Topics

آدمی مراقبہ کے ذریعے زمین اور آسمان سے آزادہو جاتا ہے ۔اس تشریح کریں؟

 

 ایک صاحب نے سوال کیا ہے کہ آدمی مرا قبے کے ذریعے سے زمان و مکاں کی پا بندی سے آزاد ہو جا تا ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ زمان و مکان نہیں رہے گے تو محسوسات کی دنیا بھی نہیں رہے گی زمان و مکان کی پا بندی سے مرا د یہ نہیں ہے کہ انسان کے ایک حواس جو ہیں ختم ہو جا تے ہیںزمان ومکاں کی پا بندی سے مرا د یہ ہے کہ انسان کے اوپر جو ما دے کی میٹر کی جو گرفت ہے مثلا ً اب اگر زما نیت اور اس سے توآزاد نہیں ہوں گے یہ الگ بات کہ ہم اس کو آزاد ہو نا کہے سکتے ہیں۔  لیکن کا فی حد تک ایک آدمی ایسے ہو ائی جہا ز میں اڑ جاتا ہے اس طرح کہ اس کی رفتار بہت تیز ہے۔ جس طرح وہ جسمانی طور پر ہو تو زمانیت سے کی کسی حد تک آزاد ہوجاتا ہے ۔

  زمانیت اور مکا نیت جو ہیں وہ کسی حد تک معطل ہوجا تیں ہیں یا عام حالت ہے اب جیسے ہم خلاء میں جا تے ہیں آپ نے سنا ہو گا اب جب وہ خلا ء میں گئے تو اس کا مطلب یہ نہیںہے زمانیت اور مکانیت ان کا وجوہی ختم ہو گئی زمانیت سے آد می آزاد نہیں ہو سکتا اور نہ اسپیس سے کوئی آدمی آزاد ہو سکتا ہے اس لئے آپ کسی بھی عالم میں چلیں جا ئیں وہاں اسپیس بھی ہے اورکسی بھی عالم میں چلے جائیں وہاں زمانیت بھی ہے ، اب ہم جنت کا تذکر ہ کر تے ہیں جب ہم جنت کا تذکرہ کر تے ہیں تو ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں وہاں درخت ہیں، وہاں میٹھے پا نی کی نہریں ہیں، شہد کی نہریں ہیں، دودھ کی نہریں ہیں تو اگر ادھر اسپیس نہیں ہے تو چیزیں کس طرح وجود میں آتی۔  باغ کا ہو نا ،محل کا ہو نا، نہروں کا ہو نا ثبوت ہے اس بات کا ہے کہ وہاں اسپیس ہے اس کا صاف مطلب ہے جنت میں اسپیس ہیں اگر اسپیس نہیں ہوتا تو نہریں ہوسکتی؟

  کسی زمین کے بغیر نہریں ہو سکتی؟  کسی زمین کے بغیردرخت ہو سکتے ہیں؟  اب مطلب یہ ہوا جنت جو ہے اس میں بھی اسپیس ہے اب دوزخ ، دو زخ کے بارے میںیہ بھی بتا یا جاتا ہے وہاں گر م پا نی ہوتا ہے آگ بھڑک رہی ہوتی ہے ۔تو اگر اسپیس نہیں ہو تو یہ سب کہاں ہو گا؟تو جہاں اسپیس ہو گی وہاں ٹائم اسپیس ہو گا مطلب جہاںمکانیت ہو گی وہاںزما نیت ضرور ہو گی بات صرف اتنی سی ہے کہ اسپیس کے اوپر مکانیت کے اوپر جو چیز ہمیں چلا رہی ہے وہ زمانیت ہے مثلا ً ایک آدمی زمین پر پیدل چل رہا  ہے ایک آدمی زمین پر پیدل چل رہا ہے ۔اور زمین پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایک قدم اٹھا کر دو سرا قدم رکھا، دو سرا اٹھا کر تیسرا رکھا اور یہاں سے مراقبہ ہال سے مسجد تک چلا گیا تو مرا قبہ ہال سے مسجد تک جا نے میں ہی جہاں یہ قدم رکے وہ سب اسپیس ہے اور سے مرا قبہ ہال سے مسجد تک جا نے میں ہوا میں کتنے قدم اٹھے یا جتنا وقت لگا وہ زمانیت ہے ،  تو مرا قبہ میں زمانیت اورمکا نیت سے آزادی کا مطلب یہ ہے اس زمین پر مادی اعتبار سے جس طرح کے ہم زندگی گزار رہے ہیں اس زندگی سے آزاد ہو کر سفر کر نا جو ہے وہ مکا نیت اور زمانیت سے آزاد ہو ناہے ۔

 مقصد یہ نہیں ہے زمین بھی ختم ہو گئی اور ٹا ئم بھی ختم ہو گا اور اس کی مثال یوں ہے ہم سو تے ہیں اور سونے کی حالت میں ہر انسان خواب دیکھتا ہے کوئی آدمی ایسا ہو گا جو خواب نہیں دیکھتا ہو اور جو خواب نہیں دیکھتا وہ بیمار ہے۔  ہر د ن خواب ضرور دیکھتے ہے،  چا ہئے تو ابھی ہم یہاں سو رہے ہیں اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ آپ  ﷺ کے دربار میں حا ضر اور سلام پڑھ رہے ہیںکتنا سفر ہے اگر آپ پیدل چلیں تو چھ مہینے میںپہنچے گے لیکن سو نے کی حالت میں آپ رسول اللہ  ﷺ کے دربار میں حا ضر ہیں الصلوٰ ۃ والسلام پڑھ رہے ہیں اورابھی آپ کو ہلا یا تو آپ یہاں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پا کستان بھی ہے ۔پاکستان سے مدینے منورہ کا راستہ بھی ہے،  مدینہ منورہ میں مسجد نبوی بھی ہے اور مسجد نبوی میں دربار میں کھڑے سلام بھی پڑھ رہے ہیں ۔لیکن یہ فا صلہ اتنی تیزی سے طے ہو گیا کہ اس کو ہم وقت کی پیما ئش میں نہیں لا سکتے تو وقت کی پیما ئش میں نہ لانا جو ہے یہ مکا نیت اور زمانیت آزادی ہے۔

مراقبہ میں مکا نیت اور زمانیت سے آزاد ہو نے کا مطلب یہ ہے انسان کی جو مادی زندگی ہے اس مادی زندگی سے نکل کر وہ رو حانی زندگی میں سفر کرے۔

  اب مقصد یہ نہیں ہے مکانیت و زمانیت ختم ہو جا تی ہے مکا نیت و زمانیت ہر جگہ ہے اب دیکھئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مر نے کے بعد عالم اعراف ہو گا وہاں لوگ رہے گے تو رہے گے کہاں زمین پر رہے گے اس کے بعد حشر و نشر ہو گا سارے لوگ جمع ہو نگے اللہ تعالیٰ بحیثیت رب کے عدالت قائم کریں گے اگر اسپیس نہیں ہو گی تو لوگ کہاں کھڑے ہونگے، عدالت کہاں لگی گی ، تو زمانیت مکا نیت ہر جگہ موجود ہے پو رے عالمین میں موجو دہے الحمد اللہ ر ب العالمین …سب تعریف اس رب کے لئے ہے جو تمام عالمین کا رب ہے عالمین سے مراد ظا ہر ہے اسپیس ہی ہو سکتی ہے یہ زمین بھی ایک عالم ہے تو عالمین سے مرا دیہ اربوں کھربوں دنیائیں موجود ہیں جس طرح یہ ہماری دنیا ہے جس میں ہم رہے رہیں ہیں تو روحانیت کا منشاہ آدمی زمانیت اور مکا نیت سے آزاد ہونا ہے یہ نہیں ہے کہ زمانیت ختم ہو جاتی ہے بلکہ یہ ہے اس کے اندر ایسی رفتا ر پر واز پیدا ہو جا تی ہے اس کے اندر سفر کرنے کی ایسی صلاحیت منتقل ہو جا تی ہے کہ مادی سفر سے اس کی روح سفر نہیں کرتی اورقرآن میں اس کا یہ بھی تذکرہ ہے قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات یعنی بنی رات کی محفل میں مدینہ منورہ سے مسجد نبوی میں اور پھر اس کے بعد آسمانوں کی سیر ہوئی اور جناب نتیجہ میں تمام انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی امامت فرما ئی ایک آسمان دوسرا آسمان تیسرا آسمان چھٹا آسمان عرش پھر اوپر کے مقامات سارے طے کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اتنا فا صلہ رہے گیا جیسے دو کمان بلکہ اس سے قریب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے با تیں بھی کی اللہ تعالیٰ کورسول اللہ  ﷺ کو دیکھا بھی اللہ تعالیٰ کی آواز بھی سنی اور اللہ تعالیٰ نے تو خود فاصلے کا ذکر کیا۔

  اگر یہ ٹائم اسپیس کا مطلب یہ ہے کہ صاحب رو حانیت کا مطلب یہ ہے کہ مکا نیت ختم ہو گئی تو غلط ہے تو یہ کائنات بنی ہی زمانیت اور مکا نیت کے لئے ہے تمام عالمین میں مکانیت اور زمانیت ہے اور مکا نیت اور زمانیت کی موجود گی کی وجہ سے ہی آج آپ عالمین میں دا خل ہو سکتے ہیں اگر عالمین میں زمانیت اور مکا نیت نہ ہو تو عالمین میں داخل ہو نا عالمین کو دیکھنا عالمین سے متعارف ہو نا ممکن ہے۔ اس لیے کہ تمام عالمین میں مکانیت اور زمانیت ہے ۔اختتام

  روحانی علوم کے بارے میں وضاحت فرما ئیں

ایک صاحب نے سوال کیا کہ ہم لوگ تو جا نتے بھی نہیں ہوں گے کہ روحانی علوم سیکھے جاتے ہیں جس طرح دوسرے علوم سیکھے ہیں کمیسٹری ہے،فزکس ہے فلسفہ ہے علوم کی بے شمار قسمیں ہیں موجودہ دور میں سائنس کی سائنسی علوم کی بے شمار شاخیں ہیں اسی طرح ایک علوم جو ہیں وہ روح کا بھی ہے اب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ صاحب روح کا علم تو اللہ نے کسی کو نہیں بتا یا،  روح کا علم اللہ نے بتا یا ہے اور اس کی شہادت قرآن پاک میں ہے اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں یسعلونا…آپ  ﷺ فرما دیجئے جو آپ سے روح کے بارے میںسوال کر تے ہیں ۔تو آپ فرمادیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے ومااوتیتم …جو کچھ علم دیا گیا وہ قلیل ہے ۔ کہ روح کا علم تو دیا گیا لیکن وہ قلیل ہے اب سوال یہ ہے کہ قلیل کس کا قلیل،  اللہ تعالیٰ نے روح کا جو علم دیا یعنی اللہ تعالیٰ کی لامتناہی علوم ہیں ،کون سے لا متناہی علوم اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں اگر تمہارے سارے سمندر روشنائی بن جا ئیں سارے درخت قلم بن جا ئیں رو شنا ئی بھی ختم ہو جا ئے گی اور قلم بھی ختم ہو جائیں گے اللہ کی باتیں با قی رہے جا ئیں گی وہ لا متنا ہی ہے۔

 اس لامتنا ہی کا علم کا قلیل اللہ نے دیا تو آپ غور فرمائیں جس علم کو سمندر کور نہیں کرسکتا جس علم کو ساری دنیا کے درخت ان کی شاخیں ان کی جڑیں قلم بن کر ختم نہیں کرسکتے اس علم کا قلیل کتنا ہو گا ہم نے تمہیں جو روح کا علم دیا ہے وہ قلیل ہے،  لیکن دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کم کس طرح اللہ کے علم کا قلیل ہے ۔اللہ کے علم کا قلیل وہ اتنا ہے کہ آپکے پاس درخت ختم ہو جا ئیں گے سمندر ختم ہو جائیں گے وہ با قی رہے گا تو روح کا ، جو علم ہے وہ بھی ایک علم ہے جس طرح دوسرے علم لیکن یہ علم جو ہے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے ۔تو اس علم کو سمجھا نے کے لئے اس علم کو پھیلا نے کے لئے اپنے شا گردوں کے ذہن نشین کرانے کے لئے اس کے کچھ قاعدے اور ضابطے بنا ئے ہیں جیسے آپ دیکھئے کوئی علم آپ نہیں پڑھ سکتے جب تک کہ اس کا خیال نہ آئے  یا  a b c d نہ پڑھیں اس کا نام کچھ بھی رکھ لیں جب تک آپ کسی علم میں ماسٹر نہیں بنے گے ۔

میں آپ پہلا قاعدہ پڑھیں پھر پہلی کتاب پڑھیں، پھر دو سری،  پھر میٹرک کر یں پھر بی اے کریں پھر گریجویشن کر یں ،پھر اگر  a,b,c  نہ  پڑھی ہو تو کیا آپ کی بی ایس سی ہو جا ئے کیا ایسا ہو سکتا ہے بھائی بغیر قاعدہ پڑھے تو کوئی آدمی بی ایس سی کیا میٹرک بھی نہیں کر سکتا میں مان ہی نہیں سکتا کوئی بغیر قاعدہ پڑھے ہو ئے کوئی علم کا درجہ حاصل ہے ایک نظر میں۔  رو حانی علوم میں بھی وہی طریقہ ہے اولیا ء اللہ اور یہ کام شروع ہوا غوث الاعظم بڑے پیر صاحب سے ہوا ۔ اس کا جو قاعدہ ہے علوم ہیں ان میں انہوں نے موٹی موٹی باتیں یہ بتا ئی کہ ہر انسان کے اندرچھ روشن نقطے ہے ۔ اس پر انسان کی زندگی کا درومدار ہے،  انسان کی عقل و شعور کا درومدار ہے ،  انسان کی ریاست کادرومدار ہے ،  ان چھ روشن نقطوں کو جو ہیں ان کو روحانی لوگ لطا ئف کہتے ہیںیعنی چھ لطا ئف، چھ تقدریں ،چھ مشن ، چھ کتاب کچھ بھی کہے لوتو اس چھ دائروں کو لطا ئف کہتے ہیں یعنی چھ لطیفے تو وہ لطیفے کس طرح کام کرتے ہیں؟

 واہم کیسے بنتا ہے؟ تصور کیسے بنتا ہے ؟خیال کیسے بنتا ہے؟ خیال کے بعد ہم کسی کو کسی چیز کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ وہ چیز ہمیں کس طرح دیکھتی ہے؟ ۔ یہ تعلیم کی تفصیلات یہ سوال جن صاحب نے کیا ہے میرا خیال ہے یہاں کی مجلس کی منا سبت سے نہیں ہے ۔ سوال ایسا کر نا چا ہئے ہم نے پہلے بھی بتا یا اب دیکھئے اتنے سارے لوگ بیٹھے ہو ئے ہیں کسی کو لطا ئف سمجھ میں نہیں آرہے ۔تو یہ ہوا دوسرا سوال بہر حال اتنا آپ سمجھ لیں کہ روحانی قاعدہ جو ہے اس میں چھ روشن نقطے ہوتے ہیں اور ان چھ نقطوں سے ہی ابتداء ہوتی ہے اور ان ہی چھ نقطوں سے تمام علوم پڑھا ئے اور سیکھائے جاتے ہیں ۔اختتام  

Topics