ تعالیٰ نے علوم بیان کئے ہیں۔ اس
کے تین درجے بیان کئے جاتے ہیں۔ قرآن کا ایک پورا حصہ ان علوم سے بحث کرتا ہے جو
پیدائش سے پہلے کی زندگی سے متعلق ہے۔ مطلب یہ کہ آدمی پیدا ہونے سے پہلے کہاں
تھا اور پیدائش سے پہلے اس کے اوپر کیاکیفیات گزریں۔اور کن مراحل سے گزر کر وہ اس
دنیا میں آیا۔ دوسرا حصہ اس کا یہ ہے کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو مرنے کے بعد کہاں
چلاجاتا ہے ۔ کہاں رہتا ہے ۔ مرنے کے بعد کی زندگی کیا ہے۔حشر و نشر کیا ہے۔ حساب
کتاب کیا ہے۔ جنت دوزخ کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو ایک حصہ قرآن پاک کا ان علوم سے
بحث کرتا ہے کہ جو ہماری پیدائش سے متعلق ہیں۔
پیدائش کے پہلے کی زندگی سے متعلق ہے۔ پیدائش کے
بعد مرنے کے بعد کی زندگی سے متعلق ہے۔ اور مرنے کے بعد کی زندگی میں جنت، دوزخ ،
حساب کتاب، حشر و نشر سے متعلق ہے۔ قرآن پاک کا دوسرا حصہ جو علوم ظاہر کرتاہے وہ
تاریخ ہے۔ کہ یہ دنیا کیسے بنی؟ اور اس میں کتنے پیغمبر تشریف لائے۔ قوموں نے اچھے
کام کئے۔ اس کے کیا نتائج مرتب ہوئے۔ اور جب قوموں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی
اور لوگوں کی دل آزاری کی، لوگوں کو ستایا، پریشان کیا، اس کے کیا نتائج مرتب
ہوئے۔ اور وہ دنیا میں کس طرح رہے۔ آیا انہوں نے حیوانات کی طرح زندگی گزاری۔ جو
بھیڑ بکری، گائے، بھینس ہوتی ہے یا انہوں نے حیوانات سے ہٹ کر اس زمین کے اوپر
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کیا۔ اور اس غور و فکر کے نتیجے میں انہوں
نے کیا ترقی کی۔ مطلب یہ کہ انہوں نے کیا سائنسی علوم حاصل کئے ۔ ان سائنسی علوم
میں تسخیر کائنات کے علوم ہیں۔
مطلب
یہ کہ ہم آسمانوں میں کس طرح داخل ہوسکتے ہیں۔ بیداری کی حالت میں۔ ایک تو وہ
مرنے کے بعد کی زندگی کا ہے وہ تو الگ ہے۔ کہ بیدا ر رہتے ہوئے اس زندگی میں وہ
کون سے علوم ہیں جن علوم کی بنیاد پر ہم ریسرچ کرکے کوشش کرکے آسمانوں میں داخل
ہوسکتے ہیں۔ وہ کون سے علوم ہیں جن علوم کی بنیاد پرہم چاند سورج، ستاروں اور زمین
کے اندر جو چیزیں ہیں انہیں اپنے تابع حکم بناسکتے ہیں۔ یعنی وہ ہمارے تابع ہیں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا … و سخر لکم مافی السموت وما فی الارض جمیعامنکم … کہ ہم نے
تمہارے لئے مسخر کردیا ہے ، تمہارے تابع کردیا ہے جو کچھ آسمانوںمیں ہے اور جو
کچھ زمین میں ہے سب کا سب۔ تو یہ علوم بھی ہیں۔ جن علوم کو سیکھنا ہے۔ علم کا ایک
حصہ یہ بھی ہے۔ قرآن پاک تیسرا حصہ وہ یہ ہے کہ انسانوں کو حیوانات سے ممتاز ہوکر
کس طرح زندگی گزارنی چاہئیے۔ آداب معاشرت مطلب یہ ہے کہ آپ کا رہن سہن کیسا ہو؟
آپ لباس کیسا پہنیں۔آپ کا لین دین کیسا ہو۔
آپ جھوٹ نہ بولیں۔ سچ بولیں۔ اپنے ہمسائیوں سے محبت کریں۔ اپنی اولاد کی صحیح
تربیت کریں وغیرہ وغیرہ۔اس کا نام شریعت ہے۔ تو قرآن پاک جو ہے تین حصوں پر پھیلا
ہوا ہے۔ ایک حصہ زندگی سے متعلق وہ زندگی پیدائش سے پہلے کی ہو، پیدائش کے بعد کی
ہو۔ یا مرنے کے بعدکی ہو۔ دوسرا حصہ تاریخ کے اوپر اور ان علوم کے اوپر جن قوموں
نے علوم حاصل کرکے ترقی کی ہے۔ مثلاً اب آپ دیکھیں آج کا دور سائنس کا دور ہے۔
اگر آپ پیچھے چلے جائیں تو ہمارے اسلاف سارے کے سارے سائنٹسٹ تھے۔ انہوں نے گھڑی
ایجاد کی۔پانی کا جہاز مسلمانوں نے بنایا۔زمین کی پیمائش مسلمانوں نے کی۔دوربین
مسلمانوں نے ایجاد کی وغیرہ وغیرہ۔ بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو مسلمانوں نے ایجاد
کیں اور مسلمانوں کی ایجاد کو غیر قوموں نے ، غیر مسلموں نے جب پڑھااس کو سمجھا۔
اس میں انہوں نے جدوجہد اور کوشش کی نتیجے میں مسلمان پیچھے چلا گیا اور وہ آگے
آگئے۔
تو قرآن جو ہے وہ ریسرچ کی کتاب ہے اور دوسرے
یہ کہ ان تاریخی واقعات سے آپ عبرت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاً حضرت نوح ؑ کا
واقعہ آپ کے سامنے ہے۔ حضرت لوط ؑ کا قصہ آپ کے سامنے ہے۔ عاد و ثمود کی قوموں
کے واقعات آپ کے سامنے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا بندروں کی شکل بن گئی
، قرآن پاک میں آپ پڑھیں پیغمبروں کے
قصے اس میں پوری تاریخ موجود ہے۔ کہ لوگوں نے جب اچھے کام کئے تو ان کے اوپر کتنا
اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا۔ کتنا اللہ تعالیٰ کا فضل عام ہوا۔ اور جب لوگوں نے اللہ
تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اپنے پیغمبر کی بات نہیں مانی بلکہ اپنے پیغمبروں کو
جھٹلایا تو ان کے اوپر کیسی کیسی سختیاں آئیں ، پریشانیاں آئیں اور نتیجے میں
تباہ و برباد ہوگئی۔ اب علم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے معنی یہ نکلے
کہ علم کوئی بھی ہو وہ سیکھنا ہے۔ دین کا علم بھی سیکھنا ہے۔
دنیاوی علوم بھی سیکھنے ہیں۔ اور سائنسی علوم
بھی سیکھنے ہیں۔ مثلاً اگر ہم یہ کہیں کہ صاحب علم سیکھنے سے مراد یہ ہے کہ فقہ کا
آپ علم سیکھ لیں اس سے مسائل معلوم کرلیں۔ اور دنیا کا علم نہ سیکھیں۔ مثلاً موچی
کا کام نہ سیکھیں۔ موچی کا کام بھی ایک علم ہے۔ مثلاً یہ کہ لوہار کا کام نہ
سیکھیں۔وہ بھی ایک علم ہے۔ درزی کا کام نہ سیکھیں وہ بھی ایک علم ہے۔ اگریہ سب
علوم ہم نہیں سیکھیں گے تو وہ انسان کی جو زندگی ہے وہ پریشان کن ہوجائے گی۔ اور
آرام ہو آسائش کی زندگی سے نکل جائے گی۔ علم کوئی بھی ہو سیکھیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے کہ اس میں ہر عورت اور ہر مرد پر
علم سیکھنا فرض ہے۔ اور علم چاہے آپ کو چین میں ملے وہاں بھی جاکے سیکھیں۔ ظاہر
ہے حضور پاک ﷺ کے زمانے میں لوگ چین میں
علم فقہ تو سیکھنے نہیں جائیں گے۔ یا قرآن بھی نہیں سیکھنے جائیں گے۔ حدیث بھی
نہیں سیکھنے جائیں گے۔
چونکہ اس زمانے میں چین جو ہے سب سے زیادہ ترقی
یافتہ ملک تھا۔ جیسے اس زمانے میں چین نے کاغذ ایجاد کرلیا تھا۔اس زمانے میں چین
میں روشنائی ایجاد ہوگئی تھی۔ تو اور کہیں نہیں تھی۔چونکہ چین ترقی یافتہ ملک تھا
ساری دنیا میں اس کی علمی حیثیت سے ایک ممتاز حیثیت تھی۔ اسی لئے حضور پاک ﷺ نے فرمایا اگرچین میں بھی علم ملے تو چین میں
بھی جاکر سیکھو۔ اختتام